میجر اوتار کا قتل، مقبوضہ کشمیر انتظامیہ کو رپورٹ کیلئے مزید مہلت

ایکسپریس اردو  پير 23 جولائ 2012
 ہائیکورٹ نے کولگام کے معمرشہری پرکالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ نافذ ہونے سے قبل ہی کالعدم قرار دیدیا، گرفتار نہ کرنے کی ہدایت ۔ فائل فوٹو

ہائیکورٹ نے کولگام کے معمرشہری پرکالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ نافذ ہونے سے قبل ہی کالعدم قرار دیدیا، گرفتار نہ کرنے کی ہدایت ۔ فائل فوٹو

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں کٹھ پتلی انتظامیہ نے انسانی حقوق کے معروف علمبردار جلیل اندرابی کے قتل میں ملوث بھارتی فوجی میجر اوتار سنگھ کی ہلاکت کی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کے لیے عدالت سے مزید وقت طلب کیا ہے، چیف جوڈیشل مجسٹریٹ سرینگر کی عدالت میں جلیل اندرابی قتل کیس کی سماعت کے دوران کٹھ پتلی انتظامیہ کو29 اگست تک کی مہلت دیتے ہوئے اوتار سنگھ کے قتل سے متعلق حقائق پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

دریں اثنا مقبوضہ کشمیر میں ہائی کورٹ نے کولگام کے ایک معمر شہری پر کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ نافذ کرنے سے قبل ہی کالعدم قرار دیتے ہوئے پولیس کو شہری کو گرفتار نہ کرنے کی ہدایت کی ہے، کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہائی کورٹ کے جج جسٹس منصور احمد میر کی عدالت میں غلام محمد کے وکیل نے بتایا کہ پولیس نے جھوٹے الزامات کے تحت ان کے موکل پر10دسمبر2005 کو پبلک سیفٹی ایکٹ نافذ کیا تھا تاہم پولیس کی طرف سے گرفتاری سے قبل ہی ان کے موکل نے ہائی کورٹ سے اس سلسلے میں حکم امتناع حاصل کرلیا۔

عدالت عالیہ نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد غلام محمد بٹ پر عائد سیفٹی ایکٹ کو نفاذ سے قبل ہی کالعدم قرار دیا اور پولیس کو ہدایت کی کہ وہ اس ایکٹ کے تحت مذکورہ شہری کو گرفتار نہ کرے، علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیر میں12 سال سے بھارتی فوجیوں کی حراست میں لاپتہ بیٹے کی جدائی میں تڑپنے والا غلام محمد بٹ بیٹے سے ملاقات کی خواہش دل میں لیے اس جہان فانی سے کوچ کرگیا، علاوہ ازیں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما آغا سید حسن الموسوی نے پاکستان اور بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کے لیے کشمیریوں کی حقیقی قیادت کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات شروع کریں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔