سرکاری پرائس لسٹ کی تیاری اور تقسیم میں کرپشن کا انکشاف

ایکسپریس اردو  منگل 24 جولائ 2012
 لسٹ کی تقسیم پر دونوں گروپوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرگئے۔ فائل فوٹو

لسٹ کی تقسیم پر دونوں گروپوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرگئے۔ فائل فوٹو

کراچی: سرکاری پرائس لسٹ کی تیاری اور تقسیم میںکرپشن کا انکشاف ہوا ہے، کریانہ آئٹمز، پھل اور سبزیوں کی سرکاری پرائس لسٹ کی تیاری اور تقسیم کے معاملے پر سابقہ ای اینڈ آئی پی اور کمشنر ہائوس کے عملے کے درمیان محاذ آرائی عروج پر پہنچ گئی ہے،رمضان کیلیے کریانہ آئٹمز کی پرائس لسٹ40ہزار کی تعداد میں پرنٹ کی گئی ہے جس کی تقسیم پر دونوں گروپوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرگئے ہیں،

رمضان کیلیے کریانہ پرائس لسٹ آمدنی کے حصول کا اہم ذریعہ ہے، لسٹ کی فروخت سرکاری دفاتر سے10روپے میں شروع ہوتی ہے جو مختلف ہاتھوں سے گزر کر دکاندار تک25روپے میں پہنچتی ہے، اس دوران لسٹ پرنٹ کرنے سے لیکر لسٹوں کی تقسیم تک مضبوط نیٹ ورک قائم ہے، یہ نیٹ ورک سابقہ شہری حکومت کے محکمہ ای اینڈ آئی پی نے قائم کیا جس میں سرکاری ملازمین کے علاوہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے پرائیوٹ افراد بھی شامل ہیں تاہم لسٹ کی تیاری اور اجرا کی ذمے داری کمشنر ہائوس کو ملنے کے بعد ای اینڈ آئی پی کی ٹیم کو بے دخل کردیا گیا ہے، پرائس لسٹ شہر کے وسطی علاقے کے چھوٹے پرنٹنگ پریس میں تیار کرکے تقسیم اور فروخت کی جارہی ہے،

سابقہ دور حکومت میں لسٹ کا اجرا اخبارات میں اشتہار کے ذریعے کیا گیا صارف اور دکانداروں کے لیے شفاف ترین عمل تھا جس میں اخبار کی قیمت دے کر لسٹ کا حصول ممکن تھا تاہم لوٹ مار کا بازار گرم کرنے کے لیے لسٹ کی چھپائی اور تقسیم کا طریقہ وضع کیا گیا جو بدستور پیچیدگیوں اور کرپشن کا شکار ہے،کریانہ لسٹ میں سرکاری ملازمین کی گہری دلچسپی دیکھتے ہوئے عام دنوں میں لسٹ پرنٹ کرنے والے تاجر بھی لسٹ کی تیاری کے عمل سے لاتعلق ہیں،

رمضان کیلیے پرنٹ کی جانیوالی40ہزار پرائس لسٹوں کی مالیت25روپے فی لسٹ کے حساب سے10لاکھ روپے بنتی ہے اور یہی مالیت نہ صرف سرکاری ملازمین بلکہ تاجر تنظیموں اور صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنے والی نام نہاد انجمنوں کے درمیان رسہ کشی کا بنیادی سبب ہے،

ذرائع کے مطابق پرائس لسٹ میں مشاورت انجام دینے والی تاجر اور صارف تنظیمیں بھی لسٹوں کی فروخت کے دھندے میں ملوث ہیں اور کمشنر ہائوس میں اپنے اثر ورسوخ کے لحاظ سے لسٹیں حاصل کرکے فروخت کررہی ہیں، لسٹوں کی تیاری اور تقسیم میں بے ضابطگیاں یہاں تک ہی محدود نہیں،

پھل اور سبزیوں کی پرائس لسٹ کی فروخت کا دھندا جاری رکھنے کیلیے متعلقہ عملہ کمشنر کراچی کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے مخصوص عناصر کو فائدہ پہنچانے کیلیے منڈی میں پھل اور سبزیوں کے آکشن سے حاصل ہونے والے ریٹ کا انتظار کیے بغیر ہی ایک دن قبل فہرستیں تیار کی جارہی ہیں،

کراچی سبزی منڈی میں سبزیوں کی خریدوفروخت نصف شب سے شروع ہوتی ہے جبکہ پھلوں کی فروخت فجر کی وقت سے شروع ہوتی ہے، اس دوران ہونے والی نیلامیوں اور طے پانے والے سودوں سے منڈی کی سطح کا ریٹ مرتب کیا جاتا ہے،

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔