ارتقا کی مسافتیں

جاوید قاضی  ہفتہ 5 نومبر 2016
Jvqazi@gmail.com

[email protected]

ہم دو نومبر کو کوسوں دور چھوڑ آئے، وقت کا کیا ہے دو دھار کی تلوار کی طرح چلتا ہے، ہاں مگر ارتقائی مسافتیں تھیں جو پار ہوئیں خبر ہم کو دو نومبر کو گھنگھور گھٹا کے نہ آنے سے ہوئی کہ ماحول اتنا ابر آلود نہیں۔ ابھی ’’عزیز ہم وطنو‘‘ کی بات نہیں، ہمارے محکمہ موسمیات کی طرح، سیاسی پنڈتوں و پرانوں کی پیش گوئیاں  غلط نکلیں اور جمہوریت سرخرو ہوکر پھٹ پڑی۔

تاریخ میں رقم ہے جب بھی ’’شب خوں‘‘ ہوا کورٹ نے اس پر مہر رسید کی۔ اس بار کورٹ نے بیچ میں آکے ایک طوفان کو ٹال دیا۔ یوں دیکھا تو جائے گا مگر یوں نہ تھا، صرف دیکھنے میں مگر یوں آیا؟ خیر جو نظر آیا وہ بھی سچ ہے اور اسے سراہا جائے مگر سچ یہ بھی ہے کہ ہم شب خوں کے زمانوں سے نکل آئے اور یہ سب ارتقا کا کھیل ہے، بہت سست، بہت طویل، بہت کٹھن تھی راہ گزر مگر اب ہم کسی اور دوراہے پر ہیں، ایک ایسی جگہ جہاں جمہوریت کے ارتقا کے پہلے زینوں پر ’’سول آمر‘‘ جنم لیتا ہے امیر المومنین والا سول آمر، روٹی، کپڑا اور مکان والا سول آمر۔

عمران خان نواز شریف کے خلاف اس حد تک نہیں گئے جس حد تک ذوالفقار علی بھٹو شیخ مجیب کے خلاف گئے تھے۔ اور پھر ہوا کیا ’’ہم جو تاریک راہوں پہ مارے گئے‘‘ بھٹو خود سولی نہ چڑھے پورا خاندان  اجل کے ہاتھ لگا۔ بھٹو کا کردار جو تبدیل ہوا تھا ایوب آمر کی کوکھ سے نکلا۔ بھٹو جب عوام میں جھومنے لگا تو اس وقت نہ امریکا کو اچھا لگا نہ امریکا پٹھو جو جہاں تھے ان کو اچھا لگا۔

میاں صاحب کا کیا ہے گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہیں ہاں مگر مینڈیٹ تو ہے۔ بات میاں صاحب کی نہیں بات مینڈیٹ کی ہے ، خیریت اب کے بار مردم شماری کیے بغیر مینڈیٹ خود ایک فراڈ ہوگا۔ نئے حلقے بننے ہیں۔ خود جس طرح سے الیکشن کمیشن بے چارگی کی وبا میں غلطاں ہیں اسے اور آزاد ہونا ہے خود جو نگراں حکومت کا ڈھکوسلا ہے اسے خود ارتقا کے زینوں سے پار ہونا ہے اور ہماری افسر شاہی ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کی مانند ہے۔ آمریت نہ ہوگی تو سندھ میں زرداری آمر ہوگا اور وفاق و پنجاب میں میاں صاحب مع اہل و عیال۔

یہ بھی جمہوریت ہے کہ ان پارٹیوں میں خاندانوں کی اجارہ داریاں ہیں اور جو ان سے وفادار نہیں ان کی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں اور جب جگہ نہیں تو اقتدار میں بھی جگہ نہیں۔ بے چارہ سندھ کا وڈیرہ کہاں جائے، کل تک تو آمریتیں بھی حقیقتیں تھیں اور آج نہ وہ پیر صاحب پگارا ہیں نہ دور دور تک آمریت کی خبر ہے۔ سندھ کے وڈیرے کوئی اینکر تھوڑی ہیں جو سب کچھ داؤ پر لگا دیں۔ اقتدار ان کا روٹی و پانی ہے۔

کل تک تو یہ تھا کہ جو بھٹو کو چھوڑتا تھا وہ تاریخ ہوجاتا تھا کیونکہ عوام ان کے ساتھ تھی اور آج جو زرداری کو چھوڑے گا وہ بھوکا مرے گا اور سارے وڈیرے قطار در قطار ان کے پیچھے ہیں۔ یہ ہیں ارتقا کی دلچسپ جاگیردارانہ مسافتیں۔ یہ ہے جمہوریت کے پہلے زینے۔ ’’غمگین ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے‘‘ اس میں جمہوریت کا تو کوئی قصور نہیں۔ ہر جگہ اسی طرح ہوا ہے۔ اب پاکستان کو ادارے چاہئیں۔ اور بالآخر جو کام کل جنرل کاکڑ بیچ میں آکر کرتے تھے صدر اسحق و میاں صاحب کو رخصت کرواتے تھے وہ کام آج آج عدالت کے سر آن پڑا ہے۔ اصول وہی ہے حقائق الگ الگ۔

پاناما کمیشن کی پڑی پٹیشن سے ہٹ کر جو خان صاحب کو گراؤنڈ تک محدود رکھا وہ کام ایک آربیٹریٹر کی حیثیت میں کورٹ نے کیا اور دونوں پارٹیوں نے کورٹ کا احترام کیا۔ یہ کورٹ کا دائرہ کار یا جورسڈکشن نہیں تھی اور یہ بھی حقیقت کہ اعلیٰ عدالتیں خود اپنی جورسڈکشن کا تعین کرتی ہیں اور بالآخر آرٹیکل 184(3) کے تحت کورٹ مفاد عامہ میں رٹ جورسڈکشن میں ایک کمیشن بنے گا اور پانامہ سے بہت کچھ نکلے گا تاریخ میں کرپشن کا پہلا کیس جس نے جمہوریت کو ڈوبنے سے تو بچایا مگر جمہوریت کی آڑ میں بیٹھے جمہوریت نواز کو نہ بچا سکے گی۔

جنرل راحیل کو کوئی کچھ  بھی کہے مگر اب وہ جانے والے ہیں۔وہ فوٹو جو شاہراہوں کی زینت بنے کہ ’’جانے کی بات نہ کرو‘‘ ان سے خود جنرل راحیل نے انکار کیا۔ حالانکہ وہ گیت بہت مشہور تھا کہ ’’آج جانے کی ضد نہ کرو‘‘، مگر وہ ایک پروفیشنل سولجر تھے جس نے پاکستان کے لیے ایک خاندان کی حیثیت میں قربانیاں دی ہیں۔

یوں لگا تھا کہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ ایک ہی پیج پر ہیں ۔ جب پرویز رشید کو رخصت اس دن کیا جس دن اس نے عمران خان کو رخصت کرنے کا دعویٰ کیا۔ بہرحال عمران خان ایک سیاستدان ہیں۔

خان صاحب کا جتنا تجربہ کرکٹ پر ہوگا اتنا سیاست میں نہیں۔ لیکن ان کے پاس بغیر چور دروازے کے وزیر اعظم بننے کا موقع ہے۔ وہ اس پر انحصار کریں گے اور یہ بھی سچ ہے کہ جتنا تحرک رکھنے والے کارکن آج کل ان کی پارٹی میں ہیں اتنا تو آج کل کسی پارٹی میں نہیں۔ جتنا اسٹریٹ پاور ان کے پاس ہے اتنا اسٹریٹ پاور تو کسی کے پاس نہیں اور ان کی پارٹی خاندان کی میراث  بھی نہیں۔

کچھ لوگ جمہوریت کی آڑ میں ان جمہوریت پہ اجارہ داری رکھنے والے خاندانوں کی چمچہ گیریوں میں لگ جاتے ہیں۔ وہ اس سے دریغ کریں اور وہ جو سب لکیریں پار کرکے کرپٹ حکمرانوں کے خلاف نکلتے جمہوریت کو بھی رگڑ جاتے ہیں وہ بھی کوئی صحت مند بات نہیں۔

جمہوریت اور پاکستان میں جب تک چولی اور دامن کا رشتہ نہ ہوگا تب تک یہ ریاست ماڈرن ریاست نہیں بنے گی۔

مستحکم اداروں کے بغیر خود جمہوریت بے معنی ہے۔ اور اس ساری حقیقت میں جو مستحکم ادارے ہیں ان کو اور اداروں کو مستحکم کرنا ہوگا ، اس سلسلے میں سب سے زیادہ کلیدی کردار کورٹ ادا کرسکتی ہے۔ لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کے لیے خود کورٹ کا ججز کی تقرری کے طریقہ کو اور شفاف بنانا پڑے گا۔

بیس کروڑ کی آبادی پر مشتمل یہ ملک ہے اور ادارے نہیں ہیں۔ کیا المیہ نہیں، جس طرح فیض کہتے ہیں ’’نہ دید ہے نہ سخن اب  نہ حرف ہے نہ پیام ،کوئی بھی حیلہ تسکیں نہیں اور آس بہت ہے‘ امید یار، نطر کا مزاج درد کا تنگ ، تم آج کچھ بھی نہ پوچھو کہ دل اداس بہت ہے‘‘ ۔ پاکستان بچوں کے اسکول میں داخلے کے تناسب سے دنیا کا بدترین ملک ہے۔ عورتوں کے برابری کے حقوق کے حوالے سے دنیا کا بدترین ملک ہے۔

دنیا کے دس پست ترین ممالک میں ہوگا پاکستان اگر اسے HDI یعنی انسانی ترقی کے انڈیکیٹر کے زاویے سے دیکھا جائے گا۔ یہ ملک قانون کی حکمرانی چاہتا ہے ۔ وہ قانون جو خود انصاف کے تقاضوں کو پورا نہ کرے وہ خود قانون نہیں۔ قانون کی حکمرانی یعنی آئین کی حکمرانی۔ آئین کی حکمرانی کے معنی آئین میں پڑے بنیادی حقوق کا یقینی تحفظ۔

ارتقا کی مسافتیں ہیں جو پار کرنی ہیں اور اپنے عہد کے سچ کو گا کے گزر جانا ہے کہ آیندہ کی نسلوں کو کچھ ہمارا اچھا بویا ہوا ملے۔ ارتقا کی مسافتیں معنی آزاد عدلیہ، خاندانوں کی اجارہ داری سے پاک سیاسی پارٹیاں اور اسٹیبلشمنٹ کو خود یہ بات مان لینی چاہیے۔ جمہوریت اور پاکستان دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔