اُردِش

شیخ جابر  پير 17 دسمبر 2012
shaikhjabir@gmail.com

[email protected]

پانچویں عالمی اردو کانفرنس گزشتہ دنوں اپنے اختتام کو پہنچی۔کانفرنس نے متفقہ طور پر یہ قراردادمنظور کی کہ اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دیا جائے۔دیکھنے میں آرہا ہے کہ اِس قِسم کی قراردادیں اور مطالبات اپنی وقعت کھو بیٹھے ہیں۔یہ نظر انداز کر دیے جانے والے معمول کے مطالبات بن کر رہ گئے ہیں۔شاید اِس لیے بھی کہ مطالبہ کرنے والے اور جِن سے مطالبہ کیا جا رہا ہے، کوئی بھی اِس معاملے میں سنجیدہ نظر نہیں آتا۔اِس طرح کے مطالبات عام طور پر شاعروں اورادیبوں کی طرف سے سامنے آتے ہیں۔آپ ذرا اُن کی زندگیوں کا جائزہ لیں۔آپ کو وہاں کہیں بھی اُردو نظر نہیں آئے گی۔

اُن کی روزمرہ، اُن کی بول چال،اُن کا رہن سہن،طرزِ بود وباش یہاں تک کہ اُن کے بچوں کی تعلیم تک آپ کو قومی زبان سے دور نظر آئے گی۔یہ مطالبہ کرنے والے ایسے ادیب بھی ہیں کہ جِن کی نئی نسل اُردو لکھ نہیں سکتی۔وہ خود اُردو میں گفتگو کرتے ہوئے بے تکلف انگریزی کے الفاظ بولتے چلے جاتے ہیں۔ اُردو زبان سے سنجیدہ افراد کے کیا یہی رویے ہوا کرتے ہیں؟ آج بہ کثرت ایسی نظمیں کہی جا رہی ہیں جن میں کئی کئی سطریں انگریزی کی گھسیٹی جا رہی ہیں۔نظموں کے عنوان انگریزی میں رکھے جاتے ہیں۔کیا ایسا فروغِ اُردو کے لیے کیا جاتا ہے، یا اُردو کا دامن اتنا تنگ ہے کہ وہ عام سے الفاظ کا متبادل بھی نہیں رکھتا؟مثال کے طور پر ایک نظم کا عنوان انگریزی میں درج کیا گیا ’’لاسٹ دسمبر‘‘نظم جیسی بھی رہی ہو کیا اُردو میں ایسا عنوان نہیں کہا جا سکتا ؟

مشفقی رفیق احمد نقش کے ہمراہ ضمیر نیازی صاحب کے درِ دولت پر حاضری کا اتفاق ہوا۔مرحوم نے بڑے دکھ سے فرمایا تھا کہ اب اُردو روزناموںکو بھی اپنے لیے اُردو نام نہیں ملتے۔انھیں کیا خبر تھی کہ اردو ادب کے ایسے رسائل نکلنا ابھی باقی ہیں کہ جن کے نام انگریزی میں ہوں گے۔مثلاً ’’سمبل‘‘ اور ’’کولاژ‘‘ وغیرہ۔اخبارات کو دیکھیے تو اخبارات نے اردو گنتی کو تو متروکات میں شامل کر دیا ہے۔کم و بیش یہی حال ادبی رسائل و کتب کا بھی نظر آتا ہے۔اخبارات نے مخصوص اشاعتوں کے لیے لفظ ’’ایڈیشن‘‘ اختیار کر لیا ہے۔ مِڈ ویک میگزین، سنڈے میگزین اور اسپیشل وغیرہ عام اختیار کیے جانے والے الفاظ ہیں۔حالانکہ انگریزی لفظ’’میگزین‘‘ خود عربی کے مخزن سے مستعار ہے۔ مخزن اردو میں بھی مستعمل ہے۔آخر اردو ترکیب وضع کرنے اور استعمال کرنے میں کیا قباحت ہے؟ الیکٹرانک میڈیا نے تو اردو کی جو گت بنائی ہے،الامان۔تلفظ اور لہجے کا تو خیر کہنا ہی کیا انگریزی کی آمیزش سے جو زبان بولی جاتی ہے وہ ’’اُردِش‘‘ تو ہو سکتی ہے اردو نہیں۔

اب آئیں !جائزہ لیتے ہیں اربابِ اقتدار کا کہ جِن سے اردو کے نفاذ کی توقعات وابستہ کی جاتی ہیں۔قیامِ پاکستان سے اب تک اِس طبقے کے بیش تر افراد کا اردو سے دور کا تعلق بھی نظر نہیں آتا۔نہ ہی ان کے رویوں سے کبھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں اردو سے کوئی دل چسپی ہی ہے۔اِلا یہ کہ 1973ء کے متفقہ آئین کی شق251(الف) کے تحت اُردو کا مکمل نفاذ بہ طور سرکاری زبان پندرہ برس میں مکمل ہوجانا چاہیے تھا۔لیکن افسوس کہ اِس جانب کوئی توجہ نہ دی گئی۔آج ایک طویل عرصہ گزرنے کے بعد رہی سہی امید بھی معدوم ہوتی چلی جا رہی ہے۔اربابِ اقتدار اور اشرافیہ کا قومی زبان سے تعلق کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ 2010میں چین کے وزیرِاعظم ’’وین جیا باؤ‘‘ نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔اِس دوران آپ نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے بھی خطاب کیا۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ وین جیا باؤ نے کس زبان میں خطاب فرمایا ہوگا۔

آپ کا خطاب چینی زبان میں تھا۔خطاب کا آغازآپ نے تمام افراد کو اردو میں مخاطب کر کے کیا، اور آپ کے اختتامی کلمات تھے،’’ پاک چین دوستی ، زندہ باد‘‘۔ خطاب کا آغاز اور اختتام اردو میں تھا۔ چونکہ ہماری قومی زبان اُردو ہے۔اور اب یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں رہ جاتی کہ ہمارے قوم کے رہنماؤں نے کس زبان میں خطاب فرمایا۔محترم چواین لائی (1998-1976)کا مشہور واقعہ ہے۔آپ ایک ایسے وفد سے گفتگو کر رہے تھے جن کی مادری زبان انگریزی تھی ۔ چو این لائی کی اپنی انگریزی بھی اچھی تھی۔لیکن آپ نے وفد سے خودگفتگو کرنے کے بجائے مترجم کے ذریعے بات کی ۔ کئی مواقعے پر ایسا ہوا جب چو این لائی نے مترجم کو ٹوک کر اُس کی تصحیح کی۔کسی نے ذکر کیا کہ جب آپ انگریزی پر اتنا عبور رکھتے ہیں تو انگریزی ہی میں گفتگو کیوں نہیں فرماتے۔آپ نے کہا’’ چین گونگا نہیں ہے‘‘۔ بلا شبہ یہ الفاظ آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔

ماؤزے تُنگ بھی انگریزی جانتے تھے لیکن اپنی قومی زبان سے اُنسیت کا یہ عالم تھا کہ اگر کوئی انگریزی لطیفہ سُن پاتے تو اُس وقت تک نہیں مسکراتے تھے جب تک کہ اُس کا ترجمہ گوش گزار نہ کر دیا جائے۔یہ اُن افراد کی باتیں ہیں کہ جن میں قومی غیرت اور حمیت کوٹ کوُٹ کر بھری ہوئی تھی۔ چین سے اکثر طالب علم اپنی اردو کی استعداد میں اضافے کے لیے پاکستان آتے ہیں۔ایسے ہی ایک عالب علم نے واپس لوٹتے ہوئے کہا کہ میں آیا تو اپنی اردو کی درستی کے لیے تھا لیکن یہاں آکر میری انگریزی درست ہو گئی۔کیا ہمارے ہاں ایسی کوئی ایک آدھ ہی مثال نظر آتی ہے؟ شنید ہے کہ انگریزی کی تعلیم پہلی جماعت سے پڑھانے کایا تو آغاز ہو گیا ہے یا ہونے کو ہے۔نجی اسکولوں میں تو یہ سلسلہ عرصے سے جاری ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کسی ملک نے اپنی قومی زبان کے علاوہ کسی اور زبان میں تعلیم حاصل کرکے ترقی کی ہے؟تعلیمی نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کوئی بھی طالب علم اپنی مادری زبان ہی میں سب سے بہتر تعلیم حاصل کر سکتا ہے۔غیر ملکی زبان میں تخلیقی کام ممکن نہیں۔

یہ ہی سبب ہے آج تک انگریزی میں تعلیم دینے والے پاکستانی ادارے عالمی سطح پر کوئی بھی جوہرِ قابل پیدا نہ کر سکے۔ تمام یورپی ممالک، روس، چین ،جاپان وغیرہ نے بغیر انگریزی کے تمام تر ترقی کی ہے۔آخر ہمارے لیے ہی ایسا کیا ضروری ہے کہ ہم بغیر انگریزی کے کچھ نہیں کر سکیں گے۔بعض افراد کا یہ خیال ہے کہ فلسفہ ،سائنس، طب وغیرہ کی تعلیم اردو میں دینا ممکن نہیں۔ یہ سب تجربات سو برس قبل کامیابی سے ہو چکے ہیں۔1908ء میں حیدرآباددکن میں وہاں کے ساتویں اور آخری نظام میر عثمان علی خان نے جامعہ عثمانیہ کی بنیاد رکھی۔یہاں کا ذریعہ تعلیم اردو تھا اور یہاں فلسفہ ،سائنس، طب وغیرہ سب کی تعلیم اردو میں دی جاتی تھی۔یہ ایک کامیاب تجربہ تھا۔آج جدید علوم و فنون اردو میں کیوں نہیں پڑھائے جا سکتے ؟ شاید ہم آج تک ذہنی غلامی سے نجات حاصل نہیں کر سکے۔

ہم نے من حیث القوم غلط طور پر یہ سمجھ لیا ہے کہ انگریزی کے بغیر ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ہم میں سے ہر فردگوروں کی نقالی کرنے اور خواہ غلط سلط ہی سہی انگریزی بولنے کو اپنے لیے باعثِ افتخار سمجھتا ہے۔میں آج کی ماؤں کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہوں جو معصوم بچوں کو ’’اُردش‘‘ سکھا رہی ہیں۔ اگر آپ کی خواہش ہے کہ آپ کا بچہ انگریزی بولے تو اِس خواہش میں کوئی قباحت نہیں۔آپ اُس سے صرف انگریزی میں گفتگو کیجیے۔لیکن خدارا آدھا تیتر آدھا بٹیر نہ کریں۔بچے نے ماں سے کہا امی سیب دے دیں۔والدہ محترمہ فرما رہی ہیں’’ نو بیٹا، سیب نہیں ایپل۔‘‘یہ کیا طریقہ ہے؟انگریزی بولنی ہے تو انگریزی بولیے۔لیکن اردو کی تو ٹانگ نہ توڑیں۔ ہم میں سے کتنے ہی افراد ہیں جنھیں درست اردو بولنا تو معیوب لگتاہے۔ البتہ غلط سلط اور ملی جلی انگریزی بڑے فخرسے بولتے ہیں۔

کسی قوم نے آج تک قومی زبان چھوڑ کر کسی دوسری زبان میں ترقی کا سفر طے نہیں کیا۔غلامانہ رویوں اور ذہنوں کے ساتھ زوال کا سفر تو ہو سکتا ہے، عروج کا نہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔