انسانی خون کی منتقلی سے بوڑھے چوہے جوان ہوگئے

ویب ڈیسک  اتوار 20 نومبر 2016
سائنس دانوں نے دلچسپ تجربے میں بوڑھے چوہوں میں جوان انسانی خون داخل کرکے انہیں ایک بار پھر سے جوان کردیا۔ فوٹو؛ فائل

سائنس دانوں نے دلچسپ تجربے میں بوڑھے چوہوں میں جوان انسانی خون داخل کرکے انہیں ایک بار پھر سے جوان کردیا۔ فوٹو؛ فائل

کیلیفورنیا: امریکی سائنسدانوں نے ایک دلچسپ تجربے کے دوران بوڑھے چوہوں میں جوان انسانی خون داخل کرکے انہیں ایک بار پھرجوان کردیا۔

کیلیفورنیا کی بایوفارماسیوٹیکل کمپنی ’’الکاہسٹ‘‘ نے 18 سالہ صحت مند نوجوان انسانوں کے جسم سے خون حاصل کرکے اس میں سے خوناب (بلڈ پلازما) علیحدہ کیا اور اس کی کچھ مقداریں انجکشن کے ذریعے ایسے چوہوں میں داخل کیں جو ایک سال کے تھے۔ چوہوں میں یہ عمر ادھیڑ عمری سے کچھ زیادہ کی ہوتی ہے جسے ہم انسانوں میں 50 سال کا قائم مقام سمجھ سکتے ہیں۔

ہفتے میں 2 مرتبہ جوان انسانی خون کا پلازما لگانے کے پندرہ دن بعد ان چوہوں میں جوانی کے آثار ایک بار پھر دکھائی دینے لگے اور وہ ایک بار پھر جوان چوہوں کی طرح چاق و چوبند ہوگئے۔ انہوں نے آزمائشی بھول بھلیوں میں بھی جوان چوہوں جیسی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران بعض طبّی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ شاید جوان خون کی منتقلی سے بوڑھوں کی صحت بہتر ہوسکتی ہے اور وہ ایک بار پھر نسبتاً جوان ہوسکتے ہیں لیکن اب تک اس کی تصدیق نہیں ہوسکی تھی۔ یہ بھی اندازہ ہورہا تھا کہ شاید اس معاملے میں خوناب (بلڈ پلازما) کا کردار سب سے اہم ہے۔

الکاہسٹ میں ماہرین اسی خیال کی ابتدائی تصدیق کرنے کے لیے چوہوں پر تجربات کرنے کا فیصلہ کیا جن سے مذکورہ بالا نتائج حاصل ہوئے جو مثبت ہیں۔ اب ان کا منصوبہ اسی تجربے کو انسانوں پر دُہرانے کا ہے تاکہ حتمی طور پر یہ تصدیق کی جاسکے کہ انسانوں میں بھی یہی ہوتا ہے یا نہیں۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔