امیونوتھراپی سے گردن اور سر کے کینسر میں غیر معمولی افاقہ

ویب ڈیسک  بدھ 12 اکتوبر 2016
آخری درجے کے مریض نیوولیومیب دوا سے زندگی کا دورانیہ بڑھاسکتے ہیں جو اس سے قبل ممکن نہ تھا۔ فوٹو؛ فائل

آخری درجے کے مریض نیوولیومیب دوا سے زندگی کا دورانیہ بڑھاسکتے ہیں جو اس سے قبل ممکن نہ تھا۔ فوٹو؛ فائل

لندن: ہم جانتے ہیں کہ سر اور گردن کے سرطان کا علاج مشکل ہوتا ہے کیونکہ اس کی آخری صورت میں کیموتھراپی بے اثر ہوجاتی ہے لیکن اب نیوولیومیب سے ایسے مریضوں کے لیے امید کی کرن روشن ہوئی ہے جن کا علاج ناممکن ہوجاتی ہے۔

نیوولیومیب امینوتھراپی پر مبنی ایک دوا ہے جو اب بین الاقوامی فیز تھری ٹرائل کے مرحلے میں ہے اور اس کے نتائج سے مریضوں کی زندگی ایک سال تک بڑھ سکتی ہے۔ روایتی طریقوں کے مقابلے میں اس سے علاج کے بعد مریض مزید ایک سال تک زندہ رہ سکتے ہیں۔

برطانوی سائنسدان کے مطابق سر اور گردن کے سرطان کا علاج بہت مشکل ہوتا ہے اور خوشی ہے کہ اس سے زندگی بڑھ سکتی ہے اور اس کی اسپتالوں میں آزمائش بہت مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔ سر اور گردن کا کینسر بار بار لوٹ کر آسکتا ہے اور آخری اسٹیج کے مریض بمشکل 6 ماہ زندہ رہتے ہیں۔

اس دوا کی آزمائش میں سر اور گردن کے سرطان میں مبتلا ایسے 361 مریضوں کو شامل کیا گیا جن کا کینسر واپس آچکا تھا اور ان کی آزمائش میں دنیا بھر کے 20 ممالک میں کی گئی تھی۔ ان میں سے 240 مریضوں کو نیوولیومیب دی گئی اور 121 کو نارمل کیموتھراپی پر رکھا گیا۔ 12 ماہ کے بعد بھی نیوولیومیب کھانے والے 36 فیصد مریض زندہ رہے اور کیموتھراپی کرانے والے 17 فیصد مریض ایک سال زندہ رہ سکیں۔ اس طرح نیوولیومیب استعمال کرنے والے مریضوں میں موت کا خطرہ 30 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

واضح رہے کہ کینسر کے علاج میں امینوتھراپی کی ادویات پر بہت تحقیق ہورہی ہے اور اس کے بہت اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔