ایدھی کا پاکستان

جاوید قاضی  ہفتہ 16 جولائ 2016
Jvqazi@gmail.com

[email protected]

یوں تو ایدھی سیاست میں نہیں تھے لیکن سیاست سے دور بھی نہیں تھے، ہاں لیکن وہ میرے گاؤں سے بلدیاتی انتخابات لڑتے بھی تو ہار جاتے۔ کبھی کسی نے سوچا کیوں یہ لوگ اپنے محسنوں کی شناخت نہیں رکھتے، نہ ایدھی کے پاس بیس کروڑ تھے نہ وہ الیکشن میں کھڑے ہونے کا شوق رکھتے تھے، وہ کیا تھے؟جس طرح امریکا کے کنگ مارٹن لوتھرکنگ تھے، جس طرح ہندوستان کی مدرٹریسا تھیں، اسی طرح پاکستان کے ایدھی تھے۔ ہاں! لیکن وہ پاکستان کے فادر ٹریسا نہیں تھے، جس طرح مغرب میں ان کو اب کہا جاتا ہے۔

وہ بس ایدھی تھا اپنے زماں ومکاں میں اپنے عہد کا سچ، اس کا اپنے زاویہ نما زندگی دیکھنے کا۔ جہاں سے حکومت ختم ہوتی تھی وہاں سے ایدھی کی سرحدیں شروع ہوتی تھیں۔ ایدھی کو دیکھ کر حکومت اورسکڑ گئی اور لوگوں نے بھی حکومت سے ٹکرانا چھوڑ دیا۔ ایدھی کا ٹریسا کی طرح کسی کلیسا یا مسجد یا فرقے سے تعلق نہ تھا۔ یہ اور بات ہے کہ دونوں نے بغیر رنگ و نسل کے لوگوں کے صرف انسانیت کے نام پر خدمت کی اور بھی بہت تفریقیں وکچھ مفاہمتیں ہیں، قصہ مختصر ایدھی بس ایدھی تھے، ٹریسا ٹریسا تھیں اورلوتھرکنگ لوتھرکنگ تھے۔

وہ ’’در عشق‘‘ تھا جس طرح رومی کہتے ہیں ایک ایسی منزل جہاں آدمی تنکا ہوجاتا ہے نہ جسم رہتا ہے نہ جاں رہتا ہے وہ زماں میں ہے مگر ہوتا زماں سے بڑا ہے رہتا وہ مکاں میں ہے لیکن ہوتا وہ مکاں سے بڑا ہے۔

خستہ تن ایدھی جوعمر بھر پہنے رہا وہ دوگز ملائیشیا کپڑے کا لباس تھا اور وہی اس کا کفن بنا۔ امن کا ہونا نہ ہونا ایک بات تھی کہ وہ ہے، نہیں بھی کہ وہ تھا، نہیں بھی۔ وہ ہونے نہ ہونے کی اس آنکھ مچولی میں اتنے بڑے کام کرگیا کہ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں ایک منفرد مقام تاریخ کے اوراق میں محفوظ کرگیا۔ عین اس وقت جب تہمتوں کا بازار گرم تھا، فتوؤں کی فیکٹریاں لگی ہوئی تھیں، وہ کاؤس جی کی طرح کہتا تھا کہ ریاست اور مذہب کو الگ کرو۔ وہ کہتا تھا انسانیت سے بڑا کوئی مذہب نہیں۔

اور لو، وہ اپنی دونوں آنکھیں بھی زندہ چھوڑگئے کہ وہ لحد میں جانے سے پہلے زندہ تھیں، تواس کو کیوں نہ وہ زندگی کے دامن میں چھوڑے،کسی نابینا کے پاس اس کی امانت ہوں (ٹریسا نے تو ایسا کچھ نہیں کیا تھا) بات کسی کو اونچا یا بڑا دکھانے کی نہیں ہورہی۔ بس یہ تشریح ان صفتوں کی جس کا ایدھی مجموعہ تھے۔ وہ انسانیت رمزمیں رچے ہوئے تھے۔ بس تمام مذاہب سے بالاتر۔ اتنے نایاب وناپید تھے کہ کہو ’’ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم۔‘‘

شاہ عنایت (جس نے دہلی کے خلاف بغاوت کی تھی اور اپنے عہد میں غلاموں کی جنگ لڑی تھی) کے پاس روایت ہے جب ان کا پیر پردہ بدلتا ہے،اس کا جسد خاکی گور پڑتا ہے اور اس کی روح جب ہواؤں میں تحلیل ہوجاتی ہے تو باقی پیر پاؤں میں جھانجر باندھے، ڈھولکی بجاتے ہیں وہ سرمستی اور کیف وسرور میں ناچتے ہیں۔ اسی خوشی میں کہ جہاں سے وہ آیا وہاں چلاگیا۔جب امجد صابری چلے تو ہم روئے اور بہت روئے کہ وہ اب بھی بہت دینے کے رمز میں رچے ہوئے تھے۔ پاکستان کو رنگوں والا پاکستان کرنے میں کسی نے ان کی جھولی میں گولی پیوست کر دی اور ساری آبیاری کے بیج جو آیندہ کی نسلوں کو دینے تھے ضایع ہوگئے ان کی ’’بھردے جھولی‘‘ کی صدا وہی بکھرگئی۔ مگر ایدھی جب گئے تو ساری اپنی جھولی خالی کرگئے ۔ سب بیج باغ میں بوگئے اور ایسے گئے کہ بقول غالب ’’حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا‘‘ وہ سادھو تھے اور سادھو کی صفتیں جو کبیر نے بتائی ہیں وہ کچھ اس طرح سے ہیں۔

سادھو بھوکا بھانکا دین کا بکوھا ناہیں

دین کا بھوکا جو پھرے‘ سو تو سادھو ناہیں

ذرا سوچیں کتنا دھن آیا ایدھی کے پاس اتنا توکسی کے پاس بھی نہیں آیا، اربوں کھربوں روپے آئے ایدھی کے پاس، اس کے پاس جہاز تھا، دو دو ہیلی کاپٹر تھے، املاک تجیں، اس کے پاس نہ تھا اگر تو لالچ نہیں تھا، وہ صید ہوس نہیں تھا جہاں سے چوری کے راستے کھلتے ہیں۔کھانے پینے کی بھی کوئی بڑی تفصیل نہیں تھی۔ بس پیٹ بھر جائے، غریبوں کی طرح رہوں، غریبوں کا دکھ محسوس ہو۔ غریب غریب کرتے کرتے عمرگزاری، زندگی نے اسے بہت دیر سے چھوڑا، کیا کرتی زندگی ، بس انتہا پرست کی طرح گولی نہیں ہے زندگی۔ زندگی، زندگی اور ایدھی دیتے تھے زندگی۔ ایدھی تھے تو بے منزل و بے نشاں معصوم بچوں کے ابا خود اپنے وجود میں، جو یتیم تھے۔ ان کے پاس جو بیٹھتا تو ننھے سے بچے اس کی داڑھی میں ہاتھ ڈال دیتے جیسے میرے بچے اپنے نانا کی داڑھی میں ڈالتے ہیں، گالوں سے گال لگا لیتے۔ کون کہے کہ اس کے آشرم یتیم خانے تھے یا نانا کا آنگن تھا۔ اور وہ بھی جو مرجاتے لاوارث تو ایدھی تھے ان کے وارث انھیں غسل کراتے، کفن پہناتے اور لحد میں ڈالتے۔ کوئی دو نہیں بلکہ 58000 لاشیں اس نے اور اپنے رضاکاروں کے کاندھوں سے لگائیں۔ میں نے کہا نا جہاں سے حکومت ختم ہوتی تھی وہاں سے ایدھی شروع ہوتے تھے۔

اتنے بڑے کہ جیسے خود حکومت ہوں۔ اس کے ڈونر وہ نہیں تھے جو NGO کے ڈونر ہیں، نہ وہ تھے جو مدرسوں میں نفرتوں کے بیج اگنے کے لیے ڈونیشن دیتے ہیں۔ سارے ڈونر انفرادی فرد تھے جو زکوٰۃ دیتے تھے، جو خیرات کرتے تھے جو عطیہ وغیرہ دیتے تھے، جو قربانیاں کرتے تھے جو انسانیت سے پیار کرتے تھے جو بس ایدھی پر اعتبار کرتے تھے ، جو ایدھی کے کشکول کو بھر دیتے تھے۔ہمارے ایک دانشور دوست نے بتایا کہ اس مرتبہ ورلڈ بینک کے صدرکراچی آئے اور قائم علی شاہ صاحب سے ملے تو ایسے لگا ورلڈ بینک کا صدرسندھی ہو اور قائم علی شاہ کسی حجاج بن یوسف کے سندھ میں بھیجے گورنر۔ ورلڈ بینک کے صدر نے انتباہ کیا کہ سندھ میں آیندہ نسلیں بھی غذا کی کمی کے شکار کی وجہ سے بیمار رہیں گی، وہ کل بھی Malnutritioned تھے اور ان Malnutritioned ماؤں کے بچے آج بھی Malnutritioned ہیں اور جس طرح سندھ حکومت آنکھیں بند کرکے بیٹھی ہے آیندہ کی نسلیں بھی Malnutritioned رہیں گی۔ تھر اس کا استعارہ ہے۔مگر قائم علی شاہ دبئی میں رہتے اپنے بادشاہ سلامت کے گورنر جو تھے۔

ان کے کان پر جوں نہ رینگی۔ بات اس کان سے سنی اور اس کان سے نکال بھی دی۔گھورا ڑے گھوڑا۔اے غم دل کیا کروں۔ستم تو یہ ہے کہ ان حکمرانوں کو اگرکچھ کہو توآمریت نوازوں کو تقویت ملتی ہے اور اگر نہ کہو تو ارتقا کی مسافتیں تیز نہیں ہوتیں۔ اس غلاموں کی جمہوریت کی کوکھ سے نکلیں گی آگے کی راہیں،شور سنتا ہوں کہ یہ غلاموں کی جمہوریت آمریتوں سے کئی گنا بہتر ہے۔ اس پہ واضح ہیں، مگر وہ آشنا بھی ملا ہم کو اجنبی کی طرح۔ نانا بنو تو ایدھی جیسے بنو، دادا بنو تو ایدھی جیسے بنو، ابا بنو یا اماں بنوایسا پریوار بنو جہاں ریاست خود ماں ہو،ابا ہو، نانا ہو، نانی ہو،دادا ہو، دادی ہو۔ یہی توکہتے تھے کارل مارکس مگر اپنے انداز میں۔ یہی توکہتے تھے ایدھی مگر اپنے انداز میں۔ اس ملک میں جو بنیادی مسئلہ ہے وہ ہے ریاست کے غائب ہونے کا۔ اسکولوں سے ماسٹر غائب، تھانے سے پولیس غائب، عدالتوں سے جج غائب، وزیراعظم ہاؤس سے وزیراعظم غائب، زرداری غائب ، اسپتالوں سے ڈاکٹر غائب۔ ٹاک شوز میں انتہا پرستی کو ہوا دی جا رہی ہے۔

انسانی حقوق کے رکھوالے آئین کے محافظ کوئی تو سوموٹو لیتے اور پیمرا ہے کہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ کے الیکٹرک کی مرضی ہے جتنے چاہے بل نکالے، نیپرا غائب۔ارے بھائی ایدھی سیکولر تھے اور کہتے تھے کہ اس کی جنگ غریب اور امیر کے درمیان ہے۔ وہ اپنی عمر میں اپنے حصے کا سچ کہہ گئے اورایک مشعل جو پڑی ہے جس کو ایک بچے نے اٹھانی ہے۔ کچھ اس طرح سے کہ جیسے ایدھی کہہ رہے ہوں کہ میرے بعد کون بنے گا ایدھی، تو رات کسی گھر میں نومولود بچے نے جیسے کہا ہو کہ ’’میں بنوں گا ایدھی‘‘۔پورا پاکستان رخصتی کے وقت بھی ایک کرگیا اتنا مضبوط کہ جتنی دراڑیں ان حکمرانوں اور ریاست کا مذہب میں پناہ لے کر بیٹھ جانا اور وہ کسی خاص فکر یا فرقے والا، جتنے چور تھے تعلیم کے بجٹ کھانے کے، اسپتالوں میں دواؤں کے لیے مختص پیسے کھانے والوں کے، آف شورکمپنیوں میں، سوئس بینکوں میں، دبئی میں ان غریبوں کے لیے مختص پیسے لوٹ جانے والوں کو شرمندہ کرگیا اور غریبوں کے پاکستان کو جناح، فاطمہ جناح کو سرخرو کرگیا۔ (جناح اورایدھی کاٹھیواڑو گجرات سے ہجرت کرکے آئے)۔ایک لمحہ یوں لگا کہ جیسے یہ اشرافیہ کا پاکستان نہیں، ایدھی کا پاکستان ہے۔

بس تھوڑی سی تنقید اوروہ بھی کچھ اس طرح کہ ایدھی اب سیاست میں اور ریاست کو ایدھی بنائے یہ نہیں کہ جہاں سے ریاست ختم ہوتی تھی وہاں سے ایدھی شروع ہوتے تھے۔ ریاست صرف وڈیروں، سرمایہ داروں، جرنیلوں، ججوں اور موقع پرست مڈل کلاس رہبروں کی نہیں۔ سیاست ان کی میراث نہیں۔سیاست ایدھی کی میراث ہو، ایدھی کو پہچانو اسے ووٹ ڈالو، اپنے گلے سے اب یہ طوق اتارو، ایدھی کو پہچانو اور ایدھی کوووٹ دوکہ ایدھی کا پاکستان بنے۔ آئیے کہ وہ مشعل اٹھائیں جہاں سے ایدھی نے چھوڑی ہے، وہاں سے وہی گیت گنگنائیں، جو ایدھی گنگناتے، جھگڑا اصل میں امیر اور غریب کا ہے۔ جوغریب کا ہے اسے دو، اسے عدالتیں چاہئیں، اسکول، اسپتال اور صاف پینے کا پانی چاہیے، روزگار چاہیے اور تو یہ کچھ نہیں مانگتا، بس یہی کہ ریاست ماں ہوجائے، یتیموں کی بھی، بیواؤں کی بھی، اقلیتوں کی بھی، دہقانوں کی بھی، ان عورتوں کی بھی جن کو روز کوئی نہ کوئی مذہب کا لبادہ اوڑھ کے محکوم بناتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔