سندھ کارڈ یا کاز ؟

کھیل داس کوہستانی  منگل 14 فروری 2017
khealdaskohistani@hotmail.com

[email protected]

سندھ کوکھنڈر میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ ایک عام فرد معیاری تعلیم اورصحت وروزگارکی بنیادی سہولتوں سے آج بھی محروم ہے جب کہ کراچی سندھ کا دارالخلافہ اور پاکستان کا معاشی حب ہے اسے کچرا گھر میں تبدیل کردیا گیا ہے، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہیں جب کہ جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر ہیں، سیوریج کا پانی جمع ہے۔کراچی کے شہری سفری سہولتوں سے محروم ہیں، بسیں غائب ہوچکی ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ سندھ حکومت نے اس شہرکو لاوارث چھوڑدیا ہے۔ چند سڑکوں کی استرکاری کرکے پی پی حکومت عوام کو بے وقوف نہیں بناسکتی۔

دوسری جانب وفاق کی جو بھی ترقیاتی پالیسیاں ہیں ان سے سندھ کے عوام بھی فیضیاب ہورہے ہیں، کیونکہ وفاقی پالیسی جو بھی بنائی جاتی ہے اس کا اطلاق پورے ملک پر ہوتا ہے۔اگر ریلوے کی سہولتوں میں وزیر ریلوے سعد رفیق کے دور میں بہتری آئی ہے تو اس کا فائدہ سندھ کے عوام کو بھی ہوا ہے۔ 2013 سے پہلے PIA کا ادارہ تباہی کے کنارے پر تھا اور صرف 18 جہاز چلنے کے قابل موجود تھے اور اب ان کی تعداد 38 تک جا پہنچی ہے جب کہ PIA کی سفری سہولیات پہلے سے بہت بہتر ہیں۔

اگر پنجاب، خیبرپختون خوا، بلوچستان کے کاشتکاروں کوکھاد میں زرتلافی دی گئی ہے تو اس کا فائدہ سندھ کا کاشتکار بھی اٹھا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں وزیراعظم نے کراچی، حیدرآباد موٹروے کا افتتاح کرکے سندھ کے عوام کے دل جیت لیے ہیں۔ 36 ارب روپے سے زائد کی لاگت سے تعمیر ہونے والے کراچی حیدرآباد موٹروے کو نہایت مختصر مدت میں مکمل کیا گیا ہے، لیکن وزیراعظم نے سندھ کے عوام کو موٹروے کا تحفہ کیا دیا کہ پیپلز پارٹی کے کیمپ میں ہلچل مچ گئی۔ صوبائی وزیر اور پی پی کے رہنماؤں نے پروپیگنڈہ شروع کردیا کہ یہ موٹرووے نہیں ہے بلکہ سپرہائی وے کو بہتربنادیا گیا ہے۔

قارئین کی دلچسپی کے لیے میں یہ واضح کرتا چلوں کہ موٹر وے ابھی تکمیل کے مراحل میں ہے اس پر ابھی کافی کام ہونا ہے، ابھی سروس روڈ بنائے جائیں گے اور موٹر وے پر کیمرے نصب کیے جائیں گے۔ نوری آباد کے قریب ایک ٹراما سینٹر بھی بنایاگیا ہے جہاں ایمبولینس اسکواڈ بھی موجود ہے اور مزید اس موٹر وے پر اسپتال اور اسکول تعمیرکیے جارہے ہیں۔ جس سے خود کچھ نہیں ہوتا وہ موٹروے کے خلاف واویلا کررہے ہیں۔

قارئین کو یاد ہوگا جب لاہور سے موٹر وے کی تعمیر شروع ہوئی تھی تو اس وقت پیپلزپارٹی نے نوازشریف پر تنقید کی تھی اورکہا تھا کہ وہ اپنی سفری سہولت کے لیے موٹر وے بنا رہے ہیں۔ اب کراچی حیدرآباد ایم 9 کی تعمیر پر بھی پیپلزپارٹی اس میں کیڑے نکال رہی ہے۔ دراصل اپنی صورتحال میں پیپلزپارٹی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے سندھ کارڈ کھیلنا شروع کردیتی ہے۔ بعض مخالفین سوال کرتے ہیں کہ محمد نوازشریف نے سندھ کوکیا دیا تو میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کراچی حیدرآباد موٹر وے اس کا بھرپورجواب ہے۔

دراصل پیپلز پارٹی سندھ کارڈ استعمال کرتی ہے اور نوازشریف سندھ کازکے لیے کام کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم نے حکومت سنبھالنے کے بعد کراچی میں قیام امن کے لیے کوششیں شروع کردیں۔ آج کراچی کا امن لوٹ آیا ہے۔کراچی کی روشنیاں بحال ہوگئی ہیں۔ لوگ راتوں کو شہر میں بلاخوف گھوم پھررہے ہیں۔ حکومت نے کراچی کو امن کا تحفہ دیا۔ اگر صوبائی حکومت امن قائم کرنے میں ناکام رہی تو وہ شہریوں کو سفری سہولتیں ہی فراہم کردیتی۔ مگر یہ اعزاز بھی وفاقی حکومت کو جاتا ہے کہ کراچی میں گرین بس کا منصوبہ اس نے بنایا جس پر تیزی سے کام جاری ہے۔ امید ہے کہ یہ منصوبہ بھی جلد مکمل ہوجائے گا۔

سندھ حکومت نے کراچی میں پانی کی قلت کے مسئلے کو بھی حل نہیں کیا۔ نتیجتاً وفاقی حکومت نے سندھ کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑا۔ انھوں نے کراچی کے لیے 12 ارب کا K-4 منصوبہ بنایا جس پرکام تیز ی سے جاری ہے۔ سندھ حکومت کے فیصلے لسانی اور نسلی اور سیاسی بنیادوں پر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج شہری علاقوں میں بلدیاتی نمایندوں کو مفلوج کردیا گیا ہے۔ وہ مقامی حکومت کے حقیقی اختیارات سے محروم ہیں اور بار بار اختیارات دینے کا مطالبہ کررہے ہیں مگر سندھ حکومت نے استحصالی انداز اپنا رکھا ہے۔

بلدیہ کے اختیارات اور فنڈز پر قبضہ کرکے مقامی حکومت کو غیر موثر بنادیا ہے۔ ان حالات میں کراچی میں صحت وصفائی اور بلدیاتی امور کی انجام دہی مشکل سے مشکل تر ہوتی جارہی ہے۔ جہاں تک موٹر وے کا تعلق ہے تو ابھی صرف کراچی حیدرآباد تک موٹر وے بنایا جارہا ہے جب کہ اس کے بعد اگلے مرحلے میں حیدرآباد سے سکھر تک موٹر وے بنایا جائے گا اور وزیراعظم جلد اس کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔

آیندہ مرحلے میں سکھر سے ملتان تک موٹروے بنے گی جس کا کام تیزی سے جاری ہے جو پاک چائنا اقتصادی کوریڈور کے تحت بنائی جا رہی ہے، جب کہ وفاقی حکومت سندھ حکومت کے ساتھ مل کر حیدرآبادسے سیہون تک دو رویہ شاہراہ بھی تعمیرکررہی ہے جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ حکومت نے بجلی کے بحران کے خاتمے کے لیے بہت کام کیے اور 2018 تک لوڈ شیڈنگ میں خاتمے کا وعدہ کیا تھا اور اس وقت سندھ میں تھر،کراچی اور جھمپیر کے مقامات پر بجلی کے لاتعداد منصوبے بنائے جارہے ہیں جب کہ اس تناظر میں سندھ بھرکے گریڈ اسٹیشن کو اپ گریڈ کیا جارہا ہے تاکہ جب سسٹم میں بڑے پیمانے پر بجلی آئے تو وہ بہتر انداز سے کام کریں اور عام آدمی بجلی کی سہولت سے استفادہ کرے۔

وفاقی حکومت نے سندھ کے عوام کی سہولت کے لیے صوبے بھر میں ضلع سطح پر پاسپورٹ آفس بنانے کا کام شروع کررکھا ہے اور بیشتر اضلاع میں پاسپورٹ آفس قائم بھی کردیے گئے ہیں جو متعلقہ ضلع کے عوام کو سہولت فراہم کررہے ہیں۔ وفاقی حکومت کے اس اقدام سے سندھ کے عام شہریوں کوکافی سہولت میسر آئی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت جو طے شدہ رقم فراہم کی جاتی ہے وفاقی حکومت نے اس رقم کو ادا کرنے کے علاوہ سندھ میں مختلف ترقیاتی منصوبوں میں کھربوں روپے خرچ کیے ہیں۔ وفاق کی جانب سے سندھ کے لیے اتنی کثیر رقم اضافی دینے کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

سندھ حکومت کے برعکس وزیراعظم جو فیصلے کرتے ہیں وہ رنگ، نسل، زبان اور مذہب کی بجائے صرف اور صرف میرٹ پر ہوتے ہیں۔ لہٰذا مخالفین کے اس قسم کے الزامات محض کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف ہے۔ وزیراعظم وسیع القلب ہیں،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صدر مملکت کے انتخاب کے لیے ان کی نظر معزز شخصیت ممنون حسین پر پڑی۔ اس طرح صدر مملکت کا عہدہ سندھ کے حصے میں آیا اور صدرِ پاکستان ممنون حسین نے ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے بڑی قربانیاں دیں اور وہ پارٹی کا بڑا اثاثہ تھے۔

اب حالیہ دنوں میں گورنر سندھ کے انتخاب کا مرحلہ آیا تو انھوں نے کراچی کے باصلاحیت اور معروف شخصیت و مسلم لیگی رہنما ، حکومت کے اہم رکن محمد زبیر عمر کوگورنر سندھ بنایا۔ اور اس فیصلے سے سندھ سمیت مسلم لیگی کارکنوں، کاروباری حلقے اورعام شہریوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور وزیر اعظم کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ جب کہ وفاقی کابینہ میں سندھ کو حصہ دیا، سندھ سے اہم مسلم لیگی رہنماؤں کو سینیٹر اوراقلیتی ایم این اے بنائے۔ وزیراعظم کے مدبرانہ فیصلوں کی بدولت اب سندھ میں مسلم لیگ(ن) کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے۔

سندھ کے شہروں، گاؤں، گلیوں، کھیتوں اور اوطاقوں میں ان کے اقدامات کی تعریف ہوتی ہے اور بحث و مباحثہ ہوتا ہے۔ اس وقت سندھ اسمبلی اور بلدیاتی اداروں میں مسلم لیگ(ن) کا تناسب پہلے سے بڑھا ہے اور عوامی خدمت اور ترقی سفر کی وجہ سے آیندہ انتخابات میں مسلم لیگ(ن) مخالفین کو ٹف ٹائم دے سکتی ہے۔ آخری سطور میں میں بس اتنا ہی عرض کروں گا کہ محمد نوازشریف اور سندھ کے عوام کے بیچ میں ہونے والے پروپیگنڈہ وقت کا ضیاع ہے، سندھ کے عوام اپنے وزیراعظم سے بے انتہا محبت کرتی ہے، وہ صرف پنجاب، کے پی کے اور بلوچستان کے ہی نہیں بلکہ سندھ کے بھی وزیراعظم ہیں اور دیگر صوبوں کی طرح وہ سندھ کی ترقی وخوشحالی کے خواہاں ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔