عالمی سطح پہ جنم والے نئے مثلث چین، روس اور امریکا کا ٹکراؤ

سید عاصم محمود  اتوار 30 اکتوبر 2016
تبدیل ہوتے علاقائی اور عالمی حالات میں پاکستان چین اور روس کا ساتھی بن کر بین الاقوامی سطح پر نمایاں مقام پا سکتا ہے۔ فوٹو: فائل

تبدیل ہوتے علاقائی اور عالمی حالات میں پاکستان چین اور روس کا ساتھی بن کر بین الاقوامی سطح پر نمایاں مقام پا سکتا ہے۔ فوٹو: فائل

18 اکتوبر کو آئی بی (انٹیلی جنس بیورو) کے سربراہ،جناب آفتاب سلطان نے ایک سینٹ کمیٹی کے روبرو انکشاف کیا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی، را اور افغان خفیہ ایجنسی، این ڈی ایس اپنے کارندوں اور غداروں کے ذریعے پاک چین اقتصادی راہداری کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔ یہ ایجنسیاں اس منصوبے کو ناکامی سے دوچار کرنا چاہتی ہیں۔ یہ خفیہ یا پراکسی لڑائی دراصل ایک بڑے ٹکراؤ سے نتھی ہے جو دنیا کی تین بڑی طاقتوں کے مابین جنم لے چکا۔ اس ٹکراؤ کی داستان نہایت تحیرخیز اور سبق آموز ہے۔

دسمبر 1991ء میں جب سوویت یونین زوال پذیر ہوا، تو امریکا اور اس کی ہمنوا مغربی طاقتوں نے خود کو ایک نئی دنیا میں پایا۔ امریکا اپنی زبردست معاشی و عسکری قوت کے باعث دنیا کی اکلوتی سپرپاور بن گیا۔ اب تک امریکی حکمران طبقہ بنیادی طور پر امداد دینے یا خفیہ سازشوں کے سہارے بیرون ممالک میں اپنا اثرورسوخ بڑھاتا تھا۔ اب اکلوتی سپرپاور بن کر وہ جنگجوئی پر اتر آیا اور بزور ساری دنیا پر حکمرانی کرنے کے خواب دیکھنے لگا۔ پروفیسر جان میئر شیمر (John Mearsheimer)امریکا کے مشہور ماہر سیاسیات اور امریکی حکمرانوں کی استعمار پسندی کے سخت مخالف ہیں۔ ایک کتاب ’’دی اسرائیل لابی اور امریکی خارجہ پالیسی‘‘ لکھ کر عالم اسلام میں شہرت پائی۔ پانچ کتب تحریر کرچکے۔ پروفیسر صاحب اپنی کتاب ’’دی ٹریجڈی آف گریٹ پاور پالیٹکس‘‘(The Tragedy of Great Power Politics)  میں لکھتے ہیں:

’’امریکا اتفاقیہ طور پر دنیا کی اکلوتی سپرپاور نہیں بنا۔ جب 1783ء میں وہ آزاد ہوا، تو تیرہ ریاستوں پر مشتمل ایک کمزور سا ملک تھا۔ اگلے ایک سو پندرہ برس تک (ابراہام لنکن کو چھوڑ کر) بیشتر امریکی حکمرانوں کی یہی روش رہی کہ امریکا کو جغرافیائی طور پر وسعت دی جائے۔ یہ کوشش تاریخ میں ’’مسینیفیسٹ ڈیسٹنی‘‘ (Manifest Destiny)پالیسی کے نام سے مشہور ہوئی۔ یہ پالیسی عیاں کرتی ہے کہ انگریزوں کے پروردہ امریکی حکمران شروع سے استعمار پسندی کے قائل تھے۔‘‘

ہنری کیبٹ لاج (Henry Cabot Lodge)ممتاز امریکی مؤرخ گزرا ہے۔ وہ اپنی کتاب ’’دی ہسٹری آف نیشنز‘‘ (The History of Nations)میں لکھتا ہے ’’امریکا انیسویں صدی میں نت نئے علاقے فتح کرنے، اپنا رقبہ بڑھانے اور نئی کالونیاں آباد کرنے میں سرگرم رہا۔ ا س صدی میں امریکا ہی سب سے بڑی استعماری قوت ثابت ہوا۔‘‘

جب امریکی حکمران وسیع رقبے کے وسائل پر قابض ہوگئے تو انہوں نے ہاتھ آئی دولت سے سائنس و ٹیکنالوجی اور معیشت کے شعبوں کو ترقی دی۔ یوں یہ ملک رفتہ رفتہ عسکری و معاشی طاقت میں ڈھلنے لگا۔ بیسویں صدی کے اوائل میں فلپائن پر قبضہ کرکے اس نے بحرالکاہل کے علاقے میں اپنی چودھراہٹ قائم کرلی۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم نے کئی عالمی طاقتوں کو قصّہِ پارینہ بنا ڈالا اور دنیا میں نئی دو سپرپاورز، سوویت یونین اور امریکا کا ظہور ہوا۔جب سوویت یونین کا قصّہ تمام ہوا تو امریکی محکمہ دفاع المعروف بہ پینٹاگون نے ایک نئی جنگی پالیسی تخلیق کی۔ یہ ایک خفیہ دستاویز تھی تاہم امریکی اخبار، نیویارک ٹائمز کا رپورٹر، پیٹرک ٹیلر اس کے اہم مندرجات حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ پیٹرک نے پھر اس نئی جنگی پالیسی پر اخبار میں ایک مضمون لکھا جو 8 مارچ 1992ء کو شائع ہوا۔ اس نے امریکی حکمرانوں کی نئی پالیسی کے خدوخال کچھ یوں نمایاں کیے:

’’ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ اب مشرق وسطیٰ، ایشیا اور یورپ میں کوئی بھی طاقت امریکا کے مدمقابل نہ آسکے۔ ان علاقوں میں امریکا ہی کو سب سے اہم غیر ملکی طاقت کا مقام ملنا چاہیے۔ مقصد یہ ہے کہ ان علاقوں کے وسائل (تیل، گیس، معدنیات وغیرہ) تک امریکا کی باآسانی رسائی رہے۔ ان علاقوں میں اگر کوئی طاقت امریکی سیادت کو چیلنج کرے، اسے ہر قیمت پر روکا جائے۔‘‘

پیٹرک ٹیلر کا مضمون تو مشہور نہیں ہوسکا، مگر اس نے امریکی حکمرانوں کے عزائم ضرور عیاں کردیئے۔ اب وہ دنیا کے ’’پولیس مین‘‘ کا روپ دھارنا چاہتے تھے تاکہ اپنے مخالفوں کو بدمعاش اور غنڈے قرار دے کر ان پر یلغار کرسکیں۔اس زمانے میں کیوبا، لیبیا، عراق، ایران اور لاطینی ممالک کے بعض ممالک امریکا کے دشمن تھے۔ مگر امریکی حکمرانوں کی نئی جنگی پالیسی کو جس مخالف نے بھر پور انداز میں چیلنج کیا، وہ ایک سعودی نوجوان، اسامہ بن لادن تھے۔ جلد ہی امریکا اور اسامہ کی تنظیم، القاعدہ کے مابین زبردست ٹکراؤ شروع ہوگیا۔

اس ٹکراؤ کی بنیادیں سیاسی، مذہبی، تہذیبی، معاشرتی و معاشی اختلافات میں پوشیدہ تھیں۔ستمبر 2001ء میں القاعدہ امریکی سپرمیسی کے استعارے، ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہی۔ اس واقعے نے امریکی حکمرانوں کے تن بدن میں آگ لگادی۔ انہوں نے اس واقعے کی آڑ لیتے ہوئے مخالف مسلم قوتوں پر چڑھائی کرنے کا فیصلہ کرلیا تاکہ وسائل سے مالامال مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں قدم جمائے جاسکیں۔ چناں چہ امریکی فوج نے افغانستان اور پھر عراق پر دھاوا بول دیا۔

اس وقت تک چین اور روس بھی معاشی اور عسکری طاقتیں بن چکی تھیں۔ چین عرصہ دراز مغربی ممالک کو شک کی نگاہ سے دیکھتا رہا۔ آخر چینی مدبر، ڈینگ شاؤپنگ کے دور (1978ء تا 1989ء) میں سستا چینی مال پوری دنیا میں سپلائی ہونے لگا۔ چینی حکومت نے تصادم کی راہ نہیں اپنائی اور خود کو معاشی طور پر مضبوط کرنے میں لگی رہی۔ روس اپنے بیش بہا قدرتی وسائل (تیل، گیس، معدنیات) کے بل بوتے پر بطور ایک طاقت نمایاں ہوا۔

اکیسویں صدی کے آغاز میں جب امریکا مشرقی یورپ میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے لگا، تو روسی حکمرانوں کے کان کھڑے ہوگئے۔ وہ اس خطّہ زمین کو اپنے اثرورسوخ میں رکھنا چاہتے ہیں۔ اب عالمی معاملات میں دونوں طاقتوں کا ٹکراؤ ہونے لگا۔ اگست 2008ء میں روس اورجارجیا کی مختصر جنگ ہوئی۔ اس میں امریکا نے نہ صرف جارجیا کا ساتھ دیا بلکہ اسے اسلحہ بھی فراہم کیا۔ اس کے بعد فضا اور سمندر میں روسی اور نیٹو و امریکی افواج کے جہازوں کا ’’آمنا سامنا‘‘ ہونے لگا۔ ایک دوسرے کی فضائی و سمندری حدود میں جاکر فریق مخالف کو چنوتی دی جانے لگی۔

جولائی 2013ء میں روس نے امریکی ’’غدار‘‘ ایڈورڈ سنوڈن کو پناہ دے دی۔ اس پر امریکا بہت چراغ پا ہوا۔ مارچ 2014ء میں روس نے یوکرائن کے علاقے، کریمیا پر قبضہ کرلیا۔ جواباً امریکا نے روس پر معاشی پابندیاں لگادیں۔ یوں دونوں بڑی طاقتیں اب کھل کر مخالف بن گئیں۔ ستمبر 2015ء میں روسی افواج شام پہنچ گئیں اور شامی حکومت کی مخالف قوتوں پر حملے کرنے لگیں۔ ان مخالف قوتوں کو امریکا کی حمایت حاصل ہے۔

روس کو تیل و گیس کی فروخت سے آمدن ہوتی ہے۔ روسی معیشت کو نقصان پہنچانے کے لیے امریکا نے مشرق وسطیٰ کے بعض ممالک کو ساتھ ملایا اور خود بھی تیل کی پیداوار میں اضافہ کردیا۔ چناں چہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت تیزی سے گرنے لگی۔ روس کو زک پہنچانے کی خاطر ہی امریکی حکمرانوں نے ایران سے بھی معاہدہ دوستی کرلیا۔

مدعا یہ تھا کہ ایرانی تیل بھی عالمی مارکیٹ میں فروخت ہونے لگے۔ امریکی سرگرمیوں کے باعث تیل کی قیمت بری طرح گرگئی۔ 2014ء میں تیل کی قیمت فی بیرل 110 ڈالر تھی جو اب گر کر 45 تا 50 ڈالر کے مابین گھوم رہی ہے۔ معاشی پابندیوں اور تیل کی قیمت گرنے نے روسی معیشت پر منفی اثرات مرتب کیے۔ تاہم اس امریکی چال نے روسی حکمرانوں کو امریکا سے مزید متنفر کردیا۔

چین امریکا کا سب سے بڑا تجارتی ساتھی ہے۔ پچھلے سال چین نے امریکا کو 483 ارب ڈالر سے زائد کا سامان درآمد کیا تھا۔ ماضی میں اپنی عدم تصادم پالیسی کے باعث چینی حکومت کئی معاملات میں امریکا پر تنقید کرتی رہی مگر اس نے کوئی عملی قدم اٹھانے سے گریز کیا۔ تاہم پچھلے چند سال سے چینی اسٹیبلشمنٹ کھل کر امریکی سپرپاور کو چیلنج کرنے لگی ہے۔ یہ مخالفانہ رویّہ اپنانے کی چند وجوہ ہیں۔ستمبر 2013ء میں چین نے اپنے عظیم الشان تجارتی منصوبے ’’ون روڈ، ون بیلٹ‘‘ کا اعلان کیا۔ اس منصوبے نے امریکی حکمرانوں کے کان کھڑے کردیئے اور وہ اسے تشویش سے دیکھنے لگے۔ یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچا تو چین جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ میں اثرورسوخ رکھنے والا ملک بن جائے گا۔

پاکستان میں جاری ’’پاک چین اقتصادی راہداری‘‘ بھی اس منصوبے کا ذیلی حصہ ہے۔اسی دوران چین تجارت و معیشت کے مروجہ بین الاقوامی قوانین اور اصولوں پر تنقید کرنے لگا۔ چینی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اصول و قوانین امریکا اور اس کے حواریوں کو زیادہ فائدہ پہنچاتے ہیں اور ان کی وجہ سے چین عالمی سطح پر بطور بڑی معاشی قوت نمایاں نہیں ہوپاتا۔ یاد رہے، درج بالا قوانین دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکا اور اس کے اتحادیوں نے تیار کیے تھے۔ امریکی حکمران ان قوانین کو تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں، چناں چہ یہ امر وجہِ تنازع بن چکا۔

چین اور امریکا کے مابین بڑھتی تلخیوں کی تیسری اہم وجہ جنوبی بحیرہ چین ہے۔ یہ سمندر نہ صرف اہم سمندری گزرگاہ ہے، بلکہ اس کی تہہ میں تیل و گیس کے وسیع ذخائر بھی موجود ہیں۔ چین بحیرہ جنوبی چین کے بڑے حصے کو اپنی ملکیت سمجھتا ہے۔ مگر اس سمندر کے اردگرد آباد دیگر ممالک مثلاً ویت نام، فلپائن، ملائشیا وغیرہ چینی دعویٰ کو درست نہیں سمجھتے۔ اس سلسلے میں انہیں امریکا کی حمایت حاصل ہے۔بحیرہ جنوبی چین دنیا کے سب سے بڑے سمندر، بحرالکاہل کا حصّہ ہے۔ امریکا خود کو بلاشرکت غیرے بحرالکاہل کا مالک سمجھتا ہے۔ اسی لیے وہاں امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہاز اور دیگر جنگی کشتیاں دندناتی پھرتی ہیں۔

جب چین نے بحیرہ جنوبی چین کی ملکیت کا دعویٰ کیا، تو امریکی حکومت کو محسوس ہوا کہ یوں خطے میں اس کی سیادت و قیادت خطرے میں پڑسکتی ہے۔ چناں چہ وہ کھل کر بحرالکاہل کے ممالک کو عسکری و معاشی امداد دینے لگا تاکہ چین کا بھر پور مقابلہ کرسکیں۔ماہرین سیاسیات کا کہنا ہے کہ چین اور امریکا کے مابین کھلی جنگ کا امکان کم ہے۔ وجہ یہ کہ جنگ دونوں کو تباہ و برباد کرڈالے گی۔ مگر تاریخ دانوں کا دعویٰ ہے کہ ہر ابھرتی طاقت آخر کار اپنے زمانے کی سکّہ بند طاقت سے ٹکرا جاتی ہے۔ عموماً یہ ٹکراؤ ناگزیر نظر آتا ہے، مگر تاریخ انساں ایسی کئی جنگوں سے بھری پڑی ہے جن کے جنم لینے کی وجہ سمجھ سے بالاتر ہے۔

بہرحال امریکاکے روس اور چین سے ٹکراؤ کے باعث عالمی سطح پر ان تینوں بڑی عسکری و معاشی طاقتوں کا ایک نیا مثلث(Triangle) وجود میں آچکا۔ یہ مثلث پوری دنیا خصوصاً ایشیاء میں انقلابی تبدیلیوں کو جنم دے رہا ہے۔ ان تبدیلیوں میں نئی خفیہ یا پراکسی جنگوں کی شروعات بھی شامل ہیں جو مثلث کے تینوں کھلاڑی اپنے اپنے زیر اثر ممالک کے ذریعے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ انقلابی تبدیلیاں توڑ پھوڑ کا باعث بھی بن رہی ہیں۔ پرانے ساتھی الگ ہورہے ہیں اور علاقائی و عالمی سطح پر نئی صف بندی جاری ہے۔

دلچسپ بات یہ کہ اس نئی مثلث میں مشترکہ معاشی و سیاسی مفادات کی وجہ سے چین اور روس ایک دوسرے کے بہت قریب ہو چکے، تاہم بعض اوقات معاشی مفادات انہیں الٹی سمت چلنے پر بھی مجبور کردیتے ہیں۔ اس انوکھی روش کی ایک مثال بھارت میں منعقدہ حالیہ برکس اجلاس کے دوران سامنے آئی۔ روسی صدر پیوٹن نے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کو یقین دلایا کہ روس بھارت کو ایس۔400 ٹرمف میزائل فروخت کرنے کے لیے تیار ہے۔گو یہ بھارت کو اپنی صف میں لانے کی خفیہ چال ہو سکتی ہے تاہم ہوائی جہازوں اور میزائلوں کو مار گرانے والے یہ جدید ترین میزائل بھارتی حکمران چین اور پاکستان کی سرحدوں پر نصب کرنا چاہتے ہیں۔

کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ پروفیسر جان میئر شیمر نے سولہ سال قبل ہی اپنی کتاب ’’دی ٹریجڈی آف گریٹ پاور پالیٹکس‘‘ میں چین اور امریکا کے تصادم کی اطلاع دے دی تھی۔ انہوں نے یہ نتیجہ اپنے ایک نظریے ’’جارحانہ حقیقت پسندی‘‘ (Offensive realism) سے اخذ کرکے نکالا۔ اس نظریے کا جوہر یہ امر ہے کہ ہر سپرپاور دنیا پر حکمرانی کرنا چاہتی ہے تاکہ خود کو محفوظ و مامون رکھ سکے۔پروفیسر جان نے اپنی کتاب میں لکھا :

’’چین معاشی اور عسکری سپرپاور بن کر پُر امن نہیں رہ سکتا۔ تب امریکا سے اس کا تصادم ناگزیر ہوگا۔ وجہ یہ کہ امریکا سرتوڑ کوشش کرے گا کہ چین ایشیا و بحرالکاہل میں بڑی طاقت نہ بن سکے۔ جبکہ چینی حکومت چاہے گی کہ جس طرح امریکا نصف مغربی کرّے میں حکمرانی کررہا ہے، اسی طرح مشرقی نصف کرے میں اس کی سیادت قائم ہوجائے۔ چین کو فیصلہ کن قوت بننے سے روکنے کی خاطر امریکا بھارت، جاپان، شمالی کوریا، ویت نام اور انڈونیشیا کو ساتھ ملا سکتا ہے۔ تاہم ان انقلابی اقدامات سے خطہ بحرالکاہل دنیا کا خطرناک ترین علاقہ بن جائے گا۔‘‘

2001ء میں شائع ہونے والی درج بالاکتاب میں امریکی پروفیسر مزید لکھتے ہیں ’’جب بھی امریکی چین کے دروازے کے سامنے دندنانے لگے، تو فطری طور پر چینی اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھیں گے۔ انہیں تب امریکا سے خطرہ محسوس ہوگا۔ یقیناً اس وقت چینی یہی چاہیں گے کہ امریکیوں کو ایشیائی بحرالکاہل سے نکال دیا جائے تاکہ چین محفوظ ہوسکے۔ اگر چینی دندناتے ہوئے امریکا کے دروازے پر پہنچ جائیں، تو امریکی بھی اپنے تحفظ کی خاطر ہر اقدام کریں گے۔ پھر یہ کیوں سوچا جارہا ہے کہ چینی امریکی جارحیت کو پی جائیں گے؟ کیا وہ امریکیوں سے زیادہ صابر اور اصول پسند ہیں؟ کیا انہیں اپنی بقاء کی کوئی فکر نہیں؟ چونکہ ایسی کوئی بات نہیں لہٰذا چینی بھی امریکیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مقامی سپرپاور بننا چاہیں گے۔‘‘

چینی حکمرانوں کے عمل و عزائم بہرحال عیاں کرتے ہیں کہ وہ امریکیوں کی طرح توسیع پسندانہ اور آمرانہ ذہنیت نہیں رکھتے۔ یقیناً وہ اپنے مفادات کو تحفظ دینے والے منصوبے بناتے ہیں، لیکن وہ دوسروں کا بھی بھلا چاہتے ہیں۔ اپنی ترقی کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کو بھی پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ ترقی کا یہ چینی نظریہ و فلسفہ بنیادی طور پر انسان دوست ہے۔ وہ کسی ملک کو اپنی نو آبادی نہیں بنانا چاہتے اور نہ ہی وہاں کے مقامی معاملات میں زیادہ دخل دیتے ہیں۔

اس اعتبار سے چین ماضی و حال کی مغربی سپرپاورز مثلاً برطانیہ، ہالینڈ، بیلجیئم، اسپین وغیرہ سے مختلف ہے جنھوں نے صدیوں تک کئی ممالک کو اپنا ماتحت بنائے رکھا۔امریکا بھی استعماری طاقت ہے جو معاشی، تہذیبی، ثقافتی اور سیاسی طور پر ملکوں کو اپنے زیردست کرتا بلکہ غلام بناتا ہے۔ پاکستان ہی کو لیجیے جہاں روایتی تہذیبی، ثقافتی و مذہبی اقدار و رسومات زوال پذیر ہیں جبکہ مادہ پرستی پر مبنی امریکی فلسفہ پاکستانیوں کی روزمرہ زندگی پہ حاوی ہوچکا۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اس غیر ملکی فلسفے کی اتنی زیادہ اسیر بن چکی کہ اسے قومی زبان اپنانے میں شدید مشکلات پیش آرہی ہیں۔

دلچسپ بات یہ کہ امریکا میں چین کے بجائے روس کو دشمن نمبر ایک سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ الیکشن مہم میں بھی عہدہ صدارت کے امیدواروں نے روس کو نشانہ بنائے رکھا۔ وجہ یہ ہے کہ چین فی الحال زبانی کلامی ہی امریکا کو دھمکیاں دیتا ہے جبکہ روسی صدر پیوٹن اپنے خطّے سے امریکی اثرورسوخ ختم کرنے کی خاطر عملی اقدامات کررہے ہیں۔ تاہم حال ہی میں امریکی تھنک ٹینکس سے وابستہ دانشوروں کو احساس ہوا کہ چین کا ’’ون بیلٹ ون روڈ‘‘ منصوبہ بھی امریکی مفادات کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔یہ زیرعمل منصوبہ مکمل ہوتے ہی ایک طرف جاپان سے لے کر جرمنی تک اور دوسری سمت روس سے لے کر پاکستان تک ایشیا اور یورپ کے کئی ملک ایک دیوہیکل تجارتی لڑی میں پروئے جائیں گے۔

پاکستانی بندرگاہ گوادر کے ذریعے چینی سعودی عرب، ایران اور دیگر خلیجی و افریقی ممالک سے بھی تعلق قائم کرلیں گے۔ یوں اکثر ایشیائی، یورپی اور افریقی ممالک میں چین کا اثرو رسوخ پہلے سے زیادہ بڑھ جائے گا… اور امریکا کا اثرورسوخ کم ہونے لگے گا۔ مزید براں تب چین تجارتی طور پر امریکا کا محتاج بھی نہیں رہے گا کہ اسے نئی منڈیاں مل جائیں گی۔ غرض ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ اور اس سے منسلک تمام ذیلی منصوبے امریکی استعمار پسندی کے لیے بڑا خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔

بھارت سے بڑھتی قربت

امریکی حکمرانوں کو جیسے ہی احساس ہوا کہ چین خاموشی سے اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے عملی اقدامات کررہا ہے اور اس کی عالمی سیادت کو خطرات لاحق ہوچکے، تو وہ جارحیت پر اتر آئے۔ انہوں نے بحرالکاہل میں اپنی افواج کی تعداد بڑھادی اور وہاں دوست ممالک کے ساتھ جنگی مشقیں کرنے لگے۔ بحیرہ جنوبی چین میں آنا جانا شروع کردیا۔ نیز ون بیلٹ ون روڈ منصوبوں کے خلاف خفیہ و عیاں سرگرمیوں کا آغاز کردیا۔ مثلاً افغان حکومت کو پاکستان کا مخالف بنوایا تاکہ افغان خفیہ ایجنسی اور باغی بلوچوں کے مشترکہ حملوں سے پاک چین اقتصادی راہداری پروجیکٹ پر عملدرآمد سست ہوجائے۔ نیز بھارت کو افغان معاملات میں زیادہ دخیل کردیا تاکہ مغربی پاکستانی سرحدیں غیر محفوظ ہوجائیں اور چینی اپنے منصوبے سے دست بردار ہونے کا سوچنے لگیں۔

امریکا نے ایک اور چال یہ چلی کہ وہ نریندر مودی کو اپنے جال میں پھانسنے میں کامیاب رہا۔ امریکی حکمران عرصہ دراز سے بھارت کو اپنا ’’پیدل فوجی‘‘ بنانا چاہ رہے تھے تاکہ وہ چین کے خلاف لڑسکے اور خطّے میں اس کے مفادات کو نقصان پہنچائے۔ کانگریسی حکمران روس سے دیرینہ تعلقات اور اپنی غیر جانب دارانہ پالیسی کے باعث امریکی حکمرانوں کو ٹالتے رہے، گو انہوں نے امریکا سے گہرے تجارتی روابط قائم کرلیے۔ تاہم مودی حکومت نے غیر جانبداری اور روس سے تعلقات کو پس پشت رکھا اور سیدھی امریکی جھولی میں جاگری۔

حیرت انگیز امر یہ ہے کہ 2001ء میں ریاست گجرات میں ہزارہا مسلمانوں کا خوفناک قتل عام کرانے کی وجہ سے امریکی حکومت نے نریندر مودی پر امریکا نہ آنے کی پابندی لگا دی تھی۔ مگر جوں ہی مودی نے امریکی حکمرانوں کو دوستی کے اشارے دیئے، وہ اس قوم پرست لیڈر کا بھیانک ماضی بھول گئے۔ مودی پہلے دورے پر امریکا پہنچا تو وہاں اس کا پُرتپاک استقبال ہوا۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے خصوصاً جنگی تعلقات دن دگنی رات چوگنی رفتار سے بڑھنے لگے۔

اپریل 2016ء میں امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر نے ایک نئی جنگی پالیسی کے خدوخات وضع کیے جسے ’’پیسفک پائیوٹ‘‘ (Pacific pivot)کا نام دیا گیا۔ یہ پالیسی بحیرہ جنوبی چین اور بحرالکاہل میں چین کا بڑھتا اثرورسوخ روکنے کے لیے عمل میں آئی۔ اس کے تحت امریکا اب علاقہ بحرالکاہل پر اپنی توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہے تاکہ وہاں اپنی عسکری وسیاسی برتری ثابت کر سکے۔

اس مقصد کے لیے امریکا بحرالکاہل میں بتدریج اپنی بحری فوج اور اسلحے میں اضافہ کر رہا ہے۔ اسی پیسفک پائیوٹ پالیسی کے مطابق چین کا اثر ورسوخ روکنے کے سلسلے میں بھارت ’’اہم‘‘ کردار ادا کر سکتا ہے۔یہی وجہ ہے، نئی جنگی پالیسی کی تشریح کرنے کے صرف دو دن بعد یعنی 10 اپریل 2016ء کو امریکی وزیر دفاع بھارت پہنچ گئے۔ وہاں انہوں نے دنیا والوں پر آشکارا کیا کہ امریکا اب بھارت کے ساتھ مل کر ایک نیا گلوبل (عالمی) ایجنڈا بنانا چاہتا ہے جبکہ پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات صرف افغانستان اور مسئلہ دہشت گردی تک محدود ہیں۔

یوں امریکا نے خاص طور پر پاکستانیوں پر واضح کر دیا کہ اب وہ بھارت سے اپنے تعلقات کو خصوصی درجہ دے چکا۔امریکی وزیر دفاع نے اس موقع پر بھارت کے ساتھ ایک انتہائی خفیہ معاہدہ بھی کیا جسے بعدازاں ’’ایشیا ۔پیسفک معاہدے‘‘ کا نام ملا۔ اس معاہدے سے اکلوتی سپرپاور اور بھارت نے یہ حکمت عملی طے کر لی کہ انہوں نے براعظم ایشیا اور بحرالکاہل میں کیونکر مل کر کام کرنا ہے۔ اس خفیہ معاہدے کی تفصیل پردہ اخفا میں ہے۔

درج بالا خفیہ امریکی وبھارتی معاہدے پر بھارتی پریس نے ملے جلے تبصرے کیے۔ بعض اخبارات نے اسے خوش آئند قرار دیا اور اعلان کیا کہ بھارت مستقبل کی سپرپاور ہے تاہم دیگر نے احتیاط سے کام لینے کا مشورہ دیا ۔مثلاً مشہور بھارتی اخبار ’’دی ہندو‘‘ نے 13 اپریل 2016ء میں ایک تحقیقی رپورٹ شائع کی۔ رپورٹ کے خالق بھارتی دانش وروں نے لکھا ’’ یہ عین ممکن ہے کہ خفیہ معاہدہ یکطرفہ اور امریکی مفادات کے حق میں ہو مگر مودی حکومت نے بے سوچے سمجھے صرف لوگوں سے اپنی ’’واہ واہ‘‘ کرانے کی خاطر اسے قبول کر لیا۔ پھر ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ جنوری 2017ء میں نئی امریکی حکومت کیا اس خفیہ معاہدے کو برقرار رکھے گی؟‘‘سیاسیات اور جنگی امور کے بیشتر ماہرین کا کہنا ہے کہ درج بالا خفیہ معاہدے کا ہدف چین ہے۔

امریکا اب بھارت کو جدید ترین اسلحہ فراہم کر کے اسے بڑی عسکری طاقت بنانا چاہتا ہے تاکہ وہ چینی افواج کا بخوبی مقابلہ کر سکے۔ بھارت کو معاشی طور پر مضبوط بنانا بھی امریکی پالیسی کا حصّہ ہے کہ یہی امر کسی بھی مملکت کو مضبوط بناتا اور اسے استحکام بخشتا ہے۔جون 2016ء میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امریکا کا دورہ کیا۔ اس نے وہاں امریکی حکومت کے ساتھ کئی سیاسی وعسکری معاہدے کیے۔ تبھی درج بالا ایشیا پیسفک معاہدے کو بھی عملی شکل دی گئی۔

اس خفیہ معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے بھارتی اخبار دی ٹائمز آف انڈیا کے نامہ نگار نے 7 جون کو واشنگٹن سے خبر دی:’’یہ واضح ہے کہ امریکا اور بھارت چین کو ایشیا اور بحراکاہل میں اثر ورسوخ بڑھانے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ اسی مقصد کے لیے امریکا بھارت کو عسکری طور پر اتنا طاقتور بنانا چاہتا ہے کہ وہ چین کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو جائے۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ اب چاہتی ہے کہ ایشیا خصوصاً بحر ہند میں بھارت کا اثرورسوخ بڑھایا جائے تاکہ وہ ان خطوں میں امریکی مفادات کی نگہبانی کر سکے۔‘‘

امریکی۔۔۔ بھارتی خفیہ معاہدے پر تنقید

بھارت میں قوم پرست ہندو جماعتوں کے مخالف دانش ور امریکا سے قربت پر مودی حکومت پر زبردست تنقید کر رہے ہیں۔ یہ تنقید کئی دلائل پر استوار ہے۔ ان کی پہلی دلیل یہ ہے کہ امریکا کا پٹھو بن کر مودی حکومت نے غیر جانب دارانہ روش ترک کر دی جس پر بھارت عرصہ دراز سے کاربند تھا۔ اسی باعث خصوصاً تیسری دنیا میں بھارت کو عزت واحترام سے دیکھا جاتا تھا۔ دوسرے امریکا کا کھلے عام ساتھی بننے سے اب ممکن ہے بھارت کو امریکی جنگوں کے دوران اپنی فوج بھجوانی پڑے۔

بھارتی حکومت میں موجود جنگجو طبقے کی تو یہ دیرینہ خواہش ہے۔ دراصل مختلف ممالک میں وہ بھارتی فوج بھجوا کر ثابت کرنا چاہتا ہے کہ بھارت علاقائی سپرپاور بن چکا۔ ماضی کی بھارتی حکومتیں کسی بھی جنگ میں اپنی فوج بھجوانے سے انکار کرتی رہی ہیں۔یہی وجہ ہے جون 2016ء میں بھارتی بحریہ نے امریکی اور جاپانی بحریاؤں کے ساتھ جنوبی بحیرہ چین کے قریب جنگی مشقوں میں حصہ لیا۔ یوں بھارت نے چین کو پیغام دیا کہ وہ جب چاہے بحیرہ جنوبی چین میں آ سکتا ہے اور یہ بھی کہ وہ بحر ہند میں چینی بحریہ کی بڑھتی سرگرمیوں سے تشویش میں مبتلا ہے۔

بھارت طویل عرصے سے اس نظریے کا حمایتی ہے کہ بحر ہند میں کوئی عسکری سرگرمی ظہور پذیر نہ ہو مگر امریکا سے قربت بڑھی تو اس نے امریکی جنگی جہازوں کو اپنی بندرگاہوں پر ٹھہرنے کی اجازت دے دی۔ مزیدبرآں یہ بھی امکان ہے کہ بحرہند میں واقع بعض بھارتی جزائر پر امریکی اپنے جنگی اڈے قائم کر لیں۔ بھارتی حکمران ویسے تو بہت جمہوریت پسند، انسانی حقوق کے محافظ اور نوآبادیت کے مخالف بنتے ہیں مگر خود دنیا کی سب سے بڑی استعماری طاقت کے غلام بن گئے اور اسے بحرہند میں عسکری سرگرمیاں انجام دینے کی اجازت دے دی۔

امریکا سے دوستی میں ایک خطرہ بھی مضمر ہے۔ وہ یہ کہ امریکی اپنے دوستوں سے کبھی مطمئن نہیں ہوتے… ان کی زبانوں پر ’’ڈومور‘‘ کا ورد جاری رہتا ہے۔ چناںچہ امریکا اب بھی بھارتی حکمرانوں پر دباؤ بڑھانے کے لیے ان کے نقائص اور خامیاں اجاگر کرتا ہے۔ مدعا یہی ہے کہ بھارتی حکمران خاموشی سے امریکی مفادات پورے کرنے پر کمربستہ رہیں۔درج بالا حقائق سے عیاں ہے کہ بھارت کی مودی حکومت امریکیوں سے تھپکی پا کر چین اور پاکستان کے خلاف خفیہ و عیاں سرگرمیاں شروع کر چکی۔ مگر یہ راستہ بہت خطرناک اور کانٹوں سے پُر ہے۔ امریکا کی شہ پر ایشیا میں دو بڑی طاقتوں کی آویزش نہایت خطرناک ثابت ہو گی۔ خصوصاً بھارتی حکمرانوں کو احساس ہونا چاہیے کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر چل کے وہ اپنی تباہی وبربادی کو بھی دعوت دے سکتے ہیں۔

بھارت کی شکست

18 ستمبر 2016ء کو اڑی حملہ انجام پایا۔ اس حملے کی آڑ لے کر مودی حکومت نے ایک تیر سے دو شکار کرنے چاہے۔ اس نے عالمی سطح پر پاکستان کو دہشت گرد ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ دوسرے اپنے مظلوم ہونے کا بلند آہنگ واویلا مچایا تاکہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر بھارتی افواج کا ظلم وستم پس پردہ چلا جائے۔ اپنی اس پالیسی میں مودی حکومت کچھ حد تک کامیاب رہی۔

اسی دوران وسط اکتوبر میں بھارتی شہر، گوا میں برکس اجلاس منعقد ہوا جس میں شرکت کرنے چین اور روس کے صدور بھی بھارت آئے۔ اس موقع پر پھر نریندر مودی نے پاکستان کو دہشت گرد ممالک کی ماں قرار دیا۔ مودی نے پھر سرتوڑ کوشش کی کہ روس اور چین بھی پاکستان کی مذمت کریں۔ نیز یہ کہ سرکاری اعلامیے میں دہشت گرد سمجھی جانے والی پاکستانی تنظیموں کا ذکر آ جائے تاہم دونوں محاذوں پر مودی حکومت کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔چین نے تو بعدازاں کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا اور بتایا کہ وہ خود دہشت گردی کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ بھارت کو اصل مایوسی روسی صدر سے ہوئی۔

صدر پیوٹن نے بھی دوران اجلاس ایسا کوئی بیان نہیں دیا جو پاکستان کا تعلق دہشت گردی سے جوڑ دیتا۔روسی صدر پیوٹن نے البتہ مودی حکومت کے ساتھ کئی تجارتی معاہدے کیے۔ نیز یہ خبر بھی پڑھنے کو ملی کہ روس بھارت کوایس۔400 ٹرمف میزائل فروخت کرے گا۔ پاکستان کے لیے یہ خبر تشویشناک ہے۔ بھارت کو یہ جدید ترین میزائل ملے تو وہ پاکستانی جنگی طیاروں اور میزائیلوں کو پاکستان کی حدود ہی میں تباہ کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ یوں پاکستان کو حاصل ’’ڈیٹرنٹ‘‘ کمزور پڑ سکتا ہے۔

روس کے ساتھ نئے معاہدوں کا بھارت میں زبردست خیرمقدم ہوا۔ کہا گیا کہ بھارت اور روس کے تعلقات نئے دور میں داخل ہو چکے۔ مگر بعض بھارتی دانشور اصل حقیقت بھی بیان کر رہے ہیں… یہ کہ روس نے تجارتی خصوصاً عسکری معاہدے کر کے مودی حکومت کو چارا ڈالا ہے۔ امریکا سے بڑھتی قربت کے باعث روس اپنے دیرینہ ساتھی سے ناراض ہے۔ اب تجارتی وعسکری مال کی پیش کش کر کے روس نے دراصل بھارت کو دوبارہ اپنے دائرہ اثر میں لانا چاہا ہے۔ میزائل فروخت کرنے کی بھی صرف بات ہوئی ہے، ابھی کسی قسم کا معاہدہ بھی انجام نہیں پایا۔

روس نے ترپ چال چل کر گیند بھارت کے کورٹ میں پھینک دی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ امریکیوں کی کٹھ پتلی بن جانے والا نریندر مودی روس کو کیا جواب دیتا ہے۔ اگر وہ روس کی جانب جھکا تو قدرتاً امریکی حکمران اسے شک وشبے کی نظر سے دیکھیں گے۔ سچ یہ ہے کہ برکس اجلاس نے بین الاقوامی سطح پر بھارت کا اثرورسوخ بڑھایا نہیں بلکہ بھارتی حکومت کو ایسے مسئلے میں گرفتار کرا دیا جس کے ایک طرف کھائی ہے تو دوسری طرف جلتا الاؤ!

تبدیل ہوتے علاقائی اور عالمی حالات میں پاکستان چین اور روس کا ساتھی بن کر بین الاقوامی سطح پر نمایاں مقام پا سکتا ہے۔مگر ایسا اسی وقت ممکن ہے جب ہمارا حکمران طبقہ باشعور،عاقل اور مستقبل پہ نظر رکھنے والا ہو۔جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ عموماً حکمرانوں کی توجہ کرسی بچانے پر مرکوز رہتی ہے اور حزب اختلاف کی ٹانگیں کھینچنے پر! لہٰذا ملک وقوم کو ترقی وخوشحالی کی راہ پہ ڈالنے والا وژن اور جوش وجذبہ کہاں سے آئے؟



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔