ایسا کیوں ہے

رئیس فاطمہ  اتوار 24 جولائ 2016
fatimaqazi7@gmail.com

[email protected]

قندیل بلوچ دراصل پاکستانی میڈیا اور پاکستانی سوسائٹی کی نفسیات بہت اچھی طرح سمجھ گئی تھی۔ وہی مثال کہ ’’مچھلی کے بچے کو تیرنا کون سکھائے‘‘۔ ہمارا میڈیا بالخصوص الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کئی عورتوں کو سامنے لاتا ہے۔ کیوں اور کیسے لاتا ہے یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ یہاں مردوں کے لیے کچھ اور اصول ہیں اور عورتوں کے لیے کچھ اور۔

پچھتر سال کا مرد اپنے تعلقات، سفارش اور دولت کے بل بوتے پر اینکر پرسن یا میزبان بن سکتا ہے۔ لیکن کوئی پڑھی لکھی، باشعور اور مہذب خاتون پختہ عمر کی ہونے کی وجہ سے کسی پروگرام کی میزبان نہیں بن سکتی۔ (اکا دکا جو ہیں ، وہ تخصیص ہے)۔ ہماری نئی نسل نہ تو قرۃ العین حیدر سے واقف ہے، نہ عطیہ خلیل عرب سے، نہ ہی عطیہ فیضی سے کہ یہ کس کھیت کی مولی ہیں؟ قندیل بلوچ جس طرح قتل ہوئی اور لوگوں نے بشمول میڈیا کے جس طرح اپنے بیانات اور تجزیوں میں ’’یوٹرن‘‘ لیا وہ حیرت انگیز ہونے کے ساتھ ساتھ افسوسناک بھی تھا۔

قندیل بلوچ جس طبقے کی نمائندگی کر رہی تھی وہاں ’’شہرت اور پیسہ‘‘ اولین ترجیح ہیں۔ سینئر صحافی نادر شاہ عادل کی تحریر کا یہ ٹکڑا قندیل بلوچ اور میڈیا کے رویے کو دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے۔ وہ لکھتے ہیں ’’اسے میڈیا نے دیوانہ بنایا، اس کی موت کا اسکرپٹ بے لگام، بے منزل الیکٹرانک میڈیا کے ماہرین نے لکھا۔ یہی میڈیا اب اسے ’’جان آف آرک‘‘ بنا دے گا‘‘۔

شوبز کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاںجو مال بکتا ہے وہی مارکیٹ میں لایا جاتا ہے کہ کھپت جس کی زیادہ ہو گی منافع بھی اسی میں زیادہ ہو گا۔ یہی گُر قندیل یا فوزیہ عظیم نے سیکھ لیا تھا۔ سب جانتے ہیں کہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ پیسہ اور شہرت کس طرح کمائی جاتی ہے؟ ایک پڑھی لکھی شریف خاندان کی لڑکی کو اسکول ٹیچر کی نوکری نہیں ملتی، لیکن ایک ان پڑھ لیکن چالاک اور زمانہ ساز خوبصورت لڑکی کو راتوں رات دولت اور شہرت دونوں کس طرح مل جاتی ہیں، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔

مجھے قندیل بلوچ سے کوئی ہمدردی نہیں، البتہ اس کے بے رحمانہ قتل کا دکھ ہے۔ وہ جس طرح پیسہ کما رہی تھی اور مختصر ترین لباس میں اپنی ویڈیو سوشل میڈیا پہ اپ لوڈ کر رہی تھی، وہ بھی جانتی تھی کہ اس کی ہیجان انگیز، اور غیر شائستہ تصاویر اور ویڈیو اسے بہت جلد ’’سپراسٹار‘‘ بنا دیں گی۔ پاکستان سے باہر کچھ  لوگوں نے ان ویڈیوز اور تصاویر کو پاکستان کے لیے ’’بدنامی‘‘ قرار دیا۔ قندیل کی وہ ’’منفرد اور دلکش‘‘ تصاویر لوگوں کے لیپ ٹاپ پہ موجود ہیں۔ اس نے جس طرح سوشل میڈیا کو اپنی شہرت کے لیے استعمال کیا، وہ حیرت انگیز ہے۔

ٹی وی چینلز نے اس پر  بھر پور  پروگرام بھی  کیے، رپورٹرز اور میڈیا سے وابستہ دیگر لوگ جس طرح اسے آگے لا رہے تھے اور اس کے انٹرویوز میں سبقت لے جا رہے تھے، انھیں دیکھ کر یوں لگتا تھا  قندیل کوئی  سپر اسٹار تھی۔ رہی سہی کسر فتویٰ بازوں نے پوری کر دی۔ ایسا لگتا ہے جیسے کسی تجربہ کار نے پورا اسکرپٹ بہت سوچ سمجھ کر  قندیل بلوچ کو لکھ کر دیا تھا۔ جس میں مفتی صاحب والا دلچسپ اور عبرت ناک ایپی سوڈ بھی شامل تھا۔ لیکن مفتی صاحب چونکہ مرد ہیں، اس لیے ان  پہ کوئی حرف نہیں آئے گا۔

قندیل یا فوزیہ نہ ادیبہ تھی نہ شاعرہ، نہ سیاستدان، نہ کسی سیاستدان کی  بیگم۔ لیکن وہ ایک شعلہ جوالہ ضرور تھی، میڈیا نے جس تیزی سے اسے بھڑکایا، اسی تیزی سے بجھا بھی دیا۔ بقول نادر شاہ عادل کے اسے ’’جون آف آرک‘‘ بنا دیا۔ لیکن شاہ جی! اتنا ضرور کہوں گی کہ لگے ہاتھوں یہ بھی نئی نسل کو بتا دیں کہ ’’جون آف آرک‘‘ کون تھی۔ ہو سکتا ہے سوشل میڈیا کے دیوانوں  کا مطالعہ صرف “Like” کرنے تک محدود ہو۔

ایک معمولی لڑکی جس کے پاس سوائے خوبصورتی کے کچھ نہ تھا، اس نے کس دلیرانہ انداز میں اپنا سفر طے کیا۔ ایک شادی، ایک بچہ، پھر دوسری شادی؟ لیکن اس کا مقصد پورا نہ ہوا۔ وہ تو راتوں رات شہرت چاہتی تھی ، سو اس نے وہ شارٹ کٹ استعمال کیا جس سے کامیابی یقینی تھی۔ شاید لوگوں کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ اس کا اگلا قدم ’’بگ باس‘‘ کی طرف تھا۔ سنا ہے بھارتی میڈیا سے بات بھی ہو چکی تھی۔ اگر ایسا ہوتا تو تو اس کی شہرت کہاں جا پہنچتی اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ  میڈیا ایسا کیوں کرتا ہے کہ اس نے بدنام زمانہ عورتوں کو رول ماڈل کے طور پہ پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ میڈیا کیوں کر رہا ہے؟ ہر اسٹیج پر اور ہر ڈرامے میں بغیر آستینوں کی قمیص، دوپٹہ ندارد، چست پاجامے، بڑے گلے نظر آتے ہیں۔ شارٹ کٹ کی خواہش مند لڑکیوں کو اس زاویے سے بٹھایا جاتا ہے کہ جسے بہرحال شائستہ نہیں کہا جا سکتا۔

ایک نجی چینل سے موسیقی کا ایک پروگرام پیش کیا جاتا ہے، جس کی میزبانی موسیقی کے اسرار و رموز پہ عبور رکھنے والے ایک صاحب  کرتے ہیں۔ لیکن دو لڑکیوں کو خوب سجا بنا کر اور بناؤ سنگھار کروا کے  ایک طرف بٹھا کر رکھتے ہیں۔ دونوں کے درمیان کھڑے ہو کر ان کا تعارف اس طرح کراتے ہیں۔ دونوں گڑیوں کی طرح چپ بیٹھی اسٹیج کی شوبھا بڑھاتی ہیں۔ کیمرہ بار بار ان کے سراپے کو فوکس کرتا رہتا ہے، اصل گلوکار یا گلوکارہ کی صرف آواز سنائی دیتی ہے۔

افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ قندیل بلوچ جیسا طریقہ ہماری کچھ شاعرات بھی کر رہی ہیں۔ ادب بھی شوبز کا حصہ بن گیا ہے۔ شاعری میں جان ہو یا نہ ہو، لیکن سوشل میڈیا پہ ہر گھنٹے بعد نئی تصویر اپ لوڈ ہونی ضروری ہے۔ بعض شاعرات تو باقاعدہ فوٹو گرافر ساتھ رکھتی ہیں۔ جو انھیں بتاتے ہیں کہ وہ کس پوز میں زیادہ ہیجان انگیز لگیں گی اور انھیں مشاعروں میں بار بار بلایا جائے گا۔

مشاعرے اب شوبز کا ایونٹ بن چکے ہیں۔ شاعرات اس طرح آتی ہیں جیسے کسی کی مہندی یا مایوں کی تقریب ہو، گوٹہ، لچکا، مہندی، بِندی، میک اپ، بھاری مسکارا اور نہ جانے کیا کیا منہ پہ تھوپا ہوا۔ وہی بات کہ آبروئے شیوۂ اہل نظر ختم ہو گئی۔ باقی کیا بچا؟ سستی شہرت کی حامل لڑکیاں اور ان کو سامنے لانے والے ’’گاڈ فادرز‘‘ جو خود ہر طرح سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ پھر کیمرہ لے کر بدنام عورتوں کے لیے راستہ بناتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔