چیف جسٹس ثاقب نثار کو جوڈیشل ضربِ عضب شروع کرنا ہوگا

رحمت علی رازی  اتوار 1 جنوری 2017
rehmatraazi@hotmail.com

[email protected]

ہم 70 سالوں سے وعدوں اور تقریروں پر زندہ ہیں‘ یہ وعدے اور تقریریں محض سبزباغ ہیں جن کے برگ وبار پر دھول اور سیاہی کی ایک موٹی تہہ جمتے جمتے نظر کا دھوکہ بن چکی ہے‘ اب تو سچی باتیں بھی جھوٹ لگتی ہیں، اور کیوں نہ لگیں، جب ہمارے سماج میں اچھائی کا تصور ہی ناپید ہوچکا ہے‘ انصاف کی اُمیدیں دَم توڑ چکی ہیں‘ راہزن راہنماؤں کا بہروپ دھارے ہماری پیڑھیوں کو لوٹتے چلے آ رہے ہیں‘ ہم نے یہ طے کرلیا ہے کہ اسی دشت کی سیاحی میں عمر کاٹنی ہے‘ اس دیارِ کم نفساں میں انقلاب کبھی دستک نہیں دیگا‘ یہاں کمزور کی تقدیر میں صرف ظلم لکھا ہے۔

انصاف کا لفظ فقط سننے کی حد تک ہے‘ اس خداداد بستی کے تمام کواڑ مقفل ہیں‘ تمام دریچے بند ہیں‘ حبس اور گھٹن کی آکسیجن زندہ رہنے کا واحد وسیلہ ہے‘ یہ سب اس لیے ہے کہ یہاں انصاف کا قحط پڑا ہوا ہے‘ جب کسی معاشرے سے انصاف اُٹھ جاتا ہے تو وہ ایک مردہ ڈھانچے کی مثال ہوتا ہے جسے برائی کی تمام اصناف گدھیں بن کر نوچتی ہیں‘ مایوسی کی خوفناک تاریکیوں میں رہنے کے باوجود پاکستانی قوم آج بھی اُمید پر زندہ ہے اور جب بھی کوئی بہروپیا تقریر کرتا ہے‘ جب بھی کوئی منصف نما انصاف کی بات کرتا ہے تو اک بے ربط ہجوم کی آنکھوں میں بیم ورجاء کی چمک اُبھرنے لگتی ہے‘ یہ چمک نجانے کتنی بار اُبھری ہے، کتنی بار ڈوبی ہے.

سیاسی راہنماؤں سے تو اب خیر کی توقع کسی کو نہیں، ہاں انصاف کے محافظ جب کوئی ہاکرا مارتے ہیں تو انصاف کے ترسے ہوؤں کو نجانے کیوں یقین سا ہوجاتا ہے کہ شاید اس بار انصاف کی دیوی ان پر ضرور نظر کرم کریگی اور بے جان معاشرہ پھر سے زندہ ہوجائیگا‘ سیاست کی سرکس میں تو پاکستان کو ایک سے بڑھ کر ایک مداری نصیب ہوئے، عدلیہ کی تاریخ میں صرف ایک کردار ایسا نمودار ہوا تھا جو لوگوں کو انصاف کا جھانسا دیکر دامن بچا گیا.

جسٹس افتخار چوہدری سے لوگوں کو بڑی اُمیدیں تھیں مگر انھوں نے ماسوائے اشرافیہ کی جھاڑ پونچھ کے اور کچھ کرکے نہ دکھایا‘ افتخار چوہدری نے جسٹس سسٹم کی بہتری کے لیے تو کچھ نہ کیا مگر وہ عدلیہ میں ایک تحریک، ایک مومنٹم ضرور پیدا کرگئے‘ یہ اَمر بھی کسی المیے سے کم نہیں کہ ان کے منظرعام سے ہٹتے ہی ان کے عدالتی ہم رکاب پھر سے روایت کے اسیر ہوگئے، اور اس طرح عدلیہ نے اپنا کہنہ جامہ اُٹھا کر دوبارہ زیب تن کرلیا اور اپنے پرعافیت دورمیں واپس لوٹ گئی۔

جسٹس میاں ثاقب نثار کی بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ نامزدگی سے قوم کو ایک بار پھر یقین ہونے لگا ہے کہ وہ اپنی تقریروں کی لاج ضرور رکھیں گے اور عدالتی نظام میں اصلاحات متعارف کروا کر انصاف کا ایک مثالی میکنزم قائم کرینگے‘ اس پراگندہ معاشرے کو اب عدلیہ ہی چاہے تو مطاہر بنا سکتی ہے‘معاشرے کو برائیوں سے پاک کرنے میں عدلیہ کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا‘ عدلیہ کی طرف سے بھی موجودہ حالات میں حوصلہ افزاء اشارے مل رہے ہیں‘ چند روز قبل پاکستان کے نئے چیف جسٹس مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا، ’’ ہم عہد کرتے ہیں کہ بغیر جھول انصاف کی فراہمی کویقینی بنائیں گے‘ مصلحت، مفاد اور خوف کا شکار ہوئے بغیر انصاف کرینگے‘ ہماری شفافیت کی جانب کوئی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکے گا‘ دُنیاوی فائدے کے لیے اپنی آخرت کو قربان نہیں کرسکتا‘‘۔

اگراپنے عہد اور عزم کے مطابق چیف جسٹس عمل کر دکھاتے ہیں تو قوم کے آدھے مسائل اسی سے حل ہو جائینگے‘ سپریم کورٹ اداروں کا بلاشبہ قبلہ درست کر سکتی ہے جس کی جسٹس میاں ثاقب نثار کے عزم و ولولے سے ایک اُمید پیدا ہوئی ہے‘ جسٹس میاں نثار ثاقب نے مشرف کی طرف سے عدلیہ کے کردار کو داغدار کرنے پر بھی ردعمل دیا ہے، ’’مشرف جو مرضی کہتے رہیں، لوگوں کو بتا دیں عدلیہ کسی کے دباؤ میں فیصلے نہیں کرتی، ضمیر کے مطابق کرتی ہے‘‘۔

چیف جسٹس صاحب نے جو کہا، اُصولی طور پرتو ایسا ہی ہونا چاہیے مگر مولوی تمیزالدین کیس سے لے کر ضیاء اور مشرف کے مارشل لاء کو تحفظ دینے تک کئی معاملات میں اس کے برعکس ہوا ہے‘ ذوالفقار علی بھٹو قتل کیس بھی متنازعہ رہا‘ فیصلہ سنانے والے ایک فاضل جج نے اعتراف کیا تھا کہ ان پر بھٹو کو مجرم قرار دینے کے لیے دباؤ تھا‘ اس محترم ادارے میں ایک وقت میں دو متوازی عدالتیں بھی اس قوم نے دیکھی ہیں‘ بڑے بڑے کیسز عدالت میں جاتے ہیں تو آج بھی بعض حلقوں میں مدعی یا ملزم کی حیثیت کے پیشِ نظر مثبت اور منفی رائے دی جاتی ہے‘ محض خوش کن بیانات ہی سے عدلیہ مضبوط نہیں ہو سکتی نہ ہی اس کی اَٹل غیرجانبداری کا تاثر قوی ہو سکتا ہے‘ عدلیہ کو اپنے فیصلوں سے اپنی ساکھ کو ثابت کرنا ہوگا.

جناب جسٹس ثاقب نثار کے کندھوں پر اللہ نے بہت بڑی ذمے داری ڈال دی ہے‘ وہ اس سے اسی طرح سرخرو ہو سکتے ہیں کہ اپنے آج کے کہے پر من و عن عملدرآمد ہوتا دکھائیں‘ ان کا یہ بیان بہرصورت حکمرانوں اور اپوزیشن سمیت ان سب کے لیے ٹھوس پیغام ہے جو عدلیہ کو اپنی خواہشات کا اسیر بنانے کے راستے تلاش کرتے رہتے ہیں۔ جمہوری حکومت کی پہلی مکمل اور دوسری جاری باری میں عوام کی محرومیوں کا یہ وہ اذیت اور تشویشناک پس منظر ہے جو نومقررہ چیف جسٹس کے حوصلہ افزا بیانیہ میںسامنے آیا ہے کہ ’’کمزور اور طاقتور سب پر آئین وقانون کا یکساں نفاذ اور کامل عدل ہی وہ عمل ہے جو معاشرے کو بے چینی، منافرت، احساسِ محرومی اور انتشار سے بچاتا ہے‘‘۔

لاہور ہائیکورٹ بار کی سلور جوبلی کی تقریب میں پیش کیا گیا چیف جسٹس سپریم کورٹ کا یہ بیانیہ اپنے مندرجات کے اعتبار سے پاکستان کو بحران دَر بحران سے نکالنے کا واحد حل ہے‘اللہ بھلا کرے چیف جسٹس صاحب کا، اگر وہ بمطابق عہدوعزم یہ سب کچھ کردکھائیں تو اس اندھی قوم کو آنکھیں بھی مل جائینگی اور انصاف بھی۔ ہماری جسٹس میاں ثاقب نثار سے التماس ہے کہ اولین فرصت میں وہ طاقتوروں کے احتساب کے لیے جسٹس سسٹم کو کوئی مثالی بنیاد فراہم کریں جو حکمرانوں کو گڈگورننس پر مجبور کردے اور کرپشن میں ناک ناک دھنسی ہوئی حکومتوں سے عوام کو نجات مل جائے۔

پاکستان میں برائیوں کی ذمے دار عدلیہ بھی رہی ہے اور یہ بات نئے چیف جسٹس صاحب کو بھی معلوم ہوگی‘ انھیں عدلیہ کا قبلہ درست کرنے اور اس کا تہہ در تہہ گند صاف کرنے کے لیے ایک جوڈیشل ضربِ عضب کی ضرورت ہے‘ اس نیک کام میں لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس منصور علی شاہ ان کا بہت ساکام آسان کرسکتے ہیں جو پہلے ہی عدلیہ کی بہتری کے لیے کچھ انقلابی اقدامات کررہے ہیں‘ جب تک عدلیہ ٹھیک نہیں ہوگی، پاکستان کا سیاسی فریم ورک درست نہیں ہوسکتا‘ حکمران اشرافیہ انفرادی طور پر دعوے کرتی ہے کہ اس پر کوئی کرپشن کا الزام نہیں لگا سکتا، کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا‘ حکمران زبانی کلامی انفرادی طور پر اپنی صفائی پیش کرنے کے بجائے عملی اقدامات نہیں کرتے۔

یہ بیماریاں قومی جسم میں کہاں تک سرایت کر چکی ہیں،اس کا اندازہ سابق چیف جسٹس پاکستان انور ظہیر جمالی کے الوداعی خطاب سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے، جس میں وہ کہتے ہیں، ’’معاشرے میں خوشحالی اور معاشی ترقی کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں انصاف کی فراہمی اور گڈگورننس قائم ہو‘ ایسا صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی ہو اور میرٹ کے اُصول پر عملدرآمد ہو۔

میں افسوس کے ساتھ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم نے قائداعظمؒ کے فرمان کو بھلا دیا جس میں انھوں نے حکومت کی اولین ذمے داری یہ قرار دیا تھا کہ وہ ملک سے ناانصافی، رشوت ستانی، بدعنوانی اور اقرباء پروری کے خاتمے کو یقینی بنائے تاکہ ملک میں امن وامان قائم ہو اورعوام کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے‘ آج ہم اپنی اس ذمے داری کو نبھانے میں ناکام ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں لاقانونیت اور دہشت گردی کو فروغ ملا ‘اگر ہمیں ایک مہذب قوم بننا ہے اور ترقی کی راہوں پر گامزن ہونا ہے تو ہمیں ان تمام برائیوں کا خاتمہ کرنا ہوگا‘ سب سے بڑی لعنت رشوت ستانی اور بدعنوانی ہے‘‘۔

ہم سمجھتے ہیں کہ محض بیانات سے اب کام نہیں چلایا جاسکتا‘ اب عدلیہ کو عملی کارکردگی کا مظاہرہ کرکے اپنے فکروعمل کو ثابت کرنا پڑیگا‘ احتساب کا بیڑا اب عدلیہ اٹھائے گی تبھی عوام کو کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔ مسلم لیگ نون اپنی پیشرو حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی طرح احتساب اور کرپشن کے خاتمے کا اعلان تو کرتی ہے مگر اس پر کتنا عمل ہوتا ہے اس کا اظہار پاکستان کی سیاست میں بڑا نام رکھنے والے رہنماؤں کے خلاف درج کرپشن کیسز سے ہو جاتا ہے۔

ایسے لیڈروں کا تعلق ایک دو یا چند پارٹیوں سے نہیں، ہر پارٹی سے ہے، ان پارٹیوں سے بھی جو کرپشن، بدعنوانی اور اقرباء پروری کے خلاف تحریک اور مہم چلا رہی ہیں، اس مہم کو مزید تیز کرنے کے لیے آصف زرداری وطن واپس پہنچ چکے ہیں‘ وہ ظاہراً تو حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی اداکاری کررہے ہیں مگر دراصل وہ میثاقِ مُک مُکا کو عملی جامہ پہنانے اسمبلی میں جارہے ہیں‘ وہ پارلیمنٹ اور قومی اسمبلی کو گرفتاری سے بچنے کی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

آصف زرداری اور نوازشریف اگلی باریاں طے کرنے کے لیے اب حقیقی معنوں میں ’’میثاقِ جمہوریت‘‘ (مک مکا) پر عملدرآمد کے لیے کمربستہ ہوگئے ہیں اور مصدقہ اطلاعات ہیں کہ زرداری اور حکمران جماعت میں سندھ کی حد تک ایک نیا این آر او ہونے جارہا ہے‘ اسی این آر او کی کرامت ہے کہ زرداری وطن واپس آئے ہیں‘ اسی این آر او کی وجہ سے سندھ میں اعلیٰ سطح پر تبدیلیاں بھی ہوئیں‘ ایف آئی اے اور نیب کوبھی اپنی اوقات میں رہنے کا کہا گیا ہے‘ ہوسکتا ہے ڈاکٹر عاصم، اویس ٹپی، شرجیل میمن، ایان علی اورانور مجید بھی پلی بارگین کرکے نجات کا سرٹیفکیٹ حاصل کرلیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ مختلف حلقوں کی جانب سے زبردست تنقید کے باوجود نیب کے سربراہ پلی بارگین کے حق میں دلائل دے رہے ہیں حالانکہ انھیں اچھی طرح معلوم ہے یہ قانون احتساب کی راہ میں کتنی بڑی رکاوٹ ہے‘ ان کی اس سادگی پر ہمیں ایک واقعہ یاد پڑ رہا ہے: پنجاب کے برگزیدہ صوفی شاعر پیر وارث شاہ ملکہ ہانس کے مقام پر ایک مجمعِ شوق میں شب بھر ہیر سناتے رہے‘ بوقتِ سحر محفلِ اقتصاہ برخاست ہوئی تو اس علاقہ کا خاصہ دار وارث شاہ سے پوچھنے لگا، ہیر مرد تھی یا عورت؟ پیر صاحب نے نہایت عجزانہ تاسّف سے جواب دیا، جن کے گیان دھیان کی آنکھ ہی بند ہو، ان کے لیے ہیر مرد ہو یا عورت، کیا فرق پڑتا ہے۔

ہماری حالت بھی اس وقت عین وارث شاہ والی ہی ہے کہ جب حکمرانوں کی طرف سے نیب کو لتاڑا گیا اور کہا گیا کہ ہم نیب کے پَر کاٹ دینگے تو ہم نیب کے حق میں میدان میں آ گئے، نیب کو جامع تجاویز بھی دیں اور ان کی خامیوں کی نشاندہی بھی کی لیکن مجال ہے کہ نیب والوں کی کہ انھوں نے ادارے کی بہتری کے لیے دی گئی تجاویز پر غور بھی کیا ہو۔ نیب اصلاحات پر ہم نے چھ جامع کالم رسید کیے، ان کالموں میں شدومد سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ پلی بارگین کا قانون نیب کے پیروں میں زنجیر کے مترادف ہے اور جب تک اسے ختم نہیں کیا جاتا، قومی احتساب بیورو سے کس انقلابی کارکردگی کی توقع عبث ہوگی۔

ہماری اس تجویز سے عدالتِ عظمیٰ نے بھی اتفاق کیا اور اس قانون کے منفی پہلوؤں پر آبزرویشن بھی جاری کی تھی‘ اب وفاقی وزیرداخلہ، وزیراعلیٰ پنجاب اور چیئرمین تحریکِ انصاف نے بھی پلی بارگین جیسے مجرم دوست قانون پر تحفظات کا اظہار کردیا ہے مگر نیب کو ہنوز یہ ہی معلوم نہیں ہوپایا کہ ہیر مرد ہے یا عورت! بجائے اس کے، کہ وہ اس قانون میں ترمیم کروانے کے لیے حکومت کو سفارشات پیش کرے،  اُلٹا وہ یہ بیان دے رہا ہے  کہ پلی بارگین تحقیقات آگے بڑھانے کا ہتھیار ہے۔

۔حکومت، اپوزیشن، سول سوسائٹی اور عوام تک اس کرائم فرینڈلی قانون کے خلاف رائے زنی کررہے ہیں مگر سب بے سود لگ رہا ہے۔ نیب بدعنوان سیاستدانوں، افسر شاہوں، صنعتکاروں، سرمایہ داروں اور جرنیلوں کے پیٹ میں ہاتھ ڈال کر ایک پیسہ بھی برآمد کرنے کی جسارت نہیں کرسکا۔ یہ کیسی مجبوریاں ہیں کہ آئینی و قانونی اتھارٹی ہونے کے باوجود نیب حکمرانوں اور بڑے مگرمچھوں پرکبھی منصفانہ کام نہیں کر سکا‘حق بات تویہ ہے کہ بڑی شخصیات کے خلاف قائم مقدمات کو انجام تک پہنچانے کی نیب افسران میں ہمت و صلاحیت ہی ناپید ہے۔

چھوٹے موٹے مجرموں سے پلی بارگین کے ذریعے نیب جو 70فیصد ریکوری کے شادیانے بجاتا ہے، یہ بھی کوئی حوصلہ افزاء اَمر نہیں‘ ہماری نظر میں یہ قانونی بھتہ خوری ہے، یعنی نیب افسران کا قوم کی لوٹی گئی دولت کی واپسی میں حصہ دار بن جانا‘مانا کہ یہ افسران کی ہمت افزائی کا ایک کارگر حربہ ہے مگر یہ رجحان ہمیشہ کی بناء پر مثبت پیشرفت کے لیے گراؤنڈ مہیا نہیں کرتا‘ پلی بارگین کا صوابدیدی فیصلہ کرنے کی آزادی کی شکل میں گویا نیب کو خود کرپشن کی کھلی چھٹی دیدی گئی ہے‘ اِس کاروبار سے نیب افسران خود کا بھلا تو کر رہے ہیں، معاشرے میں احتساب کا خوف پیدا نہیں ہو پارہا۔

کرپٹ عناصر کے لیے پلی بارگین کسی من چاہی نعمت سے کم نہیں کہ جب وہ کئی برسوں بعد نیب کے ہاتھ لگتے ہیں تب تک لوٹی گئی رقم کا سود ہی اتنا بن چکا ہوتا ہے جتنے کی وہ پلی بارگین کرتے ہیں‘یوں لگتا ہے کہ پلی بارگین کا قانون کرپشن کو ہلہ شیری دینے اور نیب افسران کے ذاتی مفاد کے لیے گھڑا گیا ہے‘ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ آپ 40ارب روپے کی کرپشن کریں اور دس سال بعد دو ارب روپے واپس لوٹا کر رِہا ہو جائیں؟

اس سوچ نے تو سزا و قضاء کا تصور ہی ختم کردیا ہے‘ روٹی کے ایک ایک نوالے کو ترس رہے عوام کے خون پسینے پر ڈاکے ڈالنے والی خونخوار جونکوں کو عبرتناک سزائیں دی جاتیں تو ان کا حشر دیکھنے والوں کو بھی کان ہوجاتے‘ تب وہ قوم کا ایک روپیہ مارتے ہوئے بھی سو بار سوچتے‘ پلی بارگین کرپشن کو جائز قرار دینے کا ایک بھونڈا قانون ہے! اس قانون کے سپورٹر یہ مضحکہ خیز منطق پیش کرتے ہیں کہ کسی پر مقدمات بنا کر اسے جیل میں ڈال دینے سے ملک کو کیا فائدہ ہونے والا ہے‘ ملک کا بھلا تو تبھی ہو گا جب لوٹی ہوئی دولت قومی خزانے میں واپس آئیگی‘ گویا اس سے یہی مراد لی جا سکتی ہے کہ قوم کا بھلا صرف لوٹی ہوئی دولت کا کچھ فیصد حصہ واپس لانے میں ہے، نہ کہ کرپشن کے خاتمے میں۔

اسی دلیلِ ضرار نے پاکستان کو نوع بہ نوع کے قومی ڈاکوؤں کے لیے جنت کا درجہ دیدیا ہے‘ ایسے میں کس ’’شریف‘‘ کا یہ جی نہ چاہے گا کہ وہ اس ’’جنت ِاشرافیہ‘‘ کے حصول کے لیے اپنی آخرت بھی داؤ پر لگا دے؟پلی بارگین مشرف کا دیا ہوا تحفہ ہے‘ اس کی اس لیے مخالفت نہیں ہوتی کہ ایک آمر نے اس قانون کی تشکیل کی ہے بلکہ اس سے ایماندار ملازمین اور کاروباری لوگوں کی حوصلہ شکنی اور کرپٹ لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے‘ قومی اثاثوں پر ہاتھ صاف کرنیوالوں سے ایک ایک پائی کی ریکوری کر کے ان کو جیل میں ڈالے بغیر احتساب کا راستہ ہموار نہیں ہوسکتا‘ ایک شخص 6ارب کی کرپشن کرتا ہے تو اس سے دو ارب وصول کر کے اس کی باقی کرپشن کی کمائی کو جائز قرار دے دینا کونسا انصاف ہے؟

سپریم کورٹ نے پلی بارگین پر پابندی عائد کی ہوئی ہے، اس کے باوجود بلوچستان میں سابق سیکریٹری خزانہ کو یہ سہولت فراہم کر دی گئی‘ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے ایسے افسروں کو برطرف کرنے کا حکم دیا تھا جو پلی بارگین کے بعد بحال ہو گئے تھے۔ پلی بارگین انصاف کے تقاضوں کے قطعی منافی ہے۔ بجا کہ کچھ سکینڈلز میں متاثرین کو کوئی ریلیف نہیں مل سکا تاہم معاملات میں پلی بارگین سے متاثرین کو کچھ ادائیگیاں ہوئی ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں کہ مضاربہ کیس میں اگر انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے تو انصاف پر دھبہ بننے والے پلی بارگین قانون کو نافذ العمل رکھا جائے۔

متاثرین کو ریلیف کے لیے اگر قانون میں کوئی سقم ہے تو اسے دُور کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پلی بارگین کی عوامی و سیاسی مخالفت کے باوجود چیئرمین نیب کا یہ بیان افسوسناک ہے کہ ’’پلی بارگین کا حتمی فیصلہ عدالت کرتی ہے، سزا کے تمام لوازمات لاگو ہوتے ہیں، صرف ملزم جیل نہیں جاتا‘‘۔ اس کا تو صاف صاف مطلب یہ ہے کہ کرپشن کرنیوالے بڑے بڑے مگرمچھ نیب اور عدالت کی ملی بھگت سے سزاؤں سے مبرا ہوجاتے ہیں‘ بھئی جب انھیں جیل میں نہیں ڈالا جائے گا اور دو چار فیصد لے کر چھوڑ دیا جائے گا تو پھر سزا کے اور کون سے قاعدے ہیں جن کے لاگو ہونے کی بات کی جا رہی ہے؟

پلی بارگین کے خلاف سیاستدان صرف پوائنٹ اسکورنگ کرتے ہیں‘ نون لیگ کے چار سالہ دورِ حکومت میں پہلی دفعہ شہبازشریف اس قانون کے خلاف بات کررہے ہیں‘ حکومت اگر سنجیدہ ہوتی تو اس قانون کو تبدیل کرنے کے لیے پہلے ہی اسمبلی میں ڈرافٹ لے آتی‘ پلی بارگین قانون میں تبدیلی کرنا بہت آسان ہے لیکن حکومت کا ایساکوئی ارادہ نظر نہیں آتا‘ پاناماکیس سے خراب ہونیوالے تاثر کو بہتر کرنے کے لیے شہبازشریف اور چوہدری نثار پلی بارگین قانون میں تبدیلی کی بات کررہے ہیں‘ پلی بارگین قانون میں تبدیلی کے بجائے پارلیمنٹ احتساب بل اور انتخابی اصلاحات پرہی کام مکمل کردے تو ملک وقوم کے لیے بڑا کام ہوگا لیکن سوال یہ ہے کہ پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی اور مسلم لیگ نون نیب قوانین میں تبدیلی پر متفق کیسے ہونگی؟

کوئی بھی باضمیر معاشرہ پلی بارگین جیسے مالیاتی اوچھے پن کو برداشت نہیں کرسکتا‘ پلی بارگین جیسے عوام دشمن قانون میں بالآخر تبدیلی لاکر ہی بات بنے گی‘ یہ بھی حقیقت ہے کہ نون لیگ پلی بارگین کے قانون میں تبدیلی کی بات دباؤ کے زیراثر کررہی ہے‘ پاکستان میں کوئی احتساب کا نظام نہیں ہے‘ سابق اور موجودہ احتساب کے قوانین میں بہت نقائص آتے رہے ہیں، اس لیے نیب کا قانون بدلنے کی اشد ضرورت ہے لیکن نون لیگ اور پی پی پی سمیت بہت ساری جماعتیں تو کرپشن کے فروغ کے لیے اکٹھی ہیں، کرپشن کے خاتمے کی صرف پی ٹی آئی حامی ہے تو پھر کس طرح ملک کو کرپشن سے پاک کیا جا سکتا ہے؟

چند ماہ پہلے پی ٹی آئی نے نیب میں اصلاحات کے معاملہ پر مسلم لیگ نون کا ساتھ نہیں دیا تھا، ممکن ہے اب بھی پی ٹی آئی اور نون لیگ نیب قوانین میں تبدیلی پر متفق نہ ہوسکیں‘ یہاں نیت کا فتور ہے اور شفافیت کے لیے شفاف ہونا بہت ضروری ہے‘ یہ لوگ کیسے ایسا قانون لے کر آئینگے جو وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کا احتساب کرسکے‘ پاکستان میں احتساب سیاسی چال کے لیے استعمال کیا جاتا ہے‘ حکومت کی اگر نیت مصدقہ ہوتی تو پچھلے چار سال میں نیب قوانین کو تبدیل کردیا جاتا۔ آج پاکستان کی ہر قابلِ ذکر پارٹی اقتدار میں ہے‘ خیبر سے کراچی تک قومی وجود میں آج کرپشن کی وباء رچی بسی ہوئی ہے اوربدعنوانی کے اس حمام میں ہر پارٹی غسلِ آفتابی میں مشغول ہے ‘ اس کلچر کے خاتمے کی اولین ذمے داری مرکزی حکومت کی ہے۔

ماضی کی طرح آج کی حکمران پارٹی خود بھی کرپشن اور اقرباء پروری میں غرقاب ہے‘ عمران خان بار بار الزام عائد کرتے ہیں کہ قومی وسائل لوٹنے کے لیے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے مابین مک مکا ہو چکا ہے۔ قانون کی رُو سے چیئرمین کا تقرر حکومت اور اپوزیشن کی مشاورت سے ہوتا ہے۔

موجودہ چیئرمین نیب کی تعیناتی وزیراعظم نواز شریف اور اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کی باہمی مشاورت سے عمل میں آئی تھی‘ ان ہی چیئرمین نیب نے سپریم کورٹ میں میگا کرپشن کیسز کی رپورٹ پیش کی جس میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے نام بھی شامل ہیں‘ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کہتے ہیں کہ ’’احتساب کا عمل اس وقت شفاف ہوسکتا ہے جب نیب کے سربراہ کا تقرر عدلیہ کرے، اگربدعنوانی میں ملوث حکومت اور اپوزیشن ملکر نیب کا چیئرمین لگائیں گے تو احتساب کیسے ممکن ہوگا، قوانین میں تبدیلی کی ضرورت ہے‘ پلی بارگین چوروں کو راستہ دینے کے مترادف ہے‘‘۔

بلاشبہ نیب ایک آزاد اور خودمختار ادارہ ہے اور ایسے اداروں کے سربراہان کو اُصولی طور پرغیر جانبداری سے اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے‘ قانون اورآئین کا بھی یہی تقاضہ ہے مگر سیاسی بنیادوں پر تقرریوں، معروضی حالات اور مروجہ کلچر کے باعث انسانی اُصولوں، اخلاقیات اورآئین و قانون سے ماورا ایک سماجی روایت ہمارے ہاں رواج پاچکی ہے‘ پاکستان کے سیاسی کلچر میں ممکن نہیں کہ ملزم خود کو احتساب کے لیے پیش کر دے‘ البتہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے اعلانات ضرور ہوتے ہیں۔

میگا کرپشن کیسز کی محض رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش ہونے پر نیب حکام اور چیئرمین نیب کو وزراء کی طرف سے کھلی دھمکیاں دی گئی تھیں‘ اس کے بعد انکوائریاں، تفتیش اور تحقیقات جہاں تھیں وہیں جام ہوکر رہ گئیں‘ ملک میں کرپشن کس پیمانے پر ہوتی ہے، اس کا اندازہ چیئرمین نیب کی طرف سے جاری کردہ اعدادوشمار سے بخوبی ہوجاتا ہے جن کے مطابق ملک میں روزانہ 14 ارب روپے کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں‘ ان کا بڑا حصہ آج قوم کو کھربوں ڈالر مالیت کی آف شور کمپنیوںکی صورت میں نظر آ رہا ہے‘ پاکستان سے یہ کھربوں ڈالر اگر لوٹ مار کے نہ ہوں تو بھی ٹیکس بچانے کے لیے آف شور کمپنیوں میں لگائے گئے۔

آج ہر پارٹی کے سرکردہ لیڈران اور ان کی اولاد کے ناموں پر آف شور کمپنیاں کام کر رہی ہیں‘ وزیر خزانہ اسحق ڈار نے سوئس بینکوں میں پڑے پاکستانیوں کے 200 ارب ڈالر پاکستان لانے کا اعلان توکیا تھا مگر اس معاملہ میں پیشرفت سے قوم کو آگاہ نہیں کیا گیا‘ اتنی بڑی رقوم لوٹ مار سے اکٹھی کر کے باہر بھجوائی گئی ہیں مگر نیب اس بارے میں خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے‘ ادارے مضبوط ہوں تو ایک ایک پائی قومی خزانے میں لائی جا سکتی ہے‘پاکستان میں نیب، ایف آئی اے، اینٹی کرپشن اور دیگر ادارے کرپشن و بدعنوانی کے خاتمے کے لیے موجود ہیں‘ ہر تیسرے روز ان کے اندر بھی بدعنوان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی خبر آئی ہوتی ہے۔

ان کی اصلاح میرٹ کی عملداری سے کسی حد تک ممکن ہے مگر میرٹ تو اداروں کا کلچر اس تجرباتی ملک میں کبھی رہا ہی نہیں‘ معاشرے کو کرپشن بے ضابطگیوں اور بدعنوانی سے پاک کرنے کے لیے نیب کا کردار سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے‘ اس کے چیئرمین کی تقرری کے لیے وزیر داخلہ کی رائے مطلقاً صائب ہے ‘ انھوں نے بجاکہا کہ عدلیہ نیب کے سربراہ کا تقرر کرے‘ اس سے نیب خودمختار، آزاد اور طاقتور بن سکتا ہے کیونکہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں نیب پر کوئی دباؤ بھی نہیں ڈال سکے گا اور حکمرانوں کی دست برد سے باہر آنے کی وجہ سے اس کے نتائج بھی صد فیصد آسکتے ہیں۔

یہ تجویز چونکہ ایک طاقتور اور ذمے دار وفاقی وزیر کی طرف سے آئی ہے اس لیے حکومت کواسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور آئندہ ایک غیرجانبدار نیب سربراہ کے تقرر کے لیے قانون میں تبدیلی کرکے سپریم کورٹ کو اس اہم تقرری کی سفارش کرنی چاہیے۔ حکمرانوں کومصلحتوں اور خود احتسابی کے خوف سے بالاتر ہو کر سوچنے کی ضرورت ہے‘ اگر وہ واقعی منصفانہ احتساب کے حامی ہیں تو ایسے احتساب کا عوام بھی بھرپور ساتھ دے سکتے ہیں‘ اسی صورت میں ہی ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔