ڈائو یونیورسٹی: سماعت سے محروم بچوں کے کان میں کوکلیئر امپلانٹ نصب

اسٹاف رپورٹر  جمعـء 14 دسمبر 2012
آپریشن پروفیسرعمر فاروق ،آسٹریلیا سے آئے ڈاکٹر نوید اور ٹیم نے کیا ،گورنر سندھ کی مبارکباد،نجی علاج پر 25 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں

آپریشن پروفیسرعمر فاروق ،آسٹریلیا سے آئے ڈاکٹر نوید اور ٹیم نے کیا ،گورنر سندھ کی مبارکباد،نجی علاج پر 25 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں

کراچی: ڈاؤیونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ماہرین نے 4گھنٹے طویل آپریشن کے بعد پیدائشی طورپرسماعت سے محروم بچی کے کان میں کوکلیئر امپلانٹ نصب کرکے قوت سماعت بحال کردی۔

ڈائو یونیورسٹی میں اپنی نوعیت کا پہلاکامیاب آپریشن کیاگیا جس کاعملی مظاہرہ بھی براہ راست ڈاکٹروں اورصحافیوں کو د کھایا گیا، کو کلیئر امپلانٹ این این ٹی سرجن اور پرو ووائس چانسلر پروفیسرعمر فاروق کی سربراہی میں کیاگیا جس میں آسٹریلیا سے آئے ہوئے پاکستانی ڈاکٹر نوید اور دیگر نے بھی حصہ لیا،گورنر سندھ نے ڈاویونیورسٹی میں سماعت سے محروم بچیوںکوبلامعاوضہ کوکلیئر امپلانٹ نصب کرنے پر ٹیم کو مبارکباد دی ہے،نجی شعبے میں کوکلیئر امپلانٹ نصب کرانے پر 25 لاکھ روپے اخراجات آتے ہیں، ڈاؤیونیورسٹی کے ماہرین نے جمعرات کو سماعت سے محروم 2 بچیوں کوبلامعاوضہ کوکلیئر امپلانٹ نصب کردیا۔

مزید 2بچوں کے امپلانٹ آج کیے جائیں گے جومفت ہوں گے، تفصیلات کے مطابق ڈاؤ یونیورسٹی نے اوجھا کیمپس میں پیدائشی طور پرگونگے بہرے بچوں کے کان میں کوکلیئر امپلانٹ کی تنصیب شروع کردی جس کے پہلے دو آپریشن جمعرات کواوجھا میں کیے گئے اس موقع پریونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسرمسعود حمید سمیت دیگر اراکان فیکلٹی بھی موجود تھے، پہلا کوکلیئر امپلانٹ اورنگی ٹاؤن کی رہائشی بچی مصفرہ اور دوسرا 2 سالہ بچی فضلہ کا کیاگیا، دونوں آپریشن ای این ٹی کے ماہر سرجن پروفیسر عمرفاروق کی سربراہی میںکیے گئے جس میں پاکستانی نژدا آسٹریلین ڈاکٹر نوید اوردیگر ماہرین ٹیکنیشین و پیرامیڈیکل عملے نے بھی حصہ لیا۔

11

دونوں بچیاں پیدائشی بہری اور گونگی تھیں،نجی طور پر علاج پر 25 لاکھ روپے کے اخراجات بتائے گئے تھے تاہم ڈاؤیونیورسٹی نے سماعت سے محروم ضرورت مند اور غریب بچوںکوکوکلیئر امپلانٹ مفت لگانے کا فیصلہ کیا گیا، بعدازاں صحافیوں سے بات چیت میں پروفیسر عمرفاروق نے بتایا کہ اس تکنیک میں دوران آپریشن بچے کاخون ضائع نہیں ہوتا یہ آلہ کان کے عقبی حصے میں45 ڈگری پر لگایاجاتا ہے جس کا سائز3 سے 4 ملی میٹر ہوتا ہے۔

کوکلیئر کو کھوپڑی میں نصب کیاجاتا ہے ،کوکلیئر نصب کرنے کے بعد بچے کی اسپیچ اور لینگویچ تھراپی کی جاتی ہے،کوکلیئر امپلانٹ لگانے کے 4 ہفتے بعد کوکلیئر کا سوئچ آن کیاجاتا ہے ، یہ آلہ (واٹرپروف) ہوتا ہے، پیدائشی طور پر گونگے بہرے پن کا مرض دراصل دوران حمل وائرس انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے اوریہ خاندانی مرض بھی ہوتا ہے،ڈاکٹر نوید نے کہاکہ کوکلیئر امپلانٹ دنیا کی انتہائی جدید ٹیکنالوجی ہے جو آج سے ڈاؤیونیورسٹی میں متعارف کرادی گئی ہے، کوکلیئر امپلانٹ میں جدید ٹرین ٹیکنالوجی نصب ہے سننے اور بولنے کی صلاحیت کو پیداکرتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔