ہیڈ کوارٹرز پر خودکش حملہ: رینجرز نے سندھ حکومت سے3 کروڑ77لاکھ روپے مانگ لیے

راحیل سلمان  ہفتہ 15 دسمبر 2012
حکومت سندھ سے ناظم آباد ہیڈ کوارٹرز پر ہونے والے خود کش حملے میں جاں بحق ہونے والے3اور زخمی ہونے والے9 اہلکاروں کی زر تلافی کیلیے78لاکھ روپے مانگ لیے. فوٹو: اے ایف پی/ فائل

حکومت سندھ سے ناظم آباد ہیڈ کوارٹرز پر ہونے والے خود کش حملے میں جاں بحق ہونے والے3اور زخمی ہونے والے9 اہلکاروں کی زر تلافی کیلیے78لاکھ روپے مانگ لیے. فوٹو: اے ایف پی/ فائل

کراچی: رینجرز ہیڈ کوارٹرز پر خود کش حملے کے نتیجے میں جاں بحق و زخمیوں کی زرتلافی اور تباہ حال عمارت کی تعمیر و مرمت کے لیے رینجرز نے سندھ حکومت سے3کروڑ77لاکھ روپے مانگ لیے۔

سمری حتمی منظوری کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کو ارسال کردی گئی ہے، ناظم آباد میں8نومبر کو ہونے والے خود کش حملے میں3اہلکار جاں بحق اورعام شہریوں سمیت21افراد زخمی ہوگئے تھے، زخمی اہلکاروں کے بارے میں رینجرز کی جانب سے حتمی تعداد دینے سے گریز کیا گیا تھا، تفصیلات کے مطابق رینجرز حکام نے حکومت سندھ سے ناظم آباد ہیڈ کوارٹرز پر ہونے والے خود کش حملے میں جاں بحق ہونے والے3اور زخمی ہونے والے9 اہلکاروں کی زر تلافی کیلیے78لاکھ روپے مانگ لیے،جاں بحق ہونے والوں کو20لاکھ روپے فی کس جبکہ زخمیوں کو2لاکھ روپے فی کس کے حساب سے ادا کیے جائیں گے۔

حملے کے نتیجے میں تباہ ہونے والی عمارت کی تعمیر و مرمت کیلیے2کروڑ99لاکھ روپے مانگے گئے ہیں،اس ضمن میں رینجرز حکام نے سمری بھیج دی جوکہ وزارت داخلہ میں متعلقہ حکام کے بعد حتمی منظوری کیلیے وزیراعلیٰ سندھ کو ارسال کردی گئی ہے، باخبر ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ رینجرز کی جانب سے بھیجی گئی سمری میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کی تعداد9بتائی گئی ہے جبکہ رینجرز حکام کی جانب سے دھماکے کے روز زخمی اہلکاروں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بتائی گئی تھی۔

جس میں 10 اہلکاروں کو رینجرز اسپتال منتقل کرنے کے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں جبکہ عباسی شہید اسپتال میں بھی متعدد زخمی اہلکار لائے گئے تھے، واضح رہے کہ ایک ماہ قبل8نومبر کو ناظم آباد میں ہونے والے خود کش حملے کے نتیجے میں3اہلکار لانس نائیک خالد محمود، سپاہی عبدالرزاق اور سپاہی عمران ولی جاں بحق جبکہ رینجرز اہلکاروں، عام شہریوں اور ایک پولیس افسر سمیت مجموعی طور پر21افراد زخمی ہوگئے تھے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔