صدر، وزیراعظم اختلاف نہیں کرسکتے، سپریم کورٹ

نمائندہ ایکسپریس / خبر ایجنسیاں  جمعرات 13 دسمبر 2012
پارلیمانی کمیٹی سے توثیق کے بعد تقرری ہو جاتی ہے، اگر صدر کو اعتراض ہے تو اس کا حل صرف آئینی ترمیم ہے، ججز کے ریمارکس، چاروں ایڈووکیٹ جنرلز کو بلا نے کی استدعا مسترد، سماعت آج پھر ہوگی۔ فوٹو: فائل

پارلیمانی کمیٹی سے توثیق کے بعد تقرری ہو جاتی ہے، اگر صدر کو اعتراض ہے تو اس کا حل صرف آئینی ترمیم ہے، ججز کے ریمارکس، چاروں ایڈووکیٹ جنرلز کو بلا نے کی استدعا مسترد، سماعت آج پھر ہوگی۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ججوں کی تقرری کے بارے میں صدارتی ریفرنس کی سماعت میں عدالت کی معاونت کیلیے صدر سپریم کورٹ بار، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل اور چاروں صوبوں کے ایٖڈوکیٹ جنرلز کو طلب کر نے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

عدالت نے آبزرویشن دی ہے کہ ججوں کی تقرری پر آئینی شقوں میں کوئی ابہام نہیں۔ 18ویں ترمیم کے بعدججوں کی تقرری میں صدر اور وزیر اعظم کا کردار علامتی رہ گیا ہے۔ جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کی پارلیمانی کمیٹی سے توثیق کے بعد تقرری کا عمل مکمل ہو جاتا ہے، صدر مملکت نے صرف نوٹیفکیشن جاری کر نا ہو تاہے۔بدھ کوریفرنس کی سماعت شروع ہوئی تو ریفرنگ اتھارٹی کے وکیل وسیم سجاد نے جسٹس خلجی عارف حسین کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ سے درخواست کی کہ ججوں کی تقرری کا معاملہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس لیے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر، وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل اور چاروں صوبوں کے ایڈوکیٹ جنرلز کی بھی معاونت حاصل کی جائے۔

عدالت نے یہ درخواست مسترد کر دی اورجسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ اگر ضرورت پڑگئی تو انھیں معاونت کے لیے طلب کیا جائے گا۔ ثنا نیوز کے مطابق جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ صدر اور وزیر اعظم جوڈیشل کمیشن کی سفارشات سے اختلاف نہیں کر سکتے۔ آئی این پی کے مطابق  عدالت نے کہا کہ آئین نے مسئلہ حل کردیا، ریفرنس کی کیا ضرورت تھی؟۔ جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کو مسترد کرنے کا اختیار صرف پارلیمانی کمیٹی کے پاس  ہے۔

نمائندہ ایکسپریس کے مطابق جسٹس طارق پرویز نے کہا آئین میں ابہام نہیں، اگر صدر کو اعتراض ہے تو اس کا حل صرف آئین میں ترمیم ہے۔ وسیم سجاد نے ریفرنس میں اٹھائے گئے سوالات پر بحث کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ جسٹس ریاض جسٹس محمد انور کاسی سے عمر میں چار سال بڑے ہیں۔ 1987سے یہی پالیسی چلی آرہی ہے کہ اگر ایک سے زیادہ جج ایک ہی دن مقرر ہوں گے تو جو عمر میں بڑا ہو گا وہی سینئر تصور ہو گا۔ عدالت کی بھی یہی روایت ہے اور اس بارے میںکوئی ابہام نہیں۔ اس دلیل پر بینچ میں شامل ججوں کی رائے منقسم رہی۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے اس موقف سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ وہ اور جسٹس رحمت حسین جعفری ایک ساتھ سپریم کورٹ میں مقرر ہوئے۔

جسٹس جعفری ان سے عمر میں بڑے تھے اور ہائی کورٹ میں بھی ان سے سینئر  تھے لیکن اس کے با وجود سپریم کورٹ میں وہ سینئر رہیں۔جسٹس  خلجی نے جسٹس گلزار اور جسٹس اطہر سعید کی بھی مثال دی اور کہا کہ جسٹس گلزار عمر میں جسٹس اطہر سعید سے بہت چھوٹے ہیں لیکن سپریم کورٹ میں ایک دن تقرری ہوئی اور جسٹس گلزار کو سینئر رکھا گیا۔ وسیم سجاد نے پشاور ہائی کورٹ کے ججوں اور جسٹس انوار الحق اور بشیر احمد کی مثال دی  اور کہا جو جج ایک دن مقرر ہوں گے وہ چاہے سروس جج ہو یا وکیل، ان کے لیے سنیارٹی کا پیمانہ عمر ہے۔جسٹس طارق پرویز نے کہا کہ سروس جج کے لیے کوئی گریس مارکس نہیں ہو تے۔ وسیم سجاد نے کہا کہ وزارت قانون نے جسٹس ریاض کو سینئر  قرار دیا ہے اور وہ سنیئر جج ہیں۔جسٹس طارق پرویز کے ریمارکس تھے کہ سوال یہ طے کرنا ہے کہ سنیارٹی کیسے طے ہوگی اور کون طے کرے گا؟۔

01

وسیم سجاد کا کہنا تھا صدر مملکت اپائنٹنگ اتھارٹی ہیں، اس لیے وہ ہی سنیارٹی طے کریں گے۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے اس موقف کو مسترد کیا اور کہا قانون  اس کی اجازت نہیں دیتا۔ جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ اگر اس موقف کو مان لیا جائے تو آئین نے مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ میں اختیارات کی تقسیم کا جو فارمولہ دیا ہے،  اس کی نفی ہوگی۔ صدر مملکت کے وکیل نے کہا صدر آئین کامحافظ ہے اور انھوں نے آئین کے تحفظ کا حلف لیا ہے۔ اگر جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی ججوں کی تقرری میں کسی آئینی نکتے پر توجہ نہ دے سکیں تو صدر کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پر توجہ دیں۔ انھوں نے کہا کہ الجہاد ٹرسٹ کیس کے فیصلے کے مطابق صرف سینئر جج چیف جسٹس بن سکتے ہیں۔

اس پر جسٹس گلزار نے کہا اٹھارویں ترمیم کے بعد ججوں کی تقرری کا طریقہ کار تبدیل ہو گیا ہے اس لیے نئے طریقہ کار میں الجہاد ٹرسٹ کیس کا فیصلہ موثر نہیں ہو گا۔وسیم سجاد نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس  میں جسٹس انور کاسی   جسٹس ریاض کی جگہ  شامل ہوئے، اس لیے یہ دیکھنا ہو گا کہ ایک اجنبی شخص کے اجلاس میں شریک ہونے سے کمیشن کے فیصلوں کی کیا قانونی حثیت رہے گی؟۔جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ کمیشن کے فیصلے کثرت رائے سے ہوتے ہیں، اس لیے ایک رکن کی وجہ سے فیصلے غیر موثر نہیں ہو سکتے۔ اس پر وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ سوال رکن کا نہیں، ایک اجنبی شخص کی شرکت کا ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے آئین کے آرٹیکل 67کا حوالہ بھی دیا  اور کہا کہ کوئی اجنبی پارلیمنٹ کی کارروائی میں حصہ نہیں لے سکتا۔

جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ ملک میں پارلیمانی طرز حکومت ہے اور جو اعتراض اٹھایا گیا ہے، اس کا مقصد عدلیہ کو صدر کے ماتحت کر نا ہے۔ اس طرح نہ صرف عدلیہ بلکہ پارلیمنٹ بھی صدر کی ماتحت ہو جائے گی۔جسٹس گلزار نے کہا پارلیمنٹ نے تمام دانش کے بعد وزیر اعظم اور صدر کا کردار ججوں کی تقرری میں ختم کر دیا ہے کیونکہ پارلیمنٹ کے ہاں  عدلیہ کی آزادی مقصود تھی۔ جسٹس طارق پرویز نے کہا سفارش اور توثیق کے بعد نوٹیفکیشن جاری ہونا چاہیے۔وسیم سجاد نے کیس کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی تو عدالت نے دلائل جاری رکھنے کے لیے کہا تاہم فاضل وکیل نے پھر درخواست کی۔عدالت نے وسیم سجاد کی درخواست پر سماعت جمعرات کے لیے ملتوی کرکے انھیں وقفے تک دالائل مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

آئی این پی کے مطابق  صدارتی ریفرنس میں  وفاق کے وکیل وسیم سجادنے کہا ہے کہ صدارتی  ریفرنس پرعدالت میں ہونے والی  بحث  کے دوران بہت  سی چیزیں سامنے آئی ہیں۔ جوسوالات پوچھے گئے ہیں،  ان کے جوابات (آج)جمعرات کو  دیئے جائیں گے  ،کچھ مزید سوالات بھی ہیں جن پربحث کی جائے گی۔ بدھ کوصدارتی ریفرنس کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ  کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ عدالت سے یہ استدعاکی گئی تھی کہ جب کمیشن کی تشکیل ہی صحیح نہ ہو تو اس کے فیصلے کالعدم ہوا کرتے ہیں۔

دوسرا یہ کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں اور آئین کے مطابق  ہائیکورٹ کا سینئر جج یہ  تو قع رکھتا ہے کہ سنیارٹی کی بنیاد پرسنیئر جج کو ہی  چیف جسٹس مقرر کیا جائے۔ اگر سینئر جج کو  صرف اس  لیے  نامزد نہ کیا جائے کہ وہ  چیف جسٹس کی نظر میں جونیئر  ہے  تو اس سے  ایک بنیادی غلطی سامنے آجاتی ہے۔ وسیم سجاد نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بننا جسٹس ریاض احمد خان کا حق ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔