مردم شماری کا انعقاد مشکل کیوں ہوگیا؟

عبید اللہ عابد  اتوار 25 ستمبر 2016
قوموں کی زندگی میں مردم شماری کی کیا اہمیت ہے : فوٹو : فائل

قوموں کی زندگی میں مردم شماری کی کیا اہمیت ہے : فوٹو : فائل

دنیا کے تمام ملکوں میں کچھ عرصہ، جو عموماً دس سال کا ہوتا ہے، اعداد و شمار جمع کیے جاتے ہیں کہ ملک میں کتنے لوگ رہتے ہیں، ان کی عمریں کیا ہیں، کتنے گھر ہیں ، ہسپتال اوردفاتر وغیرہ کتنے ہیں؟۔ یہ مواد نہ صرف معاشی منصوبہ بندی میں مددگار ثابت ہوتا ہے بلکہ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ملک اور قوم کی ضروریات کیا ہیں، ملک کی آبادی میں کتنا اور کس رفتار سے اضافہ یا کمی ہورہی ہے، ملک کی آبادی میں کس زبان اور نسل سے کتنے لوگ موجود ہیں، ان کی تعلیم کیا ہے؟ وغیرہ وغیرہ ۔ مردم شماری سے پوری قوم کی ایک مکمل چہار رنگی تصویر دستیاب ہوتی ہے۔

کسی بھی ملک کی ترقی ان ہی اعداد و شمار کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ اگر یہ ہی معلوم نہ ہو کہ ملک کی آبادی کتنی ہے، کس صوبے کی کتنی آبادی ہے، کس ضلع میں کتنی آبادی ہے تو آپ وسائل کیسے تقسیم کریں گے؟ اگر یہی معلوم نہ ہو کہ لوگوں کی تعلیم اور ان کا پیشہ کیا ہے، ان کی اوسط عمریں کیا ہیں تو آپ ان کی صلاحیت اور توانائی سے کیسے فائدہ اٹھاسکتے ہیں، حکومت بھلا کیسے ایک مکمل قابل عمل منصوبہ بندی کرسکتی ہے۔ منصوبہ بندی ہی نہیں ہوگی تو قوم کی فلاح وبہبود کا کام کیسے ہوسکتا ہے بھلا! آبادی میں اضافے کی شرح اور اس کا پھیلاؤ، دیہی اور شہری آبادی کی تقسیم، عمر کا ڈھانچہ، شرح خواندگی، تعلیم کا حصول، ملازمت، ہجرت اور صحت عامہ کی سہولتوں کی نشاندہی، یہی تمام عوامل ترقیاتی منصوبہ بندی، بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور صحت اور تعلیم کیلئے وسائل مختص کرنے کیلئے اہم ہوتے ہیں۔

جب مردم شماری قوموں کی تعمیر وترقی میں اس قدر اہم عمل ہے تو ہمارے یہاں یہ عمل گزشتہ اٹھارہ برس سے کیوں نہیں نظر آرہا؟ آخری مردم شماری بھی سترہ برس بعد ہوئی تھی، سوال یہ ہے کہ اس عمل میں اصل رکاوٹ کیا ہے؟ اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک ’انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز‘(آئی پی ایس) کے ڈائریکٹر جنرل خالد رحمٰن کا کہنا ہے: ’’بنیادی طورپر صرف مردم شماری ہی نہیں بلکہ دیگر بہت سے معاملات میں بھی ہم گورننس کے شدید بحران کا شکار ہیں۔ بے شمار چیزیں آئینی اور قانونی اعتبار سے ضروری ہیں لیکن ایسے ہرمعاملے میں ہماری حکومتیں ٹال مٹول سے کام لیتی ہیں اور انھیں معرضِ التوا میں ڈال دیتی ہیں۔ مردم شماری بھی ایسا ہی معاملہ ہے۔ اصولی طورپر اسے ہردس سال بعد ہوناچاہئے لیکن حکومتوں کی نااہلی ہے کہ اس کا انعقاد نہیں ہوپارہا۔ کبھی مالی وسائل کا رونا رویاجاتاہے اور کبھی سیکورٹی ایشوز کی بات کی جاتی ہے۔ میں سمجھتاہوں کہ اصل معاملہ نیت کا ہے‘‘۔

آئی پی ایس کے ڈائریکٹرجنرل سے پوچھاگیا کہ مردم شماری کے عدم انعقاد کی کیا سیاسی قیمت چکانی پڑی ہے؟ ان کا کہناتھا:’’مردم شماری کی مدد سے کسی بھی شہر میں کل آبادی کا علم ہوتاہے، وہاں موجودہ گروہوں اور ان کی طاقت کے بارے میں معلومات میسرآتی ہیں اور اس بات کا تعین بھی ہوجاتاہے کہ اس شہر کے مسائل کیسے حل کرنے ہیں، مردم شماری کے نتیجے میں ایک ایسا ڈیٹا فراہم ہوتاہے جن پر ہمارے بہت سے آئینی معاملات کا انحصار ہوتاہے، بے شمار چیزیں ایسی ہیں کہ وہ درست ڈیٹا نہ ہونے کی وجہ سے متنازعہ ہوجاتی ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی بھی معاملہ طے کیا جائے تو لوگ اپنے علاقے اور اپنے گروہ کے مفادات کے تناظر میں اسے چیلنج کردیتے ہیں ‘‘۔

یہ کیسی عجیب بات ہے کہ پاکستان کے آئین کی رو سے بھی ملک میں مردم شماری کا عمل ہر دس سال کے بعد ضروری ہے، تاہم پاکستان میں آخری مردم شماری18 سال پہلے 1998ء میں ہوئی تھی۔ پرویزمشرف کے نو برسوں کے دوران یہ کام نہ ہوسکا، پھر پیپلزپارٹی کے دور حکومت کے دوران خانہ شماری کی گئی تاہم مردم شماری نہ ہوسکی۔خانہ شماری کا عمل بھی متنازعہ ہوگیا۔

گزشتہ برس مارچ میں نوازشریف حکومت نے فیصلہ کیا کہ اگلے سال یعنی مارچ2016ء سے مردم شماری اور خانہ شماری کرائی جائے گی ۔ یہ فیصلہ وزیراعظم کی سربراہی میں منعقدہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں کیا گیا۔ کہا گیا کہ مردم شماری کا یہ عمل فوج کی نگرانی میں کیا جائے گا تاہم مردم شماری کے لئے مقررہ مہینہ سے محض ایک دن پہلے حکومت نے مردم شماری کا عمل موخر کرنے کا اعلان کردیا۔ سبب بتایا گیا کہ ملک میں جاری سکیورٹی آپریشنز اور فوج کی مصروفیات کی وجہ سے مردم شماری کرانا ممکن نہیں ہوگا۔

قبل ازیں بلوچستان نیشنل پارٹی(بی این پی) کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا تھا کہ’’بلوچستان جنگی حالت سے دوچار ہونے کی وجہ سے جل رہا ہے اور اس صورتحال کے باعث بلوچستان کے بلوچ آبادی والے بہت سارے علاقوں سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ ان کا کہناتھا کہ حالات سازگار نہ ہونے کی وجہ سے سخت سکیورٹی کے باوجود صوبے میں الیکشن تک بری طرح سے متاثر ہوئے تھے، ان حالات میں مردم شماری کیسے ممکن ہوگی؟ بی این پی کے سربراہ نے تین مطالبات پیش کئے تھے کہ جب تک بلوچستان میں امن و امان کا مسئلہ حل نہیں کیا جاتا، نقل مکانی کرنے والوں کی ان کے آبائی علاقوں میں دوبارہ آباد کاری نہیں ہوتی اور تمام غیرملکیوں کو باعزت طریقے سے ان کے ملکوں میں واپس نہیں بھیجا جاتا اس وقت تک وہ کسی بھی مردم شماری کو تسلیم نہیں کریں گے‘‘۔ یادرہے کہ بلوچستان میں اس وقت بھی بڑی تعداد میں افغان مہاجرین آباد ہیں، ان میں سے بہت سوں نے پاکستانی شہریت کی دستاویزات بھی حاصل کر رکھی ہیں۔

سرداراخترمینگل کا اب بھی یہی خیال ہے، وہ کہتے ہیں کہ حالات ویسے کے ویسے ہی ہیں۔ کوئی فرق رونما نہیں ہوا۔ مردم شماری کا مطلب ہی لوگوں کو شمار کرنا ہوتاہے، اب جو لوگ اپنے علاقے چھوڑ گئے ہیں، انھیں کیسے شمار کیا جائے گا۔ دوسرا افغان مہاجرین اب بھی یہاں مقیم ہیں، انھوں نے شناختی کارڈز بنوا رکھے ہیں، طالبان کے سربراہ کا شناختی کارڈ بنا ہوا تھا، ووٹرز کی فہرست میں اندراج بھی تھا، اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ افغان مہاجرین یہاں کس اندازمیں رہ رہے ہیں۔ حکومت نے انھیں واپس بھیجنے کا عمل شروع کیاتھا لیکن وہ اب رو ک دیاگیاہے۔

دنیا کی سب حکومتیں جانتی ہیں کہ افغان مہاجرین یہاں کس اندازمیں مقیم ہیں۔ بی این پی کے سربراہ سے پوچھا گیا کہ کیا مردم شماری نہ ہونے سے بلوچستان پر برے اثرات مرتب نہیں ہورہے ہیں؟ کیا بہتر نہیں ہے کہ کوئی ایسا طریقہ اختیار کیاجائے جس سے مہاجرین کے الگ تشخص کا تعین بھی ہو اور بلوچستان کے اصل باشندوں کو بھی شمار کرلیا، چاہے وہ جہاں بھی مقیم ہوں؟

انھوں نے کہا کہ ایسا کوئی طریقہ کار اختیار کرلیاجائے تو یقیناً بہتر ہوگا، تاہم جہاں تک مردم شماری نہ ہونے کے سبب بلوچستان پر پڑنے والے برے اثرات کا ذکر ہے، یقیناً وہ ضرور مرتب ہورہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ جن مسائل کا میں نے ذکر کیا، ان کے ہوتے ہوئے مردم شماری ہوئی اور اس سے جو برے اثرات جنم لیں گے، انھیں کیسے کنٹرول کیاجائے گا۔انھوں نے کہا کہ میری وزارت اعلیٰ کے دور میں جب آخری مردم شماری ہوئی تھی، تب ایک لسانی گروہ جو اِس وقت برسراقتدار ہے، نے اس کی مخالفت کی تھی لیکن آج وہی گروہ افغان مہاجرین سمیت مردم شماری کرا نے پر تلا ہواہے‘‘۔

ملک میں ایک تاثر یہ بھی ہے کہ سندھی قوم پرست حلقے ملک میں مردم شماری کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ تاہم قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایازلطیف پلیجو کہتے ہیں کہ ہم کبھی مردم شماری کے مخالف نہیں رہے ہیں، مردم شماری ہونی چاہئے۔ ہمارا موقف ہے کہ مردم شماری کے عمل میں ان لوگوں کو شمار نہیں ہوناچاہئے جو یہاں غیرقانونی طورپر رہ رہے ہیں، ہمارا موقف کبھی تبدیل نہیں ہوا۔

ہم جو بات پہلے کہہ رہے تھے، وہی آج کہہ رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کا موقف تبدیل ہواہے، وہ آج ہمارے موقف پر آگئی ہے۔ ہم کہہ رہے تھے کہ افغانستان سے افغان انٹیلی جنس خاد کے لوگ یہاں آرہے ہیں، ایم کیوایم بھارت سے ’را‘ کے ایجنٹوں کو یہاں بلار ہی ہے۔ ہمیں مردم شماری سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اگریہاں پنجابی بڑھ جائیں گے تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے، وہ ہمارے بھائی ہیں۔ اگرکمالیہ والے بڑھ جائیں، مردان والے بڑھ جائیں، پشتون بڑھ جائیں، ہمیں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ خدا کے بندو! ستر سال بعد جڑ جاؤ، اکٹھے ہوجاؤ۔ ہمارے لئے سب سے بڑا خطرہ را‘ ، ’ سی آئی اے‘ ، ’موساد‘ اور افغان انٹیلی جنس’ خاد‘ ہے، وہ یہاں بم دھماکے کرا رہی ہیں۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ یہاں پنجابیوں نے بلوچیوں کو مارا ہو، یا بلوچیوں نے پنجابیوں کو مارا ہو۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ مردم شماری ضرور ہونی چاہئے، یہ بہت ضروری ہے، لیکن بالکل درست ہونی چاہئے، صحیح اور شفاف ہونی چاہئے‘‘۔’

گزشتہ برسوں کے دوران میں بھی سندھ کی قوم پرست جماعتیں مردم شماری پر تحفظات ظا ہرکرتی رہی ہیں کہ سوات میں فوجی آپریشن کے وقت سرکاری اعدادوشمار کے مطابق تیرہ لاکھ لوگ صوبہ سندھ آئے جو واپس نہیں گئے، اس کے علاوہ غیر قانونی برمی، بنگالی، بہاری اور افغانی لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں اور انہوں نے پاکستان کے قومی شناختی کارڈ حاصل کرلیے ہیں۔ اب خدشہ ہے کہ مردم شماری میں انھیں بھی شامل کرلیا جائے گا۔ سندھی قوم پرست حلقے کہتے ہیں کہ سندھی صوبہ سندھ کی ستر فیصد آبادی ہے مگر تکنیکی بنیادوں پر ہر بار وفاقی حکومت انہیں اقلیت میں ظاہر کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے چونکہ بدقسمتی سے وسائل کی تقسیم آبادی کی بنیاد پر ہوتی ہے اس لیے وفاقی حکومت مردم شماری کے نتائج میں ہیرا پھیری کرتی ہے۔

مسلم لیگ ن کی حکومت نے امسال مارچ کا مہینہ شروع ہونے سے ایک دن قبل جب مردم شماری ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا، تب بھی سبب وہی بتایا تھا جو ہر پاکستانی بچے کو اب تک حفظ ہوچکا ہے کہ ملک میں جاری سکیورٹی آپریشنز اور فوج کی مصروفیات کی وجہ سے مردم شماری کرانا ممکن نہیں۔ حالانکہ سن 2009ء میں اس وقت کے چیف سینسس کمشنر خضر حیات خان نے کہہ دیاتھا کہ اس بار مردم شماری فوج کی زیر نگرانی نہیں ہوگی کیونکہ ان کے بقول ایک تو اس کی ضرورت نہیں ہے اور دوسرا فوج نے تو مردم شماری کے کام میں حصہ لینے سے انکار کردیا ہے کیونکہ وہ پہلے ہی بحالی امن کے کام میں مصروف ہے اور ہماری اپنی بھی خواہش یہ ہے کہ فوج اس میں شامل نہ ہو اور سویلین ہی یہ کام کریں۔‘‘ مردم شماری کے چیف کمشنر نے اس وقت یہ بھی کہاتھا کہ ’ان کے ادارے نے مردم شماری کے لیے تمام تر انتظامات مکمل کررکھے ہیں اور انہیں حکومت کی طرف سے اجازت کا انتظار ہے۔

‘بندوبستی علاقوں میں بھی ہمارے انتظامات مکمل ہیں اور اسی طرز کے انتظامات ہم نے شورش زدہ علاقوں میں بھی کر رکھے ہیں‘۔ یادرہے کہ چیف سینسس کمشنر کی یہ باتیں ان دنوں کی ہیں جب ملک کے حالات آج کی نسبت بہت زیادہ خراب تھے، آئے روز خود کش دھماکے ہورہے تھے۔ اگر اس قدر خراب حالات میں بھی ادارہ شماریات مردم شماری کے لئے تیار تھا، تو آج ایسا کیوں نہیں ہوسکتا؟

مردم شماری نہ کرانے کا معاملہ اس قدر سنگین صورت اختیار کرچکاہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس انورظہیر جمالی کو ازخود نوٹس لینا پڑا۔ گزشتہ دنوں کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جسٹس فائز عیسٰی نے کہا:’’ کیاحکومت کی اپنی کوئی ساکھ نہیںکہ اسے فوج کی مدد کی ضرورت ہے؟حکومت حساسیت کے نام پر اہم قومی اور آئینی ذمے داریاں ٹال دیتی ہے، اس نے مردم شماری کرنی ہے جنگ نہیں لڑنی کہ فوج کی ضرورت ہے، ویسے بھی ملک کے اکثریتی علاقوں میں فوج تعینات کرنے کی ضرورت نہیں‘‘۔

دوران سماعت جناب چیف جسٹس انورظہیر جمالی نے کہاکہ اگر یہی حالات رہے تو پھر اگلے عام انتخابات ہوتے نظر نہیں آتے،حلقہ بندیوں کیلیے مردم شماری لازمی ہے۔ مردم شماری کے بغیر حلقہ بندیوں کو چیلنج کردیا جائے گا اور کوئی بھی شخص الیکشن رکوانے عدالت پہنچ جائے گا۔ انھوں نے استفسار کیا کہ کیا لاہور اور اسلام آباد سمیت بڑے شہروں میں مردم شماری کیلیے فوج کی سیکیورٹی ضروری ہے؟ جناب چیف جسٹس نے کہا جن کے مفاد وابستہ ہیں وہ صاف و شفاف انتخابات اور مردم شماری نہیں چاہتے۔ انھوں نے حکومتی وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ ’’کس قانون میں لکھا ہے کہ فوج کے بغیر مردم شماری نہیں ہو سکتی؟ بلدیاتی انتخابات وقت پر ہوئے نہ ہی مردم شماری۔ حکومت کا یہی رویہ چلتا آ رہا ہے۔ اب 2018ء کے عام انتخابات سے پہلے سپریم کورٹ آ جائیں گے کہ الیکشن کرانے کی پوزیشن میں نہیں‘‘۔

ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے آبزرویشن دی کہ جمہوری نظام کی بنیاد مردم شماری ہوتی ہے جب تک مردم شماری نہیں ہوتی ضلعوں، تحصیلوں اور یونین کونسل کی سطح پر حلقہ بندیاں کیسے ہوں گی۔ ہر دس سال بعد ملک میں مردم شماری آئینی ضرورت ہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا ارباب اختیار کی زیادہ توجہ دیگر معاملات کی طرف ہے۔ ہم خود کچھ اداروں کو اہمیت نہیں دیتے جب بھی کوئی مسئلہ ہوتا ہے سب سے پہلے انہی (فوج) کو اونر شپ دے دی جاتی ہے۔ کیا یہ ضروری ہے ایک خاص ادارے کو ذمہ داری دی جائے تب ہی مردم شماری درست ہو گی ورنہ مردم شماری درست نہیں ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ مردم شماری کے محکمہ نے کام نہیں کرنا تو اسے بند کر دیا جائے۔ کیوں ان لوگوں کو قوم کے ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہیں اور مراعات دی جا رہی ہیں؟ مارچ 2017ء میں بھی فوج موجود نہ ہوئی تو 2018ء میں ہونے والے عام انتخابات فراڈ ہونگے۔ 2017ء میں مردم شماری ہو بھی جائے تو پھر الیکشن کمشن کو انتخابی عمل پورا کرنے کے لئے 2 سے 3 سال تک کا عرصہ چاہئے ہو گا۔ عدالت نے قرار دیا مردم شماری میں تاخیر کی کوئی قانونی وجہ نہیں کیونکہ فوج نے اہلکار فراہم کرنے سے انکار نہیں کیا۔

سپریم کورٹ چیف جسٹس اور دیگر معزز جج صاحبان کے ریمارکس سے واضح ہوتا ہے کہ مردم شماری نہ کرانے کا سبب امن وامان کی خرابی نہیں بلکہ کچھ اور ہی ہے جیسا کہ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جن کے مفاد وابستہ ہیں وہ صاف شفاف انتخابات اور مردم شماری نہیں چاہتے۔ سپریم کورٹ میں مردم شماری نہ کرانے سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں اٹارنی جنرل نے حکومتی موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ مردم شماری کو تمام ریاستی اکائیوں کی نظر میں قابل اعتبار بنانے کیلیے ضروری ہے کہ تمام پراسیس فوج کی نگرانی میں مکمل کیا جائے جبکہ امن و امان کی صورتحال کے باعث بھی فوج کی شمولیت ضروری ہے، مشترکہ مفادات کونسل نے اس کی منظوری دی ہے اور بجٹ بھی مختص ہوگیا ہے۔

فوج جوں ہی دستیاب ہوگی تو پراسیس شروع ہوجائے گا۔ وفاقی وزیرمنصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کا کہناہے کہ مردم شماری میں تاخیر کی ذمہ دار وفاقی حکومت نہیں۔ وفاقی حکومت مارچ 2016ء میں مردم شماری کا بندوبست کرچکی تھی۔ اس میں التوا بلوچستان حکومت کے تحفظات اور سیکورٹی کے تقاضوں کی بنا پر ہوا ہے، پاکستان کے مخصوص حالات کے پیش نظر سیکورٹی تقاضے پورے کئے بغیر مردم شماری نئی پیچیدگیاں پیدا کرسکتی ہے۔

دوسری طرف قائدحزب اختلاف اور پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ مردم شماری پاکستان کے مستقبل کیلئے انتہائی اہم ہے۔ اس لئے فوری طور پر مردم شماری کا ٹائیم فریم دیا جائے۔

اس وقت ملک کے لوگ مردم شماری کا مطالبہ کررہے ہی ہے، تاہم مردم شماری چیف کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ حکومت ہر وقت ہر مردم شماری کرانے کی پابند نہیں، اس طرح کے بیان سے اس بات کی غمازی ہوتی ہے کہ حکومت وقت پر مردم شماری کرانے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مردم شماری کی اہمیت سے انکار ممکن، نہیں کیونکہ مردم شماری کے بعد درست آبادی کے اعدادوشمار سامنے آتے ہیں جس کے نتیجے میں محاصل کی تقسیم اور پارلیمنٹ میں آبادی کی بنیاد پر نمائندگی کا تعین ممکن ہوتا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم نوازشریف کو اسی بابت خط بھی لکھا ہے جس میں یہی باتیں کی گئی ہیں اور ان سے درخواست کی ہے کہ مردم شماری کمشنر کے بیان کا نوٹس لے کر مردم شماری کا ٹائیم فریم دیا جائے۔

پاکستان تحریک انصاف کے وائس چئیرمین شاہ محمود قریشی کا کہناہے کہ مردم شماری آئینی ذمہ داری ہے۔ افسوس ناک امرہے کہ متواتر حکومتیں یہ ذمہ داری نہیں نبھا رہی ہیں۔ آخری بار 1998ء میں مردم شماری ہوئی، اس کے بعد مردم شماری نہ ہونے کے سبب وسائل کی تقسیم سمیت بہت سی الجھنیں پیدا ہوئیں۔ نتیجتاً قوم کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہوا۔ آج ہی اخبار میں پڑھ رہاتھا کہ صوبوں کے وزرائے خزانہ نے کہا ہے کہ وہ مردم شماری کے بغیر بھی نیا فنانس ایوارڈ قبول کرلیں گے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ منطقی بات نہیں ہے۔

جب آئین تقاضا کرتاہے کہ ہر دس برس بعد مردم شماری ہونی چاہئے تو اس کی کوئی بنیادی وجہ ہوگی نا! اس کی کوئی نہ کوئی ضرورت ہوگی نا! لوگوں کی تعداد کے صحیح اعدادوشمار میسر نہ ہوں تو کیسے درست منصوبہ بندی ہوسکتی ہے؟ حکومتیں مسلسل اس سے غفلت کا مظاہرہ کررہی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس کے بغیر الیکشن نہیں ہوسکتے کیونکہ حلقہ بندیاں نہیں ہوسکتیں۔ اس کے بغیر فنانس کی درست تقسیم نہیں ہوسکتی۔

کیونکہ اس کی بنیاد آبادی ہی بنتی ہے نا! جب شاہ محمود قریشی سے پوچھا گیا کہ حکومتیں کیوں اس سے گریز کررہی ہیں؟ ان کا کہناتھا کہ ’’یہ حکومتوں کی نااہلی ہی ہے ورنہ ہمارے یہاں اس کام کے لئے ادارے موجود ہیں۔ کبھی کہاجاتاہے کہ اس کام کے لئے افواج پاکستان کی ضرورت ہے اور کبھی کچھ اور۔ میں کہتاہوں کہ اگرباقی دنیا میں شماریات کے ادارے ہی مردم شماری کراسکتے ہیں تو ہمارے ہاں کیوں نہیں کراسکتے‘‘۔ جب پوچھا گیا کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے کن ’’بعض عناصر‘‘ کی بات کی ہے جن کے مردم شماری نہ کرانے میںذاتی مفادات وابستہ ہیں؟ تحریک انصاف کے وائس چئیرمین کا کہناتھا:’’ میں کچھ نہیں کہہ سکتا کہ ان کا اشارہ کس طرف ہے ، بہرحال چیف جسٹس نے ایسا کہا ہے تو ان کا غصہ بجا ہے ، ان کی ناراضی بجا ہے‘‘۔

کیا واقعی پاکستان کے حالات ایسے ہیں کہ فوج کے بغیر مردم شماری ممکن نہیں؟ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز کے ڈائریکٹر جنرل جناب خالدرحمٰن کا کہناتھا کہ اگرحکومت فیصلہ کرلے تو فوج ایک ماتحت ادارہ ہے، اس کی مدد لی جاسکتی ہے۔

سپریم کورٹ نے بھی اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ ملک کے اکثریتی علاقوں میں فوج تعینات کرنے کی ضرورت نہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس انورظہیرجمالی نے حکومت سے استفسار کیا ہے کہ کیا لاہور اور اسلام آباد سمیت بڑے شہروں میں مردم شماری کیلیے فوج کی سیکیورٹی ضروری ہے؟ اصل بات ایک ہی ہے کہ حکومت کی نیت ہونی چاہئے ورنہ پیسے ، مین پاور اور سیکورٹی وسائل، سب میسرآجاتے ہیں۔ آخر 2008ء، 2013ء کے عام انتخابات بھی ہوئے ہیں، اس کے بعد آج تک ضمنی الیکشن بھی ہوتے رہے ہیں اور پھر بلدیاتی انتخابات بھی ہوئے، وہاں بھی فوج کا تعاون لیاگیا، جب یہ سب کام ہوگئے تو مردم شماری کرانے میں کیا مسئلہ ہے!

چیف جسٹس آف پاکستان کی رولنگ، سیاسی رہنماؤں کے بیانات اور ماہرین کی آراء کے نتیجے میں یہ تاثر مضبوط ہورہاہے کہ حکومتیں ہر ایسا کام کرالیتی ہیں جن کے نتیجے میں ان کے ذاتی یا سیاسی مفادات پورے ہوتے ہوں۔ سن 2008ء میں پاکستان میں دہشت گردی آج کی نسبت بہت زیادہ تھی تاہم اس کے باوجود ملک میں عام انتخابات ہوئے، مسلم لیگ ن سمیت ہرپارٹی بہرصورت جنرل الیکشنز کا انعقاد چاہتی تھی۔

یادرہے کہ’ ساؤتھ ایشیا ٹیریرازم پورٹل‘ کے اعدادوشمار کے مطابق 2008ء میں پاکستان میں مجموعی طورپر 59خودکش حملے ہوئے جن کی نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد893 اور 1846 زخمی ہوئے تھے۔ سن 2013 میں 43خودکش حملے ہوئے جن کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 751 جبکہ زخمیوں کی تعداد 1411 تھی۔

اگرہم 2015ء کا جائزہ لیں تو ہمیں خودکش حملوں کی واقعات میں نصف سے بھی زیادہ کمی نظرآئے گی۔ گزشتہ برس 19 خود کش حملے ہوئے، جن کے نتیجے میں 161 افراد ہلاک جبکہ 360 زخمی ہوئے۔ سن2016ء میں بھی دہشت گردی کے صورت حال گزشتہ برس جیسی ہی ہے۔ ظاہر ہے کہ سن 2008ء اور 2013ء میں آج کی نسبت پاکستانی سیکورٹی فورسز آپریشنز میں زیادہ مصروف تھیں، اس کے باوجود عام انتخابات ہوئے، ہرپولنگ سٹیشن پر پاکستانی فوج اور پاکستانی پولیس کے اہلکار متعین ہوئے۔ آج جب امن وامان کی صورت حال گزرے برسوں کی نسبت کہیں بہتر ہے، ایسے میں مردم شماری ایسا ضروری آئینی تقاضا پورا نہیں ہورہا تو ضرور حکومت کے ہاں کوئی مسئلہ ہے۔ اگر’بدنیتی‘ ایسا سخت لفظ استعمال نہ بھی کیا جائے تو نرم سے نرم لفظوں میں اسے حکمرانوں کی نااہلی پر ہی محمول کیا جائے گا۔ اسی نااہلی کے سبب ملک و قوم ایسے مسائل اور الجھنوں کے چنگل میں پھنستی جارہی ہے جو ریاستوں کو ناکام بنادیتی ہیں۔

مردم شماری کے نتیجے میں قوموں کو وسائل سمیت بہت کچھ ملتاہے جبکہ عام انتخابات کے نتیجے میں سیاسی رہنماؤں کو اقتدار ملتاہے۔ وہ عام انتخابات کا انعقاد ہر اگلے روز چاہتے ہیں، اس کے لئے وہ وسط مدتی انتخابات کے انعقاد کے لئے دھینگا مشتی سے بھی باز نہیں آتے جبکہ انھیں مردم شماری کی فکرنہیں ہوتی۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی حکومتوں کو ایک اور اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات کرانے کو بھی آسانی سے تیار نہیں ہوتیں۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کے بنیادی اور مقامی انتخابات کے فوائد بھی گلی اور محلے میں رہنے والے فرد کو ملتے ہیں، اس لئے اس کے لئے بھی وہ مردم شماری کی طرح ٹال مٹول کرتی رہی ہیں۔ ہر کسی کی یادداشت میں ہوگا کہ عدلیہ کی طرف سے بار بار کے احکامات کے باوجود مرکز، پنجاب اور سندھ کے حکمران بلدیاتی انتخابات سے کس طرح راہ فرار اختیار کررہے تھے، بالکل اسی طرح یہ مردم شماری سے بھی بھاگ رہے ہیں۔
کل کے اور آج کے چیف سینسس کمشنر کے موقف میں فرق
چیف سینسس کمشنر آصف باجوہ کا موقف ہے کہ مارچ 2017ء سے قبل مردم شماری ممکن نہیں ہے کیونکہ فوج ضربِ عضب میں مصروف ہے، اس لئے مردم شماری اگلے برس مارچ یا اپریل ہی میں ہوگی۔

ان کا کہناتھا کہ فوج کی مدد کے بغیر مردم شماری ممکن ہی نہیں ہے۔ مردم شماری کا عمل اس لئے التوا کا شکار ہوا کہ فوج شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب میں مصروف تھی۔ ان کے مطابق امسال نومبر یا دسمبر میں محکمہ شماریات پاکستانی فوج کے حکام سے ملاقات کرے گا تاکہ ان کی دستیابی کی بابت جان سکے۔

بریفنگ کے دوران انھوں نے بتایا کہ وزارت خزانہ نے مردم شماری کے عمل کے لئے مجموعی طورپر مختص 14.5 بلین روپوں میں سے 1.90بلین روپے جاری کردئیے ہیں۔ 6.9بلین روپے محکمہ شماریات کے لئے ہوں گے جبکہ 7.5بلین روپے سیکورٹی مقاصد کے لئے ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ پورے ملک میں یہ ٹاسک پورا کرنے کے لئے 2لاکھ سات ہزار اہلکاروں کی ضرورت ہے۔

جب آصف باجوہ سے پوچھا گیا کہ 2009ء میں پاکستان میں امن وامان کی حالت آج کی نسبت بہت زیادہ خراب تھی لیکن اس وقت کے چیف سینسس کمشنر خضرحیات نے کہاتھا کہ وہ نہ صرف مردم شماری کے لئے مکمل طورپر تیار ہیں بلکہ انھیں فوج کے تعاون کی بھی ضرورت نہیں…… اب ایسی کیا مشکلات آن پڑی ہیں کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ مارچ 2017سے قبل مردم شماری ممکن ہی نہیں ہے؟ انھوں نے فقط یہ کہا:’’ کوئی مشکلات نہیں ہیں، اوپر سے فیصلہ کیاگیاہے اور بس!‘‘ موجودہ چیف سینسس کمشنر اس کے بعد کسی سوال کا جواب دینے کو تیار نہ ہوئے۔

پاکستان میں مردم شماری کی تاریخ
پاکستان میں مردم شماری ہر 10 سال بعد ہوتی ہے۔ سب سے پہلی مردم شماری آزادی کے چار سال بعد1951ء میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد 1961ء ، 1972ء ،1981ء اور پھر 1998ء میں ہوئی۔ سن1972 والی مردم شماری اصل میں1971ء میں منعقد ہونی تھی، مگر جنگ 1971ء کے سبب مردم شماری ایک سال تاخیر سے ہوئی۔ سن1991ء کی مردم شماری سیاسی گہما گہمی کے باعث موخر ہوگئی۔ یوں پاکستان میں پانچویں مردم شماری سترہ برس بعد 1998ء میں ہوئی۔

تقسیم برصغیر کے بعد دو تہائی مسلمان پاکستان کا حصہ بن گئے جبکہ ایک تہائی بھارت ہی میں رہ گئے ۔ 1951ء کی مردم شماری کے مطابق مغربی اور مشرقی پاکستان، دونوں حصوں کی کل آبادی ساڑھے سات کروڑ تھی جس کا 33.7 فیصد حصہ مغربی پاکستان میں بستا تھا۔ 1961ء کی مردم شماری کے مطابق متحدہ پاکستان کی آبادی نو کروڑ تیس لاکھ تھی۔مردم شماری کے نتائج کے مطابق اب مغربی پاکستان کے باسی کل آبادی کا 42.8فیصد ہوگئے۔ مشرقی پاکستان کی آبادی پانچ کروڑ تھی۔ ملک کی 19.2فیصد آبادی خواندہ تھی۔ مشرقی پاکستان میں شرح خواندگی 21.5فیصد جبکہ مغربی پاکستان میں16.3فیصد تھی۔یعنی ملک کا مشرقی حصہ آبادی اور شرح خواندگی کے اعتبار سے مغربی حصے سے آگے تھا۔ 1972ء کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی چھ کروڑ 53 لاکھ تھی۔ اس کے بعد محکمہ مردم شماری قائم کیاگیا جسے محکمہ داخلہ کے ساتھ منسلک کردیاگیا۔ 1981ء کی مردم شماری کے مطابق ملک کی آبادی آٹھ کروڑ 42لاکھ تھی۔

سترہ برس کے وقفے سے ہونے والی 1998ء کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی 13 کروڑ 80 لاکھ سے زائد تھی۔ تب صوبہ بلوچستان میں سردار اختر مینگل کی حکومت تھی اور پشتون قوم پرست جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے اس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ اس جماعت کا موقف تھا کہ ماضی میں مردم شماری میں پشتونوں کو اقلیت میں تبدیل کیا گیا۔ ماضی میں یہاں پشتونوں اور بلوچوں کی آبادی مساوی تھی لیکن 1971ء میں جو حکومت بنی تو اس میں شامل بلوچ اکابرین نے پشتون بلوچ مشترکہ صوبے میں پشتونوں کی آبادی کو 50فیصد سے 30فیصد جبکہ بلوچوں کی آبادی کو 50فیصد سے بڑھاکر70فیصد کردیا گیا۔

اب اٹھارہ برس بیت چکے ہیں لیکن مردم شماری کرانے کی باتیں ہی ہورہی ہیں۔ اس دوران 2008ء میں مردم شماری کا منصوبہ بنایاگیا، پھر 2010ء میں بھی لیکن عمل درآمد نہ ہوسکا۔ مردم شماری کے کئی مراحل طے کرنے کی کوشش کی گئی تاہم انھیں ناقابل اعتبار قراردیاگیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔