وزیر اعظم عدلیہ کے غیر آئینی احکامات ماننے کے پابند نہیں:وفاق

بی بی سی / نمائندہ ایکسپریس  بدھ 25 جولائ 2012
مقدمے کی سماعت آج ہوگی، وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی طلب کرلیا گیا

مقدمے کی سماعت آج ہوگی، وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی طلب کرلیا گیا

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے قومی مصالحتی آرڈیننس (این آر او) کے خلاف عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے حوالے اپنا جواب سپریم کورٹ میں داخل کرا دیا جس میں سوئس حکام کو خط لکھنے کے عدالتی حکم کو نا قابل عمل قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا کہ وزیر اعظم آئین کے منافی عدالتی احکام ماننے کے پابند نہیں تاہم رجسٹرار آفس نے اسے اعتراض لگا کر واپس کر دیا۔

وفاق کی طرف سے17 صفحات پر مشتمل جواب متفرق درخواست کے ذریعے دائر کیا گیا جس میں کہا گیا کہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو اور آصف زرداری کیخلاف منی لانڈرنگ کے مقدمے میں باہمی تعاون کا معاہدہ اٹارنی جنرل آف پاکستان کی درخواست پر ہوا اور این آر او کے اجرا کے بعد اٹارنی جنرل ہی کے خط پر سوئس حکام نے معاہدہ ختم کیا۔ سوئس مجسٹریٹ نے اس ضمن میں تفتیش ختم کر دی اور سوئس قانون کے مطابق10دن کے اندر اپیل نہ ہونے پر فیصلے کو حتمی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔

این آر او کو کالعدم کرنے کے بعد نیب نے 30مارچ 2010ء کو عدالت کے حکم پر سوئس حکام کو منی لانڈرنگ کے مقدمات کھولنے کے لیے لکھا اور اس حوالے سے رپورٹ عدالت کے ریکارڈ میں موجود ہے۔ سوئس حکام نے انکوائری دوبارہ شروع کرنے کا عمل احتساب عدالتوں میں زیر التوا ایس جی ایس اور کوٹیکنا کیسوں کے فیصلے سے مشروط کیا تھا اور احتساب عدالت نے نا کافی شواہد کی بنیاد پر دونوں مقدمے خارج کر دیے تاہم آصف زرداری کے حوالے سے معاملہ آئینی استثنیٰ کے باعث مؤخر کیا گیا۔

7 رکنی بینچ نے این آر او عملدرآمد کیس میں وزیراعظم کو نوٹس جاری کر کے اختیارات سے تجاوز کیا اور 17 رکنی بینچ کے فیصلے میں تبدیلی کی۔ جواب میں مزید کہا گیا کہ عمل درآمد نہ کرنے کے الزام میں توہین عدالت کا آپشن ایک دفعہ ا ستعمال ہو گیا ہے اس لیے نئے وزیر اعظم پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا جبکہ عملدرآمد کے لیے آپشن 6 بھی استعمال ہو چکا ہے۔ نئے وزیراعظم کیلیے فیصلے پر عملدرآمد لازمی نہیں کیوں کہ عدالت کا حکم متعلقہ ادارے کے لیے ہے اور متعلقہ ادارہ نیب ہے جس نے خط لکھ دیا ہے۔

عدالت نے ایک اور آرڈر میں وفاقی حکومت کو عمل درآمد کے لیے کہا ہے جبکہ وفاقی حکومت وزیر اعظم اور کابینہ پر مشتمل ہے اور وزیر اعظم کابینہ کی رائے پر فیصلے کرتا ہے۔ کابینہ کی طرف سے نئے وزیر اعظم کو خط لکھنے کا نہیں کہا گیا اس لیے وزیر اعظم خط نہیں لکھ سکتے۔ 27جون اور 12اپریل کے عدالتی احکام غیر قانونی ہیں اس لیے ان پر نظر ثانی کی جائے۔ عدالتی احکام آرٹیکل 248کی خلاف ورزی ہیں اور وزیر اعظم نے آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہے، اس لیے عدالت کے غیر قانونی احکام پر عمل نہ کرنا ان کی آئینی ذمے داری ہے۔

بی بی سی کے مطابق جواب میں کہا گیا ہے کہ عدالت کی طرف سے جاری کیے گئے ایسے احکام جو کہ آئین کے منافی ہوں، وزیراعظم اْن احکام کو ماننے کے پابند نہیں ہیں۔ سوئس انکوائری سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں اور سوئس حکام کو خط لکھنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا کیونکہ جب سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار خود پاکستان تک محدود ہے اور وہ خود خط نہیں لکھ سکتی تو پھر سپریم کورٹ کے پاس وزیر اعظم کو ایسا کرنے کے لیے حکم دینے کا بھی اختیار نہیں۔

این آر او کے تحت دیگر 8 ہزار افراد نے بھی فا ئدہ اٹھایا لیکن عدالتی تاریخ میں پہلی بار ایک مقدمے پر اصرار کیا گیا۔ مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ نئے وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کا آپشن اب ختم ہو چکا ہے، اب صرف چیئرمین نیب کا ہی آپشن رہ گیا ہے۔ عدالت اپنے حکم پر نظرثانی کرے، رجسٹرار آفس نے جواب اس اعتراض کے ساتھ واپس کیا ہے کہ اس کے ساتھ بارہ جولائی کا عدالتی حکم لف نہیں جبکہ متفرق درخواست کے ذریعے فیصلے پر نظر ثانی نہیں کی جاسکتی، اس کے لیے الگ سے اپیل دائر کی جائے۔

دریں اثنا وزیراعظم راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت سپریم کورٹ کے سوئس حکومت کو خط لکھنے کے احکام پر غور کیلیے وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس آج وزیراعظم سیکریٹریٹ میں ہوگا ‘ وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کابینہ کو بریفنگ دیں گے۔ سپریم کورٹ نے سوئس حکومت کو خط لکھنے کیلیے وزیراعظم کو آج تک کی مہلت دی ہوئی ہے جبکہ سپریم کورٹ بھی آج اس کیس کی سماعت کرے گی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کا یہ اجلاس یک نکاتی ایجنڈے پر منعقد ہو گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔