برآمدات30ارب ڈالرتک بڑھانے کاہدف رکھے جانے کاامکان

ایکسپریس اردو  پير 23 جولائ 2012
3سالہ تجارتی پالیسی میںبھارت، افغانستان وچین سے تجارت25ارب تک پہنچانے کی پلاننگ کی گئی ہے۔ فوٹو: فائل

3سالہ تجارتی پالیسی میںبھارت، افغانستان وچین سے تجارت25ارب تک پہنچانے کی پلاننگ کی گئی ہے۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے نئی تین سالہ تجارتی پالیسی برائے سال 2012-15 میں بھارت، افغانستان اورچین کے ساتھ موجودہ 10 ارب ڈالر کی دوطرفہ تجارت بڑھا کر 25 ارب ڈالر تک لے جانے کی منصوبہ بندی کی ہے جبکہ برآمدی ہدف 30 ارب ڈالر تک مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔

اس ضمن میں تجارتی پالیسی کے مجوزہ ڈرافٹ کو حتمی شکل دیدی گئی ہے اور رواں ہفتے مشاورت کونسل کے اجلاس میں منظوری کیلیے پیش کی جائیگی جس کے بعد وفاقی کابینہ سے حتمی منظوری لے کر اگست کے دوسرے ہفتے میں نئی تین سالہ تجارتی پالیسی کا اعلان کر دیا جائیگا، سینئر وفاقی وزیر تجارت مخدوم امین فہیم نئی تجارتی پالیسی کا اعلان کرینگے۔

ایکسپریس کو دستیاب سرکاری دستاویز کے مطابق نئی تجارتی پالیسی 2012-15 کے اعلان میں تاخیر کی وجہ وزارت خزانہ کی جانب سے فنڈز مختص نہ کرنا ہے کیونکہ ان فنڈز کی روشنی میں برآمدات میں اضافے کیلیے اہم اقدامات کا اعلان کیا جائیگا، مجوزہ نئی تجارتی پالیسی میں ڈومیسٹک اور علاقائی تجارت پر فوکس کیاگیا ہے، روایتی اور غیر روایتی تجارت کو فروغ دیا جائیگا، بھارت، چین، افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت کو بڑھایا جائیگا،

اس وقت پاک بھارت تجارتی حجم 1.7 ارب ڈالر، پاک افغان تجارتی حجم 1.9 ارب ڈالر اور پاک چین دو طرفہ تجارتی حجم 6.9 ارب ڈالر ہے جو آئندہ 3سال میں 25 ارب ڈالر تک بڑھایا جائیگا، فی الوقت پاکستان چین اور بھارت کے ساتھ خسارے کی تجارت کر رہا ہے اور تجارتی توازن چین اور بھارت کے حق میں ہے جبکہ افغانستان کے ساتھ دوطرفہ تجارتی توازن پاکستان کے حق میں ہے، اس وقت پاکستان افغانستان کو 1.8 ارب ڈالر کی اشیا برآمد کر رہا ہے جبکہ 14 کروڑ ڈالر کی اشیا افغانستان سے درآمد کی جا رہی ہیں،

ان ممالک کے ساتھ نئے تجارتی معاہدوں میں دو طرفہ تجارتی توازن کو بہتر بنایا جائیگا، اس کیلیے نان ٹیرف رکاوٹوں کو ختم کرنے اور ڈیوٹیاں کم کرنے کی تجاویز تیار کی گئی ہیں، مجوزہ تجارتی پالیسی کے مطابق برآمدات میں اضافے کیلیے نئی مارکیٹیں تلاش کی جائیں گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔