ہمارے ٹوٹے پھوٹے لوگ

آفتاب احمد خانزادہ  بدھ 5 اکتوبر 2016

دنیا بھر کے انسانوں کا استاد سقراط کہا کرتا تھا کہ ’’میں بس ایک بات جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا‘‘ جب آپ سقراط کی طرح یہ بات جان لیتے ہیں کہ آپ کچھ نہیں جانتے تو پھر آپ جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور اسی کو شش کا نام زندگی ہے۔ جب آپ اس دنیا میں آتے ہیں تو آپ کی پیدائش کے کچھ منٹوں بعد آپ کو آپ کا نام دیا جاتا ہے پھر آپ کو آپ کا مذہب اور عقیدہ حوالے کر دیا جاتا ہے۔ تھوڑا سا آگے چل کر پھر کچھ رشتے اور شہریت بھی حوالے کر دی جاتی ہے۔ ان ساری چیزوں میں آپ کی کوئی منشا، مرضی شامل نہیں ہوتی ہے۔ شیکسپیئر نے کہا تھا دنیا ایک اسٹیج ہے اور ہم سب اداکار ہیں۔

یاد رہے ہم سب مہمان اداکار ہیں جنہیں زبردستی تھوڑی دیر کے لیے اسٹیج پر دھکیل دیا جاتا ہے بغیر اسکرپٹ اور بغیر مکالموں کے ، لہذاہمیں اپنا کردار بھی خود چننا پڑتا ہے اور مکالمے بھی خود بنانے پڑتے ہیں اور پھر ہم زندگی کی اس کہانی کا جو صدیوں سے جاری ہے ایک کردار بن جاتے ہیں ۔ اب یہ ہم پر منحصر ہوتا ہے کہ ہم اپنے کردار کو کس طرح سے ادا کرتے ہیں۔

اپنی ایکٹنگ سے اسے یادگار بنا دیتے ہیں یا ڈراؤنا بنا دیتے ہیں یا پھر اسے اس طرح سے ادا کرتے ہیں کہ دنیا بھر کے کسی بھی انسان کا اس کی طرف دھیان نہیں جاتا ہے اور آپ اسٹیج پر کب آتے ہیں اور کب چلے جاتے ہیں کسی کو بھی اس کا پتہ نہیں چلتا ہے۔ زندگی کی اس کہانی کا حصہ بننے سے پہلے آپ کے لیے ایک اہم ترین بات کو سمجھنا سب سے زیادہ ضروری ہوتا ہے کہ یہ جو زندگی کی کہانی صدیوں سے آج تک جاری ہے اور روزآخر تک جاری رہے گی اس زندگی کے تمام کے تمام اصول پہلے روز سے پہلے ہی طے ہو چکے ہیں جنہیں آپ کسی بھی کسی بھی صورت میں توڑ نہیں سکتے ہیں ۔

ان اصولوں کی اہمیت اور اثر کا اندازہ فرینک کوک نےProceedings میگزین میں بیان کیا ہے یہ میگزین امریکن نیول انسٹی ٹیوٹ کا ہے ’’دو جنگی جہاز جنگی مشقوں کی غرض سے سخت موسم میں متعین تھے۔ میری ڈیوٹی سب سے اگلے جہاز پر تھی اور میرا کام بحری ٹریفک پر نظر رکھنا تھا رات کا وقت تھا اور ادھر ادھر دھند کی وجہ سے زیادہ دور تک دکھلائی نہیں دیتا تھا۔ لٰہذا کپتان برج پر تمام کارروائیوں پر نظر رکھے ہوئے تھا شام سے ذرا بعد رپورٹ آئی جہاز کے بائیں جانب مستک پر روشنی پڑ رہی ہے۔

روشنی ایک جگہ پڑ رہی ہے یا پیچھے کی طرف جا رہی ہے کیپٹن چلایا، پہرے دار بولا ایک ہی جگہ پڑ رہی ہے کیپٹن ۔ اس کا مطلب تھا کہ ہم اس جہاز سے خطرناک تصادم کی راہ پر چل رہے ہیں کیپٹن پھر سگنل مین کو مخاطب کر کے چلایا۔ اس جہاز کو سگنل دو ہم تصادم کی طرف بڑھ رہے ہیں ’’تمہیں مشورہ دیتے ہیں کہ اپنے راستے کو 20 ڈگر ی تبدیل کرو‘‘ سگنل واپس آیا ’’تمہارے لیے بہتر ہے کہ تم بیس ڈگری رخ بدل لو‘‘ کیپٹن بولا ’’سگنل بھیجو کہ میں کپتان ہوں تم اپنا رخ بیس ڈگری بدلو ’’میں سیکنڈ کلاس سی مین ہوں‘‘ جواب آیا آپ کے لیے بہتر ہو گا کہ اپنا رخ بیس ڈگر ی بدل لیں۔ اتنے عرصے میں کپتان سیخ پا ہو چکا تھا وہ غرا کے بولا ’’کہو میں جنگی جہاز ہوں فوراً اپنا رخ بیس ڈگری تبدیل کر لو‘‘ تیز روشنی کی طرف سے جواب آیا ’’میں لائٹ ہاؤس ہوں‘‘ اور ہم نے اپنا رخ تبدیل کر لیا۔

آپ کے لیے یہ انتہائی اہم حقیقت اچھی طرح سے سمجھ لینا اسی قدر ضروری ہے کہ جس قدر اس رات دھند میں کپتان صاحب کے لیے تھی۔ اصول لائٹ ہاؤس کی طرح ہوتے ہیں یہ قدرت کے قانون ہیں جن کو توڑا نہیں جا سکتا، جس طرح سیسل بی ڈی مائیل کی فلمTen Commandments میں کہا گیا ہے ’’ہمارے لیے ناممکن ہے کہ ہم قانون کو توڑ سکیں ہم قانون کے مقابل صرف اپنے آپ کو توڑ سکتے ہیں‘‘ آپ کو جو چاروں طرف ٹوٹے پھوٹے لوگ نظر آتے ہیں یہ وہ ہی لوگ ہیں جو قدرت کے قانون کو توڑنے کی کو شش کر چکے ہیں۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی تعداد پاکستان میں پائی جاتی ہے۔ آپ ایک کام اپنی زندگی میں ضرور کیجیے گا کہ پاکستان کی تمام نامور شخصیات جو ستر سال کی حد پار کر چکی ہوں۔

ان سے ملاقات کر کے یہ سوال کیجیے گا کہ اگر آپ کو دوبارہ جینے کے لیے نئی زندگی مل جائے تو کیا آپ وہ ہی سب کچھ دوبارہ کریں گے جو آپ کرتے کرتے یہاں تک پہنچے ہیں یا پھر آپ نئی زندگی کی شروعات نئے انداز، نئے زاویے نئے رویے اور قدرت کے قانون کے عین مطابق کریں گے اور پھر جو جوابات آپ کو ملیں گے تو آپ اکیلے میں زور زور سے قہقہے لگانے پر مجبور ہو جائیں گے کیونکہ سب کے سب ایک زبان ہو کر اپنی گزاری ہوئی زندگی کو برا بھلا اور اسے کوس رہے ہونگے اور ہماری وہ تمام نامور شخصیات جو اوپر پہنچ چکی ہیں وہ بھی کورس میں اوپر بیٹھے اپنے کرتوتوں، کارناموں پر اپنے آپ کوکوس رہے ہونگے کیونکہ آپ وہ ہی کچھ پاتے ہیں جو آپ دوسروں کو دیتے ہیں۔

فلسفی ہزاروں سال سے انسانی تعلقات کے متعلق قیاس آرائیاں کرتے آئے ہیں اور ان تمام قیاسات میں سے ایک نظریے نے جنم لیا، یہ نظریہ کوئی اتنا نیا بھی نہیں ہے یہ اتنا ہی قدیم ہے جتنی کہ تاریخ آج سے تین ہزار سال پہلے زرتشت نے یہ اصول ایران کے آتش پرستوں کو سکھایا۔ آج سے دو ہزار چار سو سال پہلے کنفیوشس نے چین میں اسی اصول کی تبلیغ کی تاؤمت کے بانی لاونسی نے یہ ہی اصول اپنے پیروکاروں کو وادی ہان میں سکھایا۔ گوتم بدھ نے حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش سے پانچ سو سال پہلے اسی اصول کی تبلیغ دریائے گنگا کے کناروں پر کی ہندؤں کی مقدس کتابوں، ویدوں اور شاستروں نے اسی اصول کو اس سے بھی ایک ہزار سال پہلے پیش کیا۔

آج سے ایک ہزار نو سو سال پہلے حضرت عیسیٰ ؑ نے وادی جودی کی سنگلاخ پہاڑیوں میں اسی اصول کی تبلیغ کی کہ ’’دوسروں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرو جیسے سلوک کی تم ان سے توقع رکھتے ہو‘‘ ۔ اسی لیے تو کہتے ہیں کہ آپ کو وہ ہی کچھ ملتا ہے جو آپ دوسروں کو دیتے آئے ہیں۔ یاد رکھیں آپ کے اعمال آپ کا پیچھا کرتے ہیں آپ اگر اس حقیقت اور سچائی کو وقت سے پہلے سمجھ گئے تو پھر آپ یہاں بھی خو ش و خرم اور اطمینان سے رہیں گے اور اوپر بھی لیکن اگر آپ کی عقل اور شعور نے آپ کا ساتھ نہ دیا یا پھر آپ کی عقل اور شعور سے دشمنی ہوئی تو آپ یہاں بھی بے چین، پریشان، افسردہ اور تکلیف میں مبتلا رہیں گے اور اوپر بھی یہ ہی چیزیں آپ کا بیتابی کے ساتھ انتظار کر رہی ہوں گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔