نئے سال میں بہتر زندگی کا حصول، لیکن کیسے؟

عمران خوشحال راجہ  پير 2 جنوری 2017
اگر پچھلا سال آپ نے اِس غلط فہمی میں گزار دیا ہے کہ اوروں کی طرح بننے سے خوشی ملے گی اور آپ اِس طرح بھرپور زندگی گزار سکتے ہیں تو بھول جائیں۔ فوٹو: رائٹرز

اگر پچھلا سال آپ نے اِس غلط فہمی میں گزار دیا ہے کہ اوروں کی طرح بننے سے خوشی ملے گی اور آپ اِس طرح بھرپور زندگی گزار سکتے ہیں تو بھول جائیں۔ فوٹو: رائٹرز

 

میں، آپ، خالد، بشرا اور ہمارے جاننے والا اور نہ جاننے والا ہر شخص، قطع نظر رنگ، نسل، مذہب، جنس، اپنی الگ پہچان کے ساتھ پیدا ہوا۔ وہ پہچان جس نے مجھے ’میں‘ بنایا اور آپ کو ’آپ‘، اور ہر دوسرے شخص کو وہ شخص۔ وہ پہچان جو عام نہیں تھی خاص تھی، خاص اتنی خاص کے میرا اور آپ کا اِس کائینات میں اِس پہچان کے ساتھ پیدا ہونا محض ایک حادثہ تھا۔ ایک ایسا حادثہ جو ایک دفعہ میں نہیں ہوتا، دو دفعہ میں نہیں ہوتا، سو دفعہ میں بھی نہیں ہوتا، بلکہ تینتالیس سو ٹریلین ٹائمیز میں ایک اور صرف ایک دفعہ ہوتا ہے۔ جی ہاں تینتالیس سو ٹریلین ٹائمیز میں ایک دفعہ، اور یہ اتنا بڑا ہندسہ ہے کہ میں اور آپ مل کر بھی ساری عمر لگے رہیں تب بھی ایسا دوبارہ نہیں کرسکتے۔

پھر ہم اپنی بیالوجی تو دیکھیں۔ دماغ، ہاتھ، آنکھیں، کتنا کچھ ایک دوسرے سے یکسر مختلف۔ نفسیات دیکھیے، سوچنے کا طریقہ، ہنسی، رونے کا انداز اور لاکھ طرح کے جذبات کا اظہار ہر دوسرے شخص کا منفرد اور اچھوتا۔ پسند نا پسند مختلف، ذائقوں کا انتخاب مختلف، بولنے کا انداز مختلف، یعنی ہماری پیدائش میں ہی انفرادیت کی انتہا ہے۔ میں میں ہوں، کبھی چاہ کر بھی آپ نہیں بن سکتا، اور آپ آپ ہیں کبھی میرے جیسے نہیں ہوسکتے۔

لیکن یہ کیا ہوا۔ کیوں میں نے اپنی پہچان کا گلہ گھونٹ دیا؟ کیوں آپ نے اپنی انفرادیت کو قتل کردیا؟ کیوں خالد، بشرا اور ہمارے اور اُن کے جاننے والے سبھی لوگ محض لوگ بن گئے؟ کیوں میں اور آپ اور وہ سب ’ہم‘ بن گئے؟ کیوں انفرادیت ناپید ہوگئی؟ کیوں پہچان کا خاتمہ ہوگیا؟ کیوں ہم انوکھی آنکھوں کے ساتھ سوشل میڈیا پر چپکی ایک تصویر، ایک ویڈیو رہ گئے؟ کیوں میری انفرادیت کو ایک آئی ڈی کھا گئی؟ اور کیوں آپ خالد اور بشرا دیگر کروڑوں افراد کی طرح ’علیحدہ شناخت‘ نہیں رہے؟

سورن کئیرکیگارڈ (تلفظ پر اتفاق نہیں ہے) انیسویں صدی کا عظیم فلسفی، شاعر، اور پہلا ایگزسٹینشلسٹ، انفرادیت پر لکھتے ہوئے کہتا ہے کہ آپ نے اپنی انفرادیت کھو دی یا روائتی بھیڑچال میں آپ وہ کام کرگئے جس کی آپ سے توقع کی جارہی تھی یا آپ سے مطالبہ کیا جارہا تھا۔

جیسے میرے ایک دوست نے کہا کہ میں اُس کی کوئی انفرادی حیثیت نہیں، کیونکہ یہ ہو نہیں سکتا، بلکہ وہ تو وہ ہے جو اُس کے گھر والے، دفتر والے، دوست احباب اور رشتے دار اُس سے چاہتے ہیں یا اُس کے بارے میں خیالات رکھتے ہیں۔ وہ، وہ نہیں رہا بلکہ وہ لوگوں کی اُمیدوں پر پورا اترنے والا یا اُن کے مطالبات پورے کرنے کی کوشش کرنے والا کوئی شخص بن گیا ہے، یا پھر ان گنت آپشنز میں وہ کہیں کھو گیا ہے، جیسے اُسے ڈاکٹر بننا ہے یا انجینئر؟ پائلٹ بننا ہے یا پروفیسر؟ اور کس میں زیادہ کامیابی ہے؟ یہ اب شاید کوئی نہیں سوچتا کہ آخر وہ کونسا کام کرے جس میں اُس کو زیادہ خوشی میسر آتی ہے۔

تو دوستو! آپ جو بھی ہیں، جیسے بھی ہیں، اپنی انفرادیت کو زندہ رکھیں، کیونکہ یہی وہ چیز ہے جو آپ کو خوشی دے سکتی ہے۔ آپ کو اصل میں زندہ رکھ سکتی ہے اور اگر آپ اپنی نظر میں آپ نہیں ہیں، اگر آپ آج بھی وہی کام کررہے ہیں جو آپ کرنا نہیں چاہتے، تو سمجھ لیجیے کہ آپ ایک ایسی زندگی گزار رہے ہیں جسے گزارنے کے لیے آپ کے پاس کوئی جواز ہی نہیں۔

مانا یہ کام کرنا مشکل ہے۔ زندہ رہنے کے لیے مجھے اور آپ کو دال روٹی کا بھی سوچنا ہوگا۔ اپنی بنیادی ضرورتوں کو بھی پورا کرنا ہوگا، لیکن اِن ضرورتوں کو پورا کرنے کا مطلب یہ تو ہرگز نہیں کہ بھیڑ بکریوں کی طرح ایک ہی طرف چل پڑیں؟ جو سب کررہے وہ آپ بھی شروع کردیں؟ اچھا جی وہ شلوار قمیض پہنتا ہے تو آپ بھی پہن لیں۔ اُس نے بالوں اور مونچھوں کے ساتھ داڑھی کا فلاں سٹائل بنایا ہوا ہے تو آپ بھی ویسا ہی بنا لیں۔ اُس نے فلاں گاڑی لے رکھی ہے تو آپ بھی وہی لیں۔ نہیں، ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ، وہ ہے اور آپ، آپ ہیں اور آپ اُس سے بالکل الگ ہیں، منفرد ہیں۔ اِس لیے کوشش کیجیے کہ اپنی شناخت کو برقرار رکھیں اور لوگوں سے منفرد رہنے کی کوشش کیجیے کہ آپ کی فلاح اِسی میں ہے۔

اگر پچھلا سال آپ نے اِس غلط فہمی میں گزار دیا ہے کہ اوروں کی طرح بننے سے خوشی ملے گی اور آپ اِس طرح بھرپور زندگی گزار سکتے ہیں تو بھول جائیں۔ اِس لیے کوشش کیجیے کہ آپ آج ہی یہ فیصلہ کریں کہ آپ نے یہ نیا سال کیسے گزارنا ہے؟ زندگی کو ایسے جئیں جیسے آپ چاہتے ہیں، جیسے آپ ہیں اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر آپ یہ کام کرنے میں کامیاب ہوگئے تو آپ کا یہ سال آپ کے گزشتہ سال سے ہزار گنا بہتر بن سکتا ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کےساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔
عمران خوشحال راجہ

عمران خوشحال راجہ

بلاگر ایم فل سکالر، کشمیریکا کے بانی، محقق اور بلاگر ہیں۔ وہ ’’آن کشمیر اینڈ ٹیررزم‘‘ اور ’’دریدہ دہن‘‘ کے مصنف ہیں۔ عالمی تعلقات، دہشت گردی اور سماجی و سیاسی تبدیلیاں ان کی دلچسبی کے مضامین ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔