مقبرہ…ملا محمد صالح کمبوہ

مدثر بشیر  اتوار 23 دسمبر 2012
اسکول قائم کرکے مقبرے میں عام لوگوں کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے۔ فوٹو: فائل

اسکول قائم کرکے مقبرے میں عام لوگوں کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے۔ فوٹو: فائل

فارسی ادب کی انتہائی اہم کتاب ’’عمل صالح‘‘ جوکہ عہد شاہ جہانی اور مغل خاندان کی ہندوستان کی کئی اہم معلومات سموئے ہوئے ہے۔

اس کتاب کے خالق اور مصنف ’’ملا محمد صالح کمبوہ‘‘ لاہور کی ایک معروف سڑک ایمپریس روڈ پر موجود ایک مقبرے میں مدفون ہیں۔ اس مقبرے کی تاریخ پر تحریر کرنے سے قبل ہم ایک طائرانہ نظر ان کی زندگی پر ڈالتے ہیں۔ملا محمد صالح کمبوہ اور شفیع عنایت اللہ دونوں بادشاہ شاہ جہان کے عہد کی انتہائی عالم فاضل شخصیات میں شمار کیے جاتے تھے۔

آج عہد جدید میں بھی ان دونوں کی تحریر کردہ کتب فارسی ادب میں اعلیٰ مقام رکھتی ہیں۔ شفیع عنایت اللہ نے تاریخِ دِلکُشا، بہارِ دانش اور اشرف الصحائف جیسی مشہور کتب تحریر کیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مغل دربار میں منشی گیری کے شعبہ سے منسلک تھے۔ ملا محمد صالح کمبوہ نے عمل صالح تحریر کی جوکہ اردو ادب میں شاہ جہان نامہ سے معروف ہے۔ فارسی ادب کے کے علاوہ اس کتاب کا ہندوستان کی تاریخ میں بھی اہم مقام ہے۔ اس کتاب کے فارسی سے کئی دیگر زبانوں میں تراجم ہوچکے ہیں، اس کتاب میں مغل دربار، شاہ جہاں کے بچپن سے لے کر اس کی وفات تک کے واقعات قلمبند کیے گئے ہیں۔

شیخ عنایت اللہ کا تعارف اس وجہ سے کروایا گیا کیونکہ وہ آپ ہی کے ساتھ اس مقبرے میں دفن ہیں۔ ان دونوں عظیم مصنفین کا آپس میں کیا تعلق اور رشتہ تھا اس حوالے سے مؤرخین کچھ مختلف آراء رکھتے ہیں۔ کچھ کا یہ کہنا ہے کہ ملا محمد صالح کمبوہ آپ کے داماد تھے اور کچھ کا یہ کہنا ہے کہ وہ آپ کے ہم زلف تھے۔ اگر ان دونوں حضرات کی زندگیوں کا بغور مطالعہ کیا جائے تو ہم زلف کا رشتہ زیادہ درست دکھائی دیتا ہے۔ ایک حقیقت اپنی جگہ پر یہ ضرور موجود ہے کہ ملا محمد صالح کمبوہ نے منشی گیری کا تمام فن شفیع عنایت اللہ ہی سے سیکھا تھا اور ان ہی کے توسط سے ملا محمد صالح کمبوہ کو دربار میں خاص جگہ ملی۔ شفیع عنایت اللہ نے 1025ھ بمطابق 1665ء میں وفات پائی۔ ان کی وفات پر ملا محمد صالح کمبوہ نے ان کے مقبرے کی تعمیر کرائی۔ یہ مقبرہ عہد شاہ جہان کی شاندار عمارات میں سے ایک تھا۔ اس کی تعمیر پر کثیر سرمایہ صرف کیا گیا تھا۔

محمد صالح کمبوہ اپنے علم اور لیاقت کے باعث لاہور کے دیوان کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ انھوں نے موچی دروازہ کے اندر ایک انتہائی خوبصورت اور بے مثال مسجد تعمیر کروائی جوکہ لاہور میں کاشی کاری کے حوالے سے وزیر خاں مسجد کے بعد دوسری بڑی مسجد مانی جاتی تھی۔ اس مسجد کی عمارت کا کچھ حصہ آج بھی موچی دروازے کے اندر دیکھا جاسکتا ہے۔ مسجد کے داخلی دروازے پر تعمیر کے بعد بھی کئی سالوں تک یہ شعر دکھائی دیتا رہا۔

بانی ایں مسجد زیبا نگار

بندہ آلِ محمد صالح است

ملا محمد صالح ایک بہترین خطاط بھی تھے۔ انھوں نے اپنے عہد کی کچھ عمارتوں پر خطاطی بھی کی۔ وفات کے بعد ان کو بھی اسی مقبرے میں دفنایا گیا جوکہ انھوں نے شفیع عنایت اللہ کے لیے تعمیر کروایا تھا۔ اس مقبرے میں آپ کے کچھ اور رشتے داروں کی قبور بھی ہیں۔ آپ کی تاریخ وفات کے بارے میں مؤرخین مختلف آراء رکھتے ہیں۔ نور احمد چشتی نے 1075ھ، کنہیا لال ہندی نے 1080ھ، سید محمد لطیف نے 1085ھ اور نقوش لاہور نمبر نے اس مسئلے پر خاص بحث کی اور (ص۔967) میں 1120ھ کے بعد کا عہد بتلایا گیا ہے۔

اب ہم مقبرے کی عمارت کا احوال جانتے ہیں۔ یہ عمارت تقسیم سے قبل تک گنبد کمبوہاں کے نام سے جانی جاتی تھی۔ لاہور شہر کی تاریخ رقم کرنے والے مستند مؤرخین نے آپ کے مقبرے کو علی رنگریزؒ کی خانقاہ کے ساتھ تحریر کیا ہے۔ عصر حاضر میں یہ دونوں عمارتیں ایمپریس روڈ ریلوے ہیڈکوارٹر کے ساتھ ہیں۔ اس مقبرے اور ملا محمد صالح کمبوہ کے حوالے سے درج ذیل کچھ کتب کے حوالہ جات درج ہیں۔

1- مولوی نور احمد چشتی۔ تحقیقات چشتی (ص۔963)

حال مقبرہ محمد صالح، شیخ عنایت اللہ

حضرت علی رنگریزؒ کی خانقاہ کے شمال رویہ، بہت نزدیک ایک ٹیلے پر گنبد کمبوہاں مشہور ہے۔ اب اس میں مسٹر سیمور صاحب نے کوٹھی بنائی ہے۔

صورت اس کی ہشت پہلو چونہ گچ۔ اب رنگ اس کا سیاہ نظر آتا ہے۔ چاروں طرف اس کے باہر کی طرف، قالب، بام چار محراب کلاں ہیں اور اب ان محرابوں کے اندر زیر و بالا دو دروازے لگے ہیں۔ جنوب رویہ زینہ اوپر جانے کا۔ متصل اس کے ایک اور گنبد خولانی۔

معلوم نہیں اس میں کتنی قبور تھیں بوقت سیمور صاحب وہ گنبد باورچی خانہ تھا۔ اب بگھی خانہ ہے، شکل اس کی طولانی پر چہار بارہ در محرابی۔

2- کنیا لال بندی۔ تاریخ لاہور (ص۔325)

مقبرہ محمد صالح و شیخ عنایت اللہ کمبوہ

اس مقبرے میں دونوں کی قبریں ہوئیں اور عالی شان مقبرہ تعمیر ہوا۔ سکھوں کے وقت دونوں سنگین قبریں، جو سنگ سرخ کی تھیں گرا لی گئیں اور مقبرہ جو خشتی تھا قائم رہا۔ اس میں بارود وغیرہ بھری رہی۔ انگریزی عہد میں مسٹر سیمور صاحب بہادر نے اس کو کوٹھی بنالیا۔ صورت اس کی ہشت پہلو ہے۔ چار پہلوئوں میں چار محرابیں کلاں باہر کی سمت ہیں۔ جنوب کی طرف زینہ اوپر جانے کا ہے۔ اس گنبد کے قریب ایک اور گنبد ڈلائی قطع کا بنا ہے۔ جس میں ان دونوں کی اولاد کی قبریں تھیں۔ اس میں باورچی خانہ بنالیا گیا ہے اور تیسرے گنبد کا بگی خانہ بنا ہوا ہے۔

3- سید محمد لطیف۔

History Architectulal Remains

And Antiquities (P-208)

The dome of tombs of Mahomed Saleh and Sheikh Inyat -ul-lah

North of the tomb of Ali Rangrez, and east of the real leading from the north – western railway station to Government House and quite close to the new Victoria Hotel , is a high dome on a rising ground , called the Gumbaz Kambohan wala.

شاہ جہاں نامہ کا اردو ترجمہ ممتاز لیاقت نے کیا۔ اس میں انھوں نے یوں تحریر کیا۔

’’ملا محمد صالح اپنی وفات کے بعد اپنے آبائی مقبرہ شیخ عنایت اللہ کے پہلو میں دفن ہوئے۔ یہ مقبرہ ایمپریس روڈ ریلوے کے جدید دفاتر کے ساتھ متصل واقع ہے اور گنبد کمبوہاں کہلاتا ہے۔ سنگ سرخ کی یہ عمارت ہشت پہلو ہے۔ سکھوں کے دور حکومت میں سکھوں نے دونوں سنگین قبریں گراکر ان کا پتھر اتار لیا۔ البتہ مقبرہ قائم رہ گیا۔ رنجیت سنگھ کے عہد میں یہاں بارود خانہ بنایا گیا۔ عہد انگلشیہ میں یہ مقبرہ ایک کوٹھی ہوکر رہ گیا چنانچہ ایک عرصہ تک ’’سیمور صاحب‘‘ کی کوٹھی کہلاتا رہا، جس کے گنبد باورچی خانہ اور بگھی خانہ کے طور پر استعمال ہوتے رہے۔ اب اس کے ساتھ دو اور کمرے شامل کرکے اسے گرجا کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اور ’’سینٹ اینڈ ریوپارش چرچ‘‘ کہلاتا ہے۔

اسی طرح نقوش لاہور نمبر (ص۔962) پر ایک طویل بحث کی گئی اور اس کا محل وقوع ریلوے ہیڈکوارٹر کے قریب ہی بتایا گیا۔ تاریخ کی دیگر کتب کے ساتھ ساتھ پاکستان ریلوے کی جانب سے شائع کیے گئے کلینڈر میں جب بھی اس مقبرے کی تصویر دی گئی تو اس کی تاریخ بیان کرتے ہوئے اس کو ریلوے ہیڈکوارٹر کے ساتھ ہی بتایا گیا۔

ان تمام حوالہ جات کو درج کرنے کی ضرورت کچھ یوں پیش آئی کہ عہد حاضر میں اس مقبرے کی عمارت میں ایک اسکول چلایا جارہا ہے اور اس کا انتظام عیسائی برادری کے پاس ہے۔ اس مقبرے کی رسائی کے لیے جب ہم ریلوے اسٹیشن سے حاجی کیمپ کی طرف آتے ہیں تو سڑک کے بائیں جانب ایک چھوٹا سا لنڈا بازار ہے ، اس کے سامنے حاجی کیمپ کی عمارت ہے۔ یہ عمارت تقسیم کے وقت دیال سنگھ کالج کا ہاسٹل تھی اور ’’مجیٹھیا ہاسٹل‘‘ کے نام سے معروف تھی۔

اسی عمارت میں عظیم شاعر اور مفکر سید عابد علی عابد کی رہائش گاہ بھی تھی۔ اس عمارت سے آگے بائیں جانب چرچ کی عمارت ہے۔ اس تمام احاطے میں تین اونچی شان والے گنبد دکھائی دیتے ہیں۔ مغل عہد کی اس عمارت کی شباہت انار کلی کے مقبرے اور حضرت الیشاہؒ کے مزار سے ملتی ہے۔ عام بندے کی اس مقبرے تک کوئی رسائی نہیں۔ اسکول اور چرچ کی انتظامیہ کا یہ کہنا ہے کہ انھوں نے عدالت سے یہ فیصلہ لے رکھا ہے کہ ملا محمد صالح کمبوہ کا مقبرہ دلی میں ہے ادھر اس مقبرے کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔

اوپر درج تمام حوالہ جات اسی تناظر میں پیش کیے گئے اور اگر ان کی وہ دلیل مان بھی لی جائے تو تب بھی یہ عمارت کسی بھی طور پر انگریز سرکار کی تعمیر کی گئی عمارتوں میں سے ایک نہیں۔ عہد رفتہ کے یہ تین عظیم گنبد آج بھی روز اول کی مانند مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ اسکول کی انتظامیہ نے بڑے گنبد کے نیچے اپنے دفاتر اور جماعتوں کے کمرے بنا رکھے ہیں۔ اس طرح دونوں چھوٹے گنبدوں کے نیچے بھی جماعتوں کے کمرے بنائے گئے ہیں۔

ایمپریس روڈ لاہور کی ایک انتہائی معروف سڑک ہے۔ یہاں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ گزرتے ہیں۔ ان کی اکثریت اس امر سے نابلد ہے کہ ریلوے ہیڈکوارٹر کے ساتھ گرجا اور اسکول کی عمارتیں اصل میں ہندوستان کی دو عظیم شخصیات کا مدفن ہیں۔ تقسیم کے بعد سے آج تک کسی بھی حکومت نے یہ کوشش کبھی نہیں کی کہ اس تاریخی مقبرے اور ورثے کو عام لوگوں کی رسائی میں لایا جائے اور نہ ہی کبھی محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے کوئی ایسی کوشش منظر عام پر آئی کہ اس مقبرے میں دفن شخصیات کی قبور کو عزت و احترام سے واپس دلوایا جائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔