احساس برتری کے مریض

آفتاب احمد خانزادہ  بدھ 12 اکتوبر 2016

آپ نے کبھی اس بات پرغورکیا ہے کہ آپ کو درپیش سارے عذابوں میں سب سے زیادہ تکلیف دہ، اذیت ناک اور وحشت ناک عذاب کونسا ہے، اگر نہیں تو پھر میں آ پ کو بتلاتا ہوں کہ کون سے عذاب کی تکلیف سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس عذاب کا نام طاقتور اور بااختیار لوگوں کا احساس برتری میں مبتلا ہونا ہے، ہمارے ملک کے سارے طاقتور، بااختیار، خوشحال، امیروکبیر، جاگیردار، سرمایہ دار، بیوروکریٹس سب کے سب اسی عذاب میں مبتلا ہیں اور ہم ان کے اس عذاب میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اس عذاب کے عذاب میں مبتلا ہیں۔

ہم سب روز اسی احساس برتری کے ہاتھوں کچلے اور روندے جاتے ہیں۔ انسانی رویوں میں بدترین رویہ جو تمام بدیوں کی ماں ہے جھوٹی شان وشوکت، بدبودار پروٹوکول، اپنے ہی جیسے لوگوں کو حقیر سمجھنا، اپنے سے کم لوگوں کی بات بے بات پر بے عزتی کرنا، اسی ماں کے ناجائز بچے ہیں۔ اس بیماری میں مبتلا سب عیاریوں اورمکاریوں کے بازاروں کے بڑے سو داگر ہیں، جنہوں نے زندگی کی تمام کی تمام لذتوں پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔

یہ ہی ہمارے ملک کی معاشی عدم مساوات، تمام ناانصافیوں، غربت، افلاس، بیروزگاری، کرپشن، بیڈ گورنس کے ذمے داران ہیں۔ یہ سب چاہتے ہیں کہ ملک کے بیس کروڑ عام انسان دن رات ان کی پوجا کرتے رہیں جب وہ باہر نکلیں تو سڑکوں پر چلنے والے سجدوں میں گر جائیں وہ بڑی بڑی جاگیروں، محلات، ملو ںکے مالک ہیں اور وہ پیدا ہی حکمرانی کے لیے ہیں۔ وہ ہر قانون، آئین، تمام اخلاقی اقدار سے بالا تر ہیں۔

ان ہی لوگوں کی وجہ سے پاکستان کے آدھے لوگ روز بھوکے سوتے ہیں۔ اور ان لوگوں کو اس کا احساس تک نہیں ہے کہ وہ سب کے سب عذاب میں مبتلا ہیں۔ اصل میں یہ سب ذہنی مریض ہیں، ان کے تمام احساسات سلب ہو چکے ہیں۔ مشہورترین ماہر نفسیات سگمنڈ فرائڈ کہتے ہیں کہ ہمارے ہر فعل کے دو محرک ہوا کرتے ہیں جنسی خواہش اور بڑا بننے کی امنگ۔ امریکا کے بہت بڑے فلسفی پروفیسر جان ڈیوی اس بات کو ذرا دوسرے لفظوں میں بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ انسانی فطرت کی سب سے بڑی خواہش’’اہم بننے کی امنگ‘‘ ہے انسان کی سبھی خواہشیں پوری ہو جاتی ہیں۔

ان میں سے ایک خواہش ایسی ہے جو تقریباً اتنی ہی شدید اور لازمی ہے جتنی طعام یا نیند کی خواہش لیکن اس کی تکمیل شاید ہی کبھی ہوتی ہو اور وہ ہے جسے فرائڈ ’’بڑا بننے کی امنگ‘‘ کہتا ہے اور ڈیوی ’’اہم بننے کی امنگ‘‘ ایک اور ماہر نفسیات ولیم جیمز نے ایک مرتبہ کہا تھا ’’انسانی فطرت کی سب سے بڑی آرزو تو قدر شناسی کی بھوک ہے‘‘ یاد رکھیے انھوں نے قدر شناسی کی خواہش یا تمنا آروز نہیں بلکہ بھوک کہا ہے۔ اسی لیے یہ انسان کی مستقل اور اہم بھوک ہے جو آدمی اس بھوک کی تسکین کرنا چاہتا ہے وہ لوگوں کو اپنی مٹھی میں رکھنا چاہتا ہے۔

اسی لیے اس کے بھوکے احساس برتری کے مریض بن جاتے ہیں کچھ ماہرین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر بعض لوگوں کو حقیقی دنیا میں برتری کا احساس نصیب نہ ہو تو وہ اسے دیوانگی کے خواب زار میں تلاش کرنے کی غرض سے پاگل ہو جائیں۔ امریکی اسپتالوں میں سب سے زیادہ تعداد ان مریضوں کی ہے جو دماغی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ امریکا میں ذہنی مریضوں کے پوسٹ مارٹم کے دوران ان کے دماغ کی رگیں بڑی سے بڑی طاقت والی خردبین سے بھی دیکھی گئی ہیں لیکن ان کے دماغ بظاہر بالکل اسی طرح صحیح و سالم نظرآئے جیسے کہ ہمارے اور آپ کے ہیں پھر یہ لوگ پاگل کیوں کر ہوئے۔

یہ سوال پاگلوں کے ایک بہت بڑے اسپتال کے بڑے ڈاکٹر سے کیا گیا۔ یہ ڈاکٹر صاحب دیوانگی کے علم میں ماہر ہونے کی بنا پر بڑے سے بڑا خطاب اور بڑے سے بڑا انعام حاصل کر چکے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ انھیں یہ علم نہیں ہے کہ لوگ کیوں کر پاگل ہو جاتے ہیں ٹھیک سے کوئی نہیں جانتا لیکن انھوں نے یہ ضرور کہا ہے کہ بہت سے پاگل ہونے والے لوگ دیوانگی میں احساس برتری کی تسکین حاصل کرتے ہیں کیونکہ اصلی زندگی میں وہ اپنے اس جذبے کی تسکین نہ کر سکے ۔ حتیٰ کہ جارج واشنگٹن بھی اپنے آپ کو جناب عالیٰ ہمت، صدر ریاست ہائے متحدہ امریکا کہلانا پسند کرتے تھے۔

کولمبس نے ’’امیرالبحر و وائسرائے ہند کے خطاب کی درخواست کی تھی، روس کی ملکہ کیتھرائن ان خطو ط کو کھولتی نہ تھی جن پر سرنامہ کے طور پر’’ملکہ معظمہ‘‘ نہ لکھا ہوتا تھا۔ مسز لنکن وائٹ ہاؤس میں مسز گرانٹ پر یہ کہہ کر برس پڑیں کہ ’’میری اجازت کے بغیر تم نے میرے سامنے بیٹھنے کی جرأت کیسے کی‘‘ وکٹر ہیوگو کا خیال تھا کہ اس کی حوصلہ افزائی جب ہی ہو سکتی ہے کہ پیرس شہر کانام بدل کراس کے نام پر رکھا جائے یہاں تک کہ شیکسپیئر جیسے دنیا کے سب سے بڑے فنکار نے بھی اپنے خاندان کی شان و شوکت میں چارچاند لگانے کے لیے شاہی ڈھال حاصل کی، جس پر اس کے خاندان کا نشان کندا تھا، لیکن یہ سب وہ بھوکے تھے جنہوں نے اپنی بھوک کی وجہ سے انسانوں اور انسانیت کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔

ہماری بدقسمتی کہ ہمیں ایسے بھوکوں سے پالا پڑا ہے جو اپنی بھوک کو مٹانے کے لیے کسی بھی حد کو پارکر جاتے ہیں جنہیں نہ تو انسانوں سے کوئی محبت ہے نہ ملک سے اور نہ ہی ان کا انسانیت سے دور دور تک کا کوئی واسطہ ہے اور وہ سب کے سب ذہنی طور پر دیوالیہ اور قلاش ہو چکے ہیں۔ الٹا تمام کی تمام خامیاں، برائیاں لادے لادے پھرتے ہیں۔ دنیا بھرکی تمام جہالتیں اپنے اندر بسائے بسائے پھرتے ہیں یہ سوچے سمجھے بغیرکہ دنیا بھر کے قبرستان ان لوگوں سے بھرے پڑے ہیں، جو آپ اپنے کو ناگریز سمجھے بیٹھے تھے اور کونسا ایسا ظلم، ستم اورناانصافی انھوں نے روانہ رکھی ہوئی تھی جس کا وجود دنیا میں موجود ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی سمجھے بیٹھے تھے کہ وہ ہر احتساب سے بالاتر ہیں اور ہمیشہ ہمیشہ دنیا میں موجود رہیں گے۔

آپ کے ایک غدود میں خشخاش برابر آیوڈین ہے اگر کوئی ڈاکٹر آپ کے گردن والے غدود کو چیرے اور ان میں جو ذرا سی آیو ڈین ہے نکال لے تو آپ فوراً پاگل ہو جائیں گے آپ اور پاگل خانے کے درمیان ذراسی آیوڈین حائل ہے۔ جو ہر بازار کے دوا فروش سے چار آنے میں خریدی جا سکتی ہے وہ آیوڈین جس کی قیمت تابنے کا ایک ادنی سکہ ہے اور آپ خوامخواہ ساری زندگی بے آرامی، بددعائیں، بیماریاں مول لیتے پھرتے ہیں ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔