غیر سنسر شدہ ڈرامے پیش کرنے پر فیملیوں نے تھیٹر سے منہ موڑ لیا

قیصر افتخار  ہفتہ 15 دسمبر 2012
تھیٹرمیں پیش کیے جانے والے ڈرامے لاہور کی اتنی بڑی آبادی میں سے صرف ایک یا دوفیصد شائقین کو سامنے رکھتے ہوئے تیارکیے جاتے ہیں۔  فوٹو: فائل

تھیٹرمیں پیش کیے جانے والے ڈرامے لاہور کی اتنی بڑی آبادی میں سے صرف ایک یا دوفیصد شائقین کو سامنے رکھتے ہوئے تیارکیے جاتے ہیں۔ فوٹو: فائل

لاہور: جب چوراورکوتوال کے درمیان ’’ دوستی ‘‘ ہوجائے توپھر معاشرے میں سدھارکی فکرکون کرے گا ؟ اسٹیج ڈراموں میں فحش گوئی، بیہودہ رقص اوراشارے بازی کوروکنے اورفیملیزکوتھیٹرمیں واپس لانے کے لیے حکومت نے بہترین اقدامات کیے لیکن اسٹیج ڈراموں کومانیٹرکرنیوالے اداروں نے سب کچھ دیکھنے کی بجائے اپنی آنکھیں اس طرح بندکیں کہ ہال میں بیٹھے شائیقن اورکیبل پرگھرگھراسٹیج ڈراموں کے ذریعے لوگوں کوتوسب کچھ دکھائی دے رہا ہے مگرمانیٹرنگ ٹیمیں سب کچھ دیکھنے سے محروم ہیں۔

مانیٹرنگ ٹیمیں ’’سب اچھا ہے ‘‘کا آلاپ لگا رہی ہیں، جودرست نہیں ہے۔ تھیٹرمیں پیش کیے جانے والے ڈرامے لاہور کی اتنی بڑی آبادی میں سے صرف ایک یا دوفیصد شائقین کو سامنے رکھتے ہوئے تیارکیے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ شائقین کی ’’خاص‘‘ کمیونٹی ہی اسٹیج ڈرامے دیکھنے کے لیے رات گئے تھیٹروں تک پہنچتی ہے۔ خادم اعلیٰ مانیٹرنگ ٹیموں کی کمانڈ ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں سونپیں جوفنون لطیفہ کوسمجھتے ہوں اور دوسری جانب ڈرامے کے اوقات کار میں بھی تبدیلی لائی جائے۔ ان خیالات کااظہار’ اسٹیج ڈراموں میں فحاشی کے فروغ ‘ کے حوالے سے کیے گئے ’’ایکسپریس سروے‘‘ میںمختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افرادنے کیا۔ شاہد حسین، جمیل بٹ، مصطفیٰ ، مجاہد، خرم، مزمل احمد، ظہورشاہ، اعجاز، رحمان، ثناء اللہ، کامران، سہیل، عاطف، ندیم، نوید بھٹی، عرفان، احسان بٹ، نعیم عرف بھولا اورتحسین نے کہا کہ سب سے پہلے تواسٹیج ڈراموں کا ماحول کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ اسٹیج ڈراموںکی وجہ سے ہماری نوجوان نسل تباہ وبرباد ہورہی ہے۔ ایک طرف تو نوجوانوں کی بڑی تعداد رات گئے تھیٹر کا رخ کرتی ہے جب کہ کیبل کے ذریعے گھروں میں بھی غیرسنسرشدہ ڈرامے پیش کیے جارہے ہیںجن کوکوئی بھی شخص اپنی فیملی کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا۔ دوسری جانب ڈرامے کی ٹائمنگ ایسی ہے کہ رات دس بجے کے بعداپنی فیملی کے ہمراہ تھیٹر جانے کا تصورنہیں کیا جاسکتا۔

فرض کر لیں اگرڈرامہ رات دس بجے کے بعد ہی شروع ہوا ہے اورہم اپنی فیملی کے ساتھ وہاں جائیں تواس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ ڈرامے میں فحش گوئی، بیہودہ رقص اوراشارے بازی نہیں ہوگی ؟ حالانکہ ہمیں بھی رات کے وقت اسٹیج ڈرامہ دیکھنے کے اتفاق ہوا ہے اورمانیٹرنگ ٹیموں کے اہلکاربھی ہال میں موجود ہوتے ہیں مگرفنکاراپنے معمول کے مطابق جگت لگاتے ہوئے ماں، بہن کے مقدس رشتوں کا کوئی خیال نہیں رکھتے۔ دوسری جانب رقاصائوں کے رقص کے دوران ٹارگٹ کرکے ہال میںبیٹھے لوگوں کواشارے کرنا، خصوصاً ’داڑھی ‘ والے افراد کونشانہ بنانا اورداڑھی کامذاق اڑائے بغیربات آگے نہیںبڑھتی۔ ڈرامہ دیکھ کر یہ بات توہم جیسے لوگوںکو بھی سمجھ آجاتی ہے کہ اسکرپٹ نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ اگرڈرامہ سیچوایشن کے ساتھ پیش کیاجائے تووہ سب کی سمجھ میںآتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سب سے پہلے اس کے قصورواروہ ادارے ہیں جن کو خاص طورپرفن وثقافت کے فروغ کے لیے بنایا گیا ہے۔ اگر آرٹس کونسلیں اس سلسلہ میں اپنا کردار ادا کرتیں توآج تھیٹراتنا بدنام نہ ہوتا۔

دوسری جانب ہوم ڈیپارٹمنٹ اورڈی سی آفس کے اہلکاروں پرمشتمل مانیٹرنگ ٹیموں کے اہلکاروں کا باقاعدہ امتحان لینا چاہیے کہ ان کواداکاری، رقص کے بارے میں کتنی معلومات ہے ؟ اس سلسلہ میں قوانین بنانے کی ضرورت ہے اوراگرقوانین ہیں توان پر عملدرآمد کروانے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں ۔ اسٹیج ڈراموں کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے اگر سختی سے کام لیتے ہوئے فحش گوئی اوربیہودہ رقص کوفروغ دینے والے فنکاروں کے خلاف سخت ایشکن لینا چاہیے۔ ان کو پہلے وارننگ دی جائے اورپھر ان پرپابندی عائد کرنے کے ساتھ جرمانے بھی کیے جائیں۔ اسی طرح اسٹیج ڈراموں کے پروڈیوسروں، ہدایتکاروں اور تھیٹر مالکان کوبھی اس پر عملدرآمد کروانے کے لیے ہدایت کی جائے۔ ڈرامے کے اوقات کار میں فوری تبدیلی لائی جائے۔ اگر ایسا کرلیا گیا توپھر تھیٹر سے فحاشی کا خاتمہ ممکن ہے۔ وگرنہ ایک یا دوفیصد لوگوں کے علاوہ باقی سب لوگ تھیٹردیکھنے کے لیے آتے رہیں گے اورخادم اعلیٰ کا تھیٹر میں فیملیز کوواپس لانے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوسکے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔