روس سے معدوم برفانی ہاتھی کی ہڈیوں کا بڑا ذخیرہ دریافت

ویب ڈیسک  پير 10 اکتوبر 2016
خیال ہے کہ مٹی کی یہ پرت جس سے میمتھ کی ہڈیاں برآمد ہوئی ہیں 20 ہزار سے 25 ہزار سال پہلے وجود میں آئی تھی۔ فوٹو؛ فائل

خیال ہے کہ مٹی کی یہ پرت جس سے میمتھ کی ہڈیاں برآمد ہوئی ہیں 20 ہزار سے 25 ہزار سال پہلے وجود میں آئی تھی۔ فوٹو؛ فائل

ماسکو: روسی علاقے نوووسِبرسک میں وولف مین نامی مقام سے اونی کھال والے دیوقامت برفانی ہاتھی ’’میمتھ‘‘ کی ہڈیوں کا سب سے بڑا ذخیرہ دریافت ہوا ہے جس میں ان معدوم جانوروں کے 8 ڈھانچے شامل ہیں۔

یہ ذخیرہ جسے روس کی تومسک اسٹیٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں اور طالب علموں پر مشتمل ٹیم نے دریافت کیا ہے، تقریباً 9 مربع میٹر (85 مربع فٹ) رقبے کے ایک گڑھے سے ملا ہے جس کی مٹی نرم ہے۔ یہاں سے بالغ و نابالغ ہر عمر والے 8 میمتھ کے علاوہ اور بھی جانوروں کی ہڈیاں دریافت ہوئی ہیں جن میں برفانی بیل (بائزن)، گھوڑوں، خزندوں (کتر کر کھانے والے جانوروں یا rodents) اور برفانی لومڑی (آرکٹک فاکس) سے مشابہت رکھنے والے جانوروں کی ہڈیاں بھی شامل ہیں۔

یہ ذخیرہ اتنا بھرپور ہے کہ اس کے ہر ایک مربع میٹر سے لگ بھگ 90 ہڈیاں ملی ہیں جب کہ ان ہڈیوں کی مجموعی تعداد 785 ہے۔ بتاتے چلیں کہ وولف مین کو یورپ اور ایشیا میں ’’میمتھ کا سب سے بڑا قبرستان‘‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں سے آئے دن میمتھ کی باقیات دریافت ہوتی رہتی ہیں۔

ان میں سے اب تک صرف میمتھ ہی کی ہڈیوں کا جائزہ لیا گیا ہے جو اس نرم مٹی میں 5.6 فٹ سے 6.6 فٹ کی گہرائی سے برآمد ہوئی تھیں اور اُس وقت اتفاقاً دریافت ہوگئیں جب ماہرین کی یہ ٹیم پہلی کھدائی کے بعد یہاں سے جانے کی تیاری کررہی تھی۔ رکازیات (paleontology) کے روایتی طریقے پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے بالکل آخری مرحلے میں اس گڑھے کی تھوڑی سی مزید کھدائی کی جس کے بعد میمتھ کی ہڈیاں دکھائی دینے لگیں۔

خیال ہے کہ زیادہ گہرائی میں ہونے کی وجہ سے میمتھ کی ہڈیاں بڑی اچھی حالت میں محفوظ رہ گئیں۔ ان میں سب سے بڑی ہڈی میمتھ کی پنڈلی سے تعلق رکھتی ہے جو 115 سینٹی میٹر (تقریباً 3.8 فٹ) لمبی ہے۔ اندازہ ہے کہ یہ کسی نر (male) میمتھ کی ہڈی ہے جس کی عمر 45 سے 50 سال کے درمیان تھی، وہ 5 سے 6 ٹن وزنی رہا ہوگا جب کہ اس کی اونچائی 3 میٹر (10 میٹر) سے بھی کچھ زیادہ رہی ہوگی۔

وولف مین کی مٹی میں الکلی خصوصیات ہیں جب کہ وہ اُن معدنیات سے بھرپور ہے جو جانداروں کی نشوونما کے لیے انتہائی ضروری خیال کیے جاتے ہیں۔ یعنی یہ علاقہ نہ صرف سرسبز و شاداب تھا بلکہ یہاں کی مٹی بھی بہت زرخیز تھی جس میں بہت سی ایسی معدنیات بھی پائی جاتی تھیں جو دنیا کے دوسرے علاقوں میں کم ہی ملتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قدیم زمانے میں آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے جانور اچھی اور وافر غذا کی تلاش میں یہاں کا رُخ کرتے تھے اور یہیں کے ہو کر رہ جاتے تھے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ یہاں سے قدیم جانوروں کی باقیات اتنی بڑی تعداد میں مل رہی ہیں۔

خیال ہے کہ مٹی کی یہ پرت جس سے میمتھ کی ہڈیاں برآمد ہوئی ہیں، 20 ہزار سے 25 ہزار سال پہلے وجود میں آئی تھی اور شاید یہ 30 ہزار سال قدیم بھی ہوسکتی ہے۔ یہ جاننے کے لیے ریڈیو کاربن تاریخ نگاری (ریڈیوکاربن ڈیٹنگ) نامی تکنیک کے ذریعے اس مٹی کے نمونوں کا تجزیہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ میمتھ کو ہاتھی کا قریبی ’’کزن‘‘ بھی کہا جاتا ہے اور یہ بات درست بھی ہے۔ البتہ میمتھ اپنی جسامت اور وزن کے اعتبار سے ہاتھی کے مقابلے میں قدرے بڑے ہوتے تھے۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ میمتھ آج سے 12 ہزار سال پہلے، گزشتہ عہدِ برفانی کے خاتمے پر معدوم ہوگئے تھے کیونکہ یہ زیادہ گرمی برداشت کرنے کے قابل نہیں تھے۔ لیکن کچھ حالیہ دریافتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید آج سے 4 ہزار یا 5 ہزار سال پہلے تک ان کی کچھ نہ کچھ تعداد ضرور موجود تھی تاہم آج یہ مکمل طور پر معدوم ہوچکے ہیں۔

ہالی ووڈ کی مشہور کارٹون فلم ’’دی آئس ایج‘‘ کا ہیرو بھی ایک میمتھ ہی ہے جو بچوں اور بڑوں میں یکساں مقبول ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔