زرد صحافت کی جدید شکل، جعلی خبروں کی ویب سائٹس

سید بابر علی  اتوار 22 جنوری 2017
امریکا کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کام یابی بڑی حد تک ان سائٹس کی مرہون منت ہے۔ فوٹو : فائل

امریکا کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کام یابی بڑی حد تک ان سائٹس کی مرہون منت ہے۔ فوٹو : فائل

گذشتہ سال ہونے والے امریکی انتخابات کے نتائج نے دنیا کو حیرت و استعجاب میں مبتلا کردیا۔ ان انتخابات کا نتیجہ وہ نکلا جس کا امکان بہت کم تھا۔ اب اگلے چار سال کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ جیسا متعصب اور جنونی شخص دنیا کے طاقت ور ترین ملک کا صدر بننے جا رہا ہے۔

ٹرمپ کی فتح کے پیچھے بہت سے عوامل کارفرما ہیں، جن میں سے سب سے اہم کردارانٹرنیٹ پر موجود جعلی نیوز ویب سائٹس اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا ہے، فیس بک ، ٹوئٹر، بلاگز اور فورمز پر ٹرمپ کے حق میں شایع ہونے والے ہزاروں جعلی مضامین اور جعلی خبروں نے ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے لیے راہ ہموار کی۔

ان جعلی خبروں اور مضامین کو سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں اصلی خبروں سے زیادہ لائیک اور شیئر کیا گیا۔ خبر کی تصدیق کیے بنا اسے دوسرے لوگوں سے شیئر کرنے کی روایت نے ہی ٹرمپ جیسے شخص کے صدر بننے کے لیے راستہ صاف کیا۔ مزاح، پروپیگنڈے یا کسی ایجنڈے پر کام کرنے والی یہ جعلی نیوز ویب سائٹس نہ صرف دنیا بھر میں سیاسی راہ نماؤں کی کام یابی کے لیے راہ ہموار کر رہی ہیں بل کہ  یہی ویب سائٹس میانمار میں ہزاروں مسلمانوں کے قتل عام کی ذمے دار بھی ہیں۔ زیرنظر مضمون میں جعلی خبری ویب سائٹس اور اُن کے دنیا پر مرتب ہونے والا اثرات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

جعلی ویب سائٹس جنہیں ’’ hoaxنیوز‘‘ ویب سائٹ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ویب سائٹس قارئین کو اپنی سائٹ تک لانے کے لیے بڑے پیمانے پر سوشل میڈیا کا استعمال کرتی ہیں۔ ان ویب سائٹس کا بنیادی مقصد معاشی اور دیگر فوائد حاصل کرنے کے لیے انٹرٹینمنٹ اور درست معلومات کے بجائے کسی مخصوص سیاسی، مذہبی جماعت کے حق یا مخالفت میں پروپیگنڈا یا رائے عامہ ہموار کرنا ہوتا ہے ۔

یہ ویب سائٹس پاکستان، امریکا، جرمنی، فلپائن، سوئیڈن، میانمار، سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں سیاسی جماعتوں کے حق اور مخالفت میں جھوٹی خبریں شایع کرنے میں بھی ملوث ہیں۔ ان ویب سائٹس کو زیادہ تر روس، مقدونیہ، رومانیہ اور امریکا سے چلایا جاتا ہے یا ان کی پروموشن کے لیے ان ممالک کی سرزمین استعمال کی جاتی ہے۔ جعلی خبروں کا یہ گورکھ دھندا صرف انٹرنیٹ کی پیداوار نہیں ہے بل کہ انٹرنیٹ اور نیوز ویب سائٹس کے آغاز سے قبل بھی پرنٹ میڈیا کے ذریعے جعلی خبریں شایع کی جاتی تھیں، جس کے لیے صحافتی زبان میں ’زرد صحافت‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

اس دور میں پرنٹ میڈیا سے منسلک مفادپرست عناصر صحافت کے نام پر جعلی نیوزاسٹوریز، انٹرویوز شایع کرکے اپنے پیسے کھرے کرلیتے تھے۔ ان جھوٹی خبروں سے نہ صرف ہزاروں لاکھوں لوگوں کی ساکھ کو نقصان پہنچا بل کہ یہ حریف ممالک کے مابین جنگ کا سبب بھی بنیں۔ اٹھارھویں صدی کے وسط میں نکلنے والے امریکی اخبارات ’سینٹ لوئس پوسٹ ڈسپیچ‘ ، ’نیویارک ورلڈ‘ اور ’ دی سان فرانسسکو ایگزامینر‘ کے ناشر جوزف پولیٹزر اور ویلیم رینڈولف ہیرسٹ نے سنسنی خیز سرخیوں کے ساتھ جعلی خبریں شایع کرنا شروع کیں۔ ان اخبارات میں شایع ہونے والی خبریں1898 میں اسپین اور امریکا میں جنگ کا سبب بنیں۔

امریکا میں گذشتہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں جہاں جعلی خبروں کو فروغ دینے والی نیوز ویب سائٹس نے بھی نہایت اہم کردار ادا کیا، وہیں مقدونیہ کے ایک چھوٹے سے قصبے ’ویلیز‘ کے نام کی بازگشت بھی سنائی دی۔ بے روزگاری کی بلند شرح والے اس قصبے کی کُل آبادی 50 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ امریکا کے نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کے مطابق جعلی نیوز ویب سائٹس مقدونیہ کے نوجوانوں کے لیے سونے کی کان کی حیثیت رکھتی ہیں، جب کہ اس کام کو حکومتی سر پرستی بھی حاصل ہے۔

ویلیز کے میئر Slavcho Chadiev کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ نقلی خبروں اور پروپیگنڈے کے لیے بنائی گئی یہ ویب سائٹس مقدونیہ کے قوانین کے خلاف نہیں ہیں اور ان سے حکومت کو بھی ٹیکس کی مد میں اچھی خاصی آمدنی ہوتی ہے۔ Slavcho کا کہنا ہے کہ اگر ویلیز سے ہونے والے فراڈ کے نتائج امریکا کے حالیہ صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں مرتب ہوئے تو مجھے اس بات کی خوشی ہے۔

جعلی ویب سائٹ کا گڑھ سمجھے جانے والے قصبے ویلیز پر برطانوی اخبار گارجین نے ایک تحقیقاتی رپورٹ شایع کی۔ رپورٹ کے مطابق ویلیز کے نوجوانوں نے سو سے زاید ویب سائٹس کے ذریعے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں خبریں اور مضامین شایع کیے اور انہیں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے ذریعے دنیا بھر میں پھیلایا۔ امریکا میں ہونے والے 2016 کے صدارتی انتخابات سے قبل یہاں کے نوجوانوں کی اکثریت کا ذریعہ آمدنی طبی مشورے دینے والی ویب سائٹس تھیں۔ اخبار نے دیمتری نام کے اٹھارہ سالہ نوجوان کا انٹرویو بھی شایع کیا جو اس قصبے میں سب سے منافع بخش جعلی خبری ویب سائٹس چلانے والے آپریٹرز میں سے ایک ہے۔

دیمتری کا کہنا ہے،’’مجھے سیاست سے قطعی دل چسپی نہیں ہے اور میں نے دوسری خبری ویب سائٹس پر موجود مضامین میں تھوڑی بہت ترمیم کے بعد انہیں اپنی ویب سائٹ پر لگادیا ۔ اس قصبے کے تقریباً تین سو افراد جعلی ویب سائٹس کے لیے مضامین لکھتے ہیں، جب کہ میں خود گذشتہ چھے ماہ میں60 ہزار ڈالر منافع کما چکا ہوں۔‘‘ دیمتری کا کہنا ہے کہ مجھ سمیت زیادہ تر آپریٹرز نے ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں جعلی مضامین لکھے اور امریکا کے صدارتی انتخابات ہمارے لیے نہایت منافع بخش ثابت ہوئے۔

خبر رساں ایجنسی ایسو سی ایٹڈ پریس (اے پی) نے بھی ایک نوجوان کے انٹرویو کو اپنی رپورٹ کا حصہ بنایا۔ ایلکس کی طرح اس نوجوان کی بھی سیاست سے دل چسپی نہ ہونے کے برابر ہے اور اس نے اپنی ویب سائٹ پر لوگوں کو لانے کے لیے گوگل اینا لائٹکس (گوگل کا ایک ٹول جو کسی ویب سائٹ پر آنے والے ٹریفک کا جنس، مقام، عمر، رجحان، ویب سائٹ پر گزارے جانے والے وقت کا تجزیہ کرتا ہے) استعمال کیا اور ایک ہی ہفتے میں ساڑھے چھے لاکھ سے زاید لوگوں نے اس کی ویب سائٹ پر ٹرمپ کے حق میں مضامین اور خبریں پڑھیں۔

اے پی نے اس نوجوان کے دعوے کی ڈومین ٹولز (ایک ٹول جو ڈومین نیم (ویب سائٹ کے نام) ، آئی پی ایڈریس، کی مدد سے ویب سائٹ چلانے والی معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے) کی مدد سے تصدیق کی اور اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ ویلیز سے آپریٹ ہونے والی تقریباً دو سو ویب سائٹس نے امریکی ذرایع ابلاغ میں شایع ہونے والی خبروں کو ترمیم کے بعد ٹرمپ کے حق میں شایع کیا۔

رومانیہ کی جعلی رپورٹس کو فروغ دینے والی ایک ویب سائٹ ’اینڈنٖگ دی فیڈ ‘ نے بھی جعلی مضامین اور بوگس رپورٹس کی مدد سے ٹرمپ کے حق میں بھرپور مہم چلائی۔ اس ویب سائٹ کے آپریٹر رومانیہ کے 24سالہ Ovidiu Drobota ہیں۔ گذشتہ سال اگست میں اس ویب سائٹ نے ایک خبر کو راتوں رات دنیا بھر میں پھیلا دیا کہ فاکس نیوز نے ممتاز امریکی صحافی میگن کیلی کو نوکری سے نکال دیا ہے۔

یہ خبر فیس بُک کے ’ٹرینڈنگ نیوز‘ سیکشن میں ٹاپ پر رہی، جب کہ امریکی صدارتی انتخابات سے تین ماہ قبل ہی سے فیس بک کے دس مقبول ترین مضامین میں سے چار اسی ویب سائٹ کے رہے۔ یہ جعلی مضامین صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں لکھے گئے تھے۔ دنیا بھر میں ویب سائٹس کی ٹریفک (ویب سائٹ وزٹ کرنے والے افراد) کے لحاظ سے درجہ بندی کرنے والی ویب سائٹ الیگزا کے مطابق صرف نومبر 2016 ہی میں اس ویب سائٹ پر تقریباً34 لاکھ ویوز رہے، جب کہ زیادہ تر ٹریفک فیس بک سے آیا۔ اس بابت Drobota کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر فخر محسوس کرتا ہے کہ اس کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر لکھے گئے مضامین (جعلی) نے امریکی انتخابات پر اثرات مرتب کیے۔

٭ انٹرنیٹ ریسرچ فرم اور ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح!
2014کے اواخر میں ایک امریکی جریدے ’دی نیویارکر‘ کے رپورٹر ایڈریان چین نے آن لائن پروپیگنڈا کرنے والے روسی گروپ ’انٹرنیٹ ریسرچ ایجنسی‘ پر چھے ماہ کی طویل محنت کے بعد ایک تحقیقاتی رپورٹ شایع کی۔ رپورٹ کے مطابق خبروں کی آڑ میں پروپیگنڈا کرنے والا یہ گروپ روسی وزیراعظم ولادیمر پیوٹن کے قریبی ساتھی Evgeny Prigozhin کی سرپرستی میں چلایا جا رہا ہے۔ سینٹ پیٹرز برگ میں قائم اس گروپ کے لیے ’ٹرول فارم‘ (مختلف آن لائن اکاؤنٹس کی مدد سے پروپیگنڈا کرنا) کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ ٹرولنگ کو روسی حکومت نے2011 میں سینٹ پیٹرز برگ میں پیوٹن کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں سوشل میڈیا آرگنائزیشن کے مشاہدے کے بعد بڑے پیمانے پر ایک موثر حکمت عملی کے طور پر استعمال کیا تھا۔ امریکی آن لائن اخبار ’دی انٹرنیشنل بزنس ٹائمز‘ کے مطابق امریکی حکومت نے روسی حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ پر کیے جانے والے پروپیگنڈے اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک خصوصی ’کاؤنٹر ڈس انفارمیشن ٹیم‘ استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی اور امریکی محکمۂ خارجہ کی آٹھ ماہ محنت کے بعد بیورو آف انٹرنیشنل انفارمیشن پروگرامز کے تحت بننے والی اس ٹیم نے 2014میں کام شروع کیا، لیکن ستمبر2015 میں اس محکمے کے سربراہ نے 2016 کے صدارتی انتخابات میں روسی پروپیگنڈے کے امکانات کو نظرانداز کرتے ہوئے اس یونٹ کو ختم کردیا۔

اعلیٰ امریکی انٹیلی جنس حکام نے سابق نیشنل سیکیوریٹی ایجنسی کے عہدے داروں اور کاؤنٹر انٹیلی جنس افسر جون آر شینڈلر کو اس اقدام کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اوباما انتظامیہ نے روس کی ممکنہ ناراضگی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس یونٹ کو بند کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ٹرول فارم پر نظر رکھنے والے اینڈریان چین نے دسمبر 2015 میں مشاہدہ کیا کہ انٹرنیٹ پر روس نواز اکاؤنٹ 2016کے امریکی انتخابات میں صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں ہوگئے ہیں۔ اگست 2016 میں امریکا کے معروف آن لائن اخبار ’دی ڈیلی بیسٹ‘ فارن پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے سینٹر فار سائبر اینڈ ہوم لینڈ سیکیوریٹی کے سنیئر فیلو کلنٹ واٹس اور اینڈریو ویسبرڈ کا ایک مضمون شایع کیا جس میں انہوں نے روس کی جانب سے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کے لیے فیبریکیٹڈ مضامین کی مقبولیت کا ذکر کیا۔

اپنے مضمون کے حق میں انہوں نے کچھ دستاویزی ثبوت بھی فراہم کیے کہ روس نواز ٹوئٹر اکاؤنٹس پر روسی حکومت کی نگرانی میں چلنے والی انگریزی زبان کی دو بڑی میڈیا آرگنائزیشنز ’رشیا ٹوڈے‘ اور ’اسپیوٹنک نیوز‘ کس طرح غلط معلومات پھیلا رہی ہیں۔ کلنٹ واٹس اور اینڈریو ویسبرڈ نے اینڈریان کی تحقیقی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے 2016کے امریکی انتخابات میں روس کے داؤ پیچ اور سوویت یونین سرد جنگ کی حکمت عملی کا موازنہ کیا۔ انہوں نے یونائیٹڈ اسٹیٹس انفارمیشن ایجنسی کی جانب سے 1992میں کانگریس کو پیش کی گئی ایک رپورٹ کا ریفرینس بھی دیا، جس میں ایکٹو میزرز (سوویت سیکیوریٹی سروسز (چیکا، او پی جی یو، این کے وی ڈی، کے جی بی) کا سیاسی وار فیئر جس کا مقصد دنیا بھر میں ہونے والے واقعات میں سیاسی مقاصد کے پیش نظر تبدیلیاں کرنے کی ایک سوویت اصطلاح) کے نام سے روسی پروپیگنڈے کی وارننگ دی گئی تھی۔

کلنٹ کا کہنا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس نے ایکٹو میزرز کو سہل کردیا ہے اور کریملن میں ہونے والا آپریشن بھی ایکٹو میزرز کی ایک قسم تھی، جب کہ نومبر 2016 میں برطانوی اخبار گارجین میں شایع ہونے والی رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ پر ٹرمپ کی حمایت کرنے والے امریکی شہری نہیں بل کہ روسی تھے، جنہیں اس کام کے لیے اچھا معاوضہ دیا گیا تھا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ان کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ گذشتہ ڈھائی سال کے عرصے میں 7ہزار سے زاید ٹرمپ نواز اکاؤنٹس بنائے گئے، جنہوں نے دائیں بازو کی جماعتوں کو اپنے پروپیگنڈے کا نشانہ بنایا اور رائے عامہ تبدیل کرنے کے لیے ہر صدارتی مباحثے کے بعد ہزاروں ٹوئٹر اکاؤنٹس نے #Trumpwon کا ہیش ٹیگ استعمال کیا۔

اسی حکمت عملی کے تحت روس نے بل کلنٹن کو بدنام کرنے کے لیے سوشل میڈیا، معاوضے پر انٹرنیٹ ٹرولز، بوٹ نیٹس (انٹر نیٹ سے منسلک کمپیوٹرز کی تعداد جو اپنی شناخت چھپاتے ہوئے نیٹ ورک سے منسلک دوسرے کمپیوٹر ز کا کنٹرولز حاصل کرلیتے ہیں) اور ویب سائٹس کا استعمال کیا تھا۔ سائبر سیکیوریٹی امریکی فرم ’فائر آئی‘ کا بھی دعویٰ ہے کہ روس نے امریکی انتخابات میں سوشل میڈیا کو ایک موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور 2016کا یہ آپریشن روس کی سائبر وار فیئر میں ایک اہم پیش رفت تھی، جب کہ ایف بی آئی نے نومبر 2016 میں ایک بیان جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا، ’’ہمیں یقین ہے کہ جعلی خبریں پھیلانے میں روس ملوث ہے، اور روس کی مدد سے 2016کے انتخابات پر اثرانداز ہونے والی جعلی اور پروپیگنڈے پر مبنی خبریں پھیلائی گئیں۔‘‘

٭ جعلی خبروں کا شکار ممالک
انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر جعلی خبروں کا شکار ممالک میں آسٹریلیا، آسٹریا، برازیل، کینیڈا، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، انڈونیشیا، فلپائن، سوئیڈن، چین، میانمار، امریکا اور پاکستان شامل ہیں۔

٭ پاکستان
گذشتہ سال 23دسمبر کو پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی اسرائیل کو دی گئی ایٹمی جنگ کی دھمکی پر مبنی ٹوئٹ نے ایک ہلچل پیدا کردی۔ خواجہ آصف نے مبینہ طور پر یہ ٹوئٹ جعلی نیوز ویب سائٹ awdnews.comپر شایع ہونے والے ایک مضمون کے بعد کی تھی۔ ’کلنٹن ٹرمپ کے خلاف فوجی بغاوت کی تیاری کر رہے ہیں‘ کی سُرخی کے ساتھ شایع ہونے والے اس بوگس مضمون میں مبینہ طور پر اسرائیلی وزیردفاع Avigdor Liebermanنے پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا،’’اگر پاکستان نے شام میں بری فوج بھیجی تو ہم اس ملک کو ایٹمی حملہ کرکے تباہ کردیں گے۔‘‘ تاہم بعد میں اسرائیلی وزارت دفاع کے سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹ سے اس خبر کی تردید کی گئی ۔

٭چین
گذشتہ سال امریکا میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوران چین میں انگریزی سے چینی زبان میں ترجمہ کیے گئے جعلی مضامین اور خبریں بہت مقبول رہیں۔ چینی حکومت نے جعلی خبروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو چین کی انٹرنیٹ سینسر شپ پالیسی کے لیے ایک بڑا مسئلہ قرار دیا۔ سائبر ایڈمنسٹریشن چین کے ڈپٹی وزیر رین زیان لیانگ نے ان جعلی نیوز ویب سائٹس کی وجہ سے غلط معلومات اور دھوکا دہی کے امکانات بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا۔

٭ جرمنی
جعلی نیوز ویب سائٹس جرمن حکومت کے لیے بھی درد سر بنی ہوئی ہیں۔ جرمن چانسلر اینجیلا مرکل نے جرمن پارلیمنٹ سے اپنے خطاب میں آن لائن جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے حکومتی سطح پر بھرپور اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ اُن کا کہنا ہے کہ گم راہ کُن معلومات پر مبنی خبری ویب سائٹس ملکی مفاد میں بہتر نہیں ہیں، جب کہ جرمنی کی فارن انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ Bruno Kahl نے بھی رواں سال جرمنی میں ہونے والے انتخابات کو روس کی جانب سے سائبر حملوں، جعلی خبروں کی مدد سے سبو تاژ کرنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

٭بھارت
بھارت میں گذشتہ سال 8نومبر کو پانچ سو اور ہزار کے نوٹوں پر پابندی اور نئے حفاظتی فیچرز کے ساتھ دو ہزار روپے مالیت کا نوٹ متعارف کروایا گیا۔ لیکن اسمارٹ فون ایپلی کیشن ’واٹس ایپ‘ پر جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے والی ایک جعلی خبر نے کالے دھن کے خلاف بھارت کی اس موثر کارروائی کو دنیا بھر میں جگ ہنسائی کا سبب بنادیا۔ واٹس ایپ پر وائرل ہونے والی خبر کے مطابق: بھارتی حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے نوٹ جاسوسی آلات سے لیس ہیں، لہٰذا عوام انہیں لینے سے گریز کریں۔ اگرچہ وزیرخزانہ ارون جیٹلے نے فوراً اس خبر کی تردید کردی تھی، تاہم اس کے نتیجے میں بھارتی معیشت کو کافی نُقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

٭میانمار
میانمار میں جعلی خبروں کی وجہ سے جہاں سیاسی اور مالی نقصان ہوا وہیں ان جعلی ویب سائٹس کی وجہ سے سیکڑوں افراد جان کی بازی ہار گئے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی جعلی خبروں پر نشر ہونے والی ایک خبر کے مطابق میانمار میں جاری خونیں تصادم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان جعلی نیوز ویب سائٹس نے روہنگیا کی حمایت میں غیرمتعلقہ تصاویر جعلی کیپشنز اور بوگس مضامین کے ساتھ شایع کیں۔ فیس بُک پر بدھ مت کے پیروکاروں اور مقدس مقامات پر حملوں کی جعلی خبروں اور تصاویر کو میانمار کے اخبارات اور جرائد نے نمایاں کر کے شایع کیا، جس کے نتیجے میں ملک میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والی پُرتشدد کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔

بوگس مضامین اور جعلی نیوزویب سائٹس کے مقاصد؟
انٹرنیٹ پر جعلی خبری ویب سائٹس عموماً تین طرح کی ہوتی ہیں:مزاح کے لیے: اس طرح کی ویب سائٹس میں اصلی خبر کو تھوڑی بہت ترمیم کے بعد مزاح کے رنگ میں ڈھال دیا جاتا ہے۔ Satir Fake Newsکے نام سے مشہور ان ویب سائٹس میں خبر کو مزاحیہ رنگ دیتے ہوئے اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ اس خبر سے کسی ادارے، فرد یا شخصیت کی ساکھ متاثر نہ ہو۔ ان ویب سائٹس کے مضامین اور خبروں کی سرخیاں بھی مزاحیہ یا ایسی رکھی جاتی ہیں جن پر حقیقت کا گمان نہ ہو۔

مخصوص مذہبی یا سیاسی ایجنڈے پر کام کرنے والی بوگس نیوز ویب سائٹس: اس نوعیت کی جعلی نیوز ویب سائٹس کا واحد مقصد کسی مخصوص جماعت، مذہب، یا نسل کے مفادات کو تحفظ دینا ہوتا ہے۔ اس طرح کی ویب سائٹس میں ترمیم کرتے وقت مخصوص گروپ کے ایجنڈے کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔

سیاسی مقاصد کے لیے بننے والی جعلی نیوز ویب سائٹس: اس طرح کی جعلی ویب سائٹس بنانے کا مقصد کسی جماعت یا ملک میں ہونے والے اہم واقعات کے حوالے سے رائے عامہ تبدیل کرنا ہے۔ مثال کے طور پر روس نے امریکا کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں جعلی مضامین، خبروں دنیا بھر میں پھیلایا۔

٭جعلی خبروں کی روک تھام کیسے کی جائے؟
گوگل، فیس بک اور ٹوئٹر جیسی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر جعلی خبروں کی روک تھام کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بعد یہ ادارے موثر حکمت عملی تیار کر رہے ہیں۔ حال ہی میں ٹیکنالوجی کے ایک ماہر سائریڈسکی نے ’بی ایس ڈیٹیکٹر‘ کے نام سے ایک پلگ ان تیار کیا ہے، جو فیس بک، ٹوئٹر یا کسی دوسری ویب سائٹ پر آنے والی جعلی خبروں کے خلاف فوراً حرکت میں آجاتا ہے۔

بی ایس ڈیٹیکٹر جعلی خبریں دینے والی ویب سائٹوں کی فہرست کی مدد سے انھیں شناخت کرلیتا ہے۔ ویب براؤزرکروم اور فائرفاکس کے ساتھ استعمال ہونے والا یہ پلگ ان کسی بھی ممکنہ جعلی خبر پر فوراً سرخ رنگ کی وارننگ لگا دیتا ہے:’’اس ویب سائٹ پر موجود مواد مشتبہ ہے۔‘‘ سائریڈسکی کا کہنا ہے،’’انہوں نے یہ پلگ ان ایک گھنٹے میں تیار کر لیا تھا، اور اس کا مقصد فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کے اس دعوے کا جواب دینا تھا کہ فیس بک جعلی خبروں سے نمٹنے کے لیے کچھ نہیں کر سکتی۔‘‘ واضح رہے کہ فیس بک نے اس پلگ ان پر پابندی لگا دی ہے۔

دوسری طرف سوشل میڈیا پر جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے فیس بک پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے۔ بزفیڈ ویب سائٹ کے مطابق امریکا کے صدارتی انتخابات کی مہم کے آخری تین ماہ میں فیس بک پر نیویارک ٹائمز، ہفنگٹن پوسٹ، واشنگٹن پوسٹ جیسے معتبر اداروں کی خبروں سے زیادہ جعلی ویب نیوزسائٹس پر شایع ہونے والی خبریں پڑھی گئیں۔

انٹرنیٹ سیکیوریٹی کے ادارے ’’ٹرسٹ پروجیکٹ‘ کی بانی سیلی لِیمن کا اس بابت کہنا ہے،’’جعلی خبر اصلی خبر کی نسبت زیادہ تیزی سے پھیلتی کرتی ہے، یہ نہ صرف لوگ کو غلط معلومات دیتی ہے بل کہ ایک ایسی چیز پر توجہ مبذول کرادیتی ہے جس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، اور اس کا اثر رائے عامہ پر مرتب ہوتا ہے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ جعلی خبروں کی نشان دہی کرنا انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اداروں کا کام نہیں ہے۔

انہوں نے کہا،’’اگر لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات آجائے کہ میڈیا اپنا کام ٹھیک طریقے سے نہیں کر رہا تو وہ اس پر اعتماد کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ جعلی خبروں کے سدباب کے لیے ٹرسٹ پروجیکٹ نے حال ہی میں برطانوی نشریاتی ادارے کے اشتراک سے لندن میں ایک تقریب کا انعقاد کیا جس کا مقصد ذرایع ابلاغ کے اداروں کو اس بات پر مائل کرنا تھا کہ وہ اپنے قارئین میں خود پر اعتماد میں اضافہ کرنے کے طریقے سوچیں۔

تقریب سے خطاب میں مرر گروپ کی ڈیجیٹل ایڈیٹر این گرپر نے کہا: ’اس مسئلے کو حل کرنا گوگل فیس بک، ٹوئٹر اور سماجی رابطوں کی دوسری ویب سائٹس کی ذمہ داری ہے، کیوں کہ وہ ہم سے زیادہ طاقت ور ہے اور عوام میں اثرورسوخ رکھتے ہیں۔ اس تقریب میں ایک ٹول بھی متعارف کرایا گیا کہ جو بتا سکتا ہے کہ خبر دینے والے صحافی نے اس سے متعلقہ دوسری کتنی خبریں دی ہیں۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ اس صحافی پر کس حد تک اعتماد کیا جا سکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔