پاک امریکا تعلقات کا تاریخی پس منظر

بابر ایاز  اتوار 29 جولائ 2012
ayazbabar@gmail.com

[email protected]

پاکستانی عوام کے مفاد میںکیا ہے،اس بارے میںتاریخی پس منظر اور تصوراتی وضاحت کے بغیرموجودہ پاک امریکا تعلقات پر بحث لاحاصل ہوگی۔اس وقت جو جذباتی گفتگوکی جا رہی ہے وہ اس بنیادی جانچ کے پیمانے پر پورا نہیں اترتی جس پر ہر پالیسی کو پرکھا جانا چاہیے۔جانچ یہ ہے کہ حکومت اوراسٹیبلشمنٹ, داخلہ یا خارجہ پالیسی کے جو بھی فیصلے کرتی ہیںان سے پاکستان کے عام آدمی کی زندگی بہتر بنانے میں مدد ملنی چاہیے۔

آئیے! پاک امریکا تعلقات کی تاریخ کا مختصر جائزہ لیتے ہیں جو نشیب و فراز سے گزرتی رہی ہے۔پاکستان کے وجود میں آنے سے قبل یکم مئی1947کوقائد اعظم نے ’’بمبئی کی اپنی رہائش گاہ پر دو امریکی مہمانوں سے ملاقات کی۔ان میں محکمہ خارجہ کے جنوبی ایشیائی امور ڈویژن کے سربراہ ریمنڈ اے ہیئر اور ہندوستان میں امریکی سفارت خانے کے سیکنڈ سیکریٹری تھامس ای وِیل شامل تھے۔جناح صاحب نے ملاقات کے لیے آنے والوں کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ ایک آزاد اور خود مختار پاکستان کا قیام امریکی مفادات کے مطابق ہو گا۔پاکستان ایک مسلم ملک ہوگا اور مسلمان ممالک روسی جارحیت کے خلاف متحد ہو جائیں گے‘‘۔(The American Role in Pakistan 1947-1958مصنف وینکٹ رامن(۔

نو زائیدہ پاکستان کے رہنما بھارتی جارحیت کے خوف میں مبتلا رہے، اپنے وسائل سے عاری فوج کے لیے انھیں امریکی حمایت کی ضرورت تھی اور سودا طے کرنے کے لیے انھوں نے علاقے میںسوشلسٹ خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی خدمات پیش کیں۔جناح کی سوچ پر ان کے وزیراعظم لیاقت علی خان اور وزیر خزانہ غلام محمد نے سرگرمی سے عمل کیا۔انھوں نے امریکیوں سے بھیک مانگی اور روس کے خلاف اپنی حمایت کا یقین دلایا۔

اس کے بدلے میں امریکیوں نے خیر سگالی کے طور پر مئی1950 میںسامان کی پہلی کھیپ خفیہ طور پر اس وقت دی جب لیاقت علی خان امریکا کے دورے پر تھے مگر یہ راز اُس وقت سب کو معلوم ہو گیا جب نیو جرسی کی ایک چھوٹی سی بندر گاہ پر ایک حادثے میں دھماکے سے یہ سامان تباہ ہوگیا۔تاہم امریکیوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کو دیے جانے والے ہتھیار کسی دوسرے ملک کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال نہیں کیے جائیں گے،اس کا صاف مطلب بھارت تھا۔

آغاز ہو چکا تھا، پاکستان بھارتی خطرے کے مفروضے سے مغلوب تھا اور امریکا کے ساتھ تعلقات میں آگے بڑھتا چلا گیا۔سب سے پہلے ان دونوں ملکوں نے میوچوئل ڈیفنس پیکٹ(باہمی دفاع کے معاہدے) پر دستخط کیے جس میں کسی بھی کمیونسٹ شورش کا مقابلہ کرنے کی شق شامل تھی۔امریکیوں کو خوش کرنے کے لیے کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان ،ڈیمو کریٹک اسٹوڈنٹس(DSF)اورپروگریسو رائٹرز ایسوسی ایشن(انجمن ترقی پسند مصنفین)جیسی بائیں بازو کی تنظیموں پر بھی پابندی لگا دی گئی۔

اس کے بعد پاکستان بغداد پیکٹCENTO/اور SEATOمیں شامل ہو گیا۔خواجہ ناظم الدین کوجنھوں نے اس قسم کے اتحاد میں شامل ہونے کی مخالفت کی تھی،غلام محمد نے نکال باہر کیا جیسا کہ ایران میں CIAکی تیار کردہ بغاوت کے نتیجے میں مصدق حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔امریکی فوجی امداد آتی رہی اور اعلیٰ حکام کی تربیت کا سلسلہ بھی جاری رہا جو 1965 میں اس لیے روک دیا گیا کہ ’’آپریشن جبرالٹر‘‘ شروع ہوگیا تھا۔بھارت نے اس کارروائی کو یہ اعلان کرتے ہوئے مکمل جنگ میں تبدیل کر دیا کہ اگر’ انھیں لڑنا ہی ہے تو میدانِ جنگ بھی وہ اپنی پسند سے منتخب کریں گے‘۔چونکہ پاکستان کو دی جانے والی فوجی امداد اس انتباہ کے ساتھ تھی کہ یہ جارحانہ مقصد کے لیے استعمال نہیں ہو گی۔

امریکا نے دونوں ملکوں کو فوجی آلات کی سپلائی روک دی۔پاکستان میں یہ پہلا موقع تھا کہ حکومت کی پروپیگنڈا مشینری نے امریکا مخالف جذبات پیدا کیے۔سرکاری کنٹرول میں کام کرنے والے میڈیا نے لوگوں کو باور کرایا کہ بھارت نے کسی اشتعال کے بغیر جنگ شروع کردی ہے اور اس طرح’آپریشن جبرالٹر‘ کی پردہ پوشی کر دی گئی۔عام تاثر یہ تھا کہ ’امریکا قابل اعتماد دوست نہیں ہے۔فوجی اور سول امداد1975ء میں بحال کردی گئی،جو صرف چار سال جاری رہ سکی اور 1979ء میں سمنگٹنSymingtonترمیم کے تحت اسے پھر روک دیا گیا ،اس کی وجہ پاکستان کے جوہری پروگرام پر تشویش کا اظہار تھا۔

مگر جب سوویت فوجیں افغانستان میںبائیں بازو کی حکومت کی دعوت پر وہاں پاکستان کی حمایت سے کی جانے والی بغاوت کو کچلنے کے لیے داخل ہوئیں توامریکا جلد ہی جوہری عدم پھیلائو کے خلاف تمام اصولوں کو بھول گیا۔امریکی امداد پھر بحال کر دی گئی اور پاکستان کو تین ملین ڈالر سے زیادہ کی پیشکش کی گئی۔افغانستان میں بغاوت کے معمار جنرل ضیاء الحق نے اس امریکی امداد کو’’مونگ پھلی‘‘ کہہ کر مسترد کر دیا۔ضیاء نے امریکی انتظامیہ کو سبز باغ دکھائے۔

رکن کانگریس چارلی ولسن کی کوششوں کے طفیل امریکا اس بات کا قائل ہو گیا کہ وہ افغانستان میں بائیں بازو کی حکومت اور اس کے حامی سوویت یونین کے خلاف اسلامی جہاد کا ساتھ دے کر ویت نام میں شکست کا انتقام لے سکتا ہے۔یہاں یہ ذکر ضروری ہے کہ یہ جنرل ضیاء اور امریکی انتظامیہ ہی تھی جنھوں نے1979-89 کے دوران افغانوں اور پاکستانیوں کے متعدد اسلامی جہادی گروپ پیدا کیے۔پاکستان اس خطرناک پالیسی کے نتیجے میں بوئی جانے والی خونیں فصل کوکاٹ رہا ہے۔بیشتر مجاہدین کیونکہ50سے 70فیصد ہتھیار اورگولہ بارود پاکستان میں فروخت کرتے رہے اس لیے ہم نے ملک میں ڈیڑھ سے دو ارب ڈالر کے ہتھیاروں کا پھیلائو دیکھا ہے۔

یہ سچ ہے کہ جب سوویت فوجیں افغانستان سے واپس گئیں توامریکیوں نے ان اسلامی جنگجوئوں اور ’اسلامی ٹیکنو گوریلوں‘ سے نمٹنے کے لیے ہمیں تنہا چھوڑ دیا مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ ہم ہی نے ان کو پیدا کیا تھا جو اب پاکستان کو دھماکوں سے اڑا رہے ہیں۔

1989 میں سوویت فوجوں کے انخلاء کے بعدایک بار پھر امریکا کو پاکستان کا جوہری پروگرام یاد آ گیا اور پریسلر ترمیم کے تحت ہر قسم کی فوجی اور اقتصادی امداد روک دی گئی۔سینیٹر جان گلِن نے دعویٰ کیا کہ1982-1990 کے دوران امریکا نے پاکستان کو چار بلین ڈالر کی امداد دی تھی۔یہ امداد اِن یقین دہانیوں پر دی گئی تھی کہ پاکستان جوہری بم بنانے کے پروگرام پر عمل نہیں کررہا ہے مگر حقیقت اس کے بر عکس تھی۔

(جاری ہے)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔