امن 2017، بحیرہ عرب پاکستانی شاہینوں کی گھن گرج سے گونج اٹھا

اسٹاف رپورٹر / مانیٹرنگ ڈیسک  منگل 14 فروری 2017
بحیرہ عرب میں جہازوں کی ری فیولنگ، طیاروں کافلائی پاسٹ، وزیراعظم آج مشقوں کا معائنہ کریں گے۔ فوٹو: اے ایف پی

بحیرہ عرب میں جہازوں کی ری فیولنگ، طیاروں کافلائی پاسٹ، وزیراعظم آج مشقوں کا معائنہ کریں گے۔ فوٹو: اے ایف پی

کراچی: پاک بحریہ کے تحت جاری کثیرالملکی بحری مشق امن2017 کے سلسلے میں مہمان ملکوں کے دستوں نے بحری اثاثوں کے ساتھ فل ڈریس ریہرسل کی، بحیرہ عرب میں جہازوں کی ری فیولنگ کی گئی، طیاروں نے فلائی پاسٹ کے مظاہرے کیے، پاکستان اورجاپان کے پی تھری اورین طیاروں، پاکستان کے جے ایف تھنڈرطیارونے فلائی پاسٹ کاشاندارمظاہرہ کیا، بحیرہ عرب پاکستانی شاہینوں کی گھن گرج سے گونج اٹھا۔

7ویں بین الاقوامی میری ٹائم کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کوصحیح معنوںمیںنہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی اقتصادی ترقی اورخوشحالی کے لیے اہم ہے۔ میری ٹائم کانفرنس کا انعقاد نیشنل سینٹر فار میری ٹائم پالیسی ریسرچ (NCMPR) کے زیرانتظام کیا گیا، کثیرالقومی بحری مشق امن2017 کے سلسلے میں3 روزہ بین الاقوامی میری ٹائم کانفرنس کے دوران میری ٹائم سیکیورٹی، اقتصادیات اور بحری ماحول پر تبادلہ خیال کے کیا گیا، پاکستان اور دنیا کے مختلف ممالک کے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے کانفرنس میں شرکت کی۔

خواجہ آصف نے مزید کہاکہ بحر ہند عالمی و سیاسی حوالے سے ایک مرکز بن کر ابھرا ہے کیونکہ دنیا کے دفاعی مفادات کا رجحان اس خطے کی جانب ہے۔ بڑھتی ہوئی سمندری تجارت اوربحری راستوں پر بڑھتے ہوئے انحصار نے اقوام عالم کے لیے بحرہندکی اہمیت میں اضافہ کردیا ہے۔ سی پیک اور گوادر پورٹ کے فعال ہونے سے شمالی بحیرہ عرب میںبحری سرگرمیوں میں خاطرخواہ اضافہ ہوگا جس کے نتیجے میں بلا تعطل سمندری تجارت کے لیے پاک بحریہ کی امن و استحکام کو برقرار رکھنے کی ذمہ داریوں میں مزیداضافہ ہوگا۔

وزیر دفاع نے پاک بحریہ کے بحری دفاع اور امن واستحکام کو برقرار رکھنے کے انفرادی اور اس مد میں دیگر ممالک کی بحری افواج کے ساتھ اجتماعی اقدامات کو سراہا۔ وزیر دفاع نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کی قابل قدر تجاویزکو حکومت زیر غور لائے گی۔ قبل ازیں چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل ذکااللہ نے کہا کہ اقتصادی راہداری اور بحری قوتوں کے آپس میں روابط جیسے اقدامات نے خطے میں اقتصادی استحکام کی راہ ہموارکی ہے۔ سی پیک اور گوادر پورٹ کے آغازکے ساتھ ہی اقتصادی ترقی کی راہ ہموار ہونے میں مدد ملے گی، دنیا کا سمندری تجارت پر بڑھتے ہوئے انحصار اور توانائی کے وسائل کے حصول کے سبب بحرہند کا دفاع بہت اہمیت کا حامل ہے۔آزادانہ تجارت میں کسی قسم کا تعطل یا رکاوٹ نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی معیشت پر اثر انداز ہوگی۔

آخر میں وزیردفاع نے کانفرنس کے دوران آرٹیکل اورپوسٹربنانے کے مقابلے جیتنے والے بحریہ کالج/ یونیورسٹی اور NCMPR کے طلبا کو مبارکباد دی اورانعامات تقسیم کیے۔ غیر ملکی وفود، پاک بحریہ کے آفیشلز، سول اورملٹری کی اعلیٰ قیادت اور سفارت کاروں کی بڑی تعداد نے کانفرنس میں شرکت کی۔

واضح رہے کہ وزیراعظم نوازشریف ایک روزہ دورے پر آج (منگل ) کو کراچی پہنچیں گے۔ وزیراعظم نوازشریف’پاک بحریہ کے تحت جاری کثیرالملکی بحری مشق امن2017‘کی اختتامی تقریب میں مہمان خصوصی ہوں گے۔ وزیراعظم گہرے سمندر میں مشقوں کا معائنہ بھی کریں گے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔