عراق میں پےد رپے27دھماکے اور حملے،16فوجیوں سمیت107افراد ہلاک

ایکسپریس اردو  منگل 24 جولائ 2012
بغداد کے شمالی علاقے تاجی میں بم حملوں کے بعد تباہ ہونے والی عمارتوں کے قریب بجلی ٹھیک کرنیوالا عملہ بجلی بحال کرنے کی کوشش کررہا ہے (فوٹو ایکسپریس)

بغداد کے شمالی علاقے تاجی میں بم حملوں کے بعد تباہ ہونے والی عمارتوں کے قریب بجلی ٹھیک کرنیوالا عملہ بجلی بحال کرنے کی کوشش کررہا ہے (فوٹو ایکسپریس)

بغداد: عراق کے 18شہروں میں27 دھماکوں اورحملے کے نتیجے میں 16عراقی فوجیوں سمیت107 افراد ہلاک اور 214زخمی ہوگئے۔تفصیلات کے مطابق پیر کو شہر تاجی میں خودکش حملے، کار بم اور سڑک کے کنارے نصب بم پھٹنے کے باعث42افراد ہلاک اور 40زخمی ہوگئے، دھماکوں کے نتیجے میں متعدد گھر ملبے کا ڈھیر بن گئے ۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق بغداد کے علاقے صدر سٹی میں ایک سرکاری دفتر کے باہر کار بم دھماکا ہوا جس میں12افراد ہلاک اور22 زخمی ہوگئے جبکہ 8سے زیادہ کاریں تباہ ہوگئیں، حسینیہ اور یرموک میں 2بم دھماکوں میں4افراد ہلاک اور24زخمی ہوگئے جبکہ ترمیاہ میں ایک کار بم دھماکے میں9افراد زخمی ہوگئے ، صوبہ دیالہ میں سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر فائرنگ اور بم دھماکوں کے نتیجے میں11افراد ہلاک اور 40زخمی ہوگئے۔

ڈہولیاہ شہر کے قریب عسکریت پسندوں نے ایک فوجی کیمپ کو نشانہ بنایا جس میں15عراقی فوجی ہلاک اور 2زخمی ہوگئے جبکہ ایک مسجد کے قریب کار بم دھماکے اور چیک پوائنٹ پر فائرنگ میں3افراد ہلاک اور 6زخمی ہو گئے۔کرکوک، دیبیس اور خرمتو میں9بم دھماکوں میں 7افراد ہلاک اور29زخمی جبکہ موصل اور باج میں ہونے والے تین دھماکوں میں9ہلاک اور7زخمی ہوگئے،دیوانیا میں ایک مارکیٹ کے قریب سڑک کنارے نصب پھٹنے سے3افراد ہلاک اور 25زخمی ہوگئے

جبکہ مغربی شہر ہیت میں سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے فوج کی گشتی گاڑی کو نقصان پہنچا جس میں ایک فوجی ہلاک اور 10زخمی ہوگئے۔بتایا گیا ہے کہ یہ دو سال بعد بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی سب سے بڑی تعداد ہے اس سے قبل10مئی 2010کو110 افراد ہلاک ہوئے تھے۔حملوں کی ذمے داری کسی نے قبول نہیں کی تاہم کچھ روز قبل القاعدہ نے انتباہ کیا تھا کہ وہ عراق میں اپنے علاقے پر دوبارہ قبضہ کرنا چاہتی ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔