تعصب ہمیں کھا نہیں جائے گا کیا؟

عمران خوشحال راجہ  جمعرات 25 اگست 2016
تعصب ایک ایسی ذہنی حالت ہے، جس میں مبتلا انسان اپنے سے مختلف لوگوں کو خوف اور بے یقینی کی نظر سے دیکھتا ہے. فوٹو:فائل

تعصب ایک ایسی ذہنی حالت ہے، جس میں مبتلا انسان اپنے سے مختلف لوگوں کو خوف اور بے یقینی کی نظر سے دیکھتا ہے. فوٹو:فائل

تعصب ایک ایسی ذہنی حالت ہے جس میں مبتلا انسان اپنے سے مختلف لوگوں کو خوف اور بے یقینی کی نظر سے دیکھتا ہے، اور دوسروں کے بارے میں جانے بغیر محض ان کی ذات، رنگ، نسل، مذہب یا کسی اور شناخت کی بناء پر ان سے نفرت کرتا ہے۔ انگریزی میں اسے (Bigotry) کہتے ہیں۔ گو عام طور پر (Bigotry) اور (Prejudice) کا ترجمہ تعصب ہی کیا جاتا ہے، لیکن تعصب پریجڈس (Prejudice) یعنی کسی کو’’منفی طور پر جج‘‘ کرنے سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ تعصب کی کئی شکلیں اور صورتیں ہیں۔ پاکستان کے تناظر میں مذہبی، مسلکی، گروہی، علاقائی اور نسلی تعصب عام ہے۔

پہچان کا شارٹ کٹ

ایک امریکی سافٹ وئیر انجینئر لیس میتھسن (Les Matheson) کے الفاظ میں تعصب پہچان کا شارٹ کٹ ہے۔ ہر انسان کا خود سے یہی سوال ہوتا ہے کہ وہ کون ہے؟ لیکن یہ سوال جتنا آسان اورعام فہم ہے اس کا جواب حاصل کرنا اتنا ہی مشکل ہے۔ اب چونکہ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خود کو مشکل میں ڈالتے ہیں، اور کسی نا کسی طرح یہ جاننے میں کامیاب ہوجاتے ہیں کہ وہ کون ہیں۔ لیکن خود کو مشکل میں نہ ڈالنے والوں کی اکثریت ایسے لوگوں کے ہتھے چڑھ جاتی ہے جو انسانوں کو رنگ، نسل، ذات، مذہب اور ایسی ہی کئی تفریقوں کی بنیاد پر گروہوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ شارٹ کٹ کے چکر میں ایسے لوگوں کا حصہ بننے والے یہ تو کبھی نہیں جان سکتے کہ وہ کون ہیں لیکن یہ جان لیتے ہیں کہ ان کی دشمنی کس سے ہے۔ سو اب وہ ایک ایسے دشمن سے جس کو وہ خود جانتے تک نہیں، پہچانتے نہیں ساری عمر نفرت اور تعصب کا رشتہ استوار رکھتے ہیں۔

تاریخ اور تعصب

تاریخ تعصب کی مثالوں سے بھری بڑی ہے۔ امریکہ میں سفید فام آقاؤں کا سیاہ فام غلاموں سے تعصب، جرمن نیشنل سوشلسٹوں کا یہودیوں سے تعصب، امریکی ’’گوروں‘‘ کا جاپانیوں سے تعصب، برطانوی سفید فاموں کا ہندوستانیوں سے تعصب، ہندوں کا مسلمانوں سے تعصب، مسلمانوں کا ہندؤں سے تعصب، پاکستانیوں کا بھارتیوں سے تعصب، بھارتیوں کا پاکستانیوں سے تعصب، پاکستانی پنجابیوں کا بلوچوں سے تعصب اور بلوچ قوم پرستوں کا ہر ایک پاکستانی (پنجابی) سے تعصب، نفرت اور تعصب کی صرف چند مثالیں ہیں۔ تعصب نہ صرف تقسیم کی وجہ ہے بلکہ یہ جنگ و جدل اور تباہی و بربادی کی جڑ بھی ہے۔

تعصب اور حب الوطنی

آج دنیا میں اتنا تعصب ہے کہ تباہی کے لئے ایٹم بم کی ضرورت نہیں۔ امریکہ سے لیکر بھارت تک اور پاکستان سے لیکر اسرائیل تک ہر ملک، ہر گروہ اور ہر قوم دوسرے ملک، گروہ اور قوم سے نہ صرف تعصب کو حب الوطنی سمجھتی ہے بلکہ سب ہی باہم ’’دست و گریباں‘‘ بھی ہیں۔ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ اگر اینٹی مسلم اور اینٹی میکسیکن ایجنڈے پر کاربند ہے تو بھارت میں یہ کام نریندر مودی کر رہا ہے۔ پاکستان میں کون سا ایسا سیاستدان ہے جس کی سیاست کا محور نفرت اور تعصب نہیں؟

اصل مسئلہ

مسئلہ یہ ہے کہ حکمرانوں کی نفرت ان تک محدود نہیں رہتی یہ معاشرے کی ہر پرت میں سرائیت کر جاتی ہے۔ سیاسی جماعتیں لوگوں کو پہچان کا شارٹ کٹ تو دکھاتی ہیں لیکن اس شارٹ کی بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ یہ شارٹ کٹ انتہا پسندوں کو غیر مذہب کے گلے کاٹنے تک لیکر جاتا ہے، تو یہی پھر انہیں اپنے سے’’ کم درجہ‘‘ مسلمانوں، ہندؤں اور کسی بھی مذہب کو ماننے والوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی سند بھی جاری کرتا ہے۔ دوسروں سے نفرت اور تعصب کا یہ راستہ عارضی طور پر تو ایک گروہ کو ایک قوم بنا سکتا ہے مگر زیادہ دیر تک نہیں۔

تعلیم اور تعصب

حکمرانوں کا تعصب حکومتوں کے تعصب کی بنیاد بنتا ہے اور پھر یہ تعصب ہر حکومتی پالیسی میں نظر آتا ہے۔ نصابِ تعلیم کو ہی دیکھ لیجئے۔ اسکول تو اسکول ہمارے کالج کے نصاب کی کتابوں میں نسلی اور علاقائی تعصب کی بہتات ہے۔ جہاں ایک طرف ہمارے اسکولوں کا نصاب ’’نیشنل کمیشن فار جسٹس اینڈ پیس‘‘ کی رپوٹ کے مطابق مذہبی منافرت اور تعصب پھیلایا جا رہا ہے وہیں کالجوں کانصاب بھی علاقائی اور نسلی تعصب کو پروان چڑھایا جا رہا ہے۔ ابھی پانچ ماہ قبل ہی ایکسپریس ٹریبیون کی ایک خبر کے مطابق بارہوں جماعت کی ’’سوشیالوجی آف پاکستان‘‘ میں بلوچوں کی تعریف ’’غیر مہذب، قاتل اور غارت گر‘‘ کے الفاظ میں کی گئی۔

تعصب کی سرپرستی

نفرت کا نصاب پڑھ کر بڑے ہونے والے یہ بچے ہمیشہ بچے نہیں رہتے۔ یہ بڑے ہوکر ڈاکٹر، انجینئر، سیاستدان اور صحافی تو بن جاتے ہیں لیکن بچپن سے سیکھی ہوئی نفرت اور تعصب ان کے ذہن و دل سے ختم نہیں ہوتی۔ آپ آئے روز ٹی وی ٹاک شوز میں غدار، منافق اور کافر کے فتوے سنتے ہوں گے اور یہی نہیں میڈیا کے کئی ’’ہاوسسز‘‘ اب تو جانبداری میں اس حد تک چلے گئے ہیں کہ وہ پبلک میڈیا کم جبکہ کسی جماعت کا ’’پروپیگینڈا سیل‘‘ ہونے کا زیادہ تاثر رکھتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ایک نیوز چینل کے دیکھنے والے دوسرے کو غدار اور ملک دشمن ہونے کی گالی دیتے ہیں تو دوسرے چینل کے دیکھنے والے پہلے کو۔ جب ریاست کے ستون نفرت اور تعصب کے اینٹ پتھر سے بنے ہوں تو ریاستی ادارے غیر جانبدار اور غیر متعصب کیسے رہ سکتے ہیں؟ انہیں پھر ایک مذہب کے مقابلے میں دوسرے کی پشت پناہی کرنی پڑتی ہے۔ ایک مسلک کے مقابلے میں دوسرے کو زیادہ حب الوطن سمجھنا پڑتا ہے۔ ایک نسل کے مقابلے میں دوسری کو ملک دشمن اور غدار کا طعنہ دینا پڑتا ہے اور یوں نفرت اور تعصب سسٹم کا حصہ بن جاتی ہے۔

تقسیم کی سیاست کرنے والو بتاؤ
تقسیم سے قحط آنہیں جائے گا کیا
نفرت کی تجارت کرنے والو بتاؤ
تعصب ہمیں کھا نہیں جائے گا کیا

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنکس۔

 

عمران خوشحال راجہ

عمران خوشحال راجہ

بلاگر ایم فل سکالر، کشمیریکا کے بانی، محقق اور بلاگر ہیں۔ وہ ’’آن کشمیر اینڈ ٹیررزم‘‘ اور ’’دریدہ دہن‘‘ کے مصنف ہیں۔ عالمی تعلقات، دہشت گردی اور سماجی و سیاسی تبدیلیاں ان کی دلچسبی کے مضامین ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔