سرکلر ریلوے ٹریک پر نئی تجاوزات قائم کرنیوالوں کو معاوضہ نہ دینے کا فیصلہ

اسٹاف رپورٹر  جمعرات 16 فروری 2017
منصوبہ سی پیک میں شامل ہوچکا، تجاوزات ضلعی ایڈمنسٹریشن اور پولیس قائم ہونے دیتی ہے، وزیر اعلیٰ۔ فوٹو : فائل

منصوبہ سی پیک میں شامل ہوچکا، تجاوزات ضلعی ایڈمنسٹریشن اور پولیس قائم ہونے دیتی ہے، وزیر اعلیٰ۔ فوٹو : فائل

کراچی: وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی سرکلر ریلوے کے ٹریک پر 2013 سے قبل کی جو تجاوزات ہیں انھیں انسانی ہمدردی کے تحت معاوضہ دیا جائے گا، 2013کے بعد تجاوزات قائم کرنے والوں کو کسی بھی قسم کاکوئی معاوضہ نہیں دیا جائے گا اور تمام تجاوزات کو ہٹانے کا اصولی طور پر فیصلہ کرلیا گیا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے بدھ کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں کراچی سرکلر ریلوے سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ تجاوزات ہٹانے میں شہری حکومت کے ساتھ تعاون کررہے ہیں، کراچی کے عوام یہ چاہتے ہیں کہ کراچی میں ٹرانسپورٹ کے مسائل حل ہوں تاہم یہ تجاوزات سندھ پولیس، ریلوے پولیس اوردیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کر ہٹائیں گے جبکہ اجلاس میں قبضے کی زمین پر بنائے ہوئے گھروں کو فوری نوٹس دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کیا ضلعی انتظامیہ اور پولیس سورہی ہوتی ہے جب یہ تجاوزات قائم ہوتی ہیں، تجاوزات ضلعی ایڈمنسٹریشن اور پولیس قائم ہونے دیتی ہے اور جب اس کو ہٹایا جاتا ہے تو حکومت بدنام ہوتی ہے، اگر یہ تجاوزات شہرمیں دوبارہ ہوئیں تو میں اس متعلقہ افسر کے خلاف سخت کارروائی کی جائیگی۔

مراد علی شاہ نے کہاکہ کراچی سرکلر ریلوے شہر کیلیے انتہائی اہم ہے، اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو واضح ہدایت کی کہ تجاوزات کو ہٹانے کے کام میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے،انھوںنے کہاکہ تجاوزات کرنے والوں کو وقت دینے کے بعد بلڈوز کرنے کیلیے مشینری لگائیں اور تجاوزات ہٹانے کے بعد محکمہ ٹرانسپورٹ کراچی سرکلر ریلوے کے روٹ پر باڑلگائے۔ انہوں نے مزید کہاکہ کراچی شہر کو بہتر کرنا ہے جس کیلیے آپ سب کا ساتھ چاہیے، شہر کو قبضہ مافیا اور ترقی کے دشمنوں سے نجات دلائیں گے۔

وزیر اعلی سندھ سیدمراد علی شاہ کو اجلاس میں بتایا گیا کہ کراچی سرکلر ریلوے کے روٹ پر 762کچے مکانات ہیںاور75 اسکوائر یارڈ کے 3173 مکانات پکے اسٹرکچرز تعمیر ہیں، 75 اسکوائر یارڈزسے 25 اسکوائر یارڈ کے688 یونٹس تعمیر ہو رہے ہیں، 125 اسکوائر یارڈ سے زیادہ کے 36 اسٹرکچرز ہیں۔

مراد علی شاہ نے اجلاس میں ایک بار پھر واضح کیا کہ کراچی سرکلر ریلوے کے ساتھ قائم ہر قسم کی تجاوزات کو ہر قیمت پر ہٹایا جائے گا اور یہ منصوبہ کراچی کیلیے بہت اہم ہے اور اس سے لوگوں کی ٹرانسپورٹ کی جدید سہولتیں میسر آئیں گی لہذا اس منصوبے میں حائل تمام رکاوٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔