جوڈیشل پالیسی کے خلاف وکلا کی ہڑتال غیر موثر رہی

اسٹاف رپورٹر  جمعـء 14 دسمبر 2012
وکلا معمول کے مطابق سندھ ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں میں پیش ہوئے  فوٹو: نسیم جیمز ، فائل

وکلا معمول کے مطابق سندھ ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں میں پیش ہوئے فوٹو: نسیم جیمز ، فائل

کراچی: پاکستان بارکونسل کی اپیل پر نیشنل جوڈیشل پالیسی کے خلاف عدالتی کارروائیوں کے بائیکاٹ سے متعلق اپیل غیر موثر نظر آئی۔

وکلا معمول کے مطابق سندھ ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں میں پیش ہوئے، سندھ ہائیکورٹ بار ایسویسی ایشن نے اس اپیل سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے جمعرات کو عدالتی کارروائیوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا، اس سلسلے میں بار کی قیادت نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سے عدالتی کارروائیاں معطل کرنے کی درخواست کی تھی تاہم انھوں نے یہ درخواست مسترد کردی۔

سندھ ہائیکورٹ میں عمومی طور پر عدالتی کارروائیوں کے بائیکاٹ کو پسند کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا تاہم بار کے صدر مصطفی لاکھانی ایڈووکیٹ کی صدارت میں وکلاکا جنرل باڈی اجلاس افتخار ہال میں ہوا،جنرل باڈی اجلاس سے صدر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن مصطفی لاکھانی ،سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن یاسین آزاد ایڈوکیٹ ،سابق صدر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن جسٹس (ر) رشید اے رضوی ایڈوکیٹ ،صدر ملیر بار ایسوسی ایشن اشرف سموں سمیت دیگر وکلا نے خطاب کیا۔

2

یاسین آزاد ایڈووکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات تشویشناک ہے کہ جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی نے ماتحت عدلیہ میں زیر التوا کیسز کو31دسمبر تک نمٹانے کا حکم دیا ہے عدلیہ کی آزادہ کے بعد لوگ ہم سے سوال کرتے ہیں کہ یہ وہی عدلیہ ہے کہ جس کے لئے ہم نے قربانیاں دی تھیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔