حکومت رمضان میں تولوڈشیڈنگ نہ کرے،اسلام آبادچیمبر

ایکسپریس اردو  منگل 24 جولائ 2012
 آئی پی پیز کو فوری ادائیگیاں کی جائیں، بند پاور پلانٹس کو فوری چلائے جائیں

آئی پی پیز کو فوری ادائیگیاں کی جائیں، بند پاور پلانٹس کو فوری چلائے جائیں

اسلام آباد:  اسلا م آباد چیمبر آف کامرس کے صدر یاسر سخی بٹ نے کہا ہے کہ حکومت سحری اور افطاری کے دوران بلاتعطل بجلی فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہی ہے جبکہ رمضان کے تقدس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے حکومت کو کم از کم رمضان میں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے گریز کرنا چاہیے۔ پیر کوایک بیان میںانہوںنے کہا کہ شہروں میں لوڈ شیڈنگ 12 گھنٹے جبکہ دیہات میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 14 سے 18 گھنٹوں کا ہے

جس کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، رمضان میں بھی ہر گھنٹے کے بعد ایک گھنٹے کیلیے بجلی بند کی جا رہی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ بجلی کی بلاتعطل سپلائی یقینی بنانے کیلیے آئی پی پیز کو فوری ادائیگیاں کرے تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ تراویح اور نماز کے دوران بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور جو لوگ مسجد میں نماز اور تراویح پڑھنے آتے ہیں

بجلی نہ ہونے کے باعث گرمی کی وجہ سے ان کا برا حال ہو جاتا ہے، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ خصوصاً سحر، افطار اور نمازوں کے اوقات میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنائے۔ انہوںنے بجلی کا شارٹ فال 5500 میگا واٹ تک بڑھ جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چشمہ ون اور چشمہ ٹو پاور پلانٹ کی فنی خرابی فوری دور کی جائے۔

انہوںنے حکومت پر زور دیاکہ وہ بجلی کے شارٹ فال کو کم کرنے کیلیے بند پاور پلانٹس کو فوری چلائے اور ان سے پوری استعداد کار سے بجلی کی پیداوار حاصل کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے تمام آپریشنل ڈائریکٹرز کو رمضان میں بجلی کا بحران کم کرنے کیلیے مؤثر پالیسی کے احکاما ت صادر کیے جائیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔