طلبا کا سمندری لہروں سے بجلی پیدا کرنے کا تجربہ کامیاب

کاشف حسین  منگل 18 دسمبر 2012
ہائیڈرولک ٹربائن کے ذریعے سمندر ی لہروں سے بجلی پیدا کرنے کا تجربہ کیا جارہا ہے۔ فوٹو : ایکسپریس

ہائیڈرولک ٹربائن کے ذریعے سمندر ی لہروں سے بجلی پیدا کرنے کا تجربہ کیا جارہا ہے۔ فوٹو : ایکسپریس

کراچی: پاکستانی طلبا نے ملک پر چھائے تاریکی کے بادل ہمیشہ کے لیے دور کرنے کا آسان اور دیرپا حل تلاش کرلیا ہے۔

پاکستان نیوی انجینئرنگ کالج کے طلبا نے سمندر کی منہ زور لہروں سے بجلی پیدا کرنے کا کارنامہ انجام دیا ہے، ویو انرجی کو استعمال کرتے ہوئے ہائیڈرولک ٹربائن چلانے کا تجربہ کامیاب ہوگیا ہے،یہ پراجیکٹ پاکستان نیوی انجینئرنگ کالج، NUSTکے ڈین آف انجینئرنگ سائنس ڈاکٹر شفیق الرحمن کی نگرانی میں مکمل کیا گیا اور گذشتہ ماہ منوڑہ کے ساحل پر ویوانرجی سے 60 واٹ فی سیکنڈ بجلی مسلسل حاصل کی گئی، ڈاکٹر شفیق الرحمٰن نے ’’ایکسپریس‘‘ کو بتایا کہ سمندر کی لہروں سے زیادہ ایڈوانس طریقے سے ہائیڈرولک پریشر بناکر ٹربائن چلانے کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے یہ طریقہ لہروں کی آمد میں وقفے کے باوجود ایک accumulator میں جمع شدہ پریشر کے ذریعے مسلسل بجلی فراہم کرتا ہے، انھوں نے بتایا کہ پاکستانی سمندری حدود میں ہر ایک میٹر کی لہر سے 15 کلو واٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے عموماً کراچی کے ساحل پر ڈیڑھ منٹ بعد دوسری بڑی لہر آتی ہے۔

4

ہائیڈرولک پریشر کے ذریعے لہروں کے درمیان دو سے ڈھائی منٹ کا وقفہ ہونے کی صورت میں بھی یکساں مقدار میں تسلسل کے ساتھ بجلی مہیا کی جاسکتی ہے،انھوں نے بتایا کہ آزمائشی پراجیکٹ پر 80 ہزار روپے کی لاگت آئی ہے پراجیکٹ کی تمام فیبریکیشن، ڈیزائن اور اینالسس پاکستان نیوی انجینئرنگ کالج میں کی گئی انھوں نے بتایا کہ ویوانرجی کا موازنہ لاگت کے لحاظ سے ونڈ انرجی سے کیا جاسکتا ہے تاہم اس طریقے سے بڑے پیمانے پر بجلی پیدا کی جاسکتی ہے جس پر پیداواری لاگت کم ہوگی،سمندر کی لہروں سے بجلی پیدا کرنے کا طریقہ ملک میں چلنے والے پاور پلانٹس کے مقابلے میں استعداد کے لحاظ سے سب سے بہتر ہے،کالج کے آزمائشی پراجیکٹ کے ذریعے سمندر کی لہروں کی 68 فیصد طاقت ہائیڈرولک پریشر میں تبدیل کرلی گئی جس میں سے 40 فیصد انرجی سے بجلی پیدا کی گئی۔

آزمائشی پراجیکٹ میں ایک فائبر گلاس buoy استعمال کیا گیا اگلے مرحلے میں ایک سے زائد buoy نصب کرکے زیادہ پریشر حاصل کرنے کی کوشش کی جائیگی، انھوں نے بتایا کہ منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریز (OIC)سے مدد لی جارہی ہے، اس پاور پلانٹ کی عمر 75سال تک ہوسکتی ہے اور زمین پر زیادہ بڑے انفرااسٹرکچر اور اراضی کی بھی ضرورت نہیں ہے اس طریقے سے 15لاکھ کی سرمایہ کاری سے 10کلو واٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔