عوام و عوامی طاقت اسے کہتے ہیں!

ندیم جاوید عثمانی  اتوار 17 جولائ 2016
اس تمام تر صورتحال کی وجہ ترک حکومت کا وہ عمل بھی ہوسکتا ہے جس میں ترک حکومت کی جانب سے آئین کو واپس اصل شکل میں لانے کی خواہش کا اظہار کیا جارہا تھا۔

اس تمام تر صورتحال کی وجہ ترک حکومت کا وہ عمل بھی ہوسکتا ہے جس میں ترک حکومت کی جانب سے آئین کو واپس اصل شکل میں لانے کی خواہش کا اظہار کیا جارہا تھا۔

اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ تاریخ میں وہی قومیں زندہ رہتیں ہیں جو جانتی ہیں کہ تاریخ میں زندہ رہنے کے لئے صرف سانس لینے کا عمل ہی کافی نہیں خود کو زندہ ثابت بھی کرنا پڑتا ہے۔

بس ایسا ہی ثبوت کل ترک عوام نے دیا جب جمہوریت کو بچانے کی خاطر اپنے لیڈر کی صرف ایک آواز پر لبیک کہتے ہوئے وہ اپنے گھروں سے سڑکوں پر نکل آئے اور بغاوت کرنے والوں سے اُس وقت تک مقابلہ کیا جب تک وہ ہمت نہ ہارگئے۔

دیگر ممالک کی طرح ترک فوج کا شمار بھی ایک طاقتور فوجی نظام کی نمائندگی کرتا ہے اور اپنی اسی طاقت کی دھاک بٹھانے کو ترکی فوج کی جانب سے جمہوریت کو روند کر جرنیلی نظام قائم کرنے کے لئے ایک باغی قدم اُٹھایا گیا اور اس فوجی بغاوتی قدم کو طاقت فراہم کرنے میں امریکہ اور اسرائیل سرفہرست دکھائی دیتے ہیں کیونکہ فوجی نظام کسی بھی ملک کا ہو لیکن جرنیلی نظام امریکہ و اسرائیل کے تابع ہی دکھائی دیتا ہے اور اس فوجی بغاوت کے پیچھے بھی امریکہ و اسرائیل کے کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

اس تمام تر صورتحال کی وجہ ترک حکومت کا وہ عمل بھی ہوسکتا ہے جس میں ترک حکومت کی جانب سے آئین کو واپس اصل شکل میں لانے کی خواہش کا اظہار کیا جارہا تھا اور اسی کے ساتھ اُس معاہدے کی تجدید بھی شامل تھی جس میں ترکی کی جانب سے اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ غزہ سے اپنا محاصرہ ختم کرے۔ ایسی صورت میں ہونا چاہیے تھا کہ راتوں رات ہی فوج حکومت پر اپنا قبضہ جمالیتی مگر یہ نہ تھی ہماری قسمت کے مصداق ترک فوج کو اپنی ہی عوام کی بھرپور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑگیا۔

اس تمام تر صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہمارے سوشل میڈیا پر بیٹھے لوگ جہاں ایک فوج یا جمہوریت کی بحث میں اُلجھے ہوئے ہیں وہیں کچھ بھائی ترک عوام اور پاکستانی عوام کا آپس میں موازنہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔  لیکن ہمارے نزدیک یہ ملاپ انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔ ایسا کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہاں تو کبھی شکریہ شکریہ کی مہم چل پڑتی ہے تو کبھی لوٹ آؤ جیسے بینر آویزاں ہوجاتے ہیں۔ جب خلاف معمول کام ہوجائے تو مزاحمت کے بجائے حالات کو اپنا مقدر مان کر گھر میں بیٹھے ہاتھوں میں شکر کی تسبیح گھماتی رہتی ہے۔ لیکن ترکی میں ایسا بالکل بھی نہیں ہوا۔ یہ سب سمجھنے کے لیے بس دو باتیں کافی ہونگی۔ اول تو یہ کہ ترک عوام اپنے لیے فراہم کردہ جمہوری نظام سے مکمل طور پر مطمئن ہے۔ دوئم وہ اچھی طرح سمجھ گئی ہے کہ فوج صرف ایک دفاعی نظام کا نام ہے جو ملک و سرحدیں تو محفوظ رکھ سکتی ہے لیکن جمہوری نظام کی باگ دوڑ اگر اس ادارے کو تھما دی جائے تو ملک اور معشیت دونوں کو نگلنے کے لئے تاریکی کے ناگ بے قرار ہوجاتے ہیں۔

اس وقت اگر ترکی کے حالات پر ایک نظر ڈالیں تو بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ اس عوامی ردِعمل کا تمام تر سہرا وہاں کی عوامی لیڈر شب کے سر جاتا ہے۔ لیکن یہی سوال پاکستانی عوام سے پوچھا جائے کہ اگر کل کو پاکستان کی عوامی لیڈرشپ پاکستانیوں سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کرے تو کیا وہ نکلے گی؟ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اکثریت کا جواب نفی میں ہوگا کیونکہ اُن کو وہ سہولیات بالکل بھی میسر نہیں جو جمہوری دور میں عوام کو ہونی چاہیے۔

اس صورتحال کے پیش نظر کہا جاسکتا ہے کہ ترک عوام کو جس بیدار لیڈرشپ کی مدد حاصل ہے پاکستانی عوام اُس سے محروم ہے۔ اگر یہاں بھی عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونی والی حکومت اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ جائے اور اُن ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اپنا فرض ادا کرنا شروع کردے تو یقین کیجیے یہاں لوگ جمہوریت کا ترکی سے بھی زیادہ ساتھ دیں گے۔ لیکن اگر یہ نہیں ہوا تو پھر عوام صرف اُن لوگوں کو ساتھ دے گی جن سے اُن کو کسی اچھائی کی امید ہے، پھر چاہے وہ کوئی بھی ہو۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔