نیٹو افواج پر ہونے والے بم حملوں ميں استعمال ہونے والا کیمیکل پاکستان سے آتا ہے، امریکا

اے ایف پی  جمعـء 14 دسمبر 2012
سینیٹر باب کیسی نے سینیٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں آئی ای ڈیز بم حملوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ پاکستان سے کیمیکلز کی ترسیل میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔  فوٹو: فائل

سینیٹر باب کیسی نے سینیٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں آئی ای ڈیز بم حملوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ پاکستان سے کیمیکلز کی ترسیل میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ فوٹو: فائل

واشنگٹن: امریکا نے پاکستان کو دہشت گردی میں استعمال ہونے والے کیمیکل کی افغانستان منتقلی کو روکنے کے لئے مؤثر حکمت عملی اپنانے کا مطالبہ کیا ہے، امریکا کے مطابق یہ کیمیکل بم بنانے کے کام آتا ہے جس سے افغانستان میں متعدد نیٹو افواج کی ہلاکتیں پیش آئی ہیں۔

سینیٹر باب کیسی نے سینیٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں آئی ای ڈیز بم حملوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ پاکستان سے کیمیکلز کی ترسیل میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں یہ کیمیکل تیار کرنے والی کمپنیز کو اس معاملے پر تعاون کرنا چاہئے۔

سینیٹر باب کیسی نے کہا کہ وزیر داخلہ رحمان ملک نے اکتوبر میں امریکا کے دورے کے دوران افغانستان میں آئی ای ڈیز بم حملوں کو روکنے کے لئے ایک منصوبہ تجویز کیا تھا جس پر اب عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ سینیٹر نے کہا کہ آئی ای ڈیز بم حملوں کے نتیجے میں پاکستان میں بھی 2395 لوگ ہلاک ہوئے۔

لیفٹیننٹ جنرل مائیکل باربیرو نے سینیٹ کو بتایا کہ کیلشیم امونیم نائٹریٹ نام کا کیمیکل افغانستان میں 70 فیصد بم حملوں میں استعمال کیا گیا، یہ کیمیکل دوسرے ممالک میں بھی تیار کیا جاتا ہے مگر افغانستان میں یہ کیمیکل پاکستان سے منتقل کیا جا رہا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔