آج کرسمس ہے

زاہد فاروق  منگل 25 دسمبر 2012

آج دنیا بھر کے مسیحی ولادت یسوع مسیح کا جشن اپنے روایتی جوش و خروش سے منا رہے ہیں،آج ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں ہیں، ہر طرف رنگ و نور کی بہار ہے چاہے کوئی یسوع مسیح کا پیروکار ہے یا نہیں، لیکن آج وہ ایک انہونی خوشی سے سرشار ہے۔

آج سے دوہزار سال پہلے قبل ولادت مسیح کا انسان جس طرح کی سماجی، معاشی فکروں میں گھرا ہوا تھا آج کا انسان بھی کم وبیش ویسی ہی سماجی اور معاشی فکروں میں گھر چکا ہے، آج کے انسان کی رہنمائی کے لیے فکر مسیح موجود ہے اب یہ آج کے انسانوں کے رویوں پر منحصر ہے کہ ہم کس حد تک فکر مسیح سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ یسوع مسیح کی تعلیمات ہم پر کس حد تک عمل کرتے ہیں۔ اگر ہم آج کے علم و روشنی کے دور میں بھی فکر مسیح سے رہنمائی حاصل نہیں کرتے اور خود کو خودنمائی، مکاری، جہالت کے ساتھ نتھی کرتے ہیں تو پھر ہمارا حشر یہی ہونا ہے جس سے آج ہم دو چار ہیں۔

ہر طرف عدم اعتمادی ہے، ہر کوئی خود کو رہنما سمجھتا ہے، ہر کوئی مال سمیٹنے کے لیے بھاگ رہا ہے، ہر کوئی اپنے مفاد کے لیے کام کر رہا ہے کسی کو کسی دوسرے کی فکر نہیں، جہالت نے ہمارے ارد گرد ہی نہیں ہمارے گھروں میں ہی نہیں ، ہمارے ذہنوں کے اندر گھر بنالیے ہیں، ہر کوئی اپنے مسلک، اپنے عقیدے، اپنی عبادت گاہ، اپنے انداز ادائیگی مذہبی فرائض کو اعلیٰ و برتر سمجھ رہا ہے۔ دوسرے کو اس کے رہن سہن، اس کے عقیدے اور اس کے انداز دعا، بندگی ہم قبول کرنے کو تیار نہیں، ہم برتر ہیں، ہمارا مسلک اعلیٰ ہے، نجات صرف ہم کو ملے گی،آخرت میں صرف ہم سرخرو ہوں گے، باقی سب فنا ہوں گے، جب تک یہ سوچ ہم پر غالب رہے گی، سماج میں سے کبھی سماجی، معاشی، ناہمواری ختم نہیں ہوگی، آج کی ہماری سماجی صورت حال دن بدن گمبھیر ہوتی جارہی ہے، ہر طرف قتل وغارت گری ہے، آج کے ہمارے سماج میں وہ بھی نشانہ بن رہا ہے جو معاشرے میں اپنے ناپسندیدہ اعمال کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے اور محفوظ وہ بشر بھی نہیں جو لوگوں کی فلاح کے لیے سرگرم عمل رہتا ہے۔کراچی کسی زمانے میں پر امن شہر تھا ،اسے عروس البلاد کہتے تھے، اقلیتوں کو تحفظ حاصل تھا، اب ایسا نہیں ہے ۔آج کے دن اس عہد کی تجدید ضروری ہے کہ شہر کو پرامن بنانا ہے۔

آج کے اس معاشی طور پر ناہمواری کے دور میں یسوع مسیح کے پیروکاروں کا پہلا فرض یہ بنتا ہے کہ وہ کرسمس کے اس مبارک موقعے پر یہ عہد کریں کہ وہ اپنی زندگی کے لیے تعلیمات مسیح کو اپنا رہنما بنائیں گے۔ ہم ایسے مسیحی ہوں گے، ہم ایسے شہری ہوں گے، ہم ایسے انسان ہوں گے کہ جن سے کسی دوسرے انسان کو دکھ نہ ملے۔ ہم انسانیت کے لیے راحت کا سبب بنیں گے، آج کے اس افراتفری، نفسا نفسی کے دور میں آج مسیحیوں کا کردار ایک مثالی کردار یسوع مسیح کی تعلیمات کی روشنی میں بن سکتا ہے، آج کا مسیحی سرخرو کیوں نہیں، آج کا مسیحی الجھا ہوا کیوں ہے، آج کا مسیحی تنگ دست کیوں ہے؟ اس سارے کا سبب مسیحی تعلیمات سے بیگانگی ہے۔ اگر آج ہم یہ عہد کرلیں کہ ہم نے ایک وہ مسیحی بننا ہے جو یسوع مسیح کی تعلیمات سے نظر آئے تو پھر آج کے مسیحی کو آج کے موجودہ دور کے تناظر میں خود کا جائزہ لینا ہوگا۔

آج کی کلیساء کیسی ہو، کلیسائی رہنما کیسے ہوں، سماجی مسائل پر ان کا نقطہ نظر کیا ہے؟ ان سب معاملات کا جائزہ لینا ہوگا۔ یسوع مسیح کی دنیوی زندگی کا جائزہ لیا جائے تو ساڑھے تینتیس سالہ دنیوی زندگی میں یسوع مسیح نے اپنے رہن سہن، اپنے رویوں اور برتاؤ سے ثابت کیا کہ اگر انسان چاہے تو وہ دنیوی گردشوں سے بچ سکتا ہے۔ وہ لوگوں کو پیار، محبت، امن کا نہ صرف درس دے سکتا ہے بلکہ اپنی زندگی سے ان کا عملی نمونہ دے سکتا ہے۔ آج کے اس نفسانفسی کے عالم میں جب انسان ہی انسان کا قتل کر رہا ہے، اگر ہم اپنی زندگیوں سے ثابت کریں کہ خدا نے جس طرح انسانیت سے محبت کا درس دیا ہے، اس پر عمل کریں، ’’جان دینے تک وفادار ہو تو میں تجھ کو زندگی کا تاج دوں گا‘‘ یہ وہ الفاظ ہیں جو یسوع مسیح نے آج کے فرد کے لیے کہے ہیں۔ آج ہم بیگانے ہوچکے ہیں مسیحی تعلیمات سے، آج ہم اپنے محور سے دور ہوچکے ہیں، رشتوں کا احترام ختم نہیں تو کم ضرور ہوچکا ہے۔

آئیں! آج ہم عہد کریں کہ ہم وہ محبت کا سبق، وہ بھائی سے حسن سلوک کی تعلیمات، وہ ضرورت مندوں کی حاجت پوری کرنے کا نہ صرف سبق بلکہ اس کا عملی مظاہرہ اگر آج ہم اپنالیں تو آج کا معاشرہ بھی بہتر معاشرہ بن سکتا ہے۔ ایسا معاشرہ بن سکتا ہے جہاں بھائی بھائی کو قتل نہ کرے، جہاں زر، زن اور زمین فتور کا سبب نہ بنے۔ یسوع مسیح کی تعلیمات صرف مسیحیوں کے لیے نہیں تھیں۔ یسوع مسیح کا محبت کا پیغام انسانیت کے لیے پیغام ہے، یسوع مسیح کی تعلیمات کی جتنی ضرورت آج کے دور میں ہے پہلے کبھی نہ تھی۔ آج یسوع مسیح کی انسانیت کے لیے تعلیمات کو لامحدود کرنے کی ضرورت ہے۔ آج کے دور میں جب دنیا سمٹ چکی ہے، آج کے دور میں انسان کا کردار تبدیل ہوگیا ہے، اب ضرورت ہے کہ مسیحی تعلیمات کو آج کے دور کی روشنی میں دیکھا جائے۔ آئیں! آج کرسمس منائیں، لیکن اس عہد کے ساتھ کہ ہم کرسمس کی خوشیوں میں ان کو بھی شریک کریں جن کے پاس وسائل نہیں، جن سے خوشیاں روٹھ گئی ہیں، ان کو ان کی خوشیاں واپس اگر دلواسکیں تو یہی حقیقی کرسمس کا پیغام ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔