ذہنی مریضوں سے نجات

آفتاب احمد خانزادہ  بدھ 7 ستمبر 2016

گاند ھی کی پوتی نے ایک دفعہ اپنے دادا کے بارے میں زود فہم بصیر ت کا اظہار ایک تقریب میں کیا سارے شرکا میں جیسے بجلی دوڑ گئی۔ ’’ستم ظریفی کی بات ہے کہ اگر نسل پر ستی اور تعصب نہ ہوتا تو ہمیں گاندھی نہ ملتا وہ بھی ایک اور کامیاب وکیل ہوتا جو بہت سی دولت کما لیتا لیکن جنوبی افریقہ میں تعصب کی وجہ سے وہ وہاں پہنچے پر ایک ہفتے کے اندر ہی تذلیل و اہانت کا شکار ہو گیا۔

اسے ٹرین میں سے اٹھا کر اس لیے پلیٹ فارم پر پھینک دیا گیا کہ اس کی چمڑی کا رنگ سفید نہیں تھا۔ اس اہانت نے اسے اتنا پریشان کیا کہ وہ ساری رات پلیٹ فارم پہ بیٹھا سوچتا رہا کہ وہ انصاف حاصل کرنے کے لیے کیا کرے۔ اس کا پہلا رد عمل تو غصے اور برہمی کا تھا وہ اتنا برہم تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ پر مبنی انصاف کا خواہش مند تھا وہ چاہتا تھا کہ جن لوگوں نے اس کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا ہے ان کو پرتشدد جواب دے لیکن پھر اس نے خود کو روک لیا اور کہا ’’نہیں یہ ٹھیک نہیں‘‘ اس طرح سے انصاف نہیں ملے گا وقتی طور پر تو اسے اچھا لگے گا، لیکن اس سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے۔

دوسرا رد عمل یہ سوچ تھی کہ وہ واپس چلا جائے اور اپنے لوگوں کے ساتھ عزت و وقار کے ساتھ زندگی بسر کرے لیکن اس نے یہ سوچ بھی مسترد کر دی اس نے خود سے کہا اس طرح تم مسائل سے فرار نہیں حاصل کر سکتے تمہیں یہیں رہ کر مسائل کا سامنا کرنا ہو گا۔ اس موقعے پر ایک تیسرا متبادل گاندھی پر طلوع ہوا یعنی عدم تشدد کا راستہ۔ اسی نکتے کو مرکز بنا کر بعد ازاں گاندھی نے عدم تشدد کی فلاسفی مرتب کی، اسی پر اس نے اپنی زندگی میں عمل کیا اور جنوبی افریقہ میں قیام کے دوران اسی کے ذریعے انصاف کی تلاش کی جدوجہد کا آغاز کیا وہ اس ملک میں بائیس برس تک رہا اور پھر ہندوستان چلا گیا جہاں اس نے تحریک آزادی کی قیادت کی۔‘‘ تیسرا متبادل نہ تو میرا راستہ ہے اور نہ آپ کا راستہ ہے یہ ہمارا ہم سب کا راستہ ہے یہ میرے اور آپ کے راستے کے درمیان مصلحت پر مبنی مصالحت کا راستہ نہیں یہ مصالحت سے بہتر حل ہوتا ہے۔

ایک اعلیٰ ترین درمیانی پوزیشن جو بقیہ دونوں پوزیشنوں سے بہتر ہوتی ہے تیسرا متبادل ان متبادلات سے بہتر ہوتا ہے، جو فریقین پیش کر چکے ہوتے ہیں یہ خالص تخلیقی کوشش کی پیداوار ہوتا ہے جس طرح گاندھی کے ساتھ ہوا تیسرا متبادل عام طور پرکسی فرد کی اپنی ذات کے اندر سے شروع ہوتا ہے اور یہ حالات سے قوت لیتا ہے۔ آج ہم سب اسی کیفیت سے دوچار ہیں جس کیفیت سے گاندھی پلیٹ فارم پہ بیٹھا دوچار تھا ہم اپنی تباہی اور بربادی کے ذمے داروں پر اس قدر غصے میں بھرے بیٹھے ہیں کہ ہم چاہتے ہیں کہ انھیں اچھی طرح سے سبق سکھا دیں اور جو لوگ ہمارے ساتھ توہین آمیز سلوک کر رہے ہیں۔

ان کو پرتشدد جواب دیں ہماری دوسری کیفیت یہ ہے کہ ہم سب یہاں سے کہیں چلے جائیں جہاں سکون ہو آزادی، خوشحالی اور محبت نصیب ہو سکے جہاں عزت و وقار کے ساتھ زندگی بسر ہو سکے لیکن ان دونوں کیفیتوں میں ہمارے مسائل اور اذیتوں کا مستقل حل موجود نہیں ہے۔ پہلے رستے پر چل کر برے اور خراب لوگوں کا خاتمہ تو ضرور ہوسکے گا لیکن خرابیوں اور برائیوں کا خاتمہ نہیں ہوسکے گا۔ آگے چل کر پھر نئے خراب اور برے لوگ ہمارے اوپر آ دھمکیں گے کیونکہ خرابیاں اور برائیاں نئے خراب اور برے انسان جنم دے چکی ہوں گی اس لیے مستقل حل برائیوں اور خرابیوں کی جڑ کاٹنے میں چھپا ہوا ہے۔

دوسرے رستے پر چلنا صرف موت کو دعوت دینے کے برابر ہے اس لیے ہمیں ایک تیسرا متبادل خود پر طلوع کر نا ہو گا، جو ہمارے تمام مسائل کا حل ہے، اس کے لیے سب سے پہلے ہمیں خود کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہو گا۔ پہلی جنگ ہمیں خود سے لڑنی ہو گی اور جب تک ہم اپنے آپ پر فتح یاب نہیں ہونگے ہمیشہ شکست خوردہ رہیں گے کیونکہ ہماری، بربادیوں، تباہیوں اور وحشتوں کے پیچھے اشخاص نہیں نظام ہے جس کی مدد سے اشخاص ہمیں تباہ اور برباد کرتے رہتے ہیں کیونکہ یہ نظام صحت مند انسانوں کو نہیں بلکہ پاگلوں کو جنم دے رہا ہے وہ پاگل جنہیں یقین ہوتا ہے کہ ان کے سوا سب پاگل ہیں۔

اس لیے خوشحالی، اختیار، اقتدار، آزادی، ترقی، کامیابی پر صرف ان کا حق ہے پاگلوں کا نہیں۔ آپ اور کچھ نہ کریں صرف غلام محمد، اسکندر مرزا سے لے کر ضیا الحق کی ذہنی کیفیتو ں کا بغو ر مطالعہ کر کے دیکھ لیں۔ کرپٹ سیاست دانوں، ملّاؤں، بیوروکریٹس، جاگیرداروں کے خیالات کو اچھی طرح پڑھ کر دیکھ لیں۔

سپائی نو زا نے اس نقص کی بہت وضاحت سے نشاندہی کی ہے وہ کہتا ہے کہ ’’بہت سے لوگ بڑے تسلسل کے ساتھ ایک ہی اثر کی گرفت میں آ جاتے ہیں، کو ئی شے کسی شخص کے حواس پر اس طرح چھا جاتی ہے کہ جب وہ شے موجود نہ ہو تو بھی وہ اسے موجود ہی سمجھتا ہے جب کبھی جاگتے میں ایسا ہو تو پھر اس شخص کو مخبوط الحواس سمجھا جاتاہے لیکن جب کوئی لالچی شخص صرف دولت اور ملکیت کے بارے میں سوچتا ہے یا جب کوئی صرف شہرت کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے تو اسے مخبوط الحواس نہیں سمجھا جاتا بلکہ صرف ناپسندیدہ قرار دیا جاتا ہے اور عام طور پر اسے اچھا خیال نہیں کیا جاتا لیکن درحقیقت لالچ اور شہرت کی خواہش اور ایسی ہی دوسری باتیں جنون کی صورتیں ہیں گو کہ عام طور پر انھیں روگ قرار دینے کا رواج نہیں‘‘ یہ الفاظ چند صدیاں پہلے لکھے گئے تھے لیکن ان کی سچائی اب بھی برقرار ہے۔

نرگسیت تمام شدید ذہنی امراض کا جوہر ہے ہمارے تمام کرپٹ سیاست دان، ملا، جاگیر دار، بیوروکریٹس سب کے سب نرگسیت کے مریض ہیں، نرگسیت زدہ فرد کے لیے حقیقت صرف ایک ہی ہوتی ہے اور وہ اس کے خیالات، احساسات یا ضروریات پر مبنی ہوتی ہے وہ صرف اپنے آپ میں سمٹ آتا ہے اور پھر وہ اختیار، اقتدار، نظام، عہدوں کو اپنی ذات کے فائدے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے جیسا کہ ہمارے ملک میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ذہن میں رہے جمہوریت میں سب خوشحال ہوتے ہیں آزاد ہوتے ہیں کامیاب ہوتے ہیں جمہوریت چند لوگوں یا چند خاندانوں کی آزادی، خوشحالی، ترقی کا نام نہیں ہے جیسا کہ ہمیں دیکھنے اور بھگتنے کو نصیب ہو رہا ہے اگر آپ پاگلوں یا ذہنی مریضوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نجات حاصل کر نا چاہتے ہیں اور اپنے آپ کو خوشحال، بااختیار، آزاد اور کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر آئیے اس نظام کو آگ لگا دیں جو جنونیوں کو جنم دے رہا ہے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔