اندرکمار گجرال، پیدائشی پاکستانی

زاہدہ حنا  ہفتہ 15 دسمبر 2012
zahedahina@gmail.com

[email protected]

ہندوستان کے ایک بڑے دانشور،سیاستدان اورسال بھر کے وزیر اعظم اندرکمار گجرال کے رخصت ہونے کی خبر آئی تو احساس ہوا کہ وقت کس تیزی سے گزرگیا ہے۔ یہ مارچ 1997ء کے دن تھے جب کراچی میں گجرال جی کے اردو مضامین پر مشتمل کتاب کی تقریب رونمائی ہوئی اور اس میں شرکت کے لیے اسلام آباد سے ستیش چندر جی آئے تو ایک مضمون میں نے بھی پڑھا تھا۔گجرال جی سے روبرو ملاقات اپریل 2000ء میں اس وقت ہوئی جب عاصمہ جہانگیر، حنا جیلانی اور میں لاہور سے خواتین کا ایک امن وفد لے کر دلی، اجمیر، آگرہ اور جے پور گئے تھے۔

گجرال جی گوکہ اس وقت ہندوستان کے وزیر اعظم کے عہدے پر نہیں تھے لیکن وہ اپنے ملک کے ایک نامور دانشور، مدبر اور سیاستدان تھے۔ انھوں نے ہم لوگوں کو دلی میں اپنے گھر مدعو کیا۔ ان کی بیگم شیلا گجرال جو ایک مشہور شاعرہ تھیں، ان کی میزبانی کا ہم نے لطف اٹھایا۔ اس محفل کی تصویروں میں ان کا سجا سجایا گھر ہے جس میں ان کے مصور بھائی ستیش گجرال کی پینٹنگز آویزاں ہیں اور دوسرے مشہور مصوروں کی بنائی ہوئی پینٹنگز، مجسمے تصویریں اور خاص طور سے سوویت یونین کی مختلف یادگاریں جہاں وہ کئی برس ہندوستان کے سفیر رہے تھے۔

اس محفل میں ’’گولی نہیں بولی‘‘ کا نعرہ لگانے والی نرملا دیش پانڈے ہیں، حنا جیلانی ہیں اورہم سب گجرال جی سے گفتگو میں محو ہیں۔ نرم اور میٹھے لہجے میں بات کرنے والے اندرکمال گجرال پیدائشی پاکستانی تھے۔ پنجاب کے بیٹے۔ وہ جہلم میں پیدا ہوئے۔انھوں نے تعلیم لاہور سے حاصل کی۔ 23 برس کی عمر میں’ ہندوستان چھوڑ دو‘ کی تحریک میں حصہ لیا، جیل گئے۔ وہاں سے نکلے تو کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رکن بن گئے۔

آزادی کے بعد وہ کئی مرتبہ راجیہ سبھا کے رکن ہوئے۔ مختلف وزارتوں پر فائز رہے اور پھر گیارہ مہینے کے لیے ہندوستان کے وزیر اعظم بھی رہے۔ ان کی خود نوشت Matters of Discretion ہمیں پنڈت نہرو کے بعد کی سیاست کے بہت سے ڈھکے چھپے گوشے دکھاتی ہے۔ مسز اندرا گاندھی سے وہ بہت قریب تھے لیکن انھیں اندرا جی کے لاڈلے بیٹے سنجے گاندھی کی سیاست سے اختلاف تھا، اسی لیے وہ ’’معتوب‘‘ ہوئے اور سوویت یونین کے سفیر بناکر دلی سے سیکڑوں میل دور بھیج دیے گئے۔ گجرال جی کے سوا ہندوستان کے کسی وزیر اعظم نے خود نوشت نہیں لکھی۔ نرم لہجے والا دانشور اور مدبر اگر آج سیاست سے نبرد آزما ہو تو وہ گجرال جی کی طرح حاشیوں پر ہی زندگی گزارتا ہے۔

جی چاہ رہا ہے کہ آج ایک نظر ان کی کتاب ’’مضامین گجرال‘‘ پر ڈال لی جائے جو 1997ء میں کراچی سے ان کے گہرے دوست انعام صاحب نے شایع کرائی تھی۔

ماسکو میں سفیر مقرر ہوتے ہیں تو دسمبر کی برفباری میں ڈاکٹر رشید جہاں کی قبر ڈھونڈتے ہیں اور اس پر جاکر وہ اور ان کی دھرم پتنی شیلا پھول چڑھاتے ہیں۔ اردو سے اپنے تعلقِ خاطر کا رشتہ بچپن سے جوڑتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ میری اماں اردو کے اخبار ’’ملاپ‘‘ اور ’’پرتاب‘‘ پڑھتی تھیں۔ پتاجی میرے نام لاہور کا ماہنامہ ’’پھول‘‘ منگواتے تھے، میں اردو کی کتابیں اور کہانیاں پڑھتا تھا، پھر وہ ترقی پسند مصنفین سے اپنی وابستگی کے قصے سناتے ہیں۔ پریم چند، عصمت چغتائی، منٹو، سجاد ظہیر، رضیہ سجاد ظہیر، سردار جعفری، مخدوم محی الدین، فیض، ساحر لدھیانوی، کرشن چندر اور ان گنت ادیبوں کو یاد کرتے ہیں۔ اپنی تحریروں میں اقبال، فیض، مخدوم، ساحر، سجاد ظہیر، سکندرعلی وجد، مجاز اور افتخار عارف کے شعر پر شعر ٹانکتے چلے جاتے ہیں۔

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا سے اپنے گہرے تعلق کا اظہار کرتے ہوئے یہ بتانے سے نہیں چوکتے کہ جوانی میں پارٹی کا اخبار چوراہوں پر کھڑے ہوکر بیچتے تھے اور پارٹی کے جلسوں میں دوسروں کی آواز میں آواز ملاکر اس گیت کو گاتے تھے کہ ’’مظلوموں نے ملکوں ملکوں اب جھنڈا لال لہرایا ہے۔‘‘ پھر اسی تسلسل میں سوویت یونین پر تنقید کرتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں…

’’کوئی بھی کرانتی یا انقلاب محض نظریوں اور لفظوں کے انبار پر کھڑا نہیں رہ سکتا، جب اسٹالن اپنے ہی لوگوں اور انقلاب پرست ساتھیوں کی لاشوں پر اپنی حکومت کی عمارت کھڑی کررہا تھا تو عقیدے کے پرستاروں نے نہ ہی ملک کے اندر اور نہ ہی باہر اس کے خلاف آواز اٹھائی۔

ہمارے یہاں اور شاید ہندوستان میں بھی اب ’’صحافی‘‘ کسی ڈاکٹر، انجینئر یا کمپیوٹر سائنٹسٹ کی طرح کا ایک پیشہ ور سمجھا جانے لگا ہے۔ بہت سے لوگوں کے لیے صحافت محض ایک ذریعۂ روزگار بن گئی ہے اور اس سے بھی کہیں بڑھ کر سیاستدانوں سے تعلقات کے ذریعے نفع بخش معاملات میں حصے داری کا وسیلہ۔ صحافی ہوکر پلاٹ الاٹ کرائے جاسکتے ہیں، وزیراعظم یا صدر مملکت کے ساتھ غیر ملکی دوروں میں جایاجاسکتا ہے، غیر ملکی سفارت کاروں سے گہرے تعلقات استوارکیے جاسکتے ہیں جو آگے چل کر منافع بخش ثابت ہوسکیں۔ ایسے ہی بے شمار معاملات ہیں۔

جب کہ وہ صحافت جو مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا محمد علی جوہر یا پنڈت نہرو یا مہاتما گاندھی یا ہمارے دوسرے متعدد اکابر کرتے تھے، وہ ’’جہاد‘‘ کا دوسرا نام تھی۔ اس صحافت میں جیل یاترا روز کا معمول تھی، پولیس چھاپے، پریس کی بندش، ضمانتوں کا ضبط ہونا، غرض ہرکٹھنائی صحافی کا مقدر تھی۔ وہ بے غرض تھا اور بے دھڑک تھا، ایسے نمونے آج ہمیں اپنے سماج میں مظہر علی خاں مرحوم، ضمیر نیازی اورچنددوسروں کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ اور ایسے ہی لوگوں کو اندر کمار گجرال نے  Crusaderکے نام سے یاد کیا ہے اور یہ لکھا ہے کہ…

’’اخبار بھی تو ایک دھرم یدھ Crusader تھا۔ جن پترکاروں کا رشتہ آزادی پسندوں کے ساتھ تھا ان کی زندگی ایک لگاتار جدوجہد تھی۔‘‘

پھر انھوں نے ’’ملاپ‘‘ کے رنبیرجی کا ذکر کیا ہے، جنھیں ان کی آزادانہ تحریروں کے سبب پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی اور جنہوں نے ’’پھانسی کی کوٹھری‘‘ کے عنوان سے کئی مضمون لکھے تھے۔ یہ ایک علیحدہ کہانی ہے کہ برطانوی سرکار کو پھانسی کی وہ سزا منسوخ کرنی پڑی تھی لیکن رنبیرجی نے اس عہد کے نوجوانوں پر لامحالہ اپنی ہمت اور جرأت کے ان مٹ نقوش چھوڑے تھے۔ گجرال جی یہ ذکر کرتے کرتے اچانک سوال اٹھاتے ہیں کہ…

’’میں سوچتا ہوں کہ رنبیرجی کا نام کس زمرے میں لکھوں؟ صحافیوں میں یا مجاہدوں میں؟‘‘

گجرال جی،اردو کے بارے میں اپنی ’’گجرال کمیٹی رپورٹ‘‘ کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے۔اسی حوالے سے اپنے ایک مضمون ’’ہندوستان میں اردو کا مسئلہ‘‘ پرلکھتے ہوئے،کسی قسم کی سیاسی ہنرمندی کا مظاہرہ نہیں کرتے اور لکھتے ہیں۔

’’جمہوریت کا ایک اہم اور طاقتور پہلو،کلچرل پہلو بھی ہوتا ہے کہ جس کی روسے زبانیں اور کلچر برابری کی مانگ کرتے ہیں اور اپنی نشوونما کا حق مانگتے ہیں۔ اگر کوئی کلچر Dominantکلچر کا روپ دھارے گا یا کوئی زبان دوسری زبان پر برتری قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے تو قومی یکجتی اور جمہوریت کو بچانا مشکل ہوجاتا ہے۔‘‘

اردو کے بارے میں ایک اور مضمون میں اپنے خیالات کا اظہار کچھ یوں کرتے ہیں…

’’اردو کو انصاف دلوانے کی مانگَ نہ تو کوئی مسلمانوں کی مانگ ہے اور نہ ہی کسی فرقہ وارانہ سیاست کی۔ یہ زبان ہماری مشترک تہذیب کی عکاسی کرتی ہے۔ اس کوبڑھاوا نہ دینے سے ہماری قومیت اپنا بہت بڑا اثاثہ گنوا رہی ہے۔‘‘

وہ ہندوستان میں اقلیتوں جیسے نازک مسئلے پر بھی کھل کر بات کرتے ہیں اور یہ سخت بات کہنے سے نہیں چوکتے کہ…

’’ کئی دفعہ بعض لیڈر یہ سوچتے ہیں کہ اگر مندر میں پوجا کے بعد وہ مسجد میں واعظ سے مل آئیں تو ان کی سیکولر ڈیوٹی پوری ہوجاتی ہے۔ رسم تو شاید یہ ٹھیک ہے لیکن اس کا کھوکھلاپن نہیں چھپتا اور کسی نہ کسی کونے سے ذہنی دیوالیہ پن نظر آہی جاتا ہے۔‘‘

آگے چل کر وہ یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کرتے کہ…

’’جب پردھان منتری، راشٹرپتی، مندروں، پوجا گھروں، سادھوؤں، سوامیوں کے پاس جانے کو اپنی سرکاری ڈیوٹی سمجھنے لگ جائیں اورکبھی وہ کسی بزرگ کے پاؤں چھوئیں یا اس کے دیے ہوئے پرشاد کو امرت مانیں اور اس قسم کی باتیں ریڈیو پر سنائی جائیں اور دوردرشن پر دکھائی جائیں تو عام لوگوں کی سوچ پر اس کا برا اثر پڑتا ہے اور ان تمام دقیانوسی دھاراؤں کو بڑھاوا ملتا ہے جن کے خلاف ہم مورچہ بنانے کا وچن کرچکے ہیں۔‘‘

خود ہی سوچئے کہ ایک ایسے شخص کو مسز گاندھی وزارت اطلاعات کے عہدے سے برطرف نہ کرتیں تو اور کیا کرتیں؟ میرے خیال میں وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر بھی ان کا گیارہ مہینے تک بیٹھے رہنا حیرت ہی کی بات ہے۔

ان کی رخصت اس برصغیر کا نقصان ہے۔ ان کا ’’گجرال ڈاکٹرائن‘‘ بہت مشہور ہوا تھا جس میں انھوں نے ہندوستان کو اپنے پڑوسیوں سے بہترین دوستانہ تعلقات کی بات کی تھی۔ جانے وہ وقت کب آئے گا جب گجرال ڈاکٹرائن شرمندۂ تعبیر ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔