ان فلموں کے کچھ منظر اور بھی ہیں

اقبال خورشید  اتوار 16 دسمبر 2012
بولی وڈ میں ریلیز ہونے والی حالیہ فلموں سے جُڑے تنازعات اور نتائج پر ایک نظر۔ فوٹو: فائل

بولی وڈ میں ریلیز ہونے والی حالیہ فلموں سے جُڑے تنازعات اور نتائج پر ایک نظر۔ فوٹو: فائل

گہما گہمی ممبئی فلم انڈسٹری کا خاصہ ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا دن گزرتا ہو، جب خوابوں کی اِس نگری سے جُڑی چٹ پٹی، مسالے دار خبریں اخبارات اور ٹی وی چینلز کی زینت نہ بنتی ہوں۔ 

یوں تو پورے سال ہی انڈسٹری میں رونق لگی رہتی ہے، مگر بڑے بینرز کی فلموں کی ریلیز کے سمے تو جیسے بھونچال آجاتا ہے۔ ہر بڑی فلم سنسنی خیز خبروں کو جنم دیتی ہے، جنھیں بڑے ہی چٹخارے دار ڈھنگ سے نشر کیا جاتا ہے۔ گذشتہ ایک ماہ کے دوران بولی وڈ میں تواتر سے ریلیز ہونے والی بھاری بھرکم فلموں کی وجہ سے خاصی ہل چل رہی، جس نے خبروں کی صنعت کو ٹھیک ٹھاک مواد فراہم کیا۔ اِس تحریر میں ایسی ہی چند فلموں اور اُن سے جُڑے تنازعات کا جائزہ لیا گیا۔

٭ ’’سن آف سردار‘‘: شان داررررر مگر۔۔۔

30 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہونے والی فلم ’’سن آف سردار‘‘ دیوالی کے تہورا پر ریلیز ہوئی۔ کامیڈی، ایکشن اور ڈرامے سے بھرپور یہ چٹخارے دار فلم، دو برس قبل آنے والی تیلگو فلم Maryada Ramanna سے ماخوذ تھی۔ ’’سن آف سردار‘‘ ایک بھاری بھرکم کاسٹ کی فلم تھی، جس میں اجے دیوگن، سنجے دت، سوناکشی سہنا، جوہی چاؤلا نے اپنے کردار نبھائے اور علاوہ سلمان خان بھی مہمان اداکار کے طور پر فلم میں نظر آئے۔ اجے دیوگن اِس کے پروڈیوسر تھے۔

فلمی پنڈتوں کے ملے جُلے تبصروں کے باوجود سنیماگھروں میں فلم کا آغاز متاثر کن رہا۔ پہلے دن فلم کی خالص آمدنی یا ’’نیٹ کلیکشنز‘‘ 10.72 کروڑ رہے۔ دوہزار پردوں پر چلنے والی اِس فلم نے، دیسی بکس آفس پر پہلے ہفتے میں 66 کروڑ بٹورے۔ تین ہفتوں میں نیٹ کلیکشنز 105 کروڑ تک جا پہنچے۔ یوں فلم کام یابی سے ’’سو کروڑ کلب‘‘ کا حصہ بنی۔ واضح رہے کہ ’’سو کروڑ کلب‘‘ میں شامل کی جانے والی فلموں کی مجموعی نہیں، فقط خالص آمدنی یا نیٹ کلیکشن پیش نظر رکھے جاتے ہیں۔

’’سن آف سردار‘‘ ایک کام یاب تفریحی تجربہ تھا۔ ’’گول مال تھری‘‘، ’’سنگھم‘‘ اور ’’بول بچن‘‘ کے بعد یہ چوتھا موقع ہے، جب اجے خبروں میں رہنے والے ’’سو کروڑ کلب‘‘ کا حصہ بنے۔ تاہم فلم چند مسائل کا بھی شکار رہی۔اشوانی دہر کی ہدایت کاری میں تیار ہونے والی ’’سن آف سردار‘‘ یش راج بینر کی فلم ’’جب تک ہے جان‘‘ کے ساتھ ریلیز ہوئی تھی۔ اِن بھاری بھرکم فلموں کی ٹکرائو نے باکس آفس پر سال کے سب سے بڑے اور پریشان کن تنازعے کو جنم دیا۔ ریلیز سے قبل ’’سن آف سردار‘‘ فقط پندرہ سو پردے حاصل کر سکی تھی، جس پر اجے دیوگن کا آگ بگولا ہونا فطری تھا۔

اُنھوں نے یش راج فلمز پر کام یابی کے لیے اوچھے ہتھ کنڈے اپنانے کا سخت الزام عاید کرتے ہوئے قانونی جنگ لڑنے کا اعلان کیا، اور ’’کومپیٹشن کمیشن آف انڈیا‘‘ میں ایک درخواست دائر کر دی۔ اِسی اثناء میں ’’جب تک ہے جان‘‘ کے ہدایت کار، یش چوپڑا جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ اِس واقعے سے یش راج فلمز کے لیے جہاں ہم دردی کے جذبے نے جنم لیا، وہیں اجے کے لیے اخلاقی سطح پر مشکلات پیدا ہونے لگیں۔ کمیشن نے بھی اُن کا اعتراض رد کردیا۔ البتہ اجے اِس درخواست کے حق میں دلائل دیتے نظر آئے۔ اُنھوں نے کہا، اِس اقدام کے طفیل اُنھیں مزید پانچ سو پردے مل گئے ہیں۔

یش چوپڑا کے انتقال کے بعد یہ خیال تقویت پکڑنے لگا تھا کہ اُنھیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اجے اپنی فلم کی تاریخ آگے بڑھا دیں گے۔ چند مشترکہ دوستوں کی جانب سے انھیں یہ مشورہ بھی دیا گیا، مگر اُنھوں نے، ٹھوس وجوہات کی بنا پر ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔

خیر، اِس پوری صورت حال نے اجے کی امیج کو ٹھیک ٹھاک نقصان پہنچایا۔ انھیں شکایتاً کہنا پڑا کہ میڈیا اُنھیں ’’ولین‘‘ کے طور پیش کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ اجے نے ’’جب تک ہے جان‘‘ کے پریمیر میں شرکت نہیں کی تھی، اور جواز دیا تھا کہ اُنھیں دعوت نہیں دی گئی۔ ایسے میں اُن کی بیوی، کاجول کی فلم کے پریمیر میں، چُپکے سے شرکت کی خبر نے بھی خاصی توجہ بٹوری، جسے ’’جھوٹی خبر‘‘ قرار دینے کے لیے اجے کو خود سامنے آنا پڑا۔اِس پورے جھگڑے نے مذکورہ فلموں کے ٹکرائو کی ہانڈی میں زبردست تڑکا لگایا، اور دونوں کا موازنہ طے ہوگیا۔

حتمی نتائج دیکھیں، تو ’’سن آف سردار‘‘ تمام تر کام یابی کے باوجود دیسی اور بدیسی بازاروں میں ’’جب تک ہے جان‘‘ سے چند قدم پیچھے نظر آئی۔ واضح رہے کہ بال ٹھاکرے کی موت کے باعث مہاراشٹر میں چند روز سنیما بند رہے تھے، جس سے ’’سن آف سردار‘‘ کو خاصا نقصان ہوا۔ یوں اجے کی فلم ’’ہٹ‘‘ ہونے کے باوجود چرچا کے لیے ایک ’’مگر۔۔۔‘‘ اور افسوس ناک تنازعہ چھوڑ گئی۔

٭ جب تک ہے جان:

یش چوپڑا کا آخری رومانس

اے آر رحمان کی دُھنیں، گلزار کی شاعری، شاہ رخ کی اداکاری، کترینا کا حسن، انوشکا کی شوخیاں۔۔۔ اِن سب کی اہمیت اپنی جگہ، مگر ’’جب تک ہے جان‘‘ کا اہم ترین پہلو تو یہی تھا کہ لیجنڈ تصور کیے جانے والے یش چوپڑا نے اِسے اپنی آخری فلم قرار دیا تھا۔ ایک معنوں میں یہ فلم اُن کی کام رانیوں سے بھرپور سفر کا اختتام تھا۔ اور پھر، فلم کی ریلیز سے چند ہفتوں قبل اُن کی ناگہانی موت نے اِس کی حیثیت دوچند کر دی۔ یش چوپڑا کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے فلم کے پریمیر پر پوری انڈسٹری امڈ آئی۔

ریلیز کے سمے اجے دیوگن کی مسالے دار فلم ’’سن آف سردار‘‘ سے الجھنے والی اِس رومانی کہانی کو، گوکہ ’’لازوال‘‘ قرار نہیں دیا گیا، مگر بیش تر ناقدین کا ردعمل مثبت رہا۔ پہلے دن فلم نے 15 کروڑ اور دوسرے دن 19 کروڑ کا بزنس کیا۔ آنے والے دونوں میں اِسے بال ٹھاکرے کی موت کے بعد پیدا ہونے والے صورت حال کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا، لیکن فلم باکس آفس پر اِس جھٹکے سے جلد ہی ابھر آئی۔ ’’سو کروڑ کلب‘‘ کا حصہ بننے کے بعد لگ بھگ تین ہفتوں میں، دیسی مارکیٹ میں اِس کے نیٹ کلیشنز 120 کروڑ تک جا پہنچنے۔ بدیسی مارکیٹ میں بھی یش جی کے رومانس نے گہرے اثرات چھوڑے، جہاں فلم نے 68 کروڑ کا شان دار بزنس کیا۔ یوں ’’جب تک جان‘‘ بہ طور ہدایت کار یہ یش چوپڑا کی، کاروباری نقطۂ نظر سے، دیسی اور بدیسی مارکیٹ میں کام یاب ترین فلم ٹھہری، اور ’’تھری ایڈیٹس‘‘ اور ’’ایک تھا ٹائیگر‘‘ کے بعد تیسری بڑی ہٹ قرار پائی۔

یہ فلم کنگ خان کی کام یابیوں کی فہرست میں ایک سودمند اضافہ ثابت ہوئی۔ ’’را۔ون‘‘ اور ’’ڈان ٹو‘‘ کے بعد وہ تیسری بار ’’سو کروڑ کلب‘‘ کا حصہ بنے۔یہ فلم دیسی مارکیٹ میں ان کی سب سے بڑی ’’ہٹ‘‘ قرار پائی۔ اِس فہرست میں ’’مائی نیم از خان‘‘ کو شامل کر لیا جائے، تو یہ لگاتار چوتھا موقع ہے، جب شاہ رخ خان کی فلم کی مجموعی آمدنی یا ’’گروس کلیکشنز‘‘ نے 200 کروڑ کی نفسیاتی حد عبور کی۔ واضح رہے کہ اب تک فقط ’’خانز‘‘ ہی کی فلمیں کی مجموعی آمدنی 200 کروڑ تک رسائی حاصل کرسکی ہے۔ سلمان اور شاہ رخ نے تین تین بار یہ کارنامہ انجام دیا۔ عامر گوکہ ایک ہی بار ایسا کر سکے، لیکن اُن کی فلم ’’تھری ایڈیٹس‘‘ کام یابی کے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے 300 کروڑ کی حیران کن حد عبور کر گئی تھی۔

تنقیدی نقطۂ نگاہ سے دیکھا جائے، تو ’’جب تک ہے جان‘‘ یش چوپڑا کی بہترین فلم نہ ہونے کے باوجود، اُن کی کام یاب ترین فلم قرار پائی۔ ناقدین کے نزدیک ’’سن آف سردار‘‘ کے تگڑے بزنس اور بال ٹھاکرے کی موت نے یش چوپڑا کے اِس کارنامے کو تھوڑا گہنا ضرور دیا ہے، مگر روایتی مسالوں سے محروم ایک رومانوی فلم کو باکس آفس پر سنگ میل کا درجہ دینا، یش جی کی بے پناہ قابلیت، ذہانت اور سمجھ بوجھ ہی کا نتیجہ تھا، جس کے لیے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

02

٭ کیا عامر کی ’’تلاش‘‘ موازنے کی نذر ہوگئی؟

یہ عام مشاہدہ ہے کہ باکس آفس پر موازنے کا عمل سپراسٹارز اور اُن کی فلموں کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ اور کبھی کبھار تو اپنی ہی کسی فلم سے موازنہ جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔’’مسٹر پرفیکشنسٹ‘‘ کہلانے والے عامر خان نے تین برس قبل معروف پروڈیوسر، ونو ونود چوپڑا کی، راج کمار ہرانی جیسے ذہین اور باصلاحیت ہدایت کار کی زیرنگرانی تیار ہونے والی فلم ’’تھری ایڈیٹس‘‘ میں اپنے فن کا جادو کچھ اِس طرح جگایا کہ اُن کی حالیہ ریلیز ’’تلاش‘‘ کا موازنہ ’’تھری ایڈیٹس‘‘ سے کیا جانے لگا۔ توقع کے عین مطابق اِس کے نتائج منفی رہے۔

30 نومبر کو ریلیز ہونے والی ریما کگتی کی فلم ’’تلاش‘‘ 40 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہوئی۔ سسپنس اور مسٹری سے بھرپور اِس فلم کے پروڈیوسر عامر خان اور فرحان اختر تھے۔ فلم کے تعلق سے بیش تر ناقدین کا ردعمل مثبت رہا۔ اداکاری، ہدایت کاری، کہانی، تینوں ہی کو سراہا گیا۔ البتہ چند ناقدین نے اِسے ’’ناقابل فراموش‘‘ ماننے سے انکار کرتے ہوئے خامیوں کی بھی نشان دہی کی۔ پہلے دن فلم نے 12.50 کروڑ کمائے۔ تین دن میں اِس کا بزنس 44 کروڑ تک پہنچ گیا۔ بیرون ملک بھی فلم کو شان دار ردعمل ملا۔ چھے دن میں دیسی اور بدیسی مارکیٹ کا مجموعی بزنس 100 کروڑ تک پہنچ گیا۔ توقع کی جارہی ہے کہ فلم دیسی مارکیٹ میں سو کروڑ بٹور کر بڑی فلموں کے کلب کا حصہ بن جائے گی، مگر فی الوقت اِس کی راہ میں اکشے کمار کی فلم ’’کھلاڑی 786‘‘ کھڑی ہے، جو بارہ مسالوں کی ہانڈی ہے۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ واضح ہوتا جارہا ہے کہ معیاری فلم ہونے کے باوجود ’’تلاش‘‘ کے لیے جہاں ’’تھری ایڈیٹس‘‘ کے ریکارڈ تک رسائی ناممکن ہے، وہیں رواں برس ریلیز ہونے والی سلمان، اکشے، شاہ رخ اور اجے کی فلموںکی ہم سری کرنا بھی خاصا مشکل نظر آرہا ہے۔ فلمی پنڈتوں کے مطابق، اِس صورت حال کا اکلوتا سبب موازنے کا ناقص عمل ہے، جس میں بنیادی اصولوں کو مدنظر نہیں رکھا جاتا۔ تجسس سے بھرپور ’’تلاش‘‘ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ یہ اندیشہ بھی ہے کہ اگر آنے والے برسوں میں عامر کی ہر فلم کا موازنہ، ونو ونود چوپڑا کی شہرۂ آفاق فلم ’’تھری ایڈیٹس‘‘ سے جاری رہا، تو یقینی طور پر وہ مشکل میں پڑ جائیں گے۔ عامر کو بھی ریلیز کے چند روز بعد فلم کے دفاع میں یہ کہنا پڑا کہ ’’تلاش‘‘ ایک عوامی فلم نہیں، اور اِس کا موازنہ ’’سنگھم‘‘ اور ’’کھلاڑی 786‘‘ جیسی کمرشیل فلموں سے نہ کیا جائے۔

٭ کھلاڑیوں کا کھلاڑی، اکشے کمار

خطروں کے کھلاڑی، اکشے کمار کو بولی وڈ میں سپراسٹار کا درجہ حاصل ہے۔ 92ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’’کھلاڑی‘‘ سے اُنھوں نے اپنی منفرد شناخت بنائی۔ آنے والے برسوں میں کھلاڑی کے عنوان کو مزید چھے بار برتا گیا۔ بارہ برس پہلے ریلیز ہونے والی ’’کھلاڑی420‘‘ اِس سیریز کی ساتویں فلم تھی۔ 7 دسمبر کو سنیماگھروں کی زینت بننے والی فلم ’’کھلاڑی 786‘‘ میں وہ دوبارہ پرانے روپ میں نظر آرہے ہیں۔ یاد رہے کہ ان بارہ برسوں میں اکشے نے اپنی پوزیشن انتہائی مستحکم کر لی ہے۔ رواں برس ہی اُن کی دو فلموں ’’ہائوس فلم ٹو‘‘ اور ’’روڈی راٹھو‘‘ نے ’’سو کروڑ کلب‘‘ میں شمولیت اختیار کی۔ اُن کی تازہ تر فلم میں بھی کام یابی کے تمام مسالوں کا تڑکا لگایا گیا ہے۔ ستائیس سو پردے کی زینت بننے والی اِس فلم نے پہلے دن 10 کروڑ کی باری کھیلی۔ تین دن میں اِس نے، فقط ہندوستان میں 33 کروڑ کمائے۔ گوکہ فلم کو نیم گرم ردعمل ملا، مگر فلمی پنڈتوں کی اکثریت نے اِسے ایک کام یاب تفریحی فلم قرار دیا ہے۔ کیا اکشے 2012 بار میں تین بار سو کروڑ (خالص آمدنی) کا جادوئی ہندسہ عبور کرکے ایک انوکھا ریکارڈ بنا پائیں گے؟ اِس کے لیے تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا۔

٭ دبنگ ٹو: رواں برس کا آخری دھماکا

رواں ماہ، کرسمس سے تین روز قبل ریلیز ہونے والی سلمان خان کی فلم ’’دبنگ ٹو‘‘ سے خاصی امیدیں وابستہ ہیں۔ واضح رہے کہ 2011 میں ریلیز ہونے والی، ارباز خان کی پیش کش ’’دبنگ‘‘ نے باکس آفس پر ریکارڈ کام یابی حاصل کی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ اِسی فلم نے سلمان کو ناکامیوں کی بھنور سے نکال کر سپراسٹار کے درجے پر فائز کیا، جس کے بعد اُنھوں نے تواتر سے کام یاب فلمیں دیں، اور ’’باکس آف سمراٹ‘‘ کہلائے۔ ’’دبنگ ٹو‘‘ کا جہاں ’’دبنگ‘‘ سے موازنہ کیا جائے گا، وہی رواں برس ریلیز ہونے والی سلمان ہی کی سپر ہٹ فلم ’’ایک تھا ٹائیگر‘‘ کے اعدادوشمار بھی اِس کے لیے چیلینج ثابت ہوں گے۔ البتہ یہ طے ہے کہ یہ فلم کئی ریکارڈ توڑنے والی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔