معرکہ قریب ہے

اوریا مقبول جان  جمعرات 14 جولائ 2016
theharferaz@yahoo.com

[email protected]

یہ وہ زمانہ تھا جب اسکاٹ لینڈ میں برطانیہ سے علیحدگی کے لیے ریفرنڈم ہونے والا تھا۔ دونوں جانب سے زور شور سے دلائل دیے جارہے تھے۔ اسکاٹ لینڈ کے قوم پرست برطانوی استحصال کی مثالیں اسی طرح دیتے ہیں جیسے بلوچستان‘ سندھ‘ خیبرپختونخوا یا جنوبی پنجاب والے شکایتوں کی ایک طویل داستان تیار رکھتے ہیں۔ ایڈنبرا میں اسکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ کے ایک چیمبر میں مجھے پاکستانی نژاد ممبر پارلیمنٹ حنظلہ ملک سے گفتگو کا موقع ملا۔

گلاسکو سے لیبر پارٹی کی جانب سے منتخب ہونے والا یہ شخص 1995 سے  2012 تک گلاسکو میں سٹی کونسلر رہا‘ پولیس اور فوج کی نوکری کی اور ذاتی کاروبار بھی۔ برطانیہ میں اس زمانے میں مسلمانوں‘ خصوصاً ایشیائی مسلمانوں کے بارے میں نفرت کے جذبات زور پکڑ رہے تھے۔ عراق میں دولت اسلامیہ کا عروج ہوا تھا اور اسکاٹ لینڈ کے صحافی کو قتل کر دیا گیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد اس صحافی کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرنے کے لیے وہاں کے مسلمان بھی جمع ہوئے تھے‘ لیکن برطانیہ کے گورے انھیں شک کی نظر سے ہی دیکھتے رہے۔

حنظلہ میری ملاقات کے وقت یعنی آج سے دو سال قبل  58 سال کا تھا‘ پیدائشی طور پر پاکستانی باپ اور پیدائشی طور پر برطانوی ماں کا بیٹا پانچ سے زیادہ دہائیاں یہاں گزارنے کے بعد اپنے اور اپنے ساتھی مسلمانوں کے مستقبل سے سخت مایوس تھا۔ کہنے لگا میں ان لوگوں کے درمیان پلا بڑھا ہوں‘ میں ان کے چہرے پر آنے والی سلوٹوں سے پہچان لیتا ہوں کہ یہ ہم سے کتنی نفرت کرتے ہیں۔ لیکن جتنی نفرت یہ ہم سے آج کررہے ہیں اتنی گزشتہ پچاس سالوں میں بھی انھوں نے نہیں کی۔ مسلمانوں کو تیار رہنا چاہیے‘ ایک ایسے وقت کے لیے جب انھیں یورپ کے شہروں سے ایسے ہی نکالا جائے گا جیسے انھیں کئی صدیاں قبل اسپین سے نکالا گیا تھا۔ ہمارے گھر‘ ہماری گاڑیاں اور ہمارے کاروبار پر ان کی نظریں ہیں۔

یہ ہماری محنت سے حسد بھی کرتے ہیں اور ہم سے شدید نفرت بھی۔ ان دو سالوں میں پاکستانی والدین کے گھر پیدا ہونے والے برطانوی مسلمان رکن پارلیمنٹ کے الفاظ ایسے لگتا ہے حرف بہ حرف سچ ہوتے نظر آ رہے ہیں پورا یورپ گزشتہ پندرہ سالوں سے آبادی کے ایک بحران میں مبتلا تھا اور آج بھی ہے۔ یورپ کے پاس افرادی قوت کی کمی دن بدن بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ کسی بھی معاشرے کو مستحکم رکھنے کے لیے ایک بوڑھے کے مقابلے میں پانچ نوجوانوں کی تعداد موجود ہونا چاہیے۔ لیکن یورپ کے اکثر ممالک میں یہ تعداد ایک بوڑھے کے مقابلے میں دو یا زیادہ سے زیادہ تین نوجوانوں تک رہ گئی ہے۔ مانع حمل ادویات یوں تو دنیا بھر میں آبادی کو کم کرنے کے لیے مارکیٹ میں لائی گئی تھیں لیکن یورپ میں اس کا نتیجہ خوفناک نکلا۔ خاندانی نظام پہلے سے ہی تباہ ہو چکا تھا‘ اب ان ادویات کی آسان دستیابی کی وجہ سے لوگوں نے بچے پیدا کرنا ہی چھوڑ دیے۔

یہ سوچ پروان چڑھی کہ اپنی زندگی مزے سے گزارو‘ آیندہ نسل بنانے کی کیا ضرورت ہے۔ ترغیبات دی گئیں۔ نہ صرف ماؤں بلکہ باپوں کو بھی تنخواہ سمیت چھٹیوں کا لالچ دیا گیا تاکہ بچے پیدا کریں۔ لیکن اس تباہ حال خاندانی نظام میں کوئی اولاد پیدا کرنا نہیں چاہتا۔ وہ کہتے ہیںکہ بڑھاپے میں اگر وہ ایک اولڈ ایج ہوم میںزندگی بسر کریں گے تو وہاں بہترین طبی سہولیات ہوں گی‘شاندار کھانا‘ نفسیاتی معالج‘ کھیل کود اور ورزش کا انتظام‘ غرض سب کچھ میسر ہو گا۔ ایسے میں ایسی اولاد پیدا کیوں کریں جس نے انھیں بڑھاپے میں ایسے ہی اولڈ ہوم میں چھوڑ جانا ہے۔

اس لیے یورپ میں افرادی قوت کی شدید کمی واقع ہوئی۔ اس خلا کو پرکرنے کے لیے پہلے ایشیا اور افریقہ سے لوگ آئے تھے۔ ان کو میونسپل‘ ریلوے‘ ٹریفک اور دیگر نظام چلانے تھے۔ یورپی یونین بنا تو وہ مشرقی یورپ جو کمیونزم کے زیر اثر غربت و افلاس کی زندگی گزار رہا تھا‘ وہاں سے لوگ اٹھ کر مغربی یورپ کے امیر ملکوں میں آنے لگے۔ پولینڈ نے تو نقل مکانی میں وہی شہرت حاصل کر لی جو کبھی پاکستانی اور انڈین کو حاصل تھی۔ فرانس میں افریقی اور خصوصاً شمالی افریقہ کے لوگوں نے آباد ہونا شروع کیا کہ فرانسیسی زبان ان کے لیے مسئلہ نہ تھا۔ مدتوں یہ ملک فرانس کی کالونی رہے تھے۔ برطانیہ پر تو جیسے حملہ ہی ہو گیا۔

یہی بنیادی وجہ تھی جس نے برطانیہ کے عوام کو یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے ووٹ دینے پر مجبور کیا۔ یہ لوگ تو یورپ کے باشندے تھے‘ ویسے ہی کا کیشیائی نسل سے تعلق اور عیسائیت مذہب کو اپنائے ہوئے‘ پھر بھی ان کو روکنے کے لیے اسقدر سخت قدم اٹھایا گیا کہ پونڈ کی قیمت تاریخی طور پر کم ترین مقام تک گر گئی۔ جب کہ مسلمانوں سے نفرت دن بدن عروج پکڑتی جا رہی ہے اور PEW ریسرچ سینٹر کی گزشتہ کئی سروے رپورٹس شایع ہوئیں ہیں جو بتاتی ہیں کہ یورپ میں مسلمانوں سے نفرت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔

پہلی رپورٹ میں یورپ میں موجود مسلمانوں کی پانچ اہم خصوصیات بنائی گئی ہیں۔ (1جرمنی اور فرانس میں مسلمانوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے اور پورے یورپ میں یہ آبادی کا 7.5 فیصد ہیں جب کہ صرف روس میں ان کی تعداد 10 فیصد سے زیادہ ہے۔ (2 مسلمان ہر دس سال بعد ایک فیصد زیادہ آبادی میں حصہ دار ہو جاتے ہیں-3مسلمان زیادہ تر نوجوان ہیں ان کی اوسط عمر 32 سال جب کہ عیسائی آبادی کی اوسط عمر42 سال ہے یعنی یہ کچھ عرصے بعد آبادی کا زیادہ بڑا حصہ بن جائیں گے۔(4 مسلمانوں کے خلاف اٹلی اور پولینڈ میں سب سے زیادہ نفرت پائی جاتی ہے جو بالترتیب 61 اور 56 فیصد ہے جب کہ اسپین میں42فیصد اور جرمنی‘ فرانس میں24 فیصد لوگ مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں۔

-5یورپ میں 2010 کے بعد ایک کروڑ تیرہ لاکھ مسلمان عراق‘ کوسود‘ بوسنیا اور مراکش سے نقل مکانی کر کے یہاں پہنچے ہیں جن کی وجہ سے معاشرتی صورت حال مزید گمبھیر ہوگئی ہے۔ PEW ریسرچ سینٹر کی دوسری رپورٹ دسمبر  2015 میں شایع ہوئی۔ اس میں انھوں نے مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کو دنیا کے باقی مذاہب کے لیے ایک سوالیہ نشان کے طور پر بتایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2010 سے 2050 تک 35فیصد اضافہ آبادی میں متوقع ہے اور جس طرح مسلمانوں کی آبادی بڑھ رہی ہے اور دیگر مذاہب کی کم ہو رہی ہے‘ 2050 میں مسلمان دنیا میں 75فیصد زیادہ ہوں گے‘ عیسائی35 فیصد‘ ہندو34فیصد‘ یہودی 16 فیصد‘ علاقائی مذاہب 11فیصد‘ غیر مذہبی9 فیصد‘ چھوٹے مذاہب6فیصد اور بدھ منفی اعشاریہ 3فیصد بڑھیں گے۔ یعنی سب سے زیادہ اضافہ مسلمانوں کی آبادی میں ہو گا اور اگر یہی صورت حال جاری رہی تو صدی کے آخر تک مسلمان عیسائیوں سے زیادہ ہو جائیں گے۔

اصل خطرہ آبادی سے نہیں بلکہ اصل خطرہ نظریات سے ہے اور اس سوچ سے ہے جو اس وقت مسلمانوں میں پائی جاتی ہے‘ PEW کے سروے کرنے والوں نے سوال کیا کہ کیا آپ شریعہ قوانین چاہتے ہیں یا نہیں۔ یہ سوال صرف مسلمانوں سے پوچھا گیا۔ تمام تر مغربی میڈیا‘ سیکولر تعلیم اور ترغیبات کے باوجود سوال بہت حیران کن تھا۔ یہ تازہ ترین سروے جو نومبر 2015 میں ہواہے۔ اس کے مطابق افغانستان میں99 فیصد‘ عراق میں91 فیصد‘ فلسطین میں89 فیصد‘ ملائیشیا میں86 فیصد اور پاکستان میں84فیصد مسلمان شرعی قوانین کا نفاذ چاہتے ہیں۔ نائجیریا میں86فیصد‘ جبوٹی میں82فیصد‘ مصر میں74فیصد‘ مراکش میں85 فیصد‘ بنگلہ دیش میں 82فیصد‘ کانگو میں74فیصد‘ اردن میں71فیصد اور روس جیسے ملک میں بھی  42 فیصد مسلمان شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں۔ جب داعش یا دولت اسلامیہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو لوگ بات کرنے سے ہچکچاتے رہے۔

پاکستانیوں میں سے 62فیصد نے کوئی جواب دینے سے انکار کیا۔ نائیجیریا دنیا کا واحد ملک ہے جہاں 14 فیصد مسلمانوں اور 7فیصد عیسائیوں نے داعش کو اچھا تصور کیا۔ باقی تمام مسلمان ملکوں میں داعش یا دولت اسلامیہ کے بارے میں اچھا تاثر نہیں تھا لیکن PEW کا سروے کہتا ہے کہ یورپ میں بسنے والے عیسائی یا انگریز‘ فرانسیسی اور جرمن وغیرہ یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمان داعش کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ یہ وہ یورپ کا تعصب اور نفرت ہے کہ وہ مسلمانوں کو اگر دہشت گرد نہ بھی سمجھیں تو ان کا ہمدرد ضرور تصور کرتے ہیں۔

یہ ہے آج کا یورپ اور یہ ہیں آج کے مسلمان۔ یورپ جہاں ٹونی بلیئر کے خلاف رپورٹ آتی ہے اور یہ ثابت بھی ہو جاتا ہے کہ امریکا اور یورپ نے مل کر پندرہ لاکھ کے قریب عراقی مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ لیکن حیران کر دینے والی بات یہ ہے کہ اس نے معافی صرف ان برطانوی سپاہیوں کے اہل خانہ سے مانگی جو جنگ میں مارے گئے تھے۔

مسلمانوں کا خون بہایا گیا اور ساتھ ان سے نفرت میں بھی اضافہ ہوا جب کہ اس کے ردعمل میں پوری مسلم دنیا میں جس رد عمل کا مظاہرہ ہوا وہ یہ تھا کہ رنگ نسل‘ زبان اور علاقے میں بٹے ہوئے ستاون سے زیادہ اسلامی ممالک میں صرف ایک ہی نعرے کی گونج سنائی دی اور وہ تھا شریعت کا نفاذ۔ یہی تو وہ نعرہ ہے جس سے پورا مغرب خوفزدہ ہوتا ہے۔ اسی نعرے کی گونج ہے کہ ساٹھ سال مغرب میں گزارنے والے بھی اب یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا اسپین ایک دفعہ پھر بننے والا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس آخری جنگ کا وقت قریب آ گیا جس کی پیش گوئی سید الانبیاء ﷺ نے فرمائی کہ اہل روم 80جھنڈوں تلے مسلمانوں سے لڑنے آئیں گے اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار سپاہی ہوں گے (مستندرک‘ ابن حبان)۔ یورپ میں بسنے والوں کو اس کا اندازہ ہے‘ کیا ہمیں اندازہ ہے کہ کیا ہونے والا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔