پاکستان میں ای کامرس کا مستقبل

عمران خوشحال راجہ  منگل 25 اکتوبر 2016
دیہی خواتین و حضرات کو اسمارٹ فونز دینے کے ساتھ ساتھ ای کامرس کی بنیادی تربیت دینا بھی اشد ضروری ہے جو کہ حکومت اپنے طور پر یا کسی مقامی تنظیمی ادارے کے تعاون سے مل کر دے سکتی ہے۔

دیہی خواتین و حضرات کو اسمارٹ فونز دینے کے ساتھ ساتھ ای کامرس کی بنیادی تربیت دینا بھی اشد ضروری ہے جو کہ حکومت اپنے طور پر یا کسی مقامی تنظیمی ادارے کے تعاون سے مل کر دے سکتی ہے۔

20 اکتوبر کو پوٹھوہار آرگنائزیشن فارڈیولیپمنٹ ایڈوکیسی (پوڈا) کی جانب سے خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے لوک ورثہ اسلام آباد میں منعقدہ آٹھویں سالانہ کانفرنس میں خواتین اور ترقی کے موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ کانفرنس میں حکومت کی طرف سے 50 لاکھ کسانوں کواسمارٹ فونز دینے کے اعلان کے حوالے سے بھی بات کی گئی۔ اس موقع پر دیہی خواتین کو اسمارٹ فونز کے ذریعے آئن لائن کاروبار یا ای کامرس کے عمل میں لائے جانے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا گیا۔

یاد رہے حکومتی عدم توجہ کے باوجود پاکستان میں ای کامرس تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ گو اس وقت پاکستان میں ای کامرس کا کُل حجم تقریباً 60 ملین ڈالرز ہے لیکن مزید دو، تین سالوں میں اس میں زبردست اضافہ متوقع ہے۔ اِس شعبے سے وابستہ تجربہ کار افراد کی جانب سے بار بار یہ کہا جارہا ہے کہ پاکستانی ای کامرس کا حجم سن 2020ء تک ایک بلین ڈالرز سے بھی تجاوز کرجائے گا۔

اگر اِس بات کو ٹھیک مان لیا جائے تو مطلب یہ ہوا کہ پاکستان میں سیاسی اور سماجی موسم کی گرمی سردی، تحریکوں، جلسوں اور دھرنوں سے راویتی کاروبار کو تو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے لیکن ای کامرس کے متاثر ہونے کے امکانات کم ہیں، جو کہ ای کامرس سے جڑے لوگوں کے لئے تسلی بخش بات ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ نہ صرف عوام الناس بلکہ خواص اور تعلیم یافتہ افراد بھی آئن لائن کاروبار کے حوالے سے مخمصے کا شکار نظر آتے ہیں۔

اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ آئن لائن کاروبار سے منسلک کمپیناں یا برینڈز غیر معیاری مصنوعات فروخت کرکے صارفین کو دھوکہ دہی سے منافع کماتی ہیں لیکن یہ محض ایک خیال ہی ہے۔ ہاں یہ درست ہے کہ کچھ کمپنیاں اوربرینڈز ایسے ہیں جو اپنی ویب سائیٹ پر بہت نفیس اور معیاری مصنوعات کی تشہیر کرکے نسبتاً غیر معیاری اورمعمولی نوعیت کی مصنوعات فروخت کرتے ہیں اور صارف جب ایک بار ایسے کسی پراڈکٹ کے لئے قیمت ادا کردیتا ہے تو اس کو تبدیل یا واپس نہیں کرسکتا۔

لیکن اس طرح کی غیر قانونی اور غیراخلاقی حرکت کو تمام کمپنیوں سے جوڑنا درست نہیں سمجھا جاسکتا۔ یہ معاملہ خاص طور پر ایسی کمپنیوں سے جوڑنا سرار ناانصافی ہوگی جو کسٹمر فرسٹ اور کسٹمر کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور کسی بھی ایسی صورت میں جب کسٹمر کو آئن لائن دیکھے اور اصل میں خریدے گئے پراڈکٹ میں فرق کی شکایت ہو تو اس کو باقائدہ سنتی اور دور کرتی ہیں۔

پاکستان میں اگرچہ آئن لائن کاروبار کرنے والی کمپنیوں کی تعداد بہت زیادہ نہیں لیکن اس کے باوجود ایسی کمپنیاں موجود ہیں جو کسٹمر فرسٹ اور کسٹمر سیٹیسفیکشن کے فلسفے پر عمل پیرا ہیں۔ اب اس بات کا جتنا انحصار حکومت پر ہے کہ کوئی بھی فراڈ کمپنی صارفین کو دھوکہ دہی سے نقصان نہ پہنچائے اتنا ہی صارفین کو بھی چاہیئے کہ وہ کسی بھی آن لائن کمپنی سے کسی بھی طرح کی کاروباری سرگرمی سے پہلے اس بات کا اطمینان کرلیں کہ کہیں انہیں دھوکہ تو نہیں دیا جارہا۔

پاکستان میں ای کامرس کے حجم کو بڑھانے کے لئے صارفین کا آئن لائن بیچنے والی کمپنیوں اور ان کی مصنوعات پر اعتماد کا ہونا اشد ضروری ہے۔ اس ضمن میں جہاں حکومت کو ایسی تمام کمپنیوں کو باقاعدہ رجسڑ اور مانیٹر کرنے کی ضرورت ہے وہیں آئن لائن کاروبار کرنے والے خواتین اور حضرات کو مل کر ایک ای کامرس سوسائٹی کی بنیاد رکھنے کی ضرورت بھی ہے۔ ایسی سوسائٹی نہ صرف ای کامرس سے جڑے حضرات کو قریب لاسکتی ہے بلکہ عوام میں ای کامرس کے حوالے سے آگاہی اور کاروبار کے مواقعوں کو بھی عام کرسکتی ہے۔

دیہی خواتین و حضرات کو اسمارٹ فونز دینے کے ساتھ ساتھ ای کامرس کی بنیادی تربیت دینا بھی اشد ضروری ہے، جو کہ حکومت اپنے طور پر یا کسی مقامی تنظیمی ادارے کے تعاون سے مل کر دے سکتی ہے۔ ایسی تربیت سے جہاں دیہاتوں اور قصبوں کے کاروباری خواتین و حضرات کا آئن لائن کمیونٹی سے تعارف ہوگا، وہاں شہروں کے کاروباری خواتین و حضرات سے بھی جان پہچان ہوگی، جو کہ نتیجتاً سب کے لئے مفید ثابت ہوگی۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگرجامع تعارف کےساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔

عمران خوشحال راجہ

عمران خوشحال راجہ

بلاگر ایم فل سکالر، کشمیریکا کے بانی، محقق اور بلاگر ہیں۔ وہ ’’آن کشمیر اینڈ ٹیررزم‘‘ اور ’’دریدہ دہن‘‘ کے مصنف ہیں۔ عالمی تعلقات، دہشت گردی اور سماجی و سیاسی تبدیلیاں ان کی دلچسبی کے مضامین ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔