ستاروں پر یقین رکھنے والوں کے ستارے بدل گئے، ناسا

علیم احمد  منگل 20 ستمبر 2016
علمِ نجوم میں قسمت کا حال بتانے والے آسمانی بروج کی تاریخوں میں تقریباً ایک مہینے کا فرق پڑچکا ہے۔ ناسا، فوٹو؛ فائل

علمِ نجوم میں قسمت کا حال بتانے والے آسمانی بروج کی تاریخوں میں تقریباً ایک مہینے کا فرق پڑچکا ہے۔ ناسا، فوٹو؛ فائل

کراچی: امریکی خلائی تحقیقی ادارے ناسا نے واضح کیا ہے کہ اس نے کسی تیرہویں آسمانی برج کا اعلان نہیں کیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ علمِ نجوم میں قسمت کا حال بتانے والے آسمانی بروج کی تاریخوں میں ایک دو دن کا نہیں بلکہ تقریباً ایک مہینے کا فرق پڑچکا ہے۔

ناسا کے جاری کردہ وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے کسی تیرہویں برج کے بارے میں کوئی اعلان جاری نہیں کیا بلکہ اس کی ’’اسپیس پلیس‘‘ نامی ویب سائٹ پر حال ہی میں شائع شدہ مضمون میں یہ بتایا گیا ہے کہ علمِ نجوم کا فلکیات سے کوئی تعلق نہیں۔ اسی سلسلے میں نجومیوں کی غلطی کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ لکھا گیا ہے کہ اگر نجومی واقعی سائنس سے کوئی تعلق رکھتے تو وہ دائرۃ البروج کو 12 کے بجائے 13 حصوں میں تقسیم کرتے تاکہ زیادہ درست حساب لگایا جاسکتا۔

اس تیرہویں فرضی برج کو تحریر میں ’’اوفیوکس‘‘ (Ophiuchus) کا نام دیا گیا تھا لیکن میڈیا نے اس مضمون کا غلط طور پر حوالہ دیتے ہوئے ایسی خبریں چلا دیں جیسے ناسا نے نجومیوں کی تائید کرتے ہوئے ایک برج کا اضافہ کردیا ہو۔

اس سے پہلے بھی خلائی تحقیق کے سنجیدہ اداروں اور انٹرنیشنل ایسٹرونومیکل ایسوسی ایشن (آئی اے یو) سمیت، ماہرینِ فلکیات کی تنظیمیں متعدد بار نجومیوں کے حساب کتاب میں غلطیوں کی نشاندہی کرچکی ہیں اور یہ بتاچکی ہیں کہ نجومی جن اعداد و شمار کی بنیاد پر برجوں کے بارے میں بتاتے ہیں وہ کم و بیش 3 ہزار سال پرانے ہیں اور اس پورے عرصے کے دوران کسی برج میں سورج کی آمد و رخصت کے دنوں میں لگ بھگ ایک مہینے کا فرق آچکا ہے اور ہر سال 20 منٹ 22 سیکنڈ کا فرق بڑھتا جارہا ہے۔

مثلاً اگر ہم برجِ جدی (کیپریکورن) کی بات کریں تو علمِ نجوم کے مطابق سورج اس میں 22 دسمبر سے 20 جنوری تک رہتا ہے، یعنی ان تاریخوں کے دوران پیدا ہونے والے لوگوں کا تعلق برجِ جدّی سے ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، فلکیات کے تحت لگائے گئے محتاط اور سائنسی حساب کتاب سے پتا چلتا ہے کہ آج برجِ جدّی میں سورج 20 جنوری سے 16 فروری تک ہوتا ہے۔

اسی طرح بُرجِ دلو (ایکویریئس) کی مدت 21 جنوری تا 19 فروری کے بجائے 16 فروری تا 11 مارچ ہوچکی ہے۔

برجِ حُوت (پائسز) کی مدت 20 فروری تا 20 مارچ کے بجائے 11 مارچ تا 18 اپریل ہوچکی ہے۔

برجِ حمل (ایریئس) کی مدت 21 مارچ تا 20 اپریل کے بجائے 18 اپریل تا 13 مئی ہوچکی ہے۔

برجِ ثور (ٹارس) کی مدت 21 اپریل تا 21 مئی کے بجائے 13 مئی سے 21 جون تک ہوچکی ہے۔

برجِ جوزا (جیمنی) کی مدت 22 مئی تا 21 جون کے بجائے 21 جون تا 20 جولائی تک ہوچکی ہے۔

برجِ سرطان (کینسر) کی مدت 22 جون تا 23 جولائی کے بجائے 20 جولائی سے 10 اگست تک ہوچکی ہے۔

برجِ اسد (لیو) کی مدت 24 جولائی تا 23 اگست کے بجائے 10 اگست تا 16 ستمبر ہوچکی ہے۔

برجِ سنبلہ (وِرگو) کی مدت 24 اگست تا 23 ستمبر کے بجائے 16 ستمبر سے 30 اکتوبر تک ہوچکی ہے۔

برجِ میزان (لبرا) کی مدت 24 ستمبر تا 23 اکتوبر کے بجائے 30 اکتوبر تا 23 نومبر ہوچکی ہے۔

برجِ عقرب (اسکارپیو) کی مدت 24 اکتوبر تا 22 نومبر کے بجائے 23 نومبر سے 17 دسمبر تک اور

برجِ قوس (سیجی ٹیریئس) کی مدت 23 نومبر تا 21 دسمبر کے بجائے 17 دسمبر سے 20 جنوری تک ہوچکی ہے۔

کسی برج میں سورج کے داخلے کا وقت بھی ہر سال 20 منٹ 22 سیکنڈ کی شرح سے مسلسل پیچھے ہٹ رہا ہے یعنی اگلے 71 سال میں سورج کے کسی برج میں داخل ہونے کی تاریخ مزید ایک دن پیچھے ہٹ چکی ہوگی۔ واضح رہے کہ علمِ نجوم (ایسٹرولوجی) اور فلکیات (ایسٹرونومی) دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے جب کہ اکثر لوگ انہیں ایک ہی سمجھتے ہیں۔

اس تمام قصے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی کروڑوں پڑھے لکھے لوگ اس وقت تک گھر سے باہر نہیں نکلتے کہ جب تک اپنے برج کا حال نہ پڑھ لیں۔

فلکیات ایک سائنسی شعبہ ہے جس میں قوانینِ فطرت کی مطابقت میں اجرامِ فلکی کا سائنسی مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ’’علمِ نجوم‘‘ کے ماہرین (نجومی) ستاروں کی چال دیکھ کر لوگوں کے مستقبل کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ یہ بات دلچسپی سے پڑھی جائے گی کہ نام نہاد علمِ نجوم ہمارے دین اور دنیا، دونوں کا مشترکہ دشمن ہے۔ اسلام جتنی شدت سے (علمِ نجوم سیمت) علومِ غیب کی مذمت کرتا ہے، ماہرینِ فلکیات بھی اسی قدر شدّ و مدّ سے نجومیوں کو غلط قرار دیتے ہیں۔

پاکستان سے جناب شمیم احمد نے چند سال پہلے ’’علمِ نجوم: حقیقت اور افسانہ‘‘ کے عنوان سے اردو میں ایک تحقیقی کتاب (ای بُک کی شکل میں بھی) شائع کی تھی جس سے قارئین کو اس بارے میں اپنی متعدد غلط فہمیاں دور کرنے کا موقع ملے گا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔