سوشل میڈیا کے دور میں خوش کیسے رہا جائے؟

عمران خوشحال راجہ  جمعرات 15 دسمبر 2016
کوئی دوست ملنے آیا، بیٹھا، بات کی، سنی نہ سنی، فیس بک پر لگے رہے۔ وہ کالج کا کوئی واقعہ سناتا رہا یا کوئی اور بات یہ پتا نہیں، البتہ اس کے ساتھ لی ہوئی سیلفی تبھی اپ لوڈ ہوگئی۔

کوئی دوست ملنے آیا، بیٹھا، بات کی، سنی نہ سنی، فیس بک پر لگے رہے۔ وہ کالج کا کوئی واقعہ سناتا رہا یا کوئی اور بات یہ پتا نہیں، البتہ اس کے ساتھ لی ہوئی سیلفی تبھی اپ لوڈ ہوگئی۔

صبح ہوئی ہے، آنکھ کُھلی نہیں پر ہاتھ ہیں کہ حرکت میں آچکے ہیں۔ ایک ہاتھ سے آنکھیں مسل رہا ہوں، دوسرے سے سیل فون ٹٹول رہا ہوں۔ کدھر ہے؟ رات کو سرہانے ہی تو رکھا تھا، کہیں گر تو نہیں گیا؟ کسی نے اٹھا تو نہیں لیا؟ خدانخواستہ کہیں نیچے آکر ٹوٹ ہی تو نہیں گیا۔۔۔۔ او یہ رہا۔۔۔۔ شکر ہے۔ ذرا دیکھوں تو کتنے میسجز آئے ہیں۔

فیس بُک کھولتا ہوں، نہیں پہلے انسٹا گرام یا پھر ٹوئٹر۔ یہ ہے ہم میں سے بہت ساروں کے دن کا آغاز۔ رینڈم فوٹوز لائک کرنا، نائیس ہے، اچھا ہے، بہت خوب، اوسم اور ایسے دو چار اور لگے بندے لفظوں سے ہر دوسرے تیسرے فوٹو یا ویڈیو پر کمنٹ کرنا۔ اِدھر کی چیز اُدھر اور یہاں کی وہاں شئیر کرتے ہوئے صبح کا آغاز کرنا اور سارا دن یہی کرتے رہنا۔

کوئی دوست ملنے آیا، بیٹھا، بات کی، سنی نہ سنی، فیس بک پر لگے رہے۔ وہ کالج کا کوئی واقعہ سناتا رہا یا کوئی اور بات یہ پتا نہیں، البتہ اس کے ساتھ لی ہوئی سیلفی تبھی اپ لوڈ ہوگئی۔ اسکول، کالج میں استاد نے کیا پڑھایا، کس موضوع پر بات کی، دھیان نہیں، یاد نہیں۔ ماں نے تو شوق سے کھانا بنایا ہے لیکن کیا، کیا جائے فاسٹ اینڈ فیوریس ایٹ کا ٹریلر بھی تو دیکھنا ہے۔ اس لئے ایک ہاتھ میں نوالہ اور دوسرے میں سیل فون ضروری ہے۔

بیوی بچوں کے ساتھ گھوم رہے ہیں، سب کا موڈ خوشگوار ہے۔ اچانک ایک نوٹیفکیشن آیا۔ دو سال پرانے ایک فوٹو پر کسی پرانے دوست نے لکھا ’’واہ وہ بھی کیا دن تھے جب توسارا دن نگہت کے ساتھ گزار دیتا تھا اور ہمیں سلام تک نہ کرتا تھا‘‘۔ سب کچھ جیسے دھڑام سے آ گرا۔ نگہت کون ہے؟ بیوی غصہ، بچے خوف زدہ اور صاحب پریشاں۔

یہ زندگی اور پھر گلہ کہ خوش نہیں ہم۔ 24 گھنٹے سوشل میڈیا سے جکڑے ہوئے اور شکوہ کے زندگی میں کوئی مزہ نہیں، پریشانی ہے، ڈپریشن ہے، بیوی فضول میں شک کرتی ہے، میاں بے جا پابندیاں لگاتے ہیں۔

بھئی زندگی جیو گے تو خوشی ملے گی ناں؟ سیل، لیپ ٹاپ، کمپیوٹر، سوشل میڈیا۔۔۔ یہ تو تمہاری زندگی کو آسان کرنے کے لئے تھے، انہیں تو تمہاری زندگی کا جزو ہونا تھا اور تم نے انہیں ہی اپنی زندگی کا کُل بنالیا۔ دوست، گھر والے، بیوی، بچے رشتے دار، کسی کے لئے کوئی وقت نہیں لیکن انجان لوگوں کے لئے دن رات آن لائن۔ ’سوشلی کنیکٹیڈ‘ لیکن حقیقت میں کسی سے کوئی واسطہ نہیں۔

اسی سے پھر پریشانی اور ڈپریشن جنم لیتا ہے۔ حد سے تجاوز کرنے کے بجائے اعتدال میں رہتے ہوئے ان مصنوعات کا فائدہ اٹھائیے اور سہولت کو زحمت نہ بناتے ہوئے فیس بُک پڑھنے کے بجائے بکس پڑھی جائیں، فضول کمنٹس کی بجائے کچھ کام کا لکھیئے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کےساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔
عمران خوشحال راجہ

عمران خوشحال راجہ

بلاگر ایم فل سکالر، کشمیریکا کے بانی، محقق اور بلاگر ہیں۔ وہ ’’آن کشمیر اینڈ ٹیررزم‘‘ اور ’’دریدہ دہن‘‘ کے مصنف ہیں۔ عالمی تعلقات، دہشت گردی اور سماجی و سیاسی تبدیلیاں ان کی دلچسبی کے مضامین ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔