انسداد پولیو مہم کی ٹیموں پر حملوں کے خلاف قومی اسمبلی میں مذمتی قرارداد منظور

ویب ڈیسک  بدھ 19 دسمبر 2012
صحافیوں کے بعد اب پولیو ٹیموں  پر حملے کئے جارہے ہیں، ارکان قومی اسمبلی کے تاثرات۔  فوٹو: اے پی پی/ فائل

صحافیوں کے بعد اب پولیو ٹیموں پر حملے کئے جارہے ہیں، ارکان قومی اسمبلی کے تاثرات۔ فوٹو: اے پی پی/ فائل

اسلام آباد:  قومی اسمبلی نے کراچی اور پشاور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں پولیو ٹیموں پر حملوں  کے خلاف متفقہ طور پر مذمتی قرار داد منظور کرلی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی جانب سے پیش کی گئی متفقہ قرارداد میں کہا گیا کہ انسداد پولیو مہم کے رضا کاروں پر حملے انتہائی قابل مذمت ہیں، پولیو ٹیموں پر ہونے والے حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے، ایوان نے اس قرار داد کی متفقہ طور پر منظوری دیدی۔

اجلاس سے قبل ایوان میں مختلف سیاسی جماعتوں  کے ارکان نے پولیو ٹیموں  پر حملے کی شدید مذمت کی۔ یاسمین رحمان نے کہا کہ پولیو ٹیموں میں شریک خواتین کی حفاظت کے لئے خصوصی انتظامات کئے جائیں۔ شیخ آفتاب کا کہنا تھا کہ صحافیوں کے بعد اب پولیو ٹیموں  پر حملے کئے جارہے ہیں جس سے حکومت کی گڈ گورننس کے دعوے کی حقیقت سامنے آجاتی ہے۔

وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ میر ہزار خان بجرانی نے کہا کہ پولیو ٹیموں پر حملوں میں ملوث افراد نہ مسلمان ہیں اور نہ انسان کہلانے کے لائق ہیں، پولیو کے حوالے سے پاکستان کی پوزیشن سوالیہ نشان بن گئی ہے۔

ڈپٹی اسپیکر فیصل کریم کنڈی، وفاقی وزیر سردار بہادر خان سہڑ اور اے این پی کی بشریٰ گوہر نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں انسداد پولیو کی ویکسینیشن کے لئے بچوں کو استعمال کیا جارہا ہے، پولیو مہم کی حکمت عملی کے جائزے کی بھی ضرورت ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔