’’خدا کے لیے اب آ بھی جاؤ‘‘

رحمت علی رازی  اتوار 17 جولائ 2016
rehmatraazi@hotmail.com

[email protected]

2018ء کے عام انتخابات میں بھی ہمیں کچھ نیا ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا، اس بار بھی وہی سیاستدان ہوں گے اور وہی قوم ہو گی۔ غرباء غریب سے غریب تر ہوتے جائینگے اور امراء و رؤسا بیرون ملک سرمایہ کاری کرینگے۔

جنرل راحیل شریف ہمارے لیے اُمید کی آخری کرن ہیں، وہ اچھا کام کر رہے ہیں، جنرلز عموماً اس وقت تک میدان نہیں چھوڑتے جب تک جنگ ختم نہ ہو جائے چنانچہ ہم نہیں چاہتے کہ جنرل راحیل شریف اپنے کاموں کو ادھورا چھوڑ کر چلے جائیں، انھیں مدتِ ملازمت میں توسیع دی جانی چاہیے تا کہ وہ پاکستان سے کرپشن اور دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کر سکیں۔

آج اسٹریٹ کرائم کی شرح کیا ہے اور جنرل راحیل شریف سے پہلے اس کی شرح کیا تھی، دیکھیں تاجر برادری اب کتنے سکون میں ہے، یہ سب اُن ہی کی وجہ سے ہوا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں وہ مزید اپنے عہدے پر رہیں، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانی، پاکستان میں ہی سرمایہ کاری کریں اور بیرون ملک جانے کے بارے میں نہ سوچیں، ہم پاکستان میں امن چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا پیارا وطن دُنیا کا آئیڈیل ترین ملک بن جائے اور ہر شعبہ میں غیرمعمولی ترقی کرے۔ کون جانے کہ جنرل راحیل شریف کے بعد کس قسم کا شخص فوج کی باگ ڈور سنبھالتا ہے، ہمیں جنرل راحیل شریف جیسا آزمایا ہوا مضبوط جنرل ہی چاہیے، ہم ایسا جنرل نہیں چاہتے جو حکومت کے اشاروں پر چلتا ہو۔

جنرل راحیل شریف کی موجودگی میں یہاں اچھے کام ہو رہے ہیں، انھوں نے اپنے آپ کو ثابت کیا ہے، جنرل اشفاق پرویز کیانی کو 3 سال کی توسیع مل سکتی ہے تو جنرل راحیل شریف کو کیوں نہیں؟ یہ موقف ہے ’’موو آن پاکستان،، نامی ایک غیرمقبول سیاسی جماعت کے سیکریٹری جنرل کا، جن کی تنظیم کا ہیڈ کوارٹر فیصل آباد میں ہے اور انھوں نے حال ہی میں جنرل راحیل شریف کی حمایت میں اسلام آباد، لاہور اور کراچی سمیت ملک کے 13 بڑے شہروں میں پینا فلیکس بینرز آویزاں کیے تھے۔

ملک کے مختلف شہروں میں جنرل راحیل شریف کی حمایت میں لگائے گئے بینرز کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور قیاس آرائیوں کی وضاحت کے لیے تنظیم کے سیکریٹری جنرل بیرسٹر فیاض احمد سیمور کا کہنا ہے ’’اگرچہ ہماری تنظیم الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ ہے لیکن ہم روایتی سیاست کے حق میں نہیں ہیں، ہم عوامی شعور کے حوالے سے زیادہ کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ہمارے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ شاید ہم بغاوت یا مارشل لاء کا خیرمقدم کر رہے ہیں، ابھی تک جنرل راحیل شریف ہی وہ واحد شخص ہیں جنھوں نے ملک و قوم کے لیے کچھ کام کیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہم نے ایک بہتر مستقبل کے لیے اپنی اُمیدیں ان سے وابستہ کر رکھی ہیں، کچھ عرصہ قبل ان کی ریٹائرمنٹ کے حوالے سے بہت کشمکش تھی اور یہ وہی وقت تھا جب ہم نے اپنی مہم کا آغاز کیا اور کہا کہ ’’خدا کے لیے جانے کی باتیں جانے دو،،۔ یہ سلوگن پینافلیکس بینرز پر شائع کر کے نمایاں مقامات پر آویزاں کیا گیا تا کہ یہ سب کی نظروں میں آ سکے۔ ہم نے اس حوالے سے سیمینارز بھی منعقد کروائے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ہمیں پاک فوج یا آرمی چیف کی جانب سے اُمید کے مطابق ردعمل موصول نہیں ہوا، اب کی بار ہم نے مزید مضبوط پیغام ’’جانے کی باتیں ہوئیں پرانی، خدا کے لیے اب آ بھی جاؤ‘‘ کے ساتھ بینرز بنوائے اور میڈیا نے ان کا نوٹس بھی لے لیا اور پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بھی اس حوالے سے بات کی۔

’’موو آن پاکستان‘‘ کی جانب سے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی تصویر والے بینرز لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، فیصل آباد، سرگودھا اور حیدرآباد کی مختلف شاہراہوں پر لگائے گئے۔ رواں سال جنوری میں بھی متذکرہ تنظیم کی جانب سے ملک کے بڑے شہروں کی معروف شاہراہوں پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی تصویر والے بینرز لگائے گئے تھے، جن پر لکھا گیا تھا ’’جانے کی باتیں جانے دو‘‘ یہ بینرز آرمی چیف کے اس بیان کے بعد لگائے گئے تھے، جس میں انھوں نے ملازمت میں توسیع لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مقررہ وقت پر ریٹائر ہو جائینگے۔

جنرل راحیل شریف کی مدتِ ملازمت رواں سال نومبر میں ختم ہونے جا رہی ہے۔ موو آن پاکستان کے مرکزی چیف آرگنائزر علی ہاشمی کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد یہ ہے کہ ملک میں مارشل لاء کا نفاذ ہو اور ٹیکنو کرٹیس کی حکومت قائم کی جائے اور جنرل راحیل شریف خود اس حکومت کی سرپرستی کریں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ملک کے 13 شہروں میں راتوں رات یہ بینرز لگا دیے گئے۔ ’’موو آن پاکستان‘‘ کے چیئرمین محمد کامران ایک تاجر ہیں اور فیصل آباد، لاہور اور سرگودھا میں کئی اسکولوں اور کمپنیوں کے مالک ہیں۔

یہ تنظیم فروری میں اْس وقت عوام کی توجہ کا مرکز بنی جب اس نے آرمی چیف کی حمایت میں ملک بھر میں پوسٹرز اور بینرز لگائے، جن میں آرمی چیف سے ریٹائرمنٹ کے فیصلے پر نظرثانی کرنے اور ملک سے کرپشن اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس وقت ان کا کہنا ہے کہ ملک میں مارشل لاء کے نفاذ اور ٹیکنو کریٹس کی حکومت تشکیل دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کیونکہ وزیراعظم نواز شریف کی 48 دن تک ملک سے غیرموجودگی نے ثابت کر دیا ہے کہ ملک میں سیاسی حکومت نہیں چاہیے، جو لوگ اپنے ہزاروں ساتھیوں کی قربانی دیکر دہشت گردی اور کرپشن کے خاتمے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں، صحیح معنوں میں ان ہی کو ملک چلانا چاہیے۔

مووآن پاکستان کے کارکنان مستقبل میں فیصل آباد، لاہور، کراچی اور سکھر میں ریلیاں نکالنے کے بارے سوچ رہے ہیں جب کہ دوسرے مرحلے میں وہ عوام کو پاکستان اور قوم کی بہتری کے لیے آرمی چیف کی حمایت کرنے پر قائل کرینگے لیکن ’’موو آن پاکستان‘‘ کی مہم کو دیکھ کر لگتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے اور ملک میں کچھ ہونے والا ہے۔ دوسری جانب ٹی وی ٹاک شوز اور سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر بھی متذکرہ تنظیم کی مہم موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔

کچھ عاقبت نااندیش فوج کو بدنام کرنے کے لیے یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ یہ پوسٹر فوج نے خود لگوائے ہیں جب کہ آرمی کی جانب سے اس کی سختی سے تردید کی گئی اور آئی ایس پی آر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہاہے کہ آرمی چیف کے تصویر والے بینرز کا فوج یا اس سے منسلک کسی ادارے سے کوئی تعلق نہیں۔ حکمرانوں کا چہرہ بچانے کے لیے جزوی طور پر حرکت میں آتے ہوئے اسپیشل برانچ اور دیگر انٹیلی جنس ایجنسیوں نے سڑکوں پر لگے وہ بینرز اُتار لیے ہیں جن پر ’’خدا کے لیے اب بھی آجاؤ‘‘ لکھا تھا اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی تصویر بھی موجود تھی۔

اس طرح کے بینرزایسے علاقوں میں بھی دیکھے گئے جہاں زیادہ تر عدلیہ اور ضلعی انتظامیہ کے افسران رہائش پذیر ہیں۔ راولپنڈی صدر میں میٹرو بس کے ٹریک پر بھی اس طرح کے پوسٹرز نظر آئے تھے تاہم بعد میں انھیں بھی ہٹا دیا گیا۔ پیپلزپارٹی کے گیانی چوہدری اعتزاز احسن نے ببانگِ دہل دعویٰ کیا ہے کہ یہ بینرز حکومت کی کارستانی ہے جو اپوزیشن کو خوفزدہ کرنے اور اسے ممکنہ خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے لگائے گئے ہیں مگر ہم بھی سمجھتے ہیں کہ اس بھونڈی چال سے خود حکومت کو غیرمعمولی نقصان ہو گا۔

سوشل میڈیا پر بھی اسے حکومت کا کارنامہ ہی قرار دیا جا رہا ہے، ایک سرکاری نمبر پلیٹ کی گاڑی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جس میں یہ بینرز مختلف شاہراہوں پر پہنچائے جا رہے ہیں۔ ایک تازہ ترین یہ بھی ہے کہ ’’موو آن پاکستان‘‘ (جس کا تعلق فیصل آباد سے ہے) کو فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ایک صوبائی وزیر کی مکمل سپورٹ حاصل ہے۔

یہ بینرز پنجاب حکومت کے فنڈ سے بنوائے اور لگوائے گئے ہیں، جسکا نوازشریف کو ذاتی طور پر علم نہیں ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ جب نواز شریف نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے آرمی چیف کے بینرز آویزاں کیے جانے سے متعلق استفسار کیا کہ پنجاب ہارٹی کلچر اتھارٹی نے شہر میں بینرز کیسے لگانے کی اجازت دی، تو شہباز شریف کچھ دیر کے لیے خاموش رہے اور بعدازاں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود شہر میں بینرز آویزاں کرنے پر تشویش میں مبتلا ہیں، وہ خود اس حوالے سے پی ایچ اے سے معلوم کر رہے ہیں۔

عام طور پر ٹیکس ادا کرنے کے بعد بینرز لگائے جاتے ہیں لیکن یہ بینرز عام روٹین کی طرح لگائے گئے۔ جب میڈیا نے صوبائی وزیر قانون پر زور دیا کہ وہ ’’موو آن پاکستان‘‘ کے کارکنوں کو گرفتار کیوں نہیں کر رہے تو انھوں نے یہ کہہ کر جان چھڑا لی کہ ایسے گمنام لوگوں کو اتنی اہمیت دینے سے وہ ہیرو بن جائینگے لہٰذا بہتر ہے کہ انہیں نظرانداز کیا جائے۔ مگر اب شاید وزارتِ داخلہ کے دباؤ پر ’’موو آن پاکستان‘‘ کے تین کارکنوں کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے اور یقینا چند دن بعد انہیں باعزت طور پر شکریہ ادا کرتے ہوئے چھوڑ دیا جائے گا۔

دوسری جانب جمہوریت پر شب خون مارنے کے لیے فوج کو اُکسانے کا اقدام سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ درخواست گزار فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سابق صدر محمد افضل بٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پاک فوج کے سربراہ کو آئین کی پامالی کی دعوت دینا اور جمہوریت پر شب خون مارنے کے لیے اُکسانا آئین سے سنگین غداری کے مترادف ہے، افواجِ پاکستان نے ملکی آئین کی پاسداری کا حلف اُٹھا رکھا ہے، اس لیے فوج کو اقتدار سنبھالنے کی دعوت دینے والے محبِ وطن نہیں ہیں۔

ہمارا یہ ماننا ہے کہ پاکستان میں تو جمہوریت نام کی چیز موجود ہی نہیں جس پر شب خون مارا جائے، فوج کی نیت اگر ایسی ہوتی تو 2014ء کے دھرنوں کے دوران وہ باآسانی امورِ مملکت اپنے ہاتھ میں لے سکتی تھی مگر انھوں نے جمہوریت کی پاسداری کے لیے خود کو اپنے دوائر میں محدود رکھا۔ یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے عوام جمہوری مداریوں سے ناک ناک آ چکے ہیں اور کسی مسیحا کی راہ تک رہے ہیں۔ پاکستان اور ترکی کے معروضی حالات اور زمینی حقائق میں زمین آسمان کا امتیاز ہے۔

ترکی کی تاریخ بھی پاکستان کی طرح فوجی بغاوتوں اور سازشوں سے اَٹی پڑی ہے، اس کے باوصف وہاں کے عوام جمہوریت سے فیضیاب ہوئے ہیں اور وہاں کے حکمرانوں کی عوام میں گہری جڑیں بن چکی ہیں، اگر ایسا نہ ہوتا تو جمعہ کی شب امریکا کی سپانسر کردہ فوجی بغاوت کے خلاف ترک عوام کا سیلاب سڑکوں پر کبھی نہ بپھرتا، اس کے برعکس اگر پاکستان میں ایسی صورتِ حال پیدا ہو جائے تو عوام سیاستدانوں کا ساتھ کبھی نہیں دینگے۔

سیاستدان ظاہری طور پر نہیں تو نفسیاتی طور پر جنرل راحیل شریف سے ضرور خائف ہیں اور آثار یہی بتاتے ہیں کہ حکمران جماعت، حتیٰ کہ اپوزیشن کی زیادہ تر جماعتیں بھی جنرل راحیل کی ریٹائرمنٹ کے انتظار میں ہیں تاہم مقتدرہ کو خوب اندازہ ہے کہ جنرل راحیل شریف کی فوج اور ملک کو کتنی شدت سے ضرورت ہے۔ یہ جنرل راحیل شریف کی مدبرانہ کمانڈ اور موثر پالیسیوں ہی کا نتیجہ ہے کہ ملک میں امن وامان کی صورتحال میں نمایاں حد تک بہتری آئی، خاص کر کراچی شہر کا امن عشروں بعد بحال ہوا ہے مگر جنرل راحیل شریف کی سرپرستی میں سلامتی اداروں کو ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

آپریشن تو جنرل کیانی کے دور میں بھی شروع ہوا تھا مگر دہشت گردوں نے ان کے دور میں ریکارڈ دھماکے بھی کیے مگر یہ پوری دنیا تسلیم کرتی ہے کہ دہشت گرد جنرل راحیل کے نام سے خوف کھاتے ہیں، اس کی واضح مثال علی حیدر گیلانی کا بیان ہے۔ علی حیدر گیلانی کو 3 سال قبل 9 مئی 2013ء کو عام انتخابات کے دوران اغوا کیا گیا تھا، جنھیں 2 ماہ قبل افغانستان سے بازیاب کروایا گیا۔ وہ بازیابی کے بعد پہلی مرتبہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملے، انھوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ’’میں جنرل راحیل شریف سے ملا اور انھیں بتایا کہ طالبان جس شخص سے ڈرتے ہیں وہ صرف آپ ہیں‘‘۔

پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ سول ملٹری تعلقات رہے ہیں۔ نوازشریف کے ساتھ ملٹری مائنڈ کا ایک تصادم ہمیشہ رہا ہے۔ فوج میں طے شدہ پالیسی چلتی ہے۔ نوازشریف فوج کی ہر پالیسی پر اپنی ایک رائے رکھتے ہیںاور اس پر ہی عمل کرتے ہیں۔ نوازشریف کی بدقسمتی یہ ہے کہ ان کے ساتھ بہت کچھ ایسا ہے کہ ان کی اخلاقی ساکھ پر بہت سے سوالات اُٹھ چکے ہیں۔ اتنی دھول اُڑ چکی ہے کہ وہ اب قانونی جواز کے تحت حکومت کرنے سے عاجز دکھائی دے رہے ہیں۔ انھیں اپنی پبلک سپورٹ پھر ایک بار ثابت کرنا ہو گی جو خاصا دشوار دکھائی دیتا ہے۔

سی پیک پراجیکٹ ایک مسئلہ ہے جس پر فوج نے کئی سال پالیسی لیول پر کام کیا مگر اس کا سارا کریڈٹ نوازشریف لے گئے،وہ اس کو اپنی مرضی کے رُخ پر تعمیر کر رہے ہیں۔ بھارت اور افغانستان کے ساتھ جاری پالیسیاں بھی ایک مسئلہ ہیں۔ نوازشریف کھلے راستوں کے شدت سے حامی ہیں جب کہ ادارے اس حوالے سے کسی جلدی میں نہیں ہیں۔ 2013ء میں اقتدار میں آنے سے لے کر اب تک وزیراعظم نواز شریف کی حکومت مختلف بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے۔

عمران خان اور طاہر القادری کے دھرنے، سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ، پیپلز پارٹی سے نون لیگ کی قربت، وزیرستان میں آپریشن میں تاخیر، پنجاب میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر نون لیگ کی خاموشی اور ترقیاتی کاموں میں مبینہ کرپشن کی داستانوں نے عسکری اور سیاسی قیادت میں دُوریاں پیدا کیں۔ آف شور جائیدادوں کے حوالے سے شریف خاندان کے متضاد بیانات نے حکومت کے لیے لاینحل مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ سیاسی محاذ پر نون لیگ کے خلاف ایک نیا طوفان کھڑا ہونے جا رہا ہے۔

موجودہ حکومت کے لیے اب تک آنیوالے بحرانوں میں یہ سب سے بڑا بحران ہے۔ سیاست میں حکومت کرنے کے لیے اخلاقی جواز بہت ضروری ہوتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ حکومت کا وہ جواز بہت کمزور ہو چکا ہے۔ ہمیں تو حکومت کا بوریا بستر گول ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ پوری دنیا میں آپ سرمایہ کاروں کو پاکستان آ کر پیسہ لگانے کی ترغیب دیں اور آپ کے بیٹے ٹیکس بچانے کے لیے آف شور کمپنیاں بنائیں۔ ہمارے خیال میں اس ساری صورتحال میں ایک ٹیکنوکریٹک حکومت کا قیام عمل میں آ سکتا ہے، جس میں اچھی شہرت والے افراد کو لیا جائے گا اور اس حکومت کو فوج کی حمایت بھی ہو گی۔

موجودہ صورتحال نے حکومت کے لیے سخت مشکلات پیدا کر دی ہیں، اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ عمران خان اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کو مڈٹرم انتخابات کی طرف لے جائیں۔ علالت کے بعد لوگ ہر ممکن طور پر اعصابی تناؤ والے ماحول سے اجتناب کرتے ہیں لیکن نواز شریف برطانیہ میں دل کے ’’آپریشن‘‘ کے بعد ایک ایسے سیاسی ماحول میں لوٹے ہیں جو اعصابی حوالے سے ان کے لیے کسی تارِعنکبوت سے کم نہیں۔ مصائب سے راہِ فرار حاصل کرنے کے بعد ان کے مسائل میں مزید اضافہ ہو چکا ہے۔

ملک کی قوم پرست سیاسی جماعتیں اس بات پر وزیر اعظم سے خفا ہیں کہ سی پیک کا مغربی روٹ ان کی خواہشات کے مطابق نہیں بنایا جا رہا۔ حزبِ اختلاف کی جماعتیں ’ٹرمز آف ریفرنس، پر اتفاقِ رائے نہ ہونے پر سیخ پا ہیں اور آیندہ دنوں میں نون لیگ کی حکومت کے خلاف بھرپور احتجاج کا پروگرام بنا رہی ہیں، اس کے علاوہ سب سے بڑھ کر یہ کہ اسٹیبلشمنٹ سے مخاصمانہ رویہ رکھنے والے نواز شریف کو ایک بار پھر نئے آرمی چیف کے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہے۔ مزید یہ کہ ایران، بھارت، امریکا اور افغانستان سے تعلقات بھی حالیہ مہینوں میں ناخوشگوار رہے ہیں۔

دریں حالات مسلم لیگ نون کو خوف تو ہے مگر احساس نہیں کہ اس کے لیے ہرآنیوالا دن سیاسی مسائل سے کس قدر بوجھل ہے۔ نواز شریف کو ان تمام مسائل اور چیلنجوں کا ادراک ہو نہ ہو لیکن یہ مسائل صرف وزیر اعظم ہی کے لیے نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے ہیں۔ کچھ قوتیں نہیں چاہتیں کہ ’سی پیک، پراجیکٹ مکمل ہو۔ وہ چین کی طرف سے اتنی بڑی سرمایہ کاری کو کامیاب ہوتا نہیں دیکھنا چاہتیں۔ یہی قوتیں ملک کے خلاف سازشیں کر رہی ہیں، جن سے ملک اور جمہوریت دونوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

حکومت کو اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے بارہا یقین تو دلایا گیا ہے کہ جمہوریت کی حمایت کی جائے گی اور اس نے اب تک جمہوریت کی حمایت کی بھی ہے لیکن جب سیاستدان خود ہی اس طرح کے احتجاج کی پالیسی اپنائیں گے، تو پھر فوج کیا کر سکتی ہے؟ عالمی قوتیں بھی جمہوریت کی حمایت کا یقین تو دلاتی ہیں لیکن آپ ان کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ نئے آرمی چیف کا تقرر کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس کے لیے قواعد موجود ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف کے لیے یہ کوئی مشکل فیصلہ نہیںلیکن ان کے لیے ہر لحاظ سے یہی بہتر ہو گا کہ وہ جنرل راحیل شریف کو توسیع لینے پر مجبور کریں، اس میں ہی حکومت کی بہتری ہے۔

سب سے پہلا چیلنج نواز شریف کے لیے سول ملٹری تعلقات کا ہے، اس کے علاوہ حزبِ اختلاف کا احتجاج، پاناما لیکس اور پڑوسی ممالک سے تعلقات، یہ سب وہ مسائل ہیں، جن کا نواز شریف کو سامنا کرنا ہے۔ نواز حکومت کو درپیش سب سے اہم مسئلہ اپوزیشن جماعتوں کا احتجاجی پروگرام ہے۔ جمہوریت میں مظاہرے اور احتجاج ہوتے رہتے ہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اگر اس احتجاج میں عوام نے بھرپور حصہ لے لیا تو پھر مشکل ہو سکتی ہے۔

وطن واپس لوٹنے کے بعد نوازشریف کے پاس بڑا نادر موقع تھا کہ وہ ’’مودی کے یار‘‘ کا لیبل اُتار پھینکنے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے قتل عام کے خلاف سخت موقف اپناتے اور انڈیا کو جارحانہ انداز میں دھمکی لگاتے، اس سے نہ صرف عوام بلکہ فوج کے اندر بھی ان کے لیے ہمدردی کے جذبات اُجاگر ہوتے اور سب سے بڑھ کر وہ آزاد کشمیر میں انتخابات پر بھی اثرانداز ہو سکتے تھے مگر انھوں نے بلاول زرداری کے ’’مودی کے یار‘‘ والے مکالمے کو حقیقت میں سچ کر دکھایا۔

مقبوضہ کشمیر میں حالیہ بھارتی مظالم اور 40 سے زائد افراد کی شہادت نے مسئلہ کشمیر کو ایک بار پھر دُنیا کے سامنے رکھ دیا ہے، دنیا کی نظریں اس وقت پاکستان اور بھارت پر ہیں،  بھارت اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے لیکن ہماری کشمیر کمیٹی خوابِ غفلت کی نیند سو رہی ہے۔ کشمیر کمیٹی اس لیے بنائی گئی تھی کہ بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا جا سکے مگر بدقسمتی سے کشمیر کمیٹی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کمیٹی کو سیاسی نوازشات کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اگر آج کوئی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین اور ارکان سے ان کی اب تک کی مسئلہ کشمیر پر کارکردگی پیش کرنے کا کہہ دے تو سب بغلیں جھانکنے لگیں گے۔

بھارتی انتخابات کے دوران مودی پارٹی کی جانب سے آئین میں ترمیم کے ذریعے آرٹیکل370 کو ختم کرتے ہوئے جموں و کشمیر کو بھارت میں شامل کرنے کا پروپیگنڈا کیا گیا، اس کے باوجودہماری کشمیر کمیٹی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ مارچ میں مقبوضہ کشمیر میں ہونیوالے انتخابات کے بعد ٹرن آؤٹ کو بنیاد بنا کر پروپیگنڈا ہوتا رہا کہ کشمیر ی عوام نے بھارتی الیکشن کمیشن کے تحت ہونیوالے انتخابات اور آئین کو تسلیم کر لیا ہے، پھر بھی کشمیر کمیٹی نے کچھ نہ کیا۔

مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی سرکار کی جانب سے ڈیموں کی غیرقانونی تعمیر کے ذریعے آبی جارحیت کے معاملے پر بھی کشمیر کمیٹی کی آنکھ نہیں کھلی، مقبوضہ کشمیر میں سیلاب ہوں یا وادی میں ریلیوں کے دوران کشمیری قیادت کی پاکستانی پرچم کشائی کا معاملہ یا کشمیری رہنماؤں کی نظربندی کا معاملہ، کشمیر کمیٹی منافقانہ نیند سے بیدار نہیں ہوتی۔ اب برہان مظفروانی کی شہادت کے بعد پھوٹنے والے فسادات میں بھی کمیٹی سوتی رہی، یہاں تک کہ 40سے زائد کشمیری شہید ہو گئے۔

کشمیر کمیٹی کے نمایندوں یا ان کے چمچوں سے جب آپ پوچھیں کہ کشمیر کمیٹی کیا کر رہی ہے تو جواب ملتا ہے کہ کشمیر کمیٹی کا کام صرف شفارشات پیش کرنا ہے۔ کشمیر کمیٹی پارلیمانی کمیٹیوں میں سب سے مہنگی کمیٹی ہے اور اس کا ہراجلاس غریب عوام کو 6کروڑ میں پڑ رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمن افغان پناہ گزینوں کے حق میں بیان داغنے میں تو بڑی عجلت دکھاتے ہیں اور افغان حکومت کا درد بھی انہیں بڑی شدت سے محسوس ہوتا ہے کہ جب پاکستانی حکومت افغانستان پر زور ڈالتی ہے کہ پاکستان اب افغان پناہ گزینوں کی مہمان نوازی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا، انہیں فی الفور واپس بلایا جائے، تو مولانا صاحب فوراً میدان میں اُتر آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ’’ افغان حکومت ابھی اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ افغان مہاجرین کو واپس لے سکے، پاکستان ابھی افغان پناہ گزینوں کو واپس مت بھیجے‘‘۔

فہم سے بالاتر ہے کہ مولانا پاکستان کے ساتھ ہیں یا افغان حکومت کے ترجمان ہیں۔ اسی طرح اب جب ان کے بیان دینے کی ضرورت تھی کہ وہ بھارتی حکومت کو بطور چیئرمین کشمیر کمیٹی باور کرائیں کہ وہ نہتے کشمیریوں پر ظلم ڈھانا بند کرے تو مولانا صاحب انڈر گراؤنڈ چلے گئے ہیں۔ اس سے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جس طرح وہ افغانستان کی وکالت کرتے ہیں، بھارت کے لیے بھی ان کے دل میں اتنی ہی جگہ ہے۔ وہ تو کیاحکومت نے خود بھی بھارتی جارحیت پر کوئی سخت بیان جاری نہیں کیا، بس اگلے ہفتے ایک رسمی سے یومِ سوگ کا اعلان ضرور کردیا ہے، اندیشہ ہے کہ تب تک بھارتی فوج نجانے اور کتنے معصوم کشمیریوں کی جان لے چکی ہو گی۔

موجودہ حکومت کا رویہ تو انڈیا کے بارے میں ہمیشہ ہی سرد رہا ہے مگر حالیہ تناظر میں مولانا فضل الرحمن کو کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ سے فوراً مستعفی ہوجانا چاہیے۔ مجموعی طور پر جائزہ لیا جائے تو پاکستان میں چوبیسوں گھنٹوں لمحہ بہ لمحہ سیاست کے سوا کوئی کام نہیں ہو رہا۔ چینلوں کی دکانوں پر ماسوائے سیاست کے اور کوئی جنس بھاؤ نہیں رکھتی۔ ملک میں کتنی بھی حساس نوعیت کا خواہ کتنا ہی بڑا سانحہ کیوں نہ ہو جائے میڈیا کے مکھ سما چار سیاست کے گرد ہی گھومتے ہیں۔ پاناما لیکس کے ایشو کو اپوزیشن پارٹیوں نے خدا خدا کرکے آڑے ہاتھوں لیا ہے، یوں لگتا ہے کہ نون لیگ کا دھڑن تختہ کرنے کے لیے حزبِ مخالف کی جملہ جماعتیں عرصہ دراز سے انتظار میں تھیں اور اب جاکر پاناما لیکس کی شکل میں موقعِ غنیمت ان کے ہاتھ لگا ہے۔

پیپلزپارٹی اس پورے معاملے میں دوغلے کردار کی حامل رہی ہے۔ بلاول، اعتزاز احسن اور خورشید شاہ ایک محاذ پر جب کہ زرداری اور سندھ پیپلزپارٹی دوسرے محاذ پر صف آراء ہیں، مطمع نظر ان کا دونوں طرف سے نون لیگ کو گھیرا ڈال کر اپنے مطالبات منوانے کا ہے۔ جہاں تک عمران خان اور بلاول زرداری کے ایک ہی کنٹینر پر سوار ہونے کی بات ہے، پی پی خواب میں بھی ایسا ہرگز نہیں کریگی کیونکہ انہیں اندازہ ہے کہ ایسا کرنے کے کیا نتائج برآمد ہونگے۔

یہ بھی نظر آرہا ہے کہ عمران خان بھی اب دھرنے کا ارادہ ترک کر چکے ہیں، اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ دو دن قبل شیخ رشید نے نوازشریف کے خلاف الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر کردیا ہے جس سے یہ لگتا ہے کہ اب دھرنے کا قصہ ماند پڑتا جارہا ہے۔ کشمیر ایشو پر اگر حکومت کو ردعمل دینے کی توفیق نہیں ہوئی تو اپوزیشن کی کسی جماعت کو بھی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ رسمی طور پر ہی مودی سرکار کو اپنی اوقات میں رہنے کے لیے چند جملے ہی کہہ دے۔

عمران خان اس موقع پر انگلینڈ میں اپنے بچوں کے ساتھ جہانگیرترین کے پہلو میں بیٹھے پاک انگلینڈ ٹیسٹ میچ سے محظوظ ہو رہے ہیں۔ کپتان نے جب ریحام خان سے شادی کی تھی تب بھی وہ جمائما سے ملنے گئے تھے، اب ان کی تیسری شادی کی خبریں گردش میں ہیں اور وہ جمائما سے ملنے انگلینڈ میں موجود ہیں اور پنکی آنٹی کی دم کی ہوئی انگوٹھی کی کرامات آزما رہے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ ملک کو بحرانوں سے کون نکالے گا، ایسے میں تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ ملک و قوم کو ابھی راحیل شریف کی ضرورت ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔