جناح اسپتال میں سے 900 اسامیاں خالی، ڈاکٹروں سمیت عملے کی کمی

طفیل احمد  جمعـء 7 اکتوبر 2016
محکمہ صحت نے انتہائی خاموشی سے سرکاری اسپتالوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ میں دینا شروع کر دیا ہے۔ فوٹو: فائل

محکمہ صحت نے انتہائی خاموشی سے سرکاری اسپتالوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ میں دینا شروع کر دیا ہے۔ فوٹو: فائل

کراچی: صوبے کا سب سے بڑا اسپتال جناح اسپتال مختلف مسائل سے دوچار ہے، اسپتال صوبائی حکومت میں ہوگا یا وفاق میں ہوگا یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے تاہم اسپتال میں کام کرنے والے 9 سو ملازمین اب تک رٹائرڈ ہوگئے جس کی وجہ سے اسپتال میں 9 سو اسامیاں خالی پڑی ہیں ان میں ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل، نرسنگ اورخاکروب وکلریکل عملہ بھی شامل ہے.

اسپتال کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹرجاوید جمالی نے بتایا کہ اسپتال میں ڈاکٹروں سمیت دیگر ملازمین کی شدید قلت ہو گئی ہے، ڈاکٹروں اورعملے کی شدید کمی کی وجہ سے اسپتال کے کئی یونٹ بھی بندکردیے گئے جس میں چیسٹ سرجری، پلاسٹک سرجری کینسر وارڈز بھی شامل ہیں، انھوں نے کہاکہ اسپتال میں ٹیچنگ کیڈرکے ڈاکٹروںکا بحران پیدا ہوگیا جس کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم وتربیت حاصل کرنے والے ڈاکٹروں کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اسپتال میں ڈاکٹروںکی کمی سے مریضوںکو بھی حصول علاج میں دشواریوںکاسامناکرنا پڑ رہا ہے، انھوں نے بتایا کہ اسپتال میں صفائی کے عملے کی بڑی تعداد رٹائرڈ ہوگئی ہے لیکن قانونی پیچیدگیوںکی وجہ سے ملازمین کوبھرتی نہیں کر سکتے، دریں اثناء یہی صورتحال صوبائی محکمہ صحت کے ماتحت چلنے والے دیگر اسپتالوں کی بھی ہے،محکمہ صحت کے وزیر سمیت دیگراعلیٰ افسران کی عدم توجہی کی وجہ سے محکمہ کا انتظامی ڈھانچہ مفلوج اور درہم برہم ہورہا ہے۔

کراچی سمیت اندرون سندھ کے سرکاری اسپتالوں ڈاکٹروں ، پیرا میڈیکل، نرسنگ عملے کی مجموعی طور پر5 ہزارسے زائد اسامیاں خالی ہیں،ایک سال قبل محکمہ میں ایک سے گریڈ 15 تک کی اسامیوں پرہزاروں امیداروں کے انٹرویوزبھی لیے گئے تھے لیکن محکمہ صحت نے کسی بھی امیدوارکوبھرتی کیا اور نہ ان امیدواروں کومزید کارروائی کیلیے آگاہ کیا ،ہزاروں امیدواروں نے اپنے کاغذات سفری اخراجات کرکے محکمہ میں درخواستیں جمع کرائی تھیں۔

ذرائع نے بتایا کہ محکمہ کے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں ڈاکٹر اپنے اگلے گریڈ کی ترقی سے محروم ہیں، گریڈ 19 کے ڈاکٹروں کی 2 سال سے گریڈ 20 میں ترقیاں نہیں دی جا سکیں جبکہ آئندہ ماہ تک گریڈ 20 کے مزید ایک درجن سے زائد افسران ریٹائرڈ ہو جائیں گے جس کے بعد کراچی سمیت صوبے میں گریڈ 20کے افسران کا بحران پیدا ہو جائیگا محکمہ کے افسر کے مطابق محکمہ میں مجموعی طورپر5ہزار ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل ونرسنگ عملے کی اسامیاں گزشتہ ڈیڑھ سال سے خالی پڑی ہیں۔

محکمہ کے ایک افسر نے بتایا کہ محکمہ نے گریڈ20 میں ترقیوںکا عمل نا معلوم وجوہ کی بنا پر روک دیاگیا ، گریڈ 19 کے افسران کا بورڈ ون اجلاس نہ ہونے وجہ سے محکمہ میں گریڈ20 ڈاکٹروں کا بحران بھی شدت اختیار کرگیا ہے یہی وجہ ہے کراچی کے2 اضلاع میں گریڈ20کے 2 ڈسٹرکٹ ہیلتنھ افسران کی تعیناتیاں نہیں کی جاسکی جبکہ سندھ گورنمنٹ سعود آباد اسپتال، پولیس سرجن سمیت دیگر گریڈ20کی اہم اسامیاں خالی پڑی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ میں ٹائم اسکیل اور سروس اسٹرکچر پر عملدرآمد بھی روک دیا گیا ہے، محکمہ کے ایک اعلی افسرکے مطابق ٓآئندہ ماہ میں گریڈ 20 کے ایک درجن سے زائد افسران ریٹائرڈ ہو جائیں گے ان میںکراچی کے موجودہ ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز، سروسز اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر خالد شیخ، سروسز اسپتال حیدرآباد کے ایم ایس سمیت دیگر افسران ریٹائرڈ ہوجائیں گے جبکہ اسپیشلسٹ کیڈرکے ڈاکٹروں کی بڑی تعداد بھی رواں سال میں اپنی مدت ملازمت مکمل کرلے گی جس کے بعد محکمہ میں ڈاکٹروں اور سینئر افسران کا مزید بحران پیدا ہوجائیگا۔

ادھر محکمہ کے افسران کاکہنا ہے کہ محکمہ نے سرکاری اسپتالوں اورصحت کے جاری پروگراموں کوپبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ میں دینے کے منصوبے پر عملدرآمد شروع کردیاگیا ہے یہی وجہ ہے کہ محکمہ کے ماتحت چلنے والے سندھ ایڈز کنٹرول پروگرم، ڈینگی، ملیریا، بچوں کے حفاظتی ٹیکہ پروگرام (ای پی آئی) سمیت دیگر پروگرام بھی عملا غیر فعال کردیئے گئے اس وقت محکمہ نے کراچی کے گڈاپ اور بن قاسم ٹاؤن کے تمام صحت کے مراکز، ابراہیم حیدری اسپتال، سندھ گورنمنٹ چلڈرن اسپتال کو خاموشی سے بجٹ کے ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ میں دیدیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔