اور ہیلری کلنٹن صدر بن گئیں ؛ امریکا کے انوکھے انتخابی نظام کی دلچسپ روداد

سید عاصم محمود  منگل 15 نومبر 2016
امریکا کو عموماً وہ دیس کہا جاتا ہے جہاں جمہوریت پھلی پھولی اور انسانی حقوق کے مطالبے نے نشوونما پائی فوٹو : فائل

امریکا کو عموماً وہ دیس کہا جاتا ہے جہاں جمہوریت پھلی پھولی اور انسانی حقوق کے مطالبے نے نشوونما پائی فوٹو : فائل

جی ہاں، امریکی الیکشن میں شکست کھانے کے باوجود ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار، ہیلری کلنٹن اب بھی امریکی صدر بن سکتی ہیں۔ یہ کرشمہ جنم لینے کی شرط یہ ہے کہ الیکٹورل کالج کے زیادہ ووٹ انہیں مل جائیں۔ آگے بڑھنے سے قبل اس عجیب وغریب ادارے کا تعارف ہوجائے۔جب امریکا آزاد ہوا، تو 1787ء کے آئینی کنونشن میں ایک کمیٹی بنائی گئی جس نے امریکی صدر کے الیکشن کا طریق کار وضع کرنا تھا۔ تب عام خیال یہ تھا کہ عوام ہی نیا صدر منتخب کریں یعنی جو امیدوار زیادہ ووٹ لے، وہ نیا حکمران بن جائے۔ مگر کمیٹی میں شامل جنوبی امریکا کی ریاستوں کے نمائندوں نے مسئلہ کھڑا کردیا۔

جنوبی امریکا میں سفید فام جاگیردار، زمین دار وغیرہ بکثرت آباد تھے۔ یہ سبھی نسل پرست اور متعصب تھے۔ انہوں نے ہزارہا سیاہ فام اور ایشیائی غلام رکھے ہوئے تھے جن کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا۔ مگر مغربی امریکا کی ریاستوں میں تاجر، کاروباری اور کارخانے دار بستے تھے۔ اس خطّے میں امریکیوں کی اکثریت شہروں میں آباد تھی جو تعلیم عام ہونے کے باعث انسانی حقوق سے بتدریج آشنا ہورہے تھے۔ لہٰذا وہاں اب سیاہ فاموں کو کچھ حقوق ملنے لگے تھے۔

جنوبی امریکی ریاستوں میں مقیم امریکی لیڈروں کو خطرہ تھا کہ مستقبل قریب میں مغربی امریکی ریاستیں سیاہ فاموں کو ووٹ ڈالنے کا حق بھی دے سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں قدرتاً مغربی امریکا کی ریاستوں کے ووٹ زیادہ ہوجاتے۔ چناںچہ ہر بار اسی علاقے کا صدر منتخب ہوتا اور یہ جنوبی امریکا کے لیڈروں کو قبول نہ تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ مغربی امریکہ سے تعلق رکھنے والا صدر اپنے خطے میں ہی سارے ترقیاتی کام کرائے گا۔غرض انھوں نے عوامی الیکشن سے صدر کے انتخاب کا طریق کار نامنظور کردیا۔ طویل بحث و مباحثے کے بعد طے پایا کہ ہر ریاست کے مخصوص’’معززین‘‘ امریکی صدر کا انتخاب کریں گے۔ ان معززین کا انتخاب الیکشن لڑنے والی پارٹیوں نے کرنا تھا۔

امریکا کو عموماً وہ دیس کہا جاتا ہے جہاں جمہوریت پھلی پھولی اور انسانی حقوق کے مطالبے نے نشوونما پائی۔ تاہم سچ یہ ہے کہ بانیان امریکا نے عوام سے غداری کرتے اور انہیں بے وقوف بناتے ہوئے امریکی صدر منتخب کرنے کا اختیار مٹھی بھر معززین کے حوالے کردیا۔ بیشتر امریکی عوام اب بھی یہی سمجھتے ہیں کہ نیا صدر ان کے ووٹوں سے بنتا ہے۔درحقیقت اسے منتخب کرنے کا اختیار معززین کے ہاتھوں میں ہے جنہیں ’’الیکٹرز‘‘(electors) کہا جاتا ہے۔ ان کا مجموعہ ہی ’’الیکٹرول کالج‘‘ کہلاتا ہے۔جب کہ ان کے ووٹوں کو ’’الیکٹرول ووٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ہر صدارتی الیکشن میں امریکی عوام دراصل انہی الیکٹرز کو ووٹ دیتے ہیں،امیدوار کو نہیں!

جنوبی امریکا کے لیڈروں کو یہ بھی خوف تھا کہ کانگریس (امریکی پارلیمنٹ) میں شہری علاقوں کے روشن خیال اور ترقی پسند امیدواروں کی کثرت ہوگی۔ (امریکا میں شروع سے شہری علاقوں کی آبادی زیادہ ہے) چناں چہ وہ غلامی اور جاگیرداری کے خلاف قوانین بناسکتے تھے۔ لہٰذا کانگریس میں اپنی اچھی خاصی موجودگی یقینی بنانے کے لیے انہوں نے لڑجھگڑ کر نشستوں کا ایسا فارمولا تیار کرایا کہ ہر ریاست سے کم از کم ایک سینٹر اور ایوان نمائندگان (قومی اسمبلی) کے دو ارکان ضرور لیے جائیں۔ یوں امریکی جاگیرداروں اور زمین داروں نے اپنے مفادات کو تحفظ کیا۔

امریکی صدر کا طرز الیکشن بنانے والی کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ہر ریاست سے کانگریس کے جتنے ارکان منتخب ہوتے ہیں، وہ اتنے ہی الیکٹرز بھی رکھے گی۔ چناں چہ آج امریکی کانگریس کے 535 ارکان ہیں یعنی ایوان نمائندگان کے 435 اور سینٹ کے 100 رکن! گویا الیکٹرز کی تعداد بھی 535 ہے۔ تاہم اس میں امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے تین الیکٹرز بھی شامل کیے جاتے ہیں۔ یعنی الیکٹرز کی کل تعداد 538 ہے۔صدارتی الیکشن سے قبل دونوں امریکی پارٹیاں ریاستوں میں الیکٹرز کا انتخاب کرتی ہیں۔ یہ عموماً پارٹیوں کے انتہائی وفادار لیڈر ہوتے ہیں۔ناقابل اعتماد الیکٹر تو ووٹ ڈالتے ہوئے بے وفا ہو سکتے ہیں۔اکثر ریاستوں میں بیلٹ پیپر پر صدارتی امیدوار کے نام کے نیچے الیکٹرز کا نام بھی درج ہوتا ہے۔

درج بالا حقائق سے عیاں ہے کہ امریکا میں الیکٹرول کالج کا ادارہ اس لیے تخلیق کیا گیا تاکہ وہ خصوصاً سفید فام جاگیرداروں اور تاجروں کے مفادات کو تحفظ دے سکے۔ مگر اب یہ دونوںطبقے امریکا میں تقریباً ختم ہوچکے۔ اسی لیے امریکیوں کی بڑی تعداد چاہتی ہے کہ الیکٹرول کالج ختم کردیا جائے تاکہ عوام کو براہ راست صدر منتخب کرنے کا حق مل سکے۔ الیکٹرول کالج تو ان کا حق مارنے کی ایک چال تھی جس سے امریکی اسٹیبلشمنٹ کے ’’معززین‘‘ اب بھی اپنے مفادات حاصل کررہے ہیں۔

الیکٹرول کالج کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس نے بعض امریکی ریاستوں کو غیر ضروری اہمیت دلا دی ہے۔ پچھلے دو سو برس میں مغربی امریکا اور جنوب مشرقی امریکا کی بعض ریاستیں ڈیموکریٹک پارٹی کے سکّہ بند گڑھ بن چکے۔ جبکہ جنوبی اور مشرقی امریکا کی ریاستوں میں ریپبلکن پارٹی کا غلغہ بلند ہے۔ تاہم کچھ امریکی ریاستوں کے باشندے کبھی ڈیموکریٹک اور کبھی ریپبلکن پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں۔ انہیں ’’سوئنگ ریاستیں‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان میں فلوریڈا، پنسلوانیا، اوہایو، شمالی کیرولینا، مشی گن، ورجینیا، وسکونسن، مینیسوٹا اور آئیوا نمایاں ہیں۔

اب ڈیموکریٹک اور ری پبلکن امیدواروں کو پہلے ہی علم ہوتا ہے کہ وہ فلاں ریاستوں سے باآسانی جیت جائیں گے۔ چناںچہ وہ سوئنگ ریاستوں میں زور و شور سے اپنی انتخابی مہم چلاتے ہیں تاکہ وہاں کے باشندوں کو اپنے نظریات اور شخصیت سے متاثر کرسکیں۔ تب وہاں کے لوگوں سے وعدے بھی کیے جاتے ہیں۔ یوں سوئنگ ریاستوں کو ہر صدارتی الیکشن میں غیر معمولی اہمیت مل جاتی ہے۔ جبکہ بقیہ ریاستوں کے عوام کو امیدوار عموماً گھاس تک نہیں ڈالتے۔لہذا ان ریاستوں کے بہت سے لوگ صدارتی الیکشن میں دلچسپی نہیں لیتے اور نہ ہی ووٹ ڈالتے ہیں۔

الیکٹرول کالج کا دوسرا بڑا نقصان یہ ہے کہ امیدواروں کی ساری توجہ اس بات پر مرکوز رہتی ہے کہ کیونکر اتنے الیکٹرول ووٹ (270) مل جائیں کہ وہ وائٹ ہاؤس میں پہنچ سکیں۔ لہٰذا ان کی انتخابی مہم کا سارا زور 270 الیکٹرز جیتنے پر مرکوز رہتا ہے جبکہ عوام کو درپیش بہت سے مسائل اجاگر نہیں ہوپاتے۔ کئی ریاستوں میں عوام اور امیدواروں کے مابین تال میل بھی جنم نہیں لے پاتا۔

اس انوکھے امریکی انتخابی ادارے کا اہم ترین نقصان یہ ہے کہ کبھی کبھی ایک امیدوار عوام کے ووٹ تو کم پاتا ہے، مگر الیکٹرول ووٹ زیادہ جیت کر صدر بن جاتا ہے۔ ایسا پہلی بار 1876ء کے صدارتی الیکشن میں ہوا۔ ڈیموکریٹک امیدوار، سیموئیل ٹلڈن نے بیالیس لاکھ اٹھاسی ہزار ووٹ پائے جبکہ ری پبلکن امیدوار ردفورڈ ہینز چالیس لاکھ چونتیس ہزار ووٹ ہی پاسکا۔ تاہم ردفورڈ ہینز صرف ایک الیکٹرول ووٹ کے فرق سے نیا صدر بن گیا۔ اس کے 185 الیکٹرز تھے جبکہ ٹلڈن 184 الیکٹرز ہی جیت سکا۔

1876ء کے بعد 1888ء، 2000ء اور 2016ء کے صدارتی الیکشنوں میں بھی عوام الیکٹرز سے شکست کھاگئے۔ دلچسپ بات یہ کہ چاروں الیکشنوں میں ڈیموکریٹک امیدواروں نے عوام سے زیادہ ووٹ پائے، مگر ری پبلکن امیدوار زیادہ الیکٹرول ووٹ حاصل کرنے کی وجہ سے صدر بن گئے۔ تازہ مثال ہیلری کلنٹن کی ہے جو جیتتے جیتتے ہار کا مزہ چکھنے پر مجبور ہوگئیں۔

2000ء میں ڈیموکریٹک امیدوار، الگور اور ریپبلکن بش جونیئر کے مابین کانٹے دار مقابلہ ہوا۔ الیکشن میں الگور نے پانچ کروڑ ننانوے لاکھ نو ہزار ووٹ پائے۔ بش جونیئر کو پانچ کروڑ پنتالیس لاکھ ووٹ ملے۔ گویا مروجہ معنی میں الگور نے الیکشن جیت لیا۔ تاہم نرالے الیکٹرول کالج کی بدولت بش جونیئر عہدہ صدارت پر فائز ہوگئے۔ دراصل وہ ایک سوئنگ ریاست، فلوریڈاصرف ’’537 ووٹوں‘‘ سے جیتنے میں کامیاب رہے۔ چناں چہ فلوریڈا کے سارے الیکٹرز (25) موصوف کی گود میں آگرے اور انہیں زیادہ الیکٹرول ووٹ (271) مل گئے۔ بیچارے الگور 266 الیکٹرول ووٹ ہی پاسکے اور جناب بش کا منہ تکتے رہ گئے۔

مزے کی بات یہ کہ 2000ء میں ہیلری کلنٹن اور ڈونالڈ ٹرمپ، دونوں نے الیکٹرول کالج کو ’’دقیانوسی‘‘ اور ’’جاگیردارانہ معاشرے کی یادگار‘‘ قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب زمانہ بہت بدل چکا لہٰذا اجتہاد سے کام لیتے ہوئے یہ ادارہ ختم کردینا چاہیے۔ مگر سفید فام قدامت پسندوں میں مقبول ریپبلکن پارٹی الیکٹرول کالج ختم نہیں کرنا چاہتی۔ اسے علم ہے کہ آج امریکی معاشرے میں ایسے لوگوں کی کثرت ہو چکی جو قدامت پسندی اور نسل پرستی پر یقین نہیں رکھتے۔ لہٰذا جیسے ہی الیکٹرول کالج ختم ہوا، وہ لوگ وائٹ ہاؤس میں من پسند حکمران لانے لگیں گے۔ یوں ممکن ہے ریپبلکن پارٹی کے اثرورسوخ کا سورج بھی غروب ہوجائے۔

اب حالیہ الیکشن بھی الیکٹرول کالج کی مدد ہی سے ری پبلکن امیدوار، ٹرمپ صدر بن سکے ہیں۔ اگر عوام کے ووٹوں سے امریکی صدر کا انتخاب ہوتا تو ہیلری کلنٹن اپنی مسکراہٹ کے جلوے چہار سو بکھیر رہی ہوتیں۔ ٹرمپ نے چھ کروڑ چھبیس لاکھ پینسٹھ ہزار ووٹ پائے۔ جبکہ ہیلری کو چھ کروڑ تراسی لاکھ انتالیس ہزار ووٹ ملے۔ گویا سابق خاتون اول نے تقریباً ساڑھے تریپن لاکھ ووٹ زیادہ پائے… یہ ووٹوں کی معمولی تعداد نہیں۔

یہی وجہ ہے، زیادہ الیکٹرول ووٹ جیت کر ٹرمپ جوں ہی صدر منتخب ہوئے، امریکی شہروں میں خصوصاً ان کے خلاف مظاہرے ہونے لگے۔ مزید برآں لاکھوں امریکی یہ مطالبہ کرنے لگے کہ الیکٹرز ٹرمپ نہیں ہیلری کلنٹن کو ووٹ دیں۔ دراصل حالیہ صدارتی الیکشن میں منتخب ہونے والے 538 الیکٹرز’’ 19 دسمبر‘‘ کو اپنا اپنا ووٹ ڈالیں گے۔

ظاہر ہے، ان الیکٹرز پر اپنی پارٹی کا یہ شدید دباؤ ہوتا ہے کہ وہ پارٹی کے صدارتی امیدوار ہی کو ووٹ دیں گے۔ مزید براں کئی ریاستوں میں یہ قانون موجود ہے کہ اگر پارٹی کا الیکٹر فریق مخالف کو ووٹ ڈال دے، تو اس پر جرمانہ کیا جائیگا۔ تاہم ماضی میں فریق مخالف کو ووٹ دینے کی روایات موجود ہیں۔ اس امر کی بہترین مثال 1836ء کے صدارتی انتخابات میں سامنے آئی تھی۔

اس الیکشن میں ڈیموکریٹک لیڈر، رچرڈ جانسن نائب صدر کا انتخاب لڑرہا تھا۔ اس نے ایک غلام لڑکی سے شادی کرلی تھی۔ اس بات نے نسل پرست سفید فاموں کو بہت طیش دلا دیا۔ چناں چہ ریاست ورجینا کے تمام 23 الیکٹرز نے ووٹنگ کے دن اسے ووٹ نہیں دیا حالانکہ رچرڈ جانسن وہ ریاست جیت چکا تھا۔ آخر سینٹ کی مداخلت پر ہی وہ نائب صدر بن پایا۔

رچرڈ جانسن کا معاملہ مختلف تھا،جبکہ ڈونالڈ ٹرمپ کی رکیک اخلاقیات اور رنگ برنگ کردار امریکیوں ہی نہیں پوری دنیا پر افشا ہوچکا۔ کئی خواتین نے ان پر سنگین الزامات لگائے ۔ پھر موصوف حکومت چلانے کا کوئی تجربہ نہیں رکھتے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ انہوں نے ہیلری کے مقابلے میں تریپن لاکھ ووٹ کم پائے ۔ انہی وجوہ کی بنا پر لاکھوں امریکی الیکٹرز پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ ہیلری کلنٹن کو اپنا ووٹ دے کر ذی شعور اورمحب وطن ہونے کا ثبوت دیں۔

اگر کسی ریپبلکن الیکٹر نے ڈیموکریٹک امیدوار کو ووٹ دیا، تو ریاست بطور سزا اس سے معمولی جرمانہ وصول کرسکتی ہے۔ تاہم اسے اصل نقصان یوں پہنچے گا کہ وہ پارٹی میں اپنے عہدے اور اثرورسوخ سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ اسی لیے کسی ری پبلکن الیکٹر کے منحرف ہونے کا امکان کم ہی ہے۔تاہم حالیہ الیکشن نے ایک بار پھر الیکٹرول کالج کو متنازع بنادیا۔ یہ یقینی ہے کہ اب امریکا میں اسے ختم کرنے کا مطالبہ زور پکڑ جائے گا۔یہ حقیقت ہے کہ یہ ادارہ جمہوریت کی روح سے متصادم ہے۔ اس کے ذریعے طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے مٹھی بھر لوگوں کو یہ اختیار مل گیا کہ وہ امریکی عوام کے فیصلے کو بلڈوز کرسکیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔