سرمایہ کاری اور ملکی حالات

ایکسپریس اردو  پير 23 جولائ 2012
حکومت کو ملک میں سرمایہ کاری کیلیے خوف وہراس کی فضا کو ختم کرنا ہوگا

حکومت کو ملک میں سرمایہ کاری کیلیے خوف وہراس کی فضا کو ختم کرنا ہوگا

ملک میں مقامی وغیرملکی سرمایہ کاری کی شرح انتہائی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، سرمایہ کاری میں کمی حکومتی پالیسیوں اور ملکی حالات پر کاروباری طبقے کا اظہار عدم اطمینان ہے اور یہ اعدادوشمار سے بہت واضح ہے۔

مالی سال 2007 میں پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کی مالیت 8ارب42کروڑ ڈالرسے تجاوز کرگئی تھی مگر اس کے بعد سے اس میں مسلسل کمی آ رہی ہے، 2008 میں بیرونی سرمایہ کاری کی مالیت کم ہو کر5ارب47کروڑ ڈالر رہ گئی تھی، سال2009 میں بیرونی سرمایہ کاری میں 50 فیصد کمی آئی، اسی طرح 2010 میں 2ارب ڈالر، 2011 میں 2ارب ڈالر سے بھی کم اور اب مالی سال 2012 میں تو اس کی مالیت محض68کروڑ ڈالر رہ گئی یعنی 5سال میں بیرونی سرمایہ کاری میں ساڑھے6ارب ڈالر سے بھی زیادہ کمی آئی،

یہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے، اب اگرمقامی سرمایہ کاری کی صورتحال دیکھی جائے تو وہ بھی جی ڈی پی کا12.5فیصد ہے جو کئی برسوں کی نچلی ترین سطح ہے، حالات اس سطح پر پہنچ چکے ہیں کہ مقامی صنعت کار اپنے یونٹس بیرون ملک منتقل کر رہے ہیں،

5سال میں حالات کافی تیزی سے خراب ہوئے اور اس کا اثر معیشت پر سب سے زیادہ شدت سے پڑا جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑا مگر سرکاری پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آ رہی اور اب بھی معیشت پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جا رہی اور ایسے اقدامات کیے جارہے ہیں جس سے عوام کی توجہ دوسری طرف مبذول کرائی جاسکے یا انھیں اس قدر پریشان کر دیا جائے کہ وہ اصل مسئلہ ہی بھول جائیں،

یہ عمل گزشتہ کافی عرصے سے جاری ہے مثلاً توانائی بحران سے نمٹنے کیلیے گھڑیوںکو آگے پیچھے کرنا، بازار جلد بند کرانے کے فیصلے، ہفتہ وار دو چھٹیاں، صنعتوں کی گیس بندش، سی این جی اسٹیشنز کی بندش، دہشت گردی سے نمٹنے کیلیے ڈبل سواری پرپابندی وغیرہ ایسے اقدامات ہیں جس سے عوام بڑے پیمانے پر پریشان ہوئے مگر ان کے فائدے تو ہوئے نہیں مگر شاید نقصان ضرورہوا اور جن مسائل کے خاتمے کیلیے یہ اقدامات کیے گئے تھے وہ جوں کے توں ہیں بلکہ زیادہ گمبھیر ہو گئے ہیں،

کاروبار کیلیے سب سے اہم امن وامان ہے، اگر ملک میں امن نہیں ہوگا تو کاروبار بھی نہیں ہوسکتا، کوئی دکان یا صنعت اس لیے کھلتی ہے تاکہ اس سے کمایا جا سکے، بڑا سرمایہ کار عموماً طویل مدتی پلان لے کرآتا ہے اور ایک بار سرمایہ کاری کرنے کے بعد اس کی نظریں کاروبار کو پھیلانے کے بعد نفع پر مرکوز ہوجاتی ہیں اور اس میں کافی وقت لگتا ہے۔

لیکن حالات بگڑیں اور جان ومال کا تحفظ غیریقینی ہوجائے تو بس دنوں میں کاروبار سمیٹ دیا جاتا ہے اور کاروبار ایک سرمایہ کار نہیں سمیٹتا بلکہ اس کے ساتھ ہی ملکی ساکھ اس بری طرح خراب ہوتی ہے کہ برسوں تک کوئی باہر سے آکر سرمایہ کاری کا تصور بھی نہیں کرتا اور اس کے ساتھ پروپیگنڈا بھی مل جاتا ہے تو صورتحال اور خراب ہو جاتی ہے، اس لیے ملک میں امن وامان کو خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دینی چاہیے ، اس حوالے سے کوئی سستی نہیں برتنی چاہیے اور کسی سیاسی مفاد کو خاطر میں نہیں لانا چاہیے،

حالات سازگار نہ ہوں تو کاروبار کرنا ممکن نہیں ہوتا، کراچی میں حالات خراب ہیں، یہاں منٹوں میں کوئی واقعہ ہوتا ہے اور پھر کاروبار بند، یہ صورتحال کافی مدت سے ہے، مارکیٹس کی بندش معمول بن چکی ہے، سڑکوں سے ٹریفک غائب ہوجاتا ہے، پورے پورے علاقے بند کردیے جاتے ہیں تو پھر صنعتیں کیسے چلیںگی، امن کے بغیرلوگوں کا گھروں سے نکلنا ہی مشکل ہوتا ہے تو مارکیٹس کیسے کھل سکتی ہیں، کراچی کے علاوہ بلوچستان اور دیگر علاقوں کی صورتحال بھی بہتر نہیں،

رمضان کے پہلے روزے میں بھی کئی علاقوں میں افسوسناک واقعات ہوئے، کئی قیمتی جانیں چلی گئیں مگر ارباب اختیار کی جانب سے وہی چند جملوں پر مشتمل بیان داغ دیا جاتا ہے کہ دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، سیکیورٹی ریڈ الرٹ، رپورٹ طلب وغیرہ وغیرہ مگر کوئی سیکیورٹی پلان نظرآتا ہے نہ کوئی اقدامات، بیان بازی سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوتے، اس کے لیے سنجیدگی سے انفورسمنٹ کی ضرورت ہے، جب مارکیٹس کی رونقیں بحال ہوں گی اور صنعتیں چلیں گی تو مقامی سرمایہ کار ازخود کاروباری آپریشنز کو توسیع دینے کیلیے سرمایہ کاری کرے گا،

مقامی کاروبار کی توسیع اور سرمایہ کاری کے فروغ سے ہی ملک میں بیرونی سرمایہ کاری آئے گی لیکن ملک میں قیام امن کیلیے اقدامات نہ کیے گئے تو یہ ممکن نہیں کہ کسی قلعہ نما علاقے میں سیکیورٹی فورسز کی بھاری تعداد داخلی راستوں پر بٹھا دی جائے اور پھر بڑے سے جیل نما علاقے میں صنعتوں کو چلایا جائے، بدامنی خوف وہراس کا نام ہے، اگر ایک جگہ بھی تخریب کاری کا کوئی واقعہ ہوجائے تو پورے شہر میں خوف وہراس پھیل جاتا ہے،

حکومت کو اس ایک واقعہ کو ہونے سے روک کر خوف وہراس کی فضا کو ختم کرنا چاہیے تاکہ لوگوں کا عمومی طور پر اعتماد قائم ہو اور اگر ایسا نہیں ہوا تو چاہیے امریکا سے سرمایہ کاری معاہدہ کرلیاجائے یا کینیڈا سے، یا پھر قومی اسمبلی سے خصوصی اقتصادی علاقوں کے قیام کا بل منظور کرالیا جائے ملک میں باہر سے سرمایہ کاری آنا تو دور کی بات ہے بلکہ مقامی سرمایہ کار بھی اپنی صنعتیں بند کرکے باہر چلے جائیںگے اور یہ عمل تو شروع ہو چکا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔