انسانی جسم میں ایک نئے عضو کی شناخت

ویب ڈیسک  بدھ 4 جنوری 2017
انسانی جسم میں نئی شناخت رکھنے والا یہ عضو معدے اور آنتوں سے جڑا ہوتا ہے۔فوٹو؛ فائل

انسانی جسم میں نئی شناخت رکھنے والا یہ عضو معدے اور آنتوں سے جڑا ہوتا ہے۔فوٹو؛ فائل

آئرلینڈ: ماہرین نے انسانی جسم میں ایک نئے عضو کی شناخت کرلی ہے جو ہمارے معدے اور آنتوں سے جڑا ہے اور جسے اس سے پہلے عضو کا درجہ نہیں دیا گیا تھا۔

انسانی جسم میں عضو کا درجہ پانے والا یہ حصہ ’’میسینٹری‘‘ (mesentery) کہلاتا ہے جو ہماری آنتوں اور معدے پر ایک مضبوط اور لچک دار دوہری جھلی کی شکل میں لپٹا ہوتا ہے اور انہیں اپنی جگہ پر رہنے میں مدد دیتا ہے۔

انسانی جسم میں میسینٹری کی پہلی تصویری وضاحت لیونارڈو ڈا ونسی نے اپنی تصویروں میں کی تھی لیکن تب اسے غیر اہم سمجھتے ہوئے نظر انداز کردیا گیا تھا۔ بیسویں صدی میں بھی طبی ماہرین نے میسینٹری کے بارے میں جاننے کی کچھ ابتدائی کوششیں کیں اور انہوں نے اسے مختلف حصوں میں بٹی ہوئی ایک ساخت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانی جسم کے لیے یہ ساخت خاصی کم اہمیت رکھتی ہے۔ مگر گزشتہ چند برسوں سے جاری تحقیقات میں یہ امکان سامنے آرہا تھا کہ میسینٹری شاید مختلف حصوں میں بٹی ہوئی کوئی غیر اہم جسمانی ساخت نہیں بلکہ آنتوں اور معدے کو ان کی جگہ پر سنبھالے رکھنے میں اس کا کچھ نہ کچھ کردار ضرور ہے۔

آئرلینڈ کے سائنسدانوں نے میسینٹری پر تحقیق کو آگے بڑھاتے ہوئے ثابت کیا کہ یہ واقعتاً ایک ہی مسلسل جھلی ہے اور اس قابل بھی ہے کہ اسے انسانی جسم میں ایک عضو کا باقاعدہ طور پر درجہ دیا جائے۔

میسینٹری کی جدید ترین شکل کچھ یوں پیش کی جارہی ہے:



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔