طاقت کا سرچشمہ عوام؟

جاوید قاضی  ہفتہ 22 اکتوبر 2016
Jvqazi@gmail.com

[email protected]

اسلام آباد میں خزاں اپنے رنگ لیے بیٹھی ہے۔ اتنا سرسبز و شاداب شہر شاید ہی کوئی اور اس ملک کا ہو۔ پتہ پتہ، بوٹا بوٹا گلی گلی ہر راہ گزر، رنگ ہیں جو کھلتے ہیں کہ جیسے دیے ہیں جو جلتے ہیں۔ جناح سپر مارکیٹ سے مرگلہ کی اور جو شاہراہ جاتی ہے پت جھڑ کے موسم میں بالکل لال رنگ پہن کر سرنگوں جیسے بیٹھی ہوئی ہوتی ہے اپنے وجود پہ درختوں کی شاخوں سے گرے زرد پتوں کی لڑیاں لیے کہ جیسے کافکا کی یہ سطریں ہوں جسے میں نے ایک آزاد نظم میں کچھ اس طرح رقم کیا تھا۔

’’میں کہ ہوں کوئی راہ زرد پتوں کی موسم کی

لو ابھی دامن اپنا جھاڑا نہیں کہ پھر

زرد پتوں سے بھر گئی ہوں‘‘

غور کرکے دیکھو تو اسلام آباد کی تاریخ شب خوں سے لے کر 58(2)(b) کے فیصلوں کی، عدلیہ کی تحریک اور پھر اس تحریک کا یرغمال ہونا۔ پھر لانگ مارچوں کی تاریخ جس کی ابتدا بے نظیر کے لانگ مارچ سے ہوئی تھی۔ پھر ایک لانگ مارچ نواز شریف کا جس میں عدلیہ کے جج بحال ہوئے تھے۔ پھر سجاد علی شاہ کے فیصلے اور اس پر حملہ۔ پھر جب طاہر القادری دھرنا دیے بیٹھے تھے تو سپریم کورٹ کا وزیر اعظم کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم۔ اس سے پہلے کورٹ ایک وزیر اعظم یعنی یوسف رضاگیلانی کو رخصت کر چکی تھی ۔ پھر وہ بھی تو تھا جس میں صدر پاکستان زرداری پر ملکی راز افشا کرنے کے الزام میں ایک جوڈیشل کمیٹی بنائی گئی۔

اور اب سے دو سال پہلے ڈی چوک پر دھرنا۔ اور اب ہے اس خزاں میں عمران خان صاحب کا لانگ مارچ اور اس پر ہے خزاں کے تازیانے۔ قدرت ہے کہ اپنا حسن بکھیر کے بیٹھی ہے اور ہم اپنے حساب کتاب درست کرنے بیٹھے ہیں۔

اب کسی کو تو لانگ مارچ کرنا تھا۔ بے نظیر نہ سہی عمران خان ہی  سہی۔ جمہوریت کا  ارتقا بھی ہوا ، بے نظیر اور نواز شریف نے چارٹرڈ آف ڈیموکریسی پر دستخط بھی کیے اور آج یہ جمہوریت اپنے دس سال پورے کرنے کے دہانے پر ہے ۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار۔ ورنہ پچھلے ڈی چوک کے محاصرے میں جب حکومت کی رٹ برف کی طرح پگھل گئی تھی اس میں اگر پیپلز پارٹی یاروں کے ساتھ ہوتی تو بات اس وقت ہی بگڑ چکی ہوتی۔

لیکن ابھی تک بات اس توازن میں کھڑی ہے کہ طاقت کا سرچشمہ کون؟ بازوئے  شمشیرزن  یا عوام؟

اگر دو سول دور کو طاقت، تو ایک سول آمر باہر ۔ وہ چاہے ذوالفقار علی بھٹو تھے یا نواز شریف۔ دوسری طرف جب عزیز ہم وطنو کے بگل بجتے ہیں بے چارے آمر کا جہاز ہوا میں پھٹ جاتا ہے ۔ خود فوج اس سے بیزار ہوجاتی ہے اور پھر سے جمہوریت کا پہیہ  گھومنے لگتا ہے۔ مگر ایک چیز تاریخ بھی ہوتی ہے جہاں صرف عوام کی چلتی ہے اور ایک ارتقا بھی ہوتا ہے جہاں طاقت کا سرچشمہ بازوئے شمشیر بھی عوام ہوتا ہے۔

بھٹو کے قتل کا دھبہ  نہیں اتر سکا۔ جس طرح سے سوموٹو کی بارش سے چوہدری افتخار صاحب نئے روپ میں اترے تھے۔ کس طرح سے پھر یہاں پر مذہب کا بیوپار ہوا۔ جو کل سائیکلوں پر چلتے تھے تو افغان جہاد کے نام پر پراڈو میں پھرتے تھے۔ اور پھر ہم نے گلی گلی کوچوں میں جہادی پیدا کرنے کی بھٹیاں لگادیں اور جب کلاشنکوف ذریعہ معاش بن جائے تو پھر یہ عادت جاتی نہیں۔

جناح کا پاکستان بے چارہ کہاں رہ گیا کہ ’’جب سے بے نور ہوئیں ہیں شمعیں، خاک میں ڈھونڈتا پھرتا ہوں نہ جانے کس جا کھوگئی ہیں میری دونوں آنکھیں ‘‘ مجھے تو فیض صاحب کی نظم ’’بلیک آؤٹ‘‘ اس پورے منظر میں یاد آگئی اور جب تک یہ بلیک آؤٹ ختم نہیں ہوتا یعنی جناح کا پاکستان یہاں نہیں ہوتا تب تک کچھ بھی نہیں ہوگا۔ ہر راہ جو جمہوریت کو جاتی ہے مقتل سے گزر کے جاتی ہے ورنہ بھٹو قتل نہیں ہوتے اور نہ بے نظیر۔

معاملہ جمہور کا ہے۔ کیسے نیند میں غلطاں ہیں یہ لوگ کہ کوئی بھی شب خوں مارے یہ سڑکوں پہ نہیں آتے اور وزن آکے ججوں پہ پڑتا ہے ، اب ہر کس و ناکس  یہاں اس بینچ کی طرح تھوڑی ہوتا ہے جو مولوی تمیز الدین کی بینچ تھی۔ یا کوئی دراب پٹیل ہو۔ نظریہ ضرورت تب ہوتا ہے جب عوام نیند میں ہوتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جس کو ہم گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے کہتے ہیں۔

یہ کون سی جمہوریت ہے جہاں اتنا بڑا پانامہ کا کیس ہو اور حکمران استعفیٰ نہ دیں اور تو اور اس کے لیے شفاف نظام نہیں۔ یہ کون سی جمہوریت ہے جہاں ممبر قومی اسمبلی بننے کے لیے بیس کروڑ  روپے  الیکشن میں خرچ کرنا پڑ جائے اور گستاخی معاف ! یہ کون سا عدالتی نظام ہے کہ جہاں اچھا وکیل صرف امیر کو مل سکتا ہے۔ جہاں اچھی تعلیم امیروں کے لیے ہے،  پاکستان کے باقی انیس کروڑ عوام کے لیے کچھ بھی نہیں تو پھر کیوں کریں حفاظت یہ عوام جمہوریت کی؟

اب کے جو جمہوریت چلی ہے اس میں اس عوام کا اتنا دیا ہوا کچھ بھی نہیں ،  یہ تو دنیا بدل گئی ہے۔ کیری لوگر جیسے بل تھے۔ یورپ و امریکا قدرتاً اس سرد جنگ کی پاداش سے نکل گئے تھے۔ لیکن اب کی بار ہم نے دنیا کے بدلتے رخ میں جہاں دوبارہ سے نیم سرد جنگ کے تازیانے پھر سے بجتے نظر آتے ہیں دنیا پھر سے دو سپر طاقتوں میں بٹ رہی ہے اور ہمارا تعلق چین سے اور گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ بہت اچھا ہوگا چین مگر جمہوریت اور انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے وہ یورپ جتنا مہذب نہیں۔

پاکستان کو ستر سالوں میں اداروں کی پرورش کرنی تھی۔ یہ ملک جو بھی ہے کمزور اداروں کا عکس ہے اور کچھ بھی نہیں۔ عدلیہ ٹوٹی پھوٹی، آئین میں ضیا الحق کی ملاوٹ، مذہب کا بیوپار جاری کہ ریاست اور مذہب الگ الگ نہیں۔

اسلام آباد میں خان کا جوش ہے ۔ بہار آئے گی بھی کہ نہیں؟

ہم سادہ ہی کچھ ایسے تھے کہ یوں ہی پذیرائی

جس بار خزاں آئی سمجھے کہ بہار آئی

(فیض)

باقی رہا عمران خان کا دھرنا، اسلام آباد کی شاہراہوں پہ پہیہ جام۔ بھلے کرے اور اگر اس کی کوکھ سے پھوٹتی ہے کوئی پانچ جولائی تو تاریخ عمران خان کا تعاقب کرے گی لیکن مجھے یہی لگتا ہے کہ نومبر کی دو تاریخ کی کوکھ سے کوئی اور پانچ جولائی یا بارہ اکتوبر پھوٹے گی۔ ہاں پھر بھی انتخابات اور قریب نہ آجائیں۔

مجھے اس سارے بھنور میں اب بھی عدلیہ پہ وشواش ہے، اس کے پچاسوں فیصلے تاریخ میں تنقید مانتے ہیں اور پچاسوں فیصلے سراہنے کے لائق بھی ہیں۔ ماضی قریب میں لوکل باڈیز کے انتخابات تو اب آدم شماری پر سپریم کورٹ کا اسٹینڈ ۔

لیکن وہ دور کب آئے گا جب پاکستان کی دو بڑی پارٹیاں موروثی سیاست سے آزاد ہوں گی۔

کب آئے گا وہ دن جب وڈیروں کی جمہوریت اور اس شرفا کے پاکستان سے ہم چھین کے لیں گے عوام کا پاکستان۔

بہت کٹھن ہے یہ راہ گزر، بہت سے زرد پتوں سے بھری ہیں راہ گزر لیکن آگے کا راستہ انھی راستوں سے جاتا ہے ، یہاں کوئی شارٹ کٹ نہیں۔ جمہوریت جمہوریت، لنگڑی لولی ہی صحیح لیکن جمہوریت۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔