بہارِچنار…؟ حریت پسندوں نے بھارتی ہٹ دھرمی کے غبارے سے ہوا نکال دی

غلام محی الدین  جمعـء 15 جولائ 2016
نوجوان کشمیریوں نے جد و جہد آزادی کو نئے عہد کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر لیا  ۔  فوٹو : فائل

نوجوان کشمیریوں نے جد و جہد آزادی کو نئے عہد کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر لیا ۔ فوٹو : فائل

 اسلام آباد: آج وزیراعظم نواز شریف نے وفاقی کابینہ کا ایک خصوصی اجلاس لاہور میں طلب کیا ہے، جس میں مقبوضہ کشمیر میں موجودہ صورت حال پر غور کیا جائے گا۔ اس غور و فکر کا نتیجہ کیا نکلے گا، اس بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہو گا لیکن اس سے قبل پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی قیادت میں 13 جولائی کی کور کمانڈرز کانفرنس میں مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی ہلاکتوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ عالمی برداری کشمیریوں کی خواہشات اور جدوجہد کو تسلیم کرے۔

فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ سے جاری بیان کے مطابق عسکری قیادت نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل اور خطے میں دیرپا امن کے لیے دنیا کو مدد کرنی چاہیے۔ واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں حالیہ مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں پر پاکستان کی طرف سے جہاں مذمت اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، وہیں اس معاملے کو اجاگر کرنے کے لیے وزارت خارجہ نے غیر ملکی سفیروں کو بھی بریفنگ دی۔

رواں ہفتے کے اوائل میں بھارت کے ہائی کمشنر کو بھی وزارت خارجہ طلب کر کے اْنہیں کشمیر میں حالیہ ہلاکتوں کے بارے میں پاکستان کی تشویش سے آگاہ کیا گیا اور 13 جولائی کو ہی اسلام آباد میں سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری نے یورپی یونین کے رکن ممالک کے سفیروں کو بھارتی کشمیر کی کشیدہ صورت حال کے بارے میں اپنے شدید تحفظات سے آگاہ کیا۔ دفتر خارجہ سے جاری ایک بیان میں اعزاز چودھری نے کہا تھا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی معافی نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کشمیریوں کی ہلاکت کے ذمہ داروں سے متعلق آزادانہ اور شفاف تحقیقات کی ضرورت پر بھی زور دیا تھا۔ گزشتہ ہفتے ایک کشمیری علیحدگی پسند نوجوان برہان الدین وانی کی بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد مظاہروں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ بھارتی فورسز برہان مظفر وانی کی شہادت کو علیحدگی پسندوں کے لیے بڑا دھچکا اور سکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی قرار دے رہی ہیں۔ ہر سال یومِ شہدا 13 جولائی 1931 کو انگریزی دورِ میں سری نگر کی سینٹرل جیل کے سامنے فائرنگ سے شہید ہونے والوں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

نوجوان راہنما برہان مظفر وانی کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں آج جو انتشار ہے، اُس پر  بھارت کا یہ جان خلاص قسم کا بیان کہ یہ تنازع تو 1947 سے چلا آرہا ہے۔ یقیناً مسئلہ پرانا ہے لیکن اب اس کی نوعیت اب مکمل طور پر بدل چکی ہے۔ مثلاً برہان وانی کی شہادت کے چند گھنٹوں بعد ہی بھارتی حکام نے علاقے کی موبائل سروس پلک جھپکتے میں بند کردی، وہ اس بات کا غماز ہے کہ بھارت کی ہٹ دھرمی کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے۔

گو موبائل فون کی سروس بند کر دینے کی وجہ سمجھنا آسان ہے لیکن اس کے بعد کی تازہ صورت حال کو سمجھنے کے لیے جس بصیرت کی ضرورت ہے، وہ بھارتی وزیر اعظم اور اُن کے رفقاء میں نہیں ہے۔ اب تک بھارتی حکام کو کشمیر میں سمارٹ موبائل فونز اور حالیہ فسادات کے درمیان تعلق کی سمجھ نہیں آرہی ہے۔ جب کہ اس دہائی کے اختتام پر توقع کی جارہی ہے کہ 500 ملین بھارتی شہریوں کے پاس موبائل فون ہوں گے جو ملک کی کل آبادی کی نصف تعداد ہے اور کشمیر میں اس ٹیکنالوجی کا استعمال اس شرح سے کہیں زیادہ ہے۔ بھارت کے ایک معروف اخبار کے صفحۂ اول پر ایک خصوصی رپورٹ کشمیر کی صورت حال چھپی ہے، جس کو ریاست کے ایک اعلیٰ پولیس افسر نے مرتب کیا تھا۔

ملک کی وزارت داخلہ میں پیش ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطے میں عسکریت پسندی میں اضافے کی وجہ سمجھنے کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی زیادہ بڑھانی چاہیے۔ 2010 میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی آبادی میں صرف ایک چوتھائی کو سوشل میڈیا تک رسائی حاصل تھی لیکن 2014 میں آبادی کا ایک تہائی حصہ سوشل میڈیا استعمال کر رہا ہے اور پھر اس میں یک دم اضافہ دیکھنے میں آیا۔سکیورٹی اہلکاروں کے لیے کشمیر کی موجودہ صورت حال ایک بہت سنگین صورتِ حال اختیار کر سکتی ہے۔  رپورٹ لکھنے والے پولیس افسر کا کہنا ہے کہ 2015 کے اختتام پر کشمیر میں 70 فی صد لوگوں کو سوشل میڈیا تک رسائی حاصل تھی اور برہان وانی کو کشمیر کی وادیوں میں اپنے پیغامات سننے والے کئی تیار ناظرین ملے تھے، اب وہی  کشمیر کی تازہ بدامنی کی اہم وجہ ہیں۔ بہت سے دوسرے کشمیری حریت پسندوں کی طرح برہان وانی بھی ٹیکنالوجی کو اچھی طرح جانتے تھے۔

ان کے بارے میں شائع کیے جانے والے تقریباً ہر مضمون میں اس بات کا ذکر ضرور کیا جاتا تھا کہ وہ سوشل میڈیا کا استعمال اچھی طرح جانتے تھے۔ برہان وانی اپنی تصاویر پوسٹ کیا کرتے تھے، جن میں وہ اکثر کشمیر کی وادیوں کے سامنے ہتھیاروں سے لیس کھڑے دکھائی دیتے۔ کشمیر میں حریت پسندوں نے موبائل فون ٹیکنالوجی کے ساتھ یہ جان لیا ہے کہ فونز کے ذریعے تیار کی گئی ویڈیو فٹیج بھی کتنی اہم ہوتی ہے۔ کشمیر میں ایک بات بدلی ہے اور وہ یہ ہے کہ اب لوگوں کو فٹیج اور پیغامات بہت آسانی سے مل جاتے ہیں۔ شاید یہ ہی بات اب بھارت کے لیے اچھی خبر نہیں ہے۔

دوسری بات بھی ہے کہ اس بار عسکریت پسندی، جنگ بازوں کی اپنی ہی زمین سے جنم پائی ہے اور ان میں سے سوشل میڈیا استعمال کرنے والے بیشتر لوگ مقامی ہیں۔ اس لیے سکیورٹی اہلکاروں کے لیے یہ عنصر بہت ہی سنگین صورتِ حال اختیار کر سکتا ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ عرب سپرنگ سے عرب دنیا میں آنے والی جمہوریت کی لہر کی طرح کشمیر تنازعے میں بھی سوشل میڈیا ایک اہم کردار ادا کرے گا۔

کشمیر میں بھارتی سکیورٹی فورسز کی طرف سے کرفیو کے نفاذ کے باوجود مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا اور اس دوران جھڑپوں میں اب تک 30 سے زیادہ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جب کہ سینکڑوں زخمی ہوئے۔ 12 جولائی کو پاکستانی سیکرٹری خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک (چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکا) کے سفیروں کو بھی بھارتی کشمیر کی صورت حال کا نوٹس لینے کا کہا تھا۔ یاد رہے کشمیر دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان روز اول ہی سے متنازع ہے۔

ہرچند امریکا نے بھی بھارتی کشمیر کی حالیہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملے کا پرامن حل تلاش کیا جانا چاہیے۔پاکستان کی طرف سے کشمیر کے موجودہ حالات کے بارے میں بیانات پر بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے کہاگیا کہ ’’ہم پاکستان کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنے پڑوسیوں کے معاملات میں مداخلت سے باز رہے‘‘۔ بھارتی کشمیر کی موجودہ صورت حال پر بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے 12 جولائی کو ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کے بعد عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی تھی۔

جنتر منتر: بھارت سے نہیں پالیسیوں سے نفرت کرتے ہیں
شہری حقوق کی علم بردار کویتا کرشنن نے کہا کہ حکومت کشمیر میں باقی ملک سے مختلف پالیسیاں اختیار کرتی ہے۔ نئی دہلی کی تاریخی عمارت ’جنتر منتر‘ پر سارا سال مظاہروں کا میلہ لگا رہتا ہے، یہ دہلی کا ہائیڈ پارک ہے، جسے حکومت سے کوئی شکایت ہو اور شنوائی نہ ہو ہو تو وہ جنتر منتر کا ہی رخ کرتا ہے۔ شاید اس امید میں کہ قریب ہی واقع پارلیمان تک اس کی آواز پہنچ جائے۔ 13کی دوپہر وہاں کشمیر کی موجودہ صورت حال کے خلاف مظاہرہ کیا گیا۔

کشمیرمیں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد وہاں 35 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں اور وادی کے زیادہ تر علاقوں میں کرفیو نافذ ہے۔ مظاہرے کی اپیل انسانی اور شہری حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے کی تھی اور خاموش مارچ میں شرکت کے لیے پہنچنے والے زیادہ تر چہرے جانے پہچانے تھے۔

یہ لوگ شہری حقوق کی تنظیموں سے وابستہ ہیں اور اکثر یہاں پہنچ کر حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔بہرحال کچھ تقاریر ہوئیں اور کچھ مشورے دیے گئے۔ مظاہرے کی اپیل انسانی اور شہری حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے دی تھی۔دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی طالب علم رہنما شہلا رشید نے کہا کہ برہان وانی کو گرفتار کیا جانا چاہیے تھا، پھر ان پر مقدمہ چلتا اور عدالت جو مناسب سمجھتی، سزا دیتی۔ قریب ہی کھڑے ایک صحافی نے کہا کہ میڈم وہاں مسلح تحریک چل رہی ہے۔ کویتا نے کہا کہ حکومت، کشمیر میں باقی ملک سے مختلف پالیسیاں اختیار کرتی ہے، جب ہریانہ میں پر تشدد مظاہرے ہو رہے تھے تو پولیس کی گولیوں سے کتنے لوگ مارے گئے تھے؟

مظاہرے میں بنیادی طور پر یہ مطالبہ کیا گیا کہ جموں و کشمیر سے وہ قانون ہٹایا جائے، جس کے تحت وہاں مسلح افواج کو خصوصی اختیارات حاصل ہیں اور حکومت مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے بات چیت کا سلسلہ شروع کرے۔ مظاہرے میں صرف دو تین کشمیری نوجوان ہی شریک تھے۔ ان میں سے ایک نے کہا ہم بھارت سے نہیں حکومت کی پالیسیوں سے نفرت کرتے ہیں۔ ایک اور کشمیری نوجوان نے کہا کہ امن کی اپیلوں سے کچھ نہیں ہوتا، وزیر اعظم کو خاموشی توڑنی چاہیے اور کشمیر کے مسئلے کو ترجیحات کی فہرست میں سب سے اوپر لایا جانا چاہیے۔کسی نے کہا کہ اس بات سے انکار نہیں کہ برہان وانی جزب المجاہدین کے کمانڈر تھے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ لوگ ان کے جنازے میں شریک نہ ہوں یا ان کے اہل خانہ سے ہمدردی نہ کریں۔مظاہرے کے خلاف مظاہرہ کرنے کے لیے بھی وہاں کچھ نوجوان موجود تھے، جو بھارت ماتا کی جے کے نعرے لگا رہے تھے۔

 ہلاکتوں کے بعد ایک نئی احتجاجی کال
کشمیر میں تادم تحریر سکیورٹی فورسز اور شہریوں کے درمیان جھڑپوں میں 36 افراد شہید اور 1500 زخمی ہو چکے ہیں۔ کشمیر میں علیحدگی پسندوں نے گذشتہ ہفتے ’یومِ شہدا‘ کے موقع پر احتجاج کی کال دی تھی اورپھر 13 جولائی کی کال دی لیکن انتظامیہ نے ان ریلیوں کو روکنے کی غرض سے وادی میں پہلے سے عائد پابندیاں مزید سخت کر دیں اور ابھی تک کرفیو نافذ ہے۔

بیشتر زخمی افراد کی عمریں سولہ سے چھبیس برس کے درمیان ہیں۔ زخمیوں کی زیادہ تعداد کی وجہ سے اسپتالوں میں خون اور ادویات کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے 100 سے زیادہ افراد ایسے ہیں جن کی آنکھوں میں چھرّے لگے ہیں اور ان کی بینائی جانے کا خدشہ ہے۔سری نگر میں آرتھوپیڈک کا صرف ایک ہی اسپتال ہے جس کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہاں داخل 52 زخمی ایسے ہیں، جن کی ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ لگی ہے اور یہ لوگ اب زندگی بھر کے لیے معذور ہو گئے ہیں۔صحافی ماجد جہانگیر کے مطابق اس کے سبب کشمیر کی سیاحت کی صنعت سے وابستہ لوگ کافی مایوس ہیں۔کشمیر سیاحت کے شعبے کے ڈائریکٹر محمود احمد شاہ نے کہا کہ سیاحوں نے بکنگز منسوخ کرا دی ہیں،جہاں ہر وقت چہل پہل رہتی تھی، وہاں سناٹے کا راج ہے۔

انڈیا ریاستی دہشتگردی کر رہا ہے: پاکستانی موقف
پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ  بھارت کشمیر میں نہتے لوگوں کا خون بہا کر اسے دہشت گردی کا رنگ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ آزادی کی تحریک ہے، جسے بھارت دہشت گردی کی تحریک بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

صاف دکھائی دے رہا ہے کہ یہ بھارت کی طرف سے ریاستی دہشت گردی ہے۔ اب مقبوضہ کشمیر میں حالیہ کشیدگی کے معاملے کو بھارت سمیت ہر سطح پر اٹھایا جائے گا اور بھارت کے ساتھ دو طرفہ بنیاد پر ان سے بھی بات کریں گے۔پاکستان کی جانب سے احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے بھارتی ہائی کمشنر کو طلب کیاگیا تھا ۔ ادھرالٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق بھارتی وزارت امور خارجہ کے ترجمان وکاس سوارپ نے ٹوئیٹر پر اپنے ایک بیان میںکہا ’بھارت کے زیر انتظام کشمیر‘ پر پاکستان کے بیانات سے پاکستان کا دہشت گردی کے ساتھ مسلسل تعلق ظاہر ہوتا ہے، جسے وہ ریاستی پالیسی کے آلے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔

بھارتی حکومت اور تعاون کی درخواست
اکیس سالہ برہان کے جنازے میں وادی بھر سے لوگوں نے شرکت کے لیے مارچ کیا، تو مختلف مقامات پر پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں نے مظاہرین پر فائرنگ کی، جس میں 30 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مشتعل مظاہرین نے جنوبی کشمیر کے سنگم علاقہ میں پولیس کی ایک گاڑی کو دھکیل کر دریا میں پھینک دیا، جس میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوگیا۔زخمیوں کی تعداد تین سو ہوگئی ہے، جن میں سو پولیس اور نیم فوجی اہلکار شامل ہیں۔ اس دوران کرفیو جاری ہے اور انٹرنیٹ پر بدستور پابندی ہے۔ہندوقوم پرست جماعت بی جے پی کی حمایت یافتہ حکومت کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے سنیچر کو کابینہ کا اجلاس طلب کر کے فورسز کو تلقین کی کہ وہ غیرمہلک طریقوں سے مظاہروں پر قابو پائیں۔

اجلاس کے بعد حکومت کے ترجمان اور حکمران پی ڈی پی کے سینیئر رہنما نعیم اختر نے تمام سیاسی حلقوں خاص طور پر حریت کانفرنس کے رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ حالات کو بحال کرنے میں حکومت سے تعاون کریں۔ میر واعظ عمر، سید علی گیلانی اور یاسین ملک نے ردعمل میں کہا ہے کہ حالات خراب کرنے میں سرکاری فورسز کا بنیادی کردار ہے۔ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے اگر جلوسوں کو روکنے اور نہتے مظاہرین پر فائرنگ کرنے کا سلسلہ ترک نہ کیا تو حالات مزید خراب ہوں گے جس کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔

وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی  کانگریس پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی اور کشمیر میں اپوزیشن کے رہنما عمر عبداللہ کو ٹیلی فون کر کے تعاون کرنے کی درخواست کی ہے۔عمر عبداللہ نے پہلے ہی واضح کردیا کہ اگر وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی سامنے آکر قیام امن کی کوششوں کی قیادت کریں تو وہ تعاون کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے محبوبہ مفتی سے کہا کہ انہیں اپنے غیر منتخب ترجمان اور پولیس افسروں پر تکیہ کرنے کے بجائے لوگوں کے سامنے آنا چاہیے۔ایک کالم نویس اعجاز احمد کا کہنا ہے کہ ’سمجھ میں نہیں آتا کہ ’جن رہنماؤں کو دو سال سے قید ہیں اور جمعہ کی نماز تک جنہیں پڑھنے کی اجازت نہیں، وہ کیونکر بات چیت کا حصہ بنیں گے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ نئی دلّی میں بی جے پی کی حکومت اور کشمیر میں اسی پارٹی کی حمایت یافتہ حکومت کو فی الوقت نظریاتی کشمکش کا سامنا ہے۔ بی جے پی قیادت کی دیرینہ پالیسی ہے کہ کشمیریوں سے بات چیت کی ضرورت نہیں لیکن راج ناتھ سنگھ اور محبوبہ مفتی کا عندیہ اس کے برعکس ہے۔

کشمیر: اقوامِ متحدہ میں پاکستانی احتجاج پر بھارت کا شدید ردعمل
پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں پرتشدد واقعات کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھایا تو بھارت کا سخت ردعمل سامنے آیا۔ سلامتی کونسل میں بھارت کے مستقل مندوب  سید اکبر الدین نے کہا ہے کہ ایک ایسے ملک کو حقوقِ انسانی کی بات زیب نہیں دیتی جو ’دہشت گردی کو ریاستی پالیسی‘ کے طور پر استعمال کرتا ہے۔انہوں یہ ردعمل مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کے بیان کے بعد دیا۔ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اپنے خطاب میں برہان وانی کی ہلاکت کو ’ماورائے عدالت قتل‘ قرار دیا تھا۔سید اکبرالدین نے کہا کہ پاکستان کا ’ٹریک ریکارڈ‘ ایسا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی ہیومن رائیٹس کونسل کی رکنیت کے لیے عالمی برداری حمایت حاصل نہیں کر سکا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج کشمیریوں کو کچل رہی ہے جب کہ ملیحہ لودھی نے کہا کہ حال ہی میں ایک کشمیری لیڈر کو ماورائے عدالت گولی مار دی گئی اور دیگر درجنوں بے گناہ کشمیریوں کو بے رحمی سے ہلاک کیا گیا۔ جموں و کشمیر میں قابض فوج طاقت کے استعمال سے کشمیریوں کی آزادی کے حق کو کچل رہی ہے۔ بھارت لاکھ کسمسائے، پینترے بدلے، اپنی سفارت کاری کے جوہر دکھا لے، جب ایک قوم نے عزم کر لیا کہ انہوں نے غلام نہیں رہنا تو پھر خدا بھی اس کے ساتھ شامل ہو جاتا ہے۔ پاؤلو کوئلہو اپنے شہرہ آفاق ناول الکیمسٹ کے مرکزی کردار سے کہلواتا ہے’جب کوئی شخص کچھ کرنے کا ارادہ کر لے تو پوری کائنات اس کی مدد کے لیے تیار ہو جاتی ہے‘۔ اس بار ’کشمیری آزادے‘ روایتی انداز کے ساتھ ساتھ نئی ٹیکنالوجی سے بھی لیس ہیں، برہان مظفر نے انہیں نئی راہ دکھا دی ہے، سو یہ طے ہے کہ کشمیریوں کا خونِ ناحق نہیں چھپے گا، بقولِ ساحر

ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔